جب مسافر کو سوٹ کیس اپنا گھر لگنے لگتا ہے

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

بظاہر لکھنا ایک مشکل کام ہے۔  بڑا من موجی کام ہے۔  اپنی مرضی کا مالک ہے۔  ابھی کل کا ہی ذکر لیجیے۔  کوئی تین ہزار الفاظ یوں چٹکی بجاتے لکھے گئے جیسے کچھ مشکل ہی نہ ہو۔ کچھ دیر پہلے چار لفظوں کو بھی بار بار مٹایا ہے۔  اور اب یوں لگ رہا ہے جیسے ہم معمول ہیں۔  خود بخود لکھا جا رہا ہے۔  حالانکہ آج سر دکھ رہا ہے۔  ارادہ تھا کہ اٹھ کر چائے بنائیں گے۔  دوا لیں گے۔  لیکن یہ لفظ اپنی جگہ سے ہلنے دیں تو بات ہے نا۔ اگر یہ پڑھتے ہوئے یہی سر کا درد آپ کو منتقل ہونے لگے تو خدارا صفحہ پلٹ دیجئے گا۔
آج کا دن کچھ مصروفیت میں گزرے گا۔ دو ہفتے قبل ہی شہر بدلا ہے۔  آج ہوٹل سے اپارٹمنٹ میں منتقل ہونا پے۔  شکر ہے کہ نیا اپارٹمنٹ قریب ہی ہے۔  یہ سامان یہاں سے اٹھایا اور وہاں رکھ دیا۔ ٹوتھ برش، پیسٹ ہاتھ میں تھامے اور جا کر یوں ہی نئے مکان میں رکھ دیے۔  باقی سامان بھی زیادہ سمیٹنے کی ضرورت نہیں۔
اب ہم نے پرانی عادتیں چھوڑ دی ہیں کہ کہیں بھی جاتے ہی اپنا کالا سوٹ کیس کھول دیا۔ اب تو ہم سامان کو سوٹ کیس میں ہی رہنے دیتے ہیں۔  اسی سے قمیض نکالی۔ جھاڑ کر سیدھی کی۔ پہن کر سوٹ کیس میں سے ہی میک اپ باکس نکالا۔ لپ اسٹک کو ہونٹوں پر جمایا۔ واپس میک اپ باکس میں ڈالا۔ اس لال ڈبے کو واپس سوٹ کیس میں ڈالا اور اپنی راہ لگ لیے۔  یہی سوٹ کیس اپنا گھر لگتا ہے۔  بس یہی اپنا ہے۔  بس یہی دائمی ہے۔
آج سامان منتقل ہو گا۔ یوں ہی ایک چھت دے دوسری چھت کا راستہ طے ہو گا۔ چند دن وہاں پڑاؤ ہو گا۔ کچھ دن بعد نکالا جاری ہو گا۔ سامان اسی سوٹ کیس میں واپس آئے گا۔ اور ان ہی پہیوں پر کہیں اور کی راہ لگ لے گا۔
پرانے قارئین تو ہمارا خاندان بن چکے ہیں۔  ہماری ہجرتوں کے راز داں ہیں۔  نئے پڑھنے والوں کی خدمت میں عرض کرتی چلوں کہ ان دو سالوں میں قریب چھے گھر اور دو ملک بدلے ہیں۔  شہروں کی تعداد چار ہے۔  ہوٹلوں کی تعداد ان کا کل حاصل ہے۔  ٹکٹ یوں لیتے ہیں جیسے لوگ مہینے کا سودا سلف لیتے ہیں۔  بلکہ لکھتے ہوئے ہی یہ خیال آیا ہے کہ کیوں نہ سال کے سال پہلے ہی خرید کر رکھ لیا کریں۔  لیکن کیا کیجئے کہ منزل انجان ہوتی ہے۔  ٹکٹ بیچنے والے کو کیا کہیں گے؟ کہیں کا بھی ٹکٹ دے دو۔
تارک الوطنی عجیب چیز ہے۔  انسان کے دل سے گھر کا احساس ہی ختم کر دیتی ہے۔  انسان کہیں کا نہیں رہتا۔ اپنے وطن جاتے ہیں تو جا کر معلوم ہوتا ہے کہ اب سموسے ویسے نہیں ملتے۔  ماں بیمار پڑ گئی ہے اس لئے بچپن کے سے لاڈ نہیں اٹھا سکتی۔ دوستوں کی شادیاں ہو گئی ہیں اور سسرال والے زیادہ باہر نکلنا پسند نہیں کرتے۔  سونے کی چوڑیاں پہن کر نکلنے کا زمانہ نہیں رہا۔ جن بچوں کو گود میں کھلایا تھا اب وہ گود میں نہیں آتے۔  قد میں ہم سے نکلنے لگے ہیں۔  چچا اب موٹر سائیکل پر بادام دلانے نہیں جا سکتے۔  ان کو فالج ہو گیا ہے۔
شہر سے چڑیاں ختم ہو گئی ہیں۔  نیلے آسمان کی جگہ ملگجے گرد کے غبار نے لے لی ہے۔  مال روڈ اب ٹھنڈی سڑک نہیں رہی کہ وہاں ٹائر جلنے لگے ہیں۔  لبرٹی مارکیٹ میں وہ بوڑھا شخص جس سے ہم چاٹ کھایا کرتے تھے اس کی روح قفس عصری سے پرواز کر چکی ہے۔  الحمرا ہال نمبر تین میں اجوکا تھیٹر کے ڈرامے اب ویسے نہیں رہے کہ مدیحہ گوہر تو دنیا سے چلی گئیں۔  اندرون شہر سے پرانے رہنے والے تو جوہر ٹاؤن چلے گئے۔
وہ گھر جہاں آنکھیں بند کر کے چلے جایا کرتے تھے اب اس کا تالا بھی شاید بدل گیا ہے۔  ہاتھ ڈال کر گیٹ نہیں کھلتا۔ گھنٹی بجانی پڑتی ہے۔  گیٹ کھولنے کے لیے آنے والی بچی ہمیں نہیں پہچانتی۔ نام پوچھتی ہے اور اندر اپنی ’باجی‘ اور ہماری امی سے اجازت نامہ لیتی ہے اور ہمیں اپنے ہی گھر داخل ہونے کا فرمان جاری کرتی ہے۔  ہمیں یہ باور کراتی ہے کہ اب یہ گھر ہمارا نہیں رہا۔
کہ بقول فیض صاحب
ہر اک اجنبی سے پوچھیں
جو پتہ تھا اپنے گھر کا
جہاں اس وقت سوٹ کیس کا قیام ہے وہاں کے لوگوں خواب اس زبان میں دیکھتے ہیں جو بولنے کے لیے ہمیں اپنے دماغ میں ترجمہ کرنی پڑتی ہے۔  کھانے میں پھیکا چکن روسٹ اور مکھن میں پھینٹے ہوئے آلو کھاتے ہیں۔  چائے کا قہوہ بنانے کے بعد دودھ ڈال کر کاڑھنا نہیں جانتے۔  گلے سے بھینچنے کی طاقت نہیں جانتے۔  نمک لگا کر دھوپ میں کینو کھانا نہیں جانتے۔  دل کھول کر قہقہہ لگانا نہیں جانتے۔  آنسوؤں کا دریا بہانا نہیں جانتے۔  ہمارا نام بھی ڈھنگ سے لینا نہیں جانتے۔
اسی لئے ہم جہاں بھی جائیں اس جگہ کو مکان کہتے ہیں۔  گھر کیا ہے اس کا احساس کھو چکے ہیں۔  اپنائیت کسے کہتے ہیں ہم نہیں جانتے۔  ہمارا اپنا وطن وہ ہے جہاں اب ہمیں کوئی نہیں جانتا یا یہ ہے جہاں شاید کبھی کوئی ہمیں نہیں جانے گا؟ ہمیں کیا پتہ۔
بس ایک کالا سوٹ کیس ہی اپنا ہے۔  ملک بدلتے ہیں۔  مکان بدلتے ہیں۔  لوگ بدلتے ہیں۔  دل بدلتے ہیں یہ نہیں بدلتا۔ ہمارے کپڑے بھی سنبھال لیتا ہے اور میک اپ کا بکس بھی۔ جہاں جانے کا کہیں چپ چاپ ساتھ چل پڑتا ہے۔  اس بات کا احساس دلاتا ہے کہ جو بھی بدلے میں یہیں ہوں۔
تارک الوطنی عجیب چیز ہے۔  جیب میں ڈھیروں روپیہ ڈالتی ہے۔  آزادی کا احساس جگاتی ہے۔  نت نئی دنیائیں دکھاتی ہے۔  لیکن گھر چھین لیتی ہے۔  بس ایک کالا سوٹ کیس تھما دیتی ہے۔  اور ہم اسی میں میک اپ کا لال بکس ڈال کر چلتے بنتے ہیں۔
image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •