حضرات شادیاں کیجئے، گناہ نہ کیجئے


مرد اپنی جبلت کے تحت بہت دن تک خود کو روک نہیں سکتا جبکہ عورت کو اللہ نے صبر اور حیا عطا فرمائی۔ ایک باکردار عورت جب ایک بار کسی کو اپنا مان لے تو پھر اس کے سوا کسی دوسرے مرد سے تعلق قائم نہیں کرتی چاہے مہینوں وہ اپنے مرد سے نہ مل سکے۔ اس کے دل میں کبھی بیوفائی کا خیال نہیں آتا باوجود شدید خواہش قرب کے عورت اپنے محبوب کے سوا کسی اور کے ساتھ اپنی ضرورت پوری نہیں کرتی۔ ماسوائے ان طوائفوں کے جن کا دھندہ ہو یا جو مادی خواہشات کی تکمیل کی خاطر اپنی عفت کو بیچ دیں۔

دوسری طرف مرد عموما جب اپنی عورت میں نقص پائے یا کسی سبب وہ تعلق قائم نہ کر سکے تو وہ بنا کسی معتبر جذبہ محض اپنی نفسانی خواہش پوری کرنے کے واسطے کسی بھی عورت سے قربت اختیار کرلیتا ہے۔ اپنی خواہش پوری کر نے کے لئے اسے کسی اخلاقی دباؤ کا احساس نہیں رہتا اور یہی بیوفائی ہے۔ اسلام نے شرعی حد دونوں کے لئے متعین کی ہے لیکن فی زمانہ مردوں کی حالت یہ ہے کہ ان کی اکثریت صرف عورت کہ رضامندی کے انتظار میں رہتی ہے۔ سوچتی ہوں کہ مرد نے خود کو اپنے مقام سے کتنا گرا لیا کہ اس کا اپنا کوئی معیار ہی نہ رہا۔

کوئی شک نہیں کہ اس معاملے میں عورتوں کی اکثریت بے بس ہے وہ چاہے بھی تو اپنے مرد کو خود تک محدود نہیں رکھ سکتی۔ اس کو پابند نہیں کرسکتی کہ اس کے دل میں صرف وہی قابض رہے۔ اسی لئے اس کی طبیعت کو مدنظر رکھ کر اسے ایک سے شادی شادیوں کی اجازت ہونی چاہیے جیسا کہ اسلام اسے حق دیا۔

سمجھنا چاہیے کہ شریعت کے احکام بلا وجہ نازل نہیں ہوئے بلکہ ان پر عمل کرنے کا فائدہ ہی ہوسکتا ہے۔

عورت اپنے مرد پر یقین رکھے تو گھر چلتا ہے۔ اگر شک کی فضا بن جائے تو اس کا نقصان پورے گھرانے کو ہوتا ہے۔ مرد کی فطرت کو بدلنا عورت کے بس کی بات نہیں لیکن اپنے گھرانے کو بیشمار برائیوں سے بچانے کے لئے اس مسئلہ کا ایک ہی حل ہے جو اسلام نے پیش کیا۔ مرد کو چار تک شادیوں کی اجازت دی گئی اور اس کے پیچھے اس کی اس بیقرار طبیعت کا عمل دخل بھی ہے۔

مرد کو نصیحت کرنا مشکل بات ہے لیکن اگر سمجھیں تو ان کا فائدہ ہے۔ اللہ نے مرد کو ایک ساتھ چار عورتیں نکاح میں رکھنے کی آزادی دی ہے تو اسلامی قانون کے تحت اسے عورت سے اجازت کی ضرورت نہیں۔ البتہ ریاستی قانون اور اخلاقی لحاظ سے پہلی بیوی کو اعتماد میں لینا بہتر ہے۔ اگر بیوی راضی نہ ہو تو دوسری بیوی کو الگ گھر اور ناں نفقہ دے کر بنا پہلی بیوی کے علم میں لائے بھی رکھا جاسکتا ہے۔ ریاست کو اس میں مرد کی معاونت کرنی چاہیے۔ جو مالی طور پر مضبوط ہیں انہیں ایسا کرنے میں دشواری نہیں ہونی چاہیے۔

جو مرد جابجا عورتوں سے تعلق قائم کرتے ہیں ان کو علم ہونا چاہیے کہ ایسی عورتیں ناصرف غلاظت کا ڈھیر ہوتی نہیں بلکہ سو طرح کی برائیوں کا شکار ہوتی ہیں۔ مرد ان عورتوں سے دوسرے مردوں کے جراثیم اپنی بیویوں کو منتقل کرتے ہیں۔ اس پہ چاہیں تو تحقیق کرلیں۔ سائنس خود ہی آپ کا راستہ روک دے گی جب خوفناک حقائق معلوم ہوں گے۔

مرد کا دوسری عورت سے نکاح اور الگ گھر خود اس کی ذہنی آسودگی جسمانی صحت اور دراز عمر کے لئے بے حد مفید ہے۔

جب اسے پتا ہو کہ میرے دو یا تین گھر ہیں جب چاہوں جہاں چاہوں آرام پاوں۔ ایک بیوی ایک انداز سے محبت کرے تو دوسری کا انداز جدا۔ سوچئے یہ تو آپ نے جنت زمین پر ہی بنا لی۔ ہر عورت کا انداز دوسری سے جدا ہے لیکن عورت کبھی بھی کھل کر اظہار محبت نہیں کرتی جب تک اسے یقین نہ ہو کہ وہ مرد پر مکمل بھروسا کرسکتی ہے۔ تو اگر مرد چاہے، اپنی زندگی کو رنگین بنا سکتا ہے اور وہ بھی بنا گناہگار ہوئے۔

زانی مرد کی آخرت بھی برباد اور دنیا بھی خراب۔ اگر مرد کسی معصوم عورت کو محبت کا جھانسہ دے کر اس کی عصمت کو داغدار کرتا ہے اور پھر اسے چھوڑ دیتا ہے تو اس میں اللہ کی پکڑ تو یقینا ہوگی ساتھ ہی ساتھ یہ بھی ذہن میں رکھنا چاہیے کہ ایسی عورت زخمی شیرنی ہوتی ہے جو موقع کی تلاش میں رہتی ہے کہ کب بھرپور وار کرکے اس بیوفا مرد اور اس کے گھرانے کو برباد کردے۔ ایسے بیشمار واقعات ہم نے سنے اور عبرت ناک انجام دیکھے۔

مرد کو سمجھنا چاہیے کہ ایک معزز عورت ہمیشہ اپنی عزت کو مقدم رکھتی ہے۔ اس کے لئے اس کی عصمت و عفت کی حفاظت ہی اس کا ایمان ہے اور جب کوئی اس کی عصمت پر ڈاکہ ڈالے تو وہ کسی بھی بات کی پرواہ کیے بنا بدلہ لیتی ہے۔ اسی طرح ایک معزز مرد کسی عورت کی زندگی داغدار نہیں کرنا چاہتا بلکہ وہ اپنی حاجت سے اس عورت کی عزت کو مقدم رکھتا ہے البتہ افسوس کہ فی زمانہ ایسے مرد دکھائی نہیں دیتے۔

عورت کی زندگی کو بڑی مصلحت کے تحت ایک مرد سے جوڑ دیا گیا ہے جبکہ مرد کی ایسی مجبوری نہیں تو پھر بھلا درست طریقے سے نکاح کرکے عورت سے تعلق قائم کرنے کی بجائے حرام رستہ کیوں اختیار کرے۔

خلاصہ کلام یہی ہے کہ عورت کو حلال کیجئے اور اس کے لئے نکاح بہترین ہے۔ اسلامی جمہوریہ پاکستان کی عدالتیں مرد سے اس کا شرعی حق نہیں چھین سکتیں۔ اس معاملے میں مجھے مرد کا وکیل سمجھئے۔
خلاصہ بحث یہ ہے کہ حضرات شادیاں کیجئے، گناہ نہ کیجئے۔

Facebook Comments HS

صفحات: 1 2