19 سالہ بھارتی ماڈل نے جس بوائے فرینڈ کے لئے اسلام قبول کیا، اس نے غیرت کے نام پر قتل کر ڈالا

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

بھارت میں ناگ پور کے علاقے ساوڈی فاٹا کے پاس ہفتے کی رات پولیس کو ایک نوجوان لڑکی کی مسخ شدہ لاش ایک سنسان علاقہ میں پڑی ملی۔ مقتولہ کا سر بری طرح کچلا گیا تھا اور چہرہ ناقابل شناخت ہو چکا تھا۔

سوشل میڈیا پر جائے واردات کی تصویر وائرل ہونے کے بعد پتا چلا کہ مرنے والی لڑکی کا نام خوشی پریہار ہے ۔ اس کے ہاتھ پر لو برڈ کا ٹیٹو تھا، جس پر خوشی اور آشو لکھا تھا ۔ اس کے سینے کے پاس کوئین بھی گودا ہوا تھا ۔ اس ٹیٹو سے اس کی شناخت کرنے میں مدد ملی ۔ خوشی پریہار نے موت کے وقت ماڈلوں جیسے کپڑے اور لانگ بوٹ پہن رکھی تھی ۔

مس انڈیا 2019 کی ٹاپ فائنلسٹ  19 سالہ ماڈل خوشی جگدیش پریہار نے تین جولائی 2019 کو اپنا مذہب چھوڑ کے اسلام قبول کر لیا تھا تاکہ وہ اپنے بوائے فرینڈ کے ساتھ لیو ان ریلیشن شپ میں رہ سکے۔ خوشی جگدیش پریہار نے مذہب تبدیل کرنے کے بعد اپنا نام زارا شیخ رکھ لیا تھا۔ جس بوائے فرینڈ کیلئے اس خوشی پریہار نے اپنا مذہب تبدیل کیا، اسی لڑکے اسے بے رحمی سے قتل کر دیا ۔ بوائے فرینڈ اشرف شیخ نے ٹائر کھولنے والے اوزار سے چلتی کار میں اس کے سر پر وار کر کے قتل کردیا۔ لاش کو ناقابل شناخت بنانے کے لئے بوائے فرینڈ نے خوشی کے چہرے پر پتھر سے کئی وار کئے۔ ماڈل کے جسم پر بنے کئی ٹیٹو سے پولیس نے اس کی شناخت کی۔

اپنے بوائے فرینڈ اشرف شیخ عرف آشو کے ساتھ لیو ان ریلیشن میں رہنے والی خوشی ناگپور ضلع کے ہنگنا علاقہ کی رہنے والی تھی۔ پولیس نے قتل کا معاملہ درج کرکے ماڈل کے بوائے فرینڈ اشرف شیخ کو گرفتار کرلیا جس نے اپنے بیان میں قتل کا اعتراف کرلیا ہے۔ ملزم کا کہنا ہے کہ زار شیخ دوسرے لوگوں کے ساتھ تعلقات بناتی تھی جس سے وہ منع کرتا تھا لیکن وہ باز نہیں آئی جس پر طیش میں آکر اس نے اسے قتل کردیا۔ پولیس نے واردات میں استعمال کی گئی کار کو بھی ضبط کر لیا ہے۔

اشرف شیخ نے پولیس کو بتایا کہ جمعہ کو دونوں نے ناگپور کے ایک مال سے تقریبا چھ ہزار روپے کی خریداری کی تھی۔ یہیں سے اس نے وہ کالے رنگ کی ٹی شرٹ بھی خریدی تھی ، جو ماڈل نے پہن رکھی تھی ۔ قتل کے بعد اسی ٹی شرٹ کے بار کوڈ سے خوشی کی لاش کی شناخت کی گئی۔ شاپنگ کے بعد راستے میں دونوں کے درمیان جھگڑا ہوا تو اشرف نے لوہے کے راڈ سے اس کو قتل کر دیا۔ ملزم نے ماڈل گرل کے چہرے کو لوہے کے راڈ سے بری طرح مسخ کر دیا تاکہ لاش کی شناخت نہ کی جا سکی۔

پولیس کے مطابق خوشی کو ماڈلنگ کا شوق تھا۔ اس لئے وہ فیشن شو میں شامل ہوتی تھی۔ اپنا شوق پورا کرتے ہوئے وہ زندگی اپنے طریقہ سے جینا چاہتی تھی اور یہی وجہ تھی کہ اس نے غریب والدین کا ساتھ چھوڑ دیا تھا۔ اس کو پب، کلب اور عالیشان ہوٹلوں میں جانا پسند تھا۔ ایک پب میں ہی خوشی کی اشرف سے ملاقات ہوئی تھی ، جس کے بعد دونوں میں دوستی ہوئی اور پھر دونوں لیو ان ریلیشن شپ میں رہنے لگے۔

 

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •