آبادی کا جن۔ اک نظر ذرا ادھر بھی


صحراؤں اور پہاڑوں سے نکل کر اب انسانی آبادی چہارسو پھیل رہی ہے، تو زمین پر تمام مخلوقات سے اشرف المخلوق حضرت انسان اب خود سے خطرہ محسوس کر رہا ہے۔ ویسے انسانی آبادی ایک طرف بے شمار فوائد کی حامل ہے، تو دوسری طرف اس بڑھتے ہوے آبادی کے طوفان کے حوالے سے ماہرین نے قبل از وقت خطرے کی گھنٹی بجادی ہے۔ آئیے دونوں پہلو سے اس مسئلے کا تجزیہ کرتے ہیں :

*آبادی کا ماحولیات پر اثر:* شہروں کی بڑھتی ہوی گنجان آبادی اور مضافات میں کارخانوں و دیگر صنعتکاری نے ہمارے ماحولیات پر بہت برے اثرات چھوڑے ہیں۔ ماہرین کے نزدیک اس کا محرک آبادی کی کثرت ہے۔ لیکن دوسری طرف دیکھا جائے تو ایک طرف شہروں کی مضافات میں کئی علاقہ جات میں بے شمار زمین مقامی سرداروں، نوابوں کو الاٹ کی ہوئی ہے۔ یا مختلف ترقیاتی منصوبوں کے نام پر مختص ہے۔

اگر منظم طور پر ان کو قریبی آبادیوں سے ملحق کر کہ وہاں پر ضروریات زندگی پر مشتمل شہر بنائے جائیں تو اک بڑی تعداد افراد کی شہروں پہ بوجھ بننے کے بجائے وہاں ہی اپنا بسیرا کرے۔

یہ بھی دیکھنے میں آیا ہے کہ آپس میں نفرت اور لالچ کی وجہ سے ایک ہی گھر کے افراد نے آپس میں پیار و محبت سے رہنے کے بجائے ضرورت سے زیادہ پلاٹ پر مشتمل مکانات بناکر پورا گاؤں اپنے نام کیا ہوا ہے۔ نفرت ولالچ کی ان بیماریوں کا علاج تعلیم و تربیت سے ہی ممکن ہے۔

صنعتکاری میں بھی اب جدید ٹیکنالاجی نے بہت سے مسائل آسان کردیے ہیں۔ جرنیٹرز اور پٹرول کی جگہ اب سولر انرجی نے لے لی ہے۔ گورنمنٹ اگر ترقی یافتہ ممالک کے آئیڈیاز کے مطابق لوگوں کو سہولت سے آراستہ کرے تو ماحولیات کا مسئلہ کافی حل ہوسکتا ہے۔

*بے روزگاری:*

جوں جوں انسانی آبادی بڑھ رہی ہے تو انہیں سب سے اہم مسئلہ یعنی ذریعہ معاش کے حصول میں دقت ہو رہی ہے۔ اس حساس مسئلے کی قدر ہر فرد جانتا ہے۔ لیکن یہاں یہ بات قابل غور ہے کہ آیا اس مسئلے یعنی بے روزگاری کا ذمہ دار آبادی ہے یا سسٹم کے انتظام میں کوتاہی ہے؟

زیادہ دور جانا نھیں اپنے قریبی ماحول کا ہی مشاہدہ کیجیے! سو میں سے اسی فیصد بچوں کی وجہ تعلیم صرف نوکری کا حصول ہے۔ پھر سرکاری نوکری کی تلاش میں امراء کے در حاضری سے لے کر ہزاروں، لاکھوں رپے خرچ کرنے تک کیا کیا جتن نھیں کیے جاتے؟

لیکن ان ہی تھوڑے پیسوں سے چھوٹا موٹا دھندا شروع کیا جاسکتا ہے۔ اگر سیلف میڈ بننے کی یہ سوچ عام کی جائے تو شاید بے روزگاری کا مسئلہ کافی حد تک حل ہوجائے۔

*غذائی قلت:*

ھوٹلوں کی میز سے لے کر امراء و شرفاء کے دسترخوان تک کھانے کا جس طرح زیاں ہوتا ہے، اگر اس کا حساب لگایا جائے تو سالانہ لاکھوں افراد کی غذا یوں ہی ضایع ہو جاتی ہے۔ پھر مہنگائی اور ذخیرہ اندوزی کے مسائل الگ ہیں۔ تو اسے ہرشخص کو اندازہ ہوسکتا ہے کہ آبادی کا تعلق غذائی قلت سے کس حد تک ہے؟

ہمارے ہاں معاشی مساوات کا عالم یہ ہے کہ ایک شخص پورا دن محنت کے باوجود تین وقت کی روٹی نھیں کھا سکتا، جبکہ دوسرے کے کتے بھی عیاشیوں میں مصروف ہیں۔ تو اس منقسم معاشرے کی جانب توجہ کیوں نھیں دی جاتی؟

اس حقیقت کا کسی نے انکار نھیں کیا کہ بڑھتی ہوئی آبادی کئی پہلوں سے انسان ذات کے لیے بے پناہ فوائد کا پیش خیمہ ثابت ہوئی ہے۔ ذیل میں ذرا اس پر بھی تجزیہ کرتے ہیں :

* 1۔ مضبوط دفاع:*

کثیر آبادی سے نہ صرف انسان دیگر مخوقات پر دسترس رکھتا ہے، بلکہ داخلی طور پر انسانی اقوام میں بھی برابری کی بنیاد پر اپنا وجود رکھتا ہے۔ کسی بھی ملک، قوم یا کمیونٹی کا دفاعی نظام اس کے افرادی قوت پر منحصر ہوتا ہے۔ اسی بنیاد پر فوجی تنظیم و دیگر محاذ پر استحکام رہتا ہے۔ جب دفاعی نظام مضبوط و محفوظ ہو تو دیگر شعبہ ہائے زندگی میں بھی ہم کامیابی سے ہمکنار ہوسکتے ہیں۔

* 2۔ انسانی وسائل:*

افرادی قوت اور اس کا درست استعمال سے مختلف اقوام نے کامیابی کے بلندیوں کو چھوا ہے۔ ایک گھر یا خاندان کے شادی بیاہ یا غمی کے موقع سے لے کر ملکی اور عالمی سطح کے انتظامی معاملات تک پورے اہتمام میں افرادی قوت کا کردار مرکزی ہوتا ہے۔

اسکا مشاہدہ اردگرد کے ماحول میں ہی روزمرہ کے معاملات میں کیا جاسکتا ہے کہ کس طرح انتظامی مراحل میں افرادی قوت کا سہارا لینا پڑتا ہے۔

ہمارے ملک پاکستان کی بیس سے بائیس کروڑ پر مشتمل آبادی کو اگر تعلیم، تربیت سے آراستہ کیا جائے اور انہیں اسباب مہیا کیے جائیں تو یہ اک کثیر طبقہ ریاست پر بوجھ بننے کے بجائے ریاست کا سہارا بن جائے گا۔

* 3۔ معاشی ارتقاء:*

دور جدید میں مشینوں کی ایجاد نے اب دنیا میں اپنے جھنڈے گہاڑ دیے ہیں۔ مگر پھر بھی محنت کش افراد اور مزدور طبقے کی اہمیت سے انکار نھیں کیا جاسکتا۔

تقریبا آدھی معیشت کا دارومدار افرادی قوت اور محنت کش طبقے پر ہے۔ یہی وجہ ہے کہ حکومتیں زرعی یا صنعتی ترقی کے لیے نوجوانوں کو مختلف آسان مواقع فراہم کرتی رہتی ہے ہیں، کہ وہ اپنی صلاحیت سے ملکی معاشی استحکام میں کردار ادا کریں۔

کتنی ہی ترقی یافتہ اقوام نے اپنی معیشت کو افرادی قوت کے ذریعے مستحکم کیا۔ پڑوسی ملک چائنہ کی مثال سامنے ہے۔ پاکستان کے ساتھ ہی آزاد ہونے والے ملک جاپان (جو کہ ایٹمی حملے سے بھی متاثر تھا ) نے بھی اپنا مقام انسانی آبادی کی بھتر مینیجمینٹ کے ذریعے بنایا۔

* 4۔ انسانی آبادی اور ایجادات:*

اشرف المخلوق انسان کی نفسیات میں جمود نھیں۔ انسانی آبادی جہاں پھیل اور پھول رہی ہے، وہیں ئی اپنے تخلیقی دماغ کے ذریعے بے شمار ایجادات سے اپنی آرائش کر رہی ہے۔ اگرچہ بہت سی ایجادات و صنعت کاری کا اثر ماحولیات پہ بھی ہوا، لیکن اب اسی تخلیقی دماغ سے ان نقصانات کے ازالے بھی ہورہے ہیں۔

خلاصہ گفتگو یہ ہے کہ انسانی آبادی سے پیدا ہونے والے جن مسائل یا متوقع صورتحال نے آج ایک تشویش پیدا کی ہے، ان میں سے آدھے سے زیادہ مسائل کا حل انتظامی بھتری اور شعور کی آگاہی میں ہے۔ نا کہ نسل انسانی کا منہ بند کرنے میں۔ انفرادی گھریلو مسائل کی وجہ سے اگر کوئی فیملی پلاننگ کرتا ہے تو یہ اور مسئلہ ہے باقی۔ اجتماعی طور پر مینیجمینٹ بہتر کرنے کی ضرورت ہے

Facebook Comments HS