میں ماں بننا چاہتی ہوں

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

شمّی ایک بدکردار لڑکی تھی، یا اس کی شہرت ایسی تھی۔ مشہور ہونے والی لڑکیوں کا کردار کسی نہ کسی وجہ سے مشکوک ہی رہتا ہے۔ وہ بھی شاید مشکوک کردار کی حامل لڑکی تھی۔ وہ میرے ہسپتال میں نرس دائی لگی ہوئی تھی۔

یہ ایک چھوٹا دیہاتی ٹائپ ہسپتال تھا۔ شمّی کے علاوہ اس ہسپتال میں ایک لیڈی ڈاکٹر اور ایل ایچ وی کے علاوہ سارا عملہ مرد حضرات پر مشتمل تھا۔

شمّی خوبصورت تو نہیں، قبول صورت لڑکی تھی۔ ہوسکتا ہے، دوسروں کی نظر میں خوبصورت رہی ہو۔ اس کا اٹھتا ہوا قد اور پتلی کمر کے ساتھ بھرے کولھے اور چھاتیاں اسے جازب نظر بناتی تھیں۔ اس کا رنگ سانولا، ناک ذرا لمبا اور تھوڑا بیضوی چہرہ، اسے پرکشش بناتا تھا، اور بڑی بڑی کاجل سے بھری آنکھیں دل والوں کو اپنی طرف راغب کرتی تھیں۔

اس کی پہلی شکایت اس کا خاوند لے کر آیا تھا۔ وہ ہسپتال کا ملازم نہیں تھا۔ ان کی شادی کو کئی سال ہو گئے تھے۔ رشتے میں وہ شمّی کا کزن تھا اور کسی فیکٹری میں کام کرتا تھا۔ اس کا خیال تھا کہ شمّی کے ڈسپنسر احمد سے ناجائز تعلقات ہیں۔ اس نے پہلے پہل شمّی کو سمجھایا تھا، پھر اس کی ماں کو شکایت بھی کی، جس کا الٹا اثر ہوا تھا، اور دونوں میں بات گالم گلوچ سے ہاتھا پائی اور مار پیٹ تک پہنچ گئی تھی۔ دونوں میں اکثر لڑائی جھگڑا چلتا رہتا تھا۔ ان کی تو تکار سے ہسپتال عملے کے لوگ کافی تنگ تھے۔

میں نے ان دونوں کی نگرانی شروع کردی۔ احمد خاصا سمارٹ اور ہینڈسم تھا، کوئی بھی لڑکی اس کی جسمانی کشش سے متاثر ہوئے بغیر نہیں رہ سکتی تھی۔ شمّی بھی اس سے محبت کی پینگیں ڈالتی دیکھی گئی۔ عملے کے لوگوں نے ان کے بقول، دونوں کو فحش حرکات کرتے دیکھا تھا، اگرچہ ان فحش حرکات کی تفصیل کسی نے نہیں بتائی۔ ایک دن میں نے خود ان کو اپریشن تھیٹر میں عزت کا اپرشن کرتے پکڑ لیا۔ میری جگہ شمّی کا خاوند ہوتا تو دونوں کو غیرت کے نام پر قتل کر دیتا۔

اگلے روز میں نے کیدو کا کردار ادا کرتے ہوئے احمد کا تبادلہ ڈسٹرکٹ ہسپتال کروا دیا۔ احمد کی جگہ سلمان خان آیا۔ وہ نام کا ہی سلمان خان تھا اور شادی شدہ، دو بچوں کا باپ، زن مرید انسان تھا۔ ہسپتال کے عملے نے سکون کا سانس لیا۔ شمّی کا خاوند مٹھائی کا ڈبہ لے کر میرا شکریہ ادا کرنے آیا۔ اس کا خیال تھا شمّی احمد کی وجہ سے اس سے نالاں رہتی تھی، اور احمد کی ٹرانسفر ان کے ازدواجی تعلقات کی بحالی میں مثبت پیش رفت ہو گی۔

کچھ عرصہ تو ہسپتال میں سکون رہا پھر وہی بک بک شروع ہو گئی۔ شمّی کے سامنے والے کوارٹر میں لیب اٹنڈنٹ رہتا تھا اور وہ شمّی سے بڑا تنگ تھا۔ اس کی جوان بیٹیاں تھیں اور شمّی کو طرح طرح کے لوگ ملنے کے لئے آنے لگے تھے۔ اس کی اپنے خاوند کے ساتھ لڑائی اور تو تو میں میں بڑھتی جا رہی تھی۔ اتفاق سے شمّی کے خاوند کی رات کی ڈیوٹی لگ گئی۔ اس کی راتوں کو غیر موجودگی شمّی کو اور آزادی دے گئی۔ وہ اب راتوں کو بھی غائیب رہنے لگی۔ اس کے خاوند نے گھر آنا چھوڑ دیا تھا۔ افواہ تھی کہ شمّی کو طلاق ہوگئی ہے۔

شمّی اب پہلے سے زیادہ آزاد ہو گئی تھی۔ اس کے شام کے ملاقاتیوں کی تعداد بڑھ گئی تھی۔ اس کے ملنے والوں میں نوجوانوں کے ساتھ کچھ معززین شہر بھی شامل ہو چکے تھے۔ ایک شام لیب اٹنڈنٹ نے شمّی کے گھر کے باہر کھڑی موٹر سائیکل اٹھوا کر پولیس کے حوالے کر دی، اس بات پر بہت واویلا ہوا، مگر کچھ ہی دنوں میں ایک نکّا تھانیدار بھی شمّی کے گھر آنے لگا۔

بات میری قوت برداشت سے بڑھتی جا رہی تھی۔ ایک دن ہسپتال کا سارا عملہ میرے دفتر میں شمّی کے خلاف شکایت کنندہ بن کر پیش ہو گیا۔ ان کا مطالبہ تھا کہ شمّی کو یہاں سے نکالا جائے۔ شمّی کی وجہ سے ان کے بچوں پر برا اثر پڑنے کا خدشہ تھا۔ وہ بڑھ بڑھ کر شمّی کی برائیاں کر رہے تھے۔ مجھے کسی کے ذاتی کردار کے حوالے سے جواب طلبی کرنے پر کچھ تحفظات تھے، نیز لیڈی ڈاکٹر کی رائے تھی کہ اگر شمّی کو نکال دیا گیا تو اس کی حگہ خالی رہ جانے کا خدشہ تھا۔ شمّی لیڈی ڈاکٹر کی ہیلپر تھی۔ اس نے کبھی اپنے کام میں کوتاہی نہیں کی تھی اور کبھی ڈیوٹی سے غیر حاضر بھی نہیں ہوئی۔ میں نے درمیانی راستہ نکالتے ہو ئے شمّی کو گھر خالی کرنے کا نوٹس دے دیا۔ اس نے ایک ہفتے میں گھر خالی کرنا تھا۔

وہ شام ضرورت سے زیادہ سرد تھی۔ جنوری کی بارشیں ہلکی ہلکی سردی آگے بڑھا رہی تھیں۔ شام اولے پڑے تھے، اس لئے سردی کی شدت میں اضافہ ہوگیا تھا۔ یخ بستہ ہوا نے پرندوں کو گھونسلوں میں دبکنے پر مجبور کردیا تھا۔ میں ابھی ڈنر کرکے لوٙٹا تھا اور ہیٹر کے سامنے ہاتھ گرم کرنے کی کوشش میں مگن تھا، جب چوکیدار نے آکر اطلاع دی، کہ شمّی آپ سے ملنے آئی ہے۔ میں نے اسے صبح دفتر میں ملنے کو کہا لیکن وہ چوکیدار کی بات سنے بغیر ہی اندر آ گئی۔

وہ رو رہی تھی۔ اس کے کاجل ملے آنسو ننھی ندی کی شکل میں اس کے نیم میک اپ زدہ چہرے پر رواں تھے۔ روتے ہوئے اس نے معافی کی درخواست کی۔ کہنے لگی ”میں یہ گھر چھوڑ کر کہاں جاوں؟ آپ سمجھتے ہیں، میں گنہگار ہوں۔ میری شادی کو چھ سال ہو گئے۔ مجھے امید نہیں ہوئی۔ لیڈی ڈاکٹر کہتی ہے، تمہارے اندر کوئی نقص نہیں۔ اپنے خاوند کو چیک کراو، وہ مانتا نہیں۔ میں ماں بننا چاہتی ہوں۔ مجھے اس بات سے کوئی غرض نہیں کہ اس کا باپ کون ہو؟

”۔ وہ روتے روتے آگے بڑھی، میں نے سمجھا، میرے پاوں پڑ کر معافی مانگے گی۔ خلاف توقع اس نے بے باکی سے میرا ہاتھ پکڑ لیا۔ اس کے ہاتھ نرم اور تمازت سے بھر پور تھے۔ اس کے آنسو تھم گئے تھے۔ اس کی آنکھوں میں سرخ ڈورے تیرنے لگے تھے۔ اس کی شال سر سے لڑھک کر کندھوں پر آگئی۔ اس نے نرم اور ملائم لہجے میں میری آنکھوں میں آنکھیں ڈالتے ہوئے کہا“ سر، آپ ہی دے دیں نا مجھے ایک بچّہ۔ ”

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •