ہم بیٹیوں والے


\"wisi-baba\"

محسوس کیا تھا بری طرح محسوس کیا تھا جب ڈاکٹر کی جھجک دیکھی۔ یہ بتاتے ہوئے کہ ہمیں خدا نے بیٹی کا تحفہ دینے کو منتخب کیا ہے۔ ہم صرف اس لئے جاننا چاہتے تھے کہ ہم مہمان کا شایان شان استقبال کریں۔ اپنی اوقات مطابق وہ لڑکا ہو یا لڑکی ہمارے لئے تو انعام ہی تھا۔ اپنی بیٹی کو خدا کا سب سے پیارا تحفہ مانتا ہوں۔ اس کا نام منال رکھا جس کا یہی مطلب ہے۔

اپنی زندگی عمر آخر کیسا ہو گا۔ اس پر کبھی نہیں سوچا تھا۔ منال ملنے کے بعد یہ ضرور چاہا ہے کہ عمر اتنی ہو کہ اس کی تب تک خدمت کر سکیں جب تک اسے ضرورت ہو۔ خدا سے بہت براہ راست بہت ہی ذاتی سا تعلق بنا رکھا ہے اپنا ۔ اس پر کم بات بات کرتا ہوں ۔ بس سمجھ لیں کہ ایک طاقت کا سہارا رہتا ہے۔زندگی جس رنگ میں آئے سکون برقرار رہتا ہے ٹینشن نہیں ہوتی۔

بیٹی چھوٹی تھی تو ساتھ سوتی تھی۔ اس کو عادت ہو گئ کہ رات کو نیند میں میرا کان پکڑ لیتی تھی۔ کان چھڑاتا تو وہ اٹھ جاتی پوزیشن بدل کر سوتا تو بھی مسئلہ۔ جلدی صبر کر لیا اور سمجھوتا بھی کہ اب روز رات کو کان پکڑوا کر ہی سونا ہوگا۔

عجیب صورتحال ہوتی تھی۔ کان پکڑوائے لیٹا ہوتا۔ اپنے دن کا حساب کرتا اپنی کارکردگی ناکامیوں پر خدا سے مذاکرات بھی کرتا۔ رفتہ رفتہ یہ لگنے لگا کہ کان اصل میں اللہ جی نے ہی پکڑ رکھا ہے۔ خدا سے اب پرانا دوستی کا تعلق ہے۔ جیسے ہی یہ اندازہ ہوا خوب احتجاج کرنے لگ گیا۔ کیا کہنا تھا یہی کہتا کہ رب جی یہ اچھا طریقہ ہے ہمیں گھیرنے کا۔

یہ وہ دن تھے جب خود سے خدا سے اپنے تعلق پر غور کرنے بہت موقع ملا۔ زندگی کو سوچا اپنے بارے میں فیصلے کیے۔

بیٹی سکول جانے لگ گئی تھی۔ اسے روز کہانیاں سناتا تھا۔ تب بھی ایک بات اسے بتانی مشکل لگتی تھی۔ بتا ہی نہ سکا کبھی کہ انسان کو مرنا بھی ہوتا ہے۔ بڑے منصوبے بنائے اسے یہ بتانے کو ۔ نہ کسی کہانی میں کوئی کردار مار کر سکھا سکا نہ ویسے بتا سکا کہ سب کو ایک دن جانا بھی ہوتا۔ یہ مشکل تب آسان ہوئی جب ایک دن منال سے پوچھا کہ کیا اس کی دوست بھی اس کی طرح اپنی نانو کے گھر ہر وقت جاتی رہتی ہے۔

منال نے کہا بابا میری دوست سے اس کی نانو کا نہیں پوچھنا، اس کی نانو نہیں ہے۔ جو بات سکھانے بتانے میں بطور والد ناکام رہا تھا۔ وہ مشکل ترین سبق اس نے اپنے سکول میں سیکھ لیا تھا۔ ہم بچوں کو اسی لئے تعلیم دیتے ہیں کہ وہ مشکلات کا سامنا کرنے کے لئے تیار ہوں۔

یاد رہے کہ ہم ہی نہیں سکھاتے زمانہ بھی سکھاتا ہے۔ وقت سب سے بڑا استاد ہے۔ زمانہ کچھ سکھاتے ہوئے مرد عورت کی تمیز نہیں کرتا۔ ایک سی مہربانی سے بھی سختی سے بھی سبق دیتا ہے۔
امیتابھ بچن نے اپنی پوتی اور نواسی کے نام ایک خط لکھا ہے۔ انہیں اپنی زندگی کے فیصلے خود کرنے کی تلقین کی ہے۔ تب بھی ایسا ہی کرنے کو کہا ہے جب ایسا کرنے کی مخالفت کریں لوگ۔ میرے دوست عامر خاکوانی نے اپنی بیٹی کے نام ایک خط لکھا ہے۔ اس میں اپنے مذہب اپنی روایت سے جڑے رہنے کی تلقین کی ہے۔

انسان نے اپنے تجربے سے سیکھا ہے۔ خواتین کو عزت احترام ترقی دیے بغیر ایک پرسکون مثالی دنیا ممکن نہیں ہے۔ خدا کا پیغام لانے والے پیغمبروں نے بھی یہی کہا ۔ انہوں نے تو خواتین کے متعلق بتاتے ہوئے عزت احترام کے ساتھ جنت کی بشارت الگ سے دی۔ اس کو اضافی انعام بتایا۔ بات کو آسان کرتے ہیں۔ ہم سمجھنے میں ناکام رہے ہیں۔ دنیا کبھی جنت نہیں بنے گی، اگر خواتین کو ہم اپنے ساتھ ملا کر آگے نہیں بڑھیں گے۔

برابر ترقی تعلیم کے مواقعے انکا حق بھی ہے فرض بھی۔ کیا لڑکیاں اپنے مذہب سے جڑ کر اپنی مرضی کے فیصلے نہیں کر سکتی ہیں؟ کیا ہمارا مذہب لڑکیوں کو اس حد تک آزادی نہیں دیتا ہے کہ ان کی شادی میں بھی ان کی مرضی شامل کرنے کا حکم ہے؟۔

ہم لوگ جب اپنا وقت گزار کر چلے جائیں گے۔ تو جانے والوں کے ساتھ ہی کہیں جمع ہوںگے۔ وہاں کچھ لوگ سب سے معتبر فخر مند الگ کھڑے ہونگے۔ وہ وہی ہوں گے جنہوں نے زندگی کو زندہ رہنے والوں کے لئے آسان بنایا ہوگا۔ اپنی لڑکیوں کو تعلیم تربیت اور فیصلوں کی آزادی دیکر۔ یعنی ہم بیٹیوں والے۔

Facebook Comments HS

وسی بابا

وسی بابا نام رکھ لیا ایک کردار گھڑ لیا وہ سب کہنے کے لیے جس کے اظہار کی ویسے جرات نہیں تھی۔

wisi has 407 posts and counting.See all posts by wisi