کیسی عید مبارک؟

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

\"muhammadآج عید کا دن ہے۔ ہر طرف خوشی کا کا سماں ہے۔ بچے خوش ہیں۔ جوان خوش ہیں۔ خواتین خوش ہیں۔ اب کے لاکھوں جانور سنتِ ابراہیمی میں قربان کیے جائیں گے۔ اور کئی ایسے جانور ہوں گے جو ابھی انتظار کر رہے ہوں گے۔ کہ وہ کب اپنی اس جگہ بلائے جاتے ہیں جہاں ان کو قربان کیا جائے گا۔ اور وہ جانور بھی اپنے نصیب کا آخری چارہ کھا رہے ہیں۔ اور ادھر اودھر دیکھ رہے ہیں۔ اور انسان ہیں کہ اپنے میں گم سم کھڑے ہیں۔ اور ایک دوسرے کو کہہ رہے ہیں

نماز ہوگئی۔ اپنے پراؤں سے عید بھی مل لیا۔ گلے شکوے بھی دور کر لیے۔ ایک بہت بڑی سی جھپی بھی پالی۔ ماں کے پاؤں بھی چھو لیے۔ بڑوں سے عیدی بھی لے لی۔ اور چھوٹوں کو عیدی بھی دے دی۔

اب بس جانوروں کو اللہ کی بارگاہ میں قربان کرنا ہے۔ اور سب سے کہنا ہے۔

، عید مبارک!،

پر کسی نے بھی اس بات پر زرا بھی سوچا ہے کہ، کیسی عید مبارک؟

کیا اس سوال نما جواب کو قبول کرنے کو ہمارا دماغ تیار ہے۔ کیا کسی کے ذہن میں ایک بار بس ایک بار یہ سوال اٹھا کہ، کیسی عید مبارک!

یا ہم بھی بچے ہوکر رہ گئے ہیں۔ کچھ خوشیاں ایسی ہوتی ہیں کہ ان میں بچوں کا ساتھ دینا لازمی بن جاتا ہے ۔ اور ایک اچھے بھلے آدمی کو بھی بچہ بن جانا پڑتا ہے۔ اور وہ سب کچھ بھول جاتا ہے۔ اور وہ بچوں کے ساتھ اپنی خوشیاں مناتا ہے۔ اور اسے یاد ہی نہیں رہتا کہ مجھے کیا کرنا تھا۔ کیا کرنا ہے۔ اور اس وقت کیا کرہا ہوں۔ بس خوشی کا موقع ہوتا ہے۔ سارے بچے خوش ہوتے ہیں تو ان کے دیکھا دیکھی بڑے بھی خوش ہوتے ہیں۔

پر اصل میں ایسا نہیں ہوتا ۔ اور بڑے انسانوں کے ساتھ، وہ بڑے انسان نہیں جو اپنے عہدے کی وجہ سے بڑے ہیں۔ پر وہ انسان جو اب میچور ہوگئے ہیں اور اپنی عمر سے کسی کو بھی یہ باور کرا سکتے ہیں کہ وہ اب چھوٹے نہیں ہیں۔ اب وہ بڑے ہوگئے ہیں۔ جب ایسے انسان ایسے کام کرنا شروع کردیں۔ جن سے وہ بچے معلوم ہوں تو دکھ ہوتا ہے۔ اس وقت پاکستان میں بھی یہی ہورہا ہے۔ اس ملک کے رہنے والوں کی کافی تعداد دکھ جھیل رہی ہے۔ تکلیف میں ہے۔ اور ہم کہیں، عید مبارک!، تو یہ کیسی عجیب بات ہوگی۔ اور یہ بات ہمارے کس ذہن کو ظاہر کر رہی ہے۔

عید مبارک ہوسکتی ہے۔ اور کہی جا سکتی ہے۔ پر وہاں جہاں سب ، منگل شکر، ہو یعنی ، سب ٹھیک ہو، پر یہاں تو سب ٹھیک نہیں ہے۔ اس ملک میں سب ٹھیک نہیں ہے۔ اس شہر میں سب ٹھیک نہیں ہے۔ اور کیا اس دنیا میں سب ٹھیک ہے!؟

جب اس ملک۔ اس شہر۔ اس دنیا میں سب ٹھیک ، سب منگل شکر ،  نہیں ہے۔ تو پھر کیسی عید مبارک؟

جب اس دنیا میں سب ٹھیک نہیں ہے۔ تو ہمارے اندر کی دنیا میں سب ٹھیک کیسے ہوسکتا ہے۔ جب ہمارے اندر میں بھی سب ٹھیک نہیں ہے۔ تو پھر بھلے کتنی بھی عیدیں آئیں اور جائیں۔ لیکن ہم یہ نہیں کہہ سکتے کہ، عید مبارک!،

دنیا میں بہت دکھ ہے!

اتنا زیادہ کہ کون گنے؟

جب دنیا میں اتنا دکھ ہے۔ تو ہم بچے نہیں بھلے کچھ دیر کے لیے اپنے بچوں کو لیکر ہم بچے بن بھی جائیں۔ تو اس سے کیا ہوتا ہے۔ کیا ہم خوش ہوجاتے ہیں۔ کیا ہمیں دائمی خوشی میسر ہوجاتی ہے۔ کیا ہم دنیا کے دکھ بھول جاتے ہیں۔

نہیں ایسا نہیں ہے۔ ایک سمجھدار آدمی ایسا نہیں ہوتا۔ اسے معلوم ہوتا ہے کہ دنیا میں کیا کچھ ہورہا ہے۔ اور دنیا کس طرف جا رہی ہے۔ بھلے وہ اپنے بچوں کے ساتھ کچھ دیر کے لیے بچہ بھی بن جائے۔ ان کو اپنی پیٹھ پر بھی اٹھائے۔ ان کے لیے گھوڑا بھی بن جائے۔ اور انہیں یہ باور کرانے کی کوشش کرے کہ دنیا میں سب ٹھیک ہے۔ سب منگل شکر ہے،اس سے کیا ہوتا ہے۔ بچے، بچے ہیں کچھ دیر کے لیے خوش ہوں گے۔ اپنے ابو کے ساتھ کھیلیں گے۔ اور پھر سب کچھ بھول جائیں گے کہ ان کے ساتھ کیا ہوا ہے۔

پر ایک سمجھدار انسان کہاں بھول پاتا ہے۔ دنیا کے دکھ۔ جہاں ہر صبح ایک نیا ظلم ہوتا ہے۔ جہاں ہر صبح اس شان سور ج طلوع نہیں ہوتا کہ آج کے بعد یہ سورج کبھی بھی اس دنیا کو اندھیرے کی طرف نہیں دھکیلے گا۔ اور نہ ہی ہر رات جو آتی ہے وہ اپنے ساتھ یہ وعدہ لاتی ہے کہ میں اپنے کالے پن میں کوئی ظلم نہیں ہونے دوں گی۔ پر ایسا بھی نہیں ہوتا۔ جب بھی سورج اس دیس میں طلوع ہوتا ہے تو اپنے روشن چھیرے سے ہمیں یہ دنیا تو دکھتا ہے۔ پر جب اس کی روشنی جیسے جیسے پھیلتی ہے تو ایک دو نہیں پر اس شہر میں۔ اس ملک میں۔ اس دنیا میں کئی ایسے افراد ہوتے ہیں جو رات کی تاریکی میں مارے جاتے ہیں۔ اور دن کی روشنی میں ان کی پہچان ہوتی ہے کہ ، یہ کون تھے؟،

کئی پہچانے جاتے ہیں اور کتنے ہی ایسے بد نصیب ہوتے ہیں جو نہیں پہچانے جاتے۔ تو پھر ان نامعلوم افراد کے حصے میں کیا آتا ہے؟

اور وہ رات کی سیاہی جو یہ ہی چاہتی ہے کہ اس کی تاریکی میں دو محبت کرنے والے ملیں اور ان کی محبت میں ایسا پسینہ بہے جس سے اس دھرتی پر عشق کے پھول کھلیں۔ اور کوئی کسی لڑکی کو کالی کر کے نہ مارے۔ اور کبھی بھی کسی کا خون نہ ہو۔ پر افسوس ایسا نہیں ہوتا۔ وہی ہوتا ہے جو اکثر ان کالی راتوں میں ہوتا ہے۔ محبت کم کی جاتی ہے۔ پر کالیاں زیادہ کی جاتی ہیں۔ رات کی سیاہی میں ان لڑکیوں کو ایسے چن چن کر قتل کیا جاتا ہے۔ جیسے رات کی سیاہی میں عشاق اپنے عشق کے پرچم چنتے ہیں۔ کہی کلھاڑیاں چلتی ہیں۔ اور سر دھڑ سے الگ۔ کہیں پر زہر دیا جاتا ہے۔ اور محبوب کی بانہوں میں عاشق ایسے سو جاتے ہیں کہ جیسے کبھی

نہ صبح ہو، نہ آنکھ کھلے!،

کہیں پر زبردستی کے جرگوں میں ایسے شوہر دیے جاتے ہیں جب ان کے حرم میں وہ لڑکیاں سوتی ہیں تو ان کی بچیاں معلوم ہوتی ہیں۔ اور کبھی ان کو ایسے شوہر دیے جاتے ہیں جن کے برابر وہ جائیں تو ایسا معلوم ہوتا ہے کہ شاید وہ ان کی ماں کے آخری بیٹے ہوں۔ کبھی ان کو سنگ چتی کے بدلے دے دیا جاتا ہے۔ کبھی ان کو وٹے سٹے کی نذر کر دیا جاتا ہے۔ کبھی ان کو کالی کر دیا جاتا ہے۔ کبھی ان کے سینے میں جدید مشین گنوں سے اتنے سوراخ کردیے جاتے ہیں۔ کہ کوئی بھی ڈاکٹر نہ تو ان کا پوسٹ مارٹم کرتا ہے۔ اور نہ ہی کوئی ان کا جنازہ پڑھتا ہے۔ اور وہ بے گورو کفن زمیں میں ایسے ڈکھیل دی جاتی ہیں کہ ان کا کوئی نشان بھی نہیں ملتا۔

وہ پھر بھی جیتی ہیں۔ زندہ رہتی ہیں۔ اس سماج کے خلاف بغاوت کرتی ہیں۔ محبت کرتی ہیں۔ محبت میں پسینہ بہاتی ہیں۔ اور پھر ماری جاتی ہیں۔ یہ کہانی ایک سندھ کی نہیں ہے۔ یہ کہانی پوری دنیا کی ہے۔ اور اسی دنیا کے سورج کے دن۔ اور چاند کے رات کی ہے۔

اسی لیے ایاز نے لکھا تھا کہ، چاند پونم کا ہم کو بلاتا رہا!،

جہاں بھی پونم کا چاند ہوگا وہاں عشق ضرور ہوگا۔ اور قتل بھی!

تو اس لیے دنیا میں بہت دکھ ہے۔ یہ تو آپ اس دکھ کی ایک ہلکی شکل دیکھ رہے ہیں اگر آپ اس دکھ کی اصل اور پوری شکل دیکھیں تو جی نہ پائیں۔ کشمیر کا دکھ۔ کراچی کے ظلم کا دکھ۔ پناہ گزینوں کا دکھ۔ گمشدہ افراد کا دکھ۔ ان بہنوں کا دکھ جن کے بھائی گم ہیں اور ان ماؤں کا دکھ جن کے بیٹے گم ہیں۔

اسی دکھ کو لیکر چاند بادلوں میں چھپ جاتا ہے۔ اور سورج اس دکھ کے باعث اپنی گرمی بڑھا دیتا ہے۔ پھر بھی دکھ کم نہیں ہوتے سو نہیں ہوتے۔ گولی مارنے سے لیکر۔ گالی دینے تک ایک نہیں ہزاروں شکلیں ہیں دکھ کی اور وہ سبھی اس دنیا۔ اس ملک اور اس شہر میں پائی جاتی ہیں۔ کسی کو یہ دکھ ہے کہ اس کا پیارا گولی کی نذر ہو گیا اور گولی اس کے معصوم چہرے کو چیرتے گزر گئی۔ اور کسی کو یہ دکھ ہے کہ اس کے بھائی کو کون لے گیا ہے جو وہ ابھی تک گھر نہیں آیا۔ کسی کو یہ دکھ ہے کہ اس کے بیٹے نے اس لیے خود کشی کر لی کہ میں نے اسی گالی دی تھی،اور وہ پہلی گالی تھی جو میں نے اسے دی تھی۔ پر میں یہ تو نہیں جانتا تھا کہ یہ گالی آخری بھی ثابت ہوگی!

دنیا میں بہت دکھ ہے۔ یہ دنیا کا دکھ شاید دریا کا پانی ہے۔ جتنا کم کرنے کی کوشش کی جاتی ہے۔ نئی صبح اور زیادہ ہوجاتا ہے۔ کم بخت کم ہی نہیں ہوتا۔ نہ پونم کے چاند سے کم ہوتا ہے۔ نہ روشن سورج سے۔ اس لیے آج عید ہے۔ لوگ خوش بھی ہیں۔ پر وہ اپنے دل میں اس ملال کو بھی رکھے ہوئے ہیں کہ

، کیسی عید مبارک!؟،

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •