محمد کاظم اور ابن خلدون

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

ستر کی دہائی میں عزیز دوست باصر سلطان کاظمی کی بدولت احمد ندیم قاسمی صاحب کا مجلہ فنون باقاعدگی سے پڑھنے کا موقع ملتا رہا کیونکہ فنون باصر کے گھر آتا تھا۔ اس میں محمد کاظم صاحب میرے بہت مرغوب مصنف تھے۔ ان کے بارے میں مزید کچھ معلوم نہیں تھا۔ تحریروں سے بس اتنا تعارف ہوا کہ عربی زبان پر بہت عمدہ دسترس رکھتے ہیں۔ بعد میں معلوم ہوا کہ یہ وہی محمد کاظم السباق ہیں جنھوں نے مولانا مودودی صاحب کی کچھ کتب کا عربی میں ترجمہ بھی کیا تھا۔ انھی دنوں استاد محترم پروفیسر مرزا محمد منور صاحب کا ابو حنیفہ الدینوری کی کتاب “الاخبار الطوال” کا اردو میں ترجمہ شائع ہوا تھا۔ اس پر فنون میں محمد کاظم صاحب نے بہت بھرپور تبصرہ کیا تھا۔ پانچ چھ مقامات پر تسامحات کی نشان دہی بھی کی تھی۔

سنہ 1978 میں ہمارے بزرگ دوست صلاح الدین محمود صاحب نے نقش اول کتاب گھر کے نام سے ایک اشاعتی ادارہ قائم کیا۔ اس ادارے نے چند بہت خوبصورت کتابیں شائع کی تھیں جن میں سلیم احمد کی کتاب “اقبال ایک شاعر” اور محمد کاظم کی کتاب “عربی ادب میں مطالعے” بہت مقبول ہوئی تھیں۔ مجھے یاد پڑتا ہے کہ صلاح الدین محمود صاحب نے نے خط نسخ میں لکھی عبارت اور اپنے دستخطوں کے ساتھ یہ دونوں کتابیں عنایت کی تھیں۔ محمد کاظم صاحب کی کتاب کو نجانے میں نے کتنی بار پڑھا تھا، بالخصوص ابونواس پر مضمون اور فلسطینی شاعرہ فدویٰ طوقان کی ڈائری۔

محمد کاظم صاحب سے دو تین سرسری ملاقاتوں کا موقع بھی میسر آیا تھا۔ ایک بار رشید ملک صاحب نے مجھے ملاقات کے لیے واپڈا ہاوس آنے کی دعوت دی۔ وہ ملاقات محمد کاظم صاحب کے آفس میں ہوئی تھی۔ کاظم صاحب اپنے دفتری امور انجام دیتے رہے، رشید ملک صاحب میرے ساتھ دو ڈھائی گھنٹے گفتگو کرتے رہے۔

گزشتہ دنوں فیس بک پر محمود الحسن کی پوسٹ سے پتہ چلا کہ ریڈنگز والوں نے محمد کاظم صاحب کی ابن خلدون پر کتاب شائع کی ہے۔ اس لیے اشتیاق ہوا اور بک سٹور پر جا کر کتاب خرید لایا۔ گزشتہ کچھ عرصہ سے میرا کافی وقت ابن خلدون کے مطالعے میں صرف ہو رہا ہے۔ اس لیے محمد کاظم صاحب کی کتاب کے مطالعہ سے ایک سرخوشی اور وارفتگی کا احساس ہوا۔

محمد کاظم صاحب بہت باکمال مترجم تھے۔ عربی اور انگریزی سے اردو میں بہت عمدہ تراجم کیے ہیں۔ اردو سے عربی تراجم نے عرب دنیا سے داد وصول کی تھی۔

کاظم صاحب نے ابن خلدون کے قبل ازیں ہونے والے تراجم کے متعلق بہت درست رائے دی ہے کہ وہ پابند اصل نہیں ہیں۔ مترجمین نے عموماً اصل کو سامنے رکھ کر اپنی زبان میں اس کا مفہوم ادا کر دیا ہے۔ اس کا لفظ بہ لفظ ترجمہ نہیں کیا۔ یہ بات ابن خلدون کے تراجم تک محدود نہیں بلکہ اردو میں ہونے والے اکثر تراجم پر صادق آتی ہے۔ شاہ اسماعیل شہید کی کتاب عبقات کا مولانا مناظر احسن گیلانی نے اردو میں ترجمہ کیا تھا۔ مفہوم کی ادائیگی تک تو ترجمہ مناسب ہے لیکن اتنا تشریحی ہے کہ کچھ پتہ نہیں چلتا وہ کس عربی جملے کا ترجمہ کر رہے ہیں۔ کچھ ایسا ہی احوال مولانا حنیف ندوی صاحب کے تراجم کا ہے۔ وہ غلط تو شاید نہ ہوتے ہوں لیکن پابند اصل بہرحال نہیں ہوتے۔ مولانا ندوی صاحب ترجمہ کرتے وقت حسب منشا عبارت کی ترتیب بھی بدل دیتے اور پیراگراف آگے پیچھے کر دیتے ہیں۔

کاظم صاحب کا دعویٰ یہ ہے کہ ان کا ابن خلدون کا ترجمہ پابند اصل ہے اور لفظ بہ لفظ ہے۔ ایسا ترجمہ کرنا کوئی آسان اور سہل کام نہیں تھا۔ چنانچہ انھوں نے اعتراف کیا ہے کہ “راقم الحروف کو باوجود ترجمے کے کام میں کافی مشق اور تجربہ ہونے کے، مقدمے کے ترجمے میں کافی مشکلات پیش آئی ہیں”۔ مقدمہ کا عربی متن تو میرے پاس نہیں لیکن اس کی کتاب تاریخ سے تقابل کیا تو کاظم صاحب کے اس دعوے کو سچ پایا کہ یہ ترجمہ واقعی لفظ بہ لفظ ہے اور پابند اصل بھی ۔ اس کے باوجود نثر اتنی رواں، شستہ اور سہل ہے کہ اس کی خواندگی کوئی مشکل پیش نہیں آتی اور مفہوم بھی بالکل واضح ہے۔

کتاب میں مقدمہ کے بعد تقریباً تیس صفحات میں ابن خلدون کی سوانح بہت اختصار لیکن بہت سلیقہ مندی سے بیان کی گئی ہے جس میں اس کی زندگی کے تمام نمایاں واقعات کو بیان کر دیا گیا ہے۔ اس کے بعد سو صفحات پر مشتمل ابن خلدون کے مقدمہ کے چیدہ چیدہ مباحث کا ترجمہ کیا گیا ہے۔ ابن خلدون کی تاریخ نویسی کے انداز کا تعارف کرانے کی خاطر اس کی کتاب تاریخ کا تقریباً 24 صفحات پر مشتمل ترجمہ شامل کتاب ہے۔ آخر پر ابن خلدون پر مصری مصنف محمد عبد اللہ عنان کی انگریزی کتاب کے دو ابواب کا ترجمہ درج کیا گیا ہے۔

ابن خلدون کے فلسفہ تاریخ پر اظہار خیال کا تو یہ موقع نہیں لیکن اس کتاب کو پڑھ کر دل حسرت سے بھر جاتا ہے۔ ہمارے ملک کی جامعات اور دیگر تحقیقی اداروں میں تحقیقی کلچر کے فروغ نہ پانے کا ایک بڑا سبب یہ ہے کہ ان اداروں میں وہ لوگ جمع ہو جاتے ہیں جو بس نوکری کے خواہاں ہوتے ہیں۔ جو لوگ فی الواقع تحقیق کی استعداد رکھتے ہیں وہ روزی روٹی کمانے کے لیے کچھ اور کرنے پر مجبور ہوتے ہیں۔

محمد کاظم – دائیں سے تیسرے

محمد کاظم صاحب پیشے کے لحاظ سے انجنئر تھے اور ساری زندگی اسی میں بسر کی۔ لکھنا پڑھنا ان کا ذاتی شوق تھا۔ اگر وہ کسی تحقیقی ادارے سے وابستہ ہوتے، اور کسی خاص شعبے میں اختصاص پیدا کرکے کام کرتے تو آج اردو زبان کہیں زیادہ باثروت ہوتی۔ ہم اسلاف کی میراث کا ڈھول تو بہت پیٹتے ہیں لیکن حقیقت یہ ہے کہ ہم آج بھی کلاسیکی کتب کے تنقیدی ایڈیشن شائع کرنے میں ناکام رہے ہیں۔ یہاں بطور مثال ابن خلدون کی تاریخ کا ہی ذکر کرنا چاہوں گا۔ مطبع دار الفکر، بیروت، نے سن 2001 میں اس کتاب کا ایک تنقیدی ایڈیشن شائع کیا۔ اسے استاد خلیل شحادہ نے مرتب کیا، حواشی لکھے ہیں ۔ دکتور سہیل زکار نے نظر ثانی کی ہے۔ کتاب کے متن پر یقیناً محنت کی گئی ہے، مختلف نسخوں سے تقابل کیا گیا ہے اور انڈیکس کا اضافہ کرنا بہت لائق تحسین کام ہے۔ لیکن اس کے باوجود بعض بہت ابتدائی نوعیت کی اغلاط موجود ہیں۔ اس وقت ایک غلطی کی طرف توجہ مبذول کرانا چاہوں گا۔

سلطان محمود غزنوی جب ملتان پر حملے کے لیے روانہ ہوا تو وہ دریائے جیحوں کی طغیانی دیکھ کر واپس پلٹ گیا۔ یہ پڑھ کر میں حیرت و استعجاب میں ڈوب گیا کہ غزنی اور ملتان کے راستے میں دریائے جیحوں کیسے حائل ہو گیا۔ اسی طرح ایک دوسری جگہ دریائے جہلم کو سیحوں لکھا ہوا ہے۔ ہو سکتا ہے کہ ابن خلدون کو سرزمین ہند کے جغرافیہ اور اس کے دریاوں کے بارے میں زیادہ معلومات نہ ہوں، لیکن اسلامی تاریخ سے ادنیٰ سی واقفیت رکھنے والا کوئی شخص دریائے جیحوں اور سیحوں کی لوکیشن سے ناواقف نہیں ہو سکتا۔ معلوم نہیں یہ سہو ابن خلدون سے ہوا ہے یا کاتبوں کی کرم فرمائی ہے۔ کہنا صرف یہ ہے عربی نسخہ مرتب کرنے والوں نے بھی اس کی وضاحت نہیں کی اور اردو ترجمے میں بھی یہ غلطی بعینہٖ موجود ہے۔ اردو مترجم نے بھی اس کی وضاحت کرنے کی ضرورت محسوس نہیں کی۔

227 صفحات پر مشتمل یہ کتاب القا پبلیکیشنز نے شایع کی ہے۔ اچھی بات یہ ہے کہ پروف ریڈنگ دھیان سے کی گئی ہے لیکن اس کے باوجود کہیں کہیں غلطیاں موجود ہیں۔ جو لوگ اردو میں ابن خلدون کے فلسفہ تاریخ سے آگاہی چاہتے ہیں ان کے لیے یہ کتاب ایک لائق اعتماد فہم کا وسیلہ بن سکتی ہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •