کالم نویس کی کامیابی کا راز: افراد اور واقعات کی مماثلت محض اتفاقیہ ہو گی

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

یہ ان دنوں کی بات ہے جب میں ہنر کی بے توقیری کی اس آزمائش سے گزر رہا تھا جو پاکستان میں ہر شریف آدمی کے مقدر میں لکھ دی گئی ہے۔ ایک روز اچانک کالج کے ایک سابق ہم عصر سے ملاقات ہو گئی جو کہ اب ایک سکہ بند کالم نگار اور اینکر بن چکے ہیں۔ ان کی بدن بولی میں مجھے وہ حرارت نظر نہ آئی جس کی میں ایک پرانے دوست سے توقع کر رہا تھا۔ وہ تو بس اپنی اونچی اڑان کی خماری میں مخمور نظر آئے۔ کالج دَور کی باتیں کرتے کرتے موصوف نے میرے کام کاج کے بارے پوچھا تومیں نے بتایا کہ ایک ادارے میں گرافک ڈیزائنر ہوں۔ یہ سن کر ان کی آنکھیں چمکیں اور جھٹ سے بولے میرے پاس تیرے لئے ایک پراجیکٹ ہے ، اگر تم چاہو تو اس پر کام کرسکتے ہو، جتنے پیسے کہو گے، ملیں گے لیکن کام ذرا معیاری ہونا چاہئیے۔ اگر ہو سکے تو اپنے کسی سینئر کو بھی شامل کرلو۔ میں نے اس پیشکش کو بغور سنا اور دو دن تک جواب دینے کا وعدہ کر کے چلا آیا۔ چلتے چلتے اس نے اپنے پراجیکٹ کی اہمیت کو ابھارتے ہوئے کہا، یہ ایک ہاﺅسنگ سوسائٹی کا منصوبہ ہے جو اسلام آباد میں کے علاقے بھارہ کہو میں بنایا جا رہا ہے اور اس کے پیچھے وزیر اعظم شوکت عزیز اور ایک ممبر قومی اسمبلی ہیں۔

میں نے واپس آکر اپنے استاد سے مشورہ کیا۔ انہوں نے پوچھا تمہیں کس نے یہ آفر کی ہے؟ جواب میں اس مشہور کالم نویس کا نام بتایا تو انہوں نے فرمایا جس شخص کا نام تم لے رہے ہو، یہ ہمارے ساتھ کام کرچکا ہے اور ہم سب اس کی عادتوں سے اچھی طرح واقف ہیں لہذا میرا مشورہ ہے تم بھی اس سے دُورہی رہو۔ میں نے یہ بات سن کر چپ سادھ لی ۔

کچھ دن بعد مجھے کالم نویس کا فون آیا، ” یار تم آئے نہیں میں تمہارا انتظار کر رہا ہوں۔ آجاﺅ لنچ پر تمہیں ملنا چاہتا ہوں“ یہ کہہ کر کالم نویس نے فون بند کر دیا اور مجھے کچھ کہنے کا موقع ہی نہ دیا۔ جب دوبارہ ملاقات ہوئی تو اس نے اپنی پرانی یادیں اور گرائیں ہونے کے حوالے دئیے اور مجھے کام کرنے پر راضی کر لیا اور کہا جو تمہارے ریٹس ہوں گے، مجھے منظور ہیں۔ بس تم کام شروع کردو۔

میں حیران تھا کہ اس کالم نویس کا اپنا میڈیا آفس ہے جس میں ایک جانب اس کے کالم کے لئے مواد کی تحقیق کرنے، مسالے دار کہانیاں ڈھونڈنے والے بیٹھے ہیں تو دوسری طرف کمپیوٹر سیکشن میں ڈیزائنرز کا بھی پینل موجود ہے تو اسے میری خدمات کی ضرورت کیوں محسوس ہوئی؟ خیر گھر آکر میں نے اپنے کمپیوٹر پر کام شروع کر دیا۔ کام مکمل کرنے میں دو ہفتے لگے لیکن میرے خیال سے بھی بہتر شکل کا ڈیزائن بن گیا جسے دیکھتے ہیں کالم نویس کی خوشی اس کے چہرے سے نمایاں دکھائی دی۔ اب اس کام کی نوک پلک اسی کے میڈیا آفس میں بیٹھ کر میرے ہاتھوں ہونے لگی اور فائنل ہو کر یہ کلائنٹ تک پہنچ گیا۔ مجھے اب پیسوں کا انتظار رہنے لگا۔

ایک مہینہ گذر گیا کوئی رابطہ نہیں۔ میں نے کالم نویس سے پیسوں کا باقاعدہ تقاضا شروع کیا تو کے اندر کا اصل انسان باہر آگیا۔ اس نے پہلے تو مجھ سے ٹال مٹول سے کام لیا پھر کہنے لگا جب مجھے پیسے ملیںگے تو تجھے بھی دے دوں گا۔ ایک دن میں نے تنگ آکر اسے اپنا بل ایک نوٹ لکھ کر بجھوایا، ” باوجود اس کے کہ مجھے میرے دوستوں نے آپ کے ساتھ کوئی بھی کام کرنے سے روکا تھا لیکن اگر میں یہ غلطی کرچکا ہوں تو اس کی سزا تو نہ دیں“۔

میرے اس فقرے نے کالم نویس کے دماغ میں چنگاریاں بھر دیں، اس کی کال آئی اور بولا ”میرے دفتر آ کر اپنے پیسے لے جاﺅ“ میں پہنچا تو اس نے چھوٹتے ہیں کہا، ”جاﺅ اپنے اُن دوستوں کو لے کر آﺅ جنہوں نے میرے ساتھ تمہیں کام کرنے سے منع کیا تھا“ میں نے جواب دیا، ”وہ اس ڈیل میں شامل نہیں تھے“ پھر بولا اس سارے شہرسے کوئی ایسا بندہ تلاش کر کے میرے سامنے لاﺅ جس کے میں نے پیسے دینے ہوں؟ میں نے اپنی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا جناب وہ بندہ آپ کے سامنے بیٹھا ہے۔ اس نے آخری سوال کیا، اگر میں تمہیں پیسے نہ دوں تو کیا کرلو گے؟ میں نے جوابًا کہا، جناب ابھی کچھ دیر پہلے آپ نے مجھے یہ کہہ کر بلایا ہے کہ اپنے پیسے لے جاﺅ، کیا آپ اس بات پر قائم ہیں؟ میرا یہ غیر متوقع جواب سن کر بولا اچھا تم ساتھ والے کمرے میں بیٹھو، ابھی پیسے دیتا ہوں۔

کوئی آدھ گھنٹے کے انتظار کے بعد یہ گاڑی سٹارٹ کر کے اپنے دفتر سے نکل گیا اور اپنے ڈریکولا نما بھائی کو میری بل کی آدھی رقم سے بھی کم کا چیک مجھے دے دیا اور کہا یہی پیسے ملیں گے، اگر مرضی ہے تو لے لو۔ میں مجبوراً یہ چیک لے کر آگ یا۔ ایک لکھاری ہونے کے ناطے مجھے اس بات کا زیادہ دکھ تھا کہ اس کالم نویس کی لاکھوں کی ڈیل تھی اور مجھے 35 ہزار روپے کے بل میں سے صرف پندرہ ہزار دے کر ٹرخا دیا۔ میری راتوں کی محنت جو سخت سردی میں اس کے دفتر میں کام کرتا رہا اس کا یہ صلہ دیا۔ یہ بات میرے حلق سے نہیں اُتر رہی تھی کہ ایک لکھاری اپنے قلم کار بھائی کے ساتھ ایسا دھوکہ کر سکتا ہے۔ جب قلم کار کوئی ایسا ویسا کام کرتا ہے تو اس کے لکھے ہوئے لفظوں کی حرمت اُڑ جاتی ہے اور اس کی تحریر بے جان، بے اثر ہوکر رہ جاتی ہے۔

کچھ وقت گزرا تو مجھے اپنے آبائی شہر گجرات میں اس کالم نویس کے بارے میں ایک ایسی کہانی سننے کو ملی جس نے مجھے حیران تو کیا لیکن بہت سی گتھیاں بھی سلجھا دیں۔ میں نے یہ حقائق رحیم یار خان سے آبائی تعلق رکھنے والے ایک مشہور کالم نویس کے ساتھ بھی شیئر کیے تھے جنہیں موصوف بھی اپنا استاد مانتے ہیں۔

گجرات شہر کے قریب ایک گاﺅں میں پولیس کا ایک مخبر رہتا تھاجس کا نام شاہو ددھڑ تھا، اس کی آس پاس کے دیہات میں کافی دہشت تھی۔ عام لوگوں کی تو اوقات ہی کیا ہے بڑے بڑے چوہدری اور وڈیرے بھی اس کے نام سے کانپتے تھے۔ ایسا نہیں کہ شاہو ددھڑ کوئی خطرناک لڑاکا یا بدمعاش ٹائپ بندہ تھا۔ اصل میں وہ اپنے کام کا حاتم تھا یعنی اعلیٰ افسران تک کسی کے بارے میں بھی جھوٹی سچی خبر پہنچا کرکسی غریب کو ٹنگوا دینا اس کے بائیں ہاتھ کا کھیل تھا۔ قانون کے کئی رکھوالے بھی اس کی چیرہ دستیوں کا شکار ہو چکے تھے۔ کئی تھانیداروں کی پیٹیاں اتروا چکا تھا۔ اپنی اس دہشت کا اس نے ناجائز فائدہ اٹھانا شروع کر دیا اور گاﺅں والوں کو بلیک میل کر کے مال کمانا شروع کردیا۔ گاﺅں کی ایک بے ضرر سی چھوٹی کمیونٹی میانے کہلاتی تھی، جن کی روزی روٹی بچوں کو قرآن پڑھانے سے جڑی ہوئی تھی۔ ان کی جواں سال بیٹی کو شاہو ددھڑ کا بیٹا بھگا کر لے گیا۔ پورے گاﺅں میں کسی کی شاہو سے بات کرنے اور پوچھنے کی ہمت نہ ہوئی ۔ میانے بے چارے اپنی بچی کھچی عزت بچانے کے لئے چپ کر گئے۔ اس بات پر شرمندہ ہونے کی بجائے شاہو الٹا اکڑنا شروع ہوگیا۔

ایک دن شاہو اپنی زمین میں کچھ گوڈی وغیرہ کر رہا تھا کہ میانے خاندان کے کچھ نوعمر لڑکے ادھر سے گذرے، جنہیں دیکھ کر شاہو کی رگِ ظرافت پھڑکی۔ اس نے لڑکوں کو طعنہ دیتے ہوئے پوچھا ”کیوں بیٹا اپنی بہن تو وداع کر چکے۔ اب جہیز کب بھیجو گے؟“ لڑکوں کا خون پہلے ہی جوش میں تھا۔ وہ اپنے بزرگوں کے منع کرنے پر چپ بیٹھے تھے۔ شاہو ددھڑ کے طعنے سے ان کا خون کھول اٹھا۔ انہوں نے بابے کو جواب دیا” ابھی لے لو جناب۔  تمہارے لئے جہیز ہم لے کر آئے ہیں“ یہ کہہ کر انہوں نے شاہو کو دبوچ لیااور اسی کی درانتی کے ساتھ شاہو ددھڑ کا سر کاٹ کر چادر میں لپیٹ کر لے گئے، اس کا باقی دھڑ کھیتوں میں پڑا رہ گیا۔ پورے گاﺅں میں کہرام مچ گیا کہ شاہو کو کسی نے کھیتوں میں کاٹ ڈالا اور سر غائب ہے۔

لوگوں کی خبریں پولیس کو دینے والا آج خود خبر بن گیا لیکن اس واقعے کے باوجود کوئی شاہو کا جنازہ پڑھنے پر تیار نہیں تھا۔ سب اس برے انسان کی موت پر خوش تھے۔ گاﺅں میں شاہو کی لاش پڑی تھی۔ ادھر شاہو  کے بیٹے کو بھی خبر پہنچ گئی۔ وہ بھاگتا ہوا آیا اور سارے گاﺅں کے بزرگوں کے قدموں میں گر کر اپنے اور باپ کے گناہوں کی معافی مانگی۔ اس کے بعد شاہو  کی میت کو دفنایا گیا۔ شاہو ددھڑ کے بیٹے نے وہ لڑکی بھی واپس کر دی جسے وہ بھگا لے گیا تھا۔ دونوں کا باقاعدہ نکاح ہوا اور انہیں گاﺅں میں رہنے کی اجازت مل گئی۔

کہانی ختم ہوگئی مگر آپ کو یہ تو بتایا نہیں ہمارے کالم نویس صاحب کا اس کہانی سے کیا تعلق ہے؟ تو جناب یہ دانشور، سفری شہزادے اور اپنی ہر تحریر میں بذریعہ تحقیق ایک نئی کہانی ڈالنے والے، ملک کی قیادت، انتظامیہ اور عوام کو مفید مشورے دینے والے لکھاری صاحب اُسی شاہو ددھڑ کے پوتے ہیں۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •