عالمی ِ آبادی اور اس کا پھیلاؤ


11 مئی کو ہر سال آبادی کا عالمی دن منایا جاتا ہے، اس دن آبادی کی زیادتی کے اثرات اور مسائل سے آگاہی مہیا کی جاتی ہے۔ یہ دن متحدہ ممالک گورنمنٹ کونسل برائے ترقیاتی پروگرام کے تحت 1989 ء کومرتب دیا گیا تھا۔ اس دن کا بنیادی مقصد معاشرے میں تولیدی صحت کے مسائل سے آگہی مہیا کرنا ہے۔ 10 سے 24 سال کے نوجوان دنیا کی آبادی کے ایک چو تھائی حصے کی نمائندگی کرتے ہیں، اور ان کے درمیان تولیدی مسائل کی آگہی نہا یت ضروری ہے۔

عالمی ادارہ برائے شماریات کے مطابق اس وقت دنیا کی آبادی 8 کھرب سے بڑھ چکی ہے، جب کہ پاکستان کی آبادی 20 کروڑ کے لگ بھگ ہے اور یہ دنیا کی 2 اعشاریہ 6 فی صد ہے۔ پاکستان دنیا کا چھٹا گنجان آباد ملک ہے۔ ہر سال کی طرح پاکستان سمیت دنیا بھر میں یہ دن منایا جا رہا ہے۔ 1994 میں اس کی پہلی عالمی کانفرنس منعقد کی گئی۔ جس کا مقصد آبادی، تولیدی مسائل اور ترقی تھا، 25 سال گزرنے کے باوجود ہر سال آبادی 100 ملین سالانہ اوسط کے حساب سے بڑھ رہی ہے۔ آبادی کا بڑھتا ہوا تناسب گلوب کے لیے ایک المیہ ہے۔ اس سال عالمی یومِ آبادی کا موضوع ”فیملی پلاننگ از اے ہیومن رائٹ“ مطلب ”خاندانی منصوبہ بندی انسانی حق ہے“ ہے۔ 1980 کی دہائی میں پاکستان کی آبادی کا تناسب انڈیا کی افزائش سے زیادہ تھا، لیکن 1990 کی دہائی میں انڈیا کا تناسب دًگنا ہو گیا۔

پاکستان میں آبادی کے تناسب کی وجوہات میں سب سے بڑی وجہ تعلیم کی کمی، تولیدی صحت سے متعلق آگہی پروگرام کا نہ ہونا، امراء کے ہاں وراثت، غرباءکے ہاں نان نفقے کے ذرائع کی مد میں بچوں کی پیدائش، سیاسی عزم کی خامیاں، صنفی امتیازات، اور مذہبی طبقے کا اسلامی اقدار کا بے جا استعما ل وغیرہ ہیں۔ پاکستان میں وسیع خاندان کا تصور ہماری ثقافت کا حصہ ہے، قبائل میں بڑے خاندان کو ایک نعمت سمجھا جاتا ہے لیکن یہ بات سوچنے کی زحمت نہیں کی جاتی کہ ان کی خوراک، تعلیم، اور باقی ضروریاتِ زندگی اور مستقبل کوکس طرح سنوارا جائے گا۔

عورت کو صرف بچے پیدا کرنے کے لیے گھر کی چاردیواری تک ہی محدود رکھا جاتا ہے۔ دنیا بھر میں آبادی کے اس بڑھتے ہوئے رجحان کی وجہ سے کئی مسائل نے جنم لیا ہے، جن میں غربت، بے روزگاری، سماجی اضطرابات، مہنگائی اور دوسرے کئی جرائم شامل ہیں۔ پاکستان میں آبادی کا بڑھنا ایک چیلنج ہے، جس کی وجہ سے معاشی اور معاشرتی مسائل، جیسے فی کس آمدنی میں کمی، تعلیم، صحت، اور دوسرے کئی مسائل جنم لے رہے ہیں۔ یہ مسائل ایک ملک کی خود کفالت اور ترقی کے لیے ایک بہت بڑی رکاوٹ ہے۔

5 دسمبر 2018 کو حکومتِ پاکستان کی جانب سے سپریم کورٹ اسلام آباد میں ایک سیمپوزیم منعقد کیا گیا۔ جس میں مختلف شعبوں سے تعلق رکھنے والے عہدیداران نے شرکت کی، جن میں وزیر ِ اعظم عمران خان، چیف جسٹس، چاروں صوبوں کے وزراء و علماء، حکومتِ وفد، سول سوسائٹی، عدلیہ، قانون ساز اور کئی لوگ شامل تھے۔ اس کا مقصد آبادی کے بڑھتے ہوئے رجحان کو کم کرنا تھا۔ بہت سے مسائل کو مدِ نظر رکھا گیا، جس میں بڑھتی آبادی کی وجہ سے پانی کے مسائل، ماحولیاتی آلودگی پاکستان کے ڈیموگرافک حقائق، خاندانی منصوبہ بندی، آبادی اور افزائش ِ پیدائش کا معیار شامل تھے۔

لیکن بد قسمتی سے موجودہ حکومت کا ان حقائق سے نمٹنا بہت مشکل بن گیا ہے۔ 30 سالوں سے خاندانی منصوبہ بندی کے باوجود پاکستان کی آبادی کا تناؤ بڑھتا چلا جا رہا ہے۔ ورلڈ بنک کے مطابق اگر پاکستان کی آبادی کو موجودہ تناسب سے کم نہ کیا گیا تو اگلے 30 سالوں میں کم ترین آمدنی والے ممالک میں شامل ہو جائے گا، ورلڈ بنک کے ڈائرکٹر پتچمو تھو النگو نے ایک تجویز دی ہے کہ اگر اگلے 30 سالوں میں پاکستان موجو دہ آبادی کی نصف تک کمی لانے میں کامیاب ہو جاتا ہے تو تب بھی یہ ہائی مڈل انکم ممالک میں شامل ہو جائے گا۔

النگو نے مزید کہا کہ اگلے 10 سال پاکستان کی بقا کے لئے نہایت اہم ہیں۔ پاکستان نے آئی ایم ایف کے پروگرام کے آغاز کے دو سال 2013۔ 14 میں پاکستان نے مثبت کردار ادا کیا، اور اس کے بعد سیاسی اتفاق ِ رائے کی کمی کی وجہ سے بڑھتی آبادی کا تنا ؤ ملکی معاشی نظام پر اثر انداز رہا۔ دوسرے ممالک جیسے ایران، بنگلہ دیش، چائنہ اپنی آبادی کو کنٹرول کرنے میں کسی حد تک کامیاب ہوئے ہیں، جس کی بنیادی وجہ ان کی حکومتی پالیسیاں ہیں۔ بنگلہ دیش کی گھر گھر فیملی پلاننگ کی پالیسی، ایران میں عورتوں کو فتووات کی بنیاد پر ان کے بنیادی حقوق دلا کر اور چین میں ٹو چائلڈ پالیسی سے شرح پیدائش میں کمی لائی گئی۔ یورپ میں دوسری جنگِ عظیم کے بعد سٹیٹ کی مداخلت کے بغیر آبادی میں وا ضع کمی آئی۔ کیوں کہ لوگوں میں آگاہی موجود تھی۔

پاکستان کو اس وقت آبادی کو روکنے کے لئے اقدامات کی اشد ضرورت ہے۔ جس کے علمائے کرام اور حکو متی سطح کے علاوہ عام پبلک کا کردار بھی اہم ہے، علما کو چائیے کہ وہ اعتدال اور عدل کا درس دیں، اسی طرح حکومتی سطح پر ہم آہنگی اور اتتفاق ِ رائے، علما کا حکومتی عہدے داروں کا مل جل کر اس گمبھیر مسلئے کا حل نکالنے کی ضرورت ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ گھر گھر خاندانی منصوبہ بندی کو سختی سے لاگو کرنے کی ضرورت ہے۔ اسلام کو صحیح معنوں میں استعمال کی اور 2018 کے سمپوزیم میں پیش کی گئی تجاویزات جس میں دو بچہ پالیسی شامل ہیں، پہ عمل کی ضرورت ہے۔

بڑھتی آبادی کا ایجنڈا سب سے اہم ہونا، تمام مسائل کا حل ہے۔ حفظانِ صحت کے اصولوں کو خصوصا ً بچیوں کی بنیادی تعلیم میں شامل کیا جائے اور تولیدی مراکز قائم کیے جایئں اور نوجوانوں میں اگائی پروگرام تشکیل دیے جائیں اور اس بات کو پیش ِ نظر رکھا جائے کہ زیادہ آبادی معاشی پست حالی کی بڑی وجہ ہے اور اس کی روک تھام ہماری اولین ذمہ داری ہے مذہبی لحاظ سے بھی اس تصور کو مسخ کرنے کی ضرورت ہے کہ رزق کا وارث اللہ ہے، کیوں کہ دہیاتوں میں اس طرح کے نظر یات افزائشِ پیدائش کا سبب ہیں۔ اسی طرح بین الاقوامی سطح پر بھی عالمی اداروں کو گلوب کی آبادی کو روکنے کے لئے اقدامات کی ضرورت ہے۔

Facebook Comments HS