کاش عمران خان کے پاس سعد رفیق جیسا ایک وزیر ہی ہوتا

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

ہماری باتیں ہی باتیں ہیں سید کام کرتا تھا
نہ بھولو اس کو جو کچھ فرق ہے کہنے میں کرنے میں
اکبر الہ آبادی نے یہ شعر مرحوم سر سید کے بارے میں کہا تھا۔

آج ٹرین میں بیٹھا ہوں تو یاد آ گیا۔ پانچ گھنٹے ہونے کو ہیں اور جعفر ایکسپریس چلنے کا نام ہی نہیں لے رہی۔ وہ کیفیت جو ہم مسافر ٹرینوں پر بلور دور میں ہوتی تھی، وہی بے بسی وہی بے کسی لئے لاہور اسٹیشن پہ کھڑے خون کے گھونٹ پی رہے ہیں۔ اے سی اسٹینڈرڈ میں سیٹ نہیں ملی، مجبوراً اکانومی میں ٹکٹ کروائی اور اب نہ لائٹ نہ پانی اور اوپر سے انجن بھی خراب۔ یعنی اگر آپ کے کی حیثیت اکانومی کلاس کی ہے تو جائز حقوق لینا بھی اکانومی کلاس میں بیٹھنے جیسا ہے اور اس سلوک کی عادت ڈالنا بھی آپ کی ذمہ داری ہے۔ ملک کا سب سے بڑا اسٹیشن اور انجن ندارد۔ ساتھ ہی پانچ بجے چلنے والی اکبر ایکسپریس بھی اب آٹھ بجے تک کھڑی ہے۔ ریلوے اسٹیشن کے تمام شعبوں میں وہ پہلے جیسی پھرتی، نہ وہ پہلے جیسی ایمان داری۔ اک معما ہے سمجھنے کا نہ سمجھانے کا۔

مجھے ملک کے قدیم ترین سیاست دان ہونے کا اعزاز لینے والے شیخ رشید کی باتیں یاد آ رہی ہیں۔ کسی سے سنا تھا کہ ان محترم کا پہلا دور ریلوے کی تاریخ کا سنہرا دور تھا۔ امید کر رہے تھے کہ اگلا دور پچھلے دور کا بھی ریکارڈ توڑ دے گا، ریکارڈ توڑ تو رہا ہے لیکن بلور کے دور کا، جب بقول ایک ریلوے گارڈ ہم مسافروں کو دیکھ کر چھپ جاتے تھے کہ ہمارے پاس ان کے سوالات کا جواب ہوتا تھا، نہ ان کے درد کی مسیحائی۔ مجھے باتوں کی گہرائی اور عمل کی سچائی میں واضح فرق بھی نظر آ رہا ہے۔

مجھے سمجھ نہیں آ رہا، کمی کہاں ہے؟ وہی محکمہ جو بلور کے دور میں تکلیف در تکلیف کا نشان بنا۔ وہی ملازمین جو بلوری دور میں محکمے کی ناکامی کی ایک وجہ تھے۔ یکایک خواجہ سعد رفیق کے دور میں کیسے بدل گئے اور ایسے بدلے کہ ہم جیسے مایوس مسافروں نے دوبارہ ریل میں آ کر پناہ لی۔ بس کا سفر چاہے ڈائیوو کا ہی کیوں نہ ہو ریل جیسا کہاں۔

میں تحریک انصاف کا حامی تھا لیکن مجھے خواجہ سعد رفیق اچھا لگتا تھا (اب تو اسحاق ڈار بھی نہ جانے کیوں اچھا لگنے لگا ہے)۔ اس لئے کہ میں نے ایک ڈوبتے جہاز کو اسے پار لگاتے دیکھا تھا۔ ریلوے اس کے دور میں پار لگا اور ایسا لگا کہ اب تک شیخ رشید کو اسے ڈبونے میں خاصی محنت کرنی پڑ رہی ہے۔

خواجہ سعد رفیق کی دوسری خوبی اس کی گفتگو تھی۔ بہت کم لوگ فی البدیہہ اتنا خوبصورت بولتے ہیں۔ گفتگو کی جھلک عملی کام میں بھی دکھائی دے تو آپ کے مخالف بھی آپ کی تعریف پہ مجبور ہو جاتے ہیں۔

خواجہ سعد رفیق بد دیانت ہو گا، شاید ہو بھی، لیکن مجھے خواجہ سعد رفیق نے پاکستان کا ایک محکمہ بنا کر دکھایا۔ اس نے رونا نہیں رویا۔ انھی ملازمین کے ساتھ، انھی ذرائع کے ساتھ، انھی وسائل کے ساتھ، اس نے کر دکھایا۔ آپ صرف آن لائن ٹکٹنگ ہی دیکھ لیں، کتنی آسانی سے ایک روپیہ رشوت دیے بغیر ٹکٹ آپ کے موبائل میں ہے۔ اس سے پہلے کی ریلوے سیٹ لینا آگ کے دریا میں ڈوب کے جانے جیسا ہی تھا۔ اس نے دکھا دیا کہ مردہ گھوڑوں میں بھی جان پڑ سکتی ہے۔ سفید ہاتھی بھی کام کے بن سکتے ہیں۔ ضروری نہیں کہ درآمد شدہ لوگ ہی باصلاحیت ہوں اپنے گامے، پجھے بھی کار آمد ہوسکتے ہیں۔ بس آپ طے کر لو کہ کام کرنا ہے۔ اور سعد رفیق کام کرتا تھا۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •