چمی ریٹرن
کوانٹم فزکس کا ایک قانون ہے جس کے مطابق مادہ اور روشنی، ویواور پارٹیکل، دونوں کا ڈھنگ دکھاتے ہیں۔ اسے ویو۔ پارٹیکل ڈیولٹی کہتے ہیں۔
ہمارے معاشرے میں اس طرح کے لوگ کافی موجود ہیں جو ایک لمحہ کوئی اور چہرہ دکھاتے، دوسرے لمحہ کوئی اور۔ اسے آپ سماجی ویو۔ پارٹیکل ڈیویلٹی سمجھ لیں۔ اس کا ایک نام اور بھی ہے جسے معاشرے میں ”منافقت“ کہتے ہیں۔
کچھ عرصہ قبل ایک وڈیو منظر عام پر آئی۔ جس میں چئیرمین نیب خاتون سے بوس وکنار کرتے نظر آئے۔ خاتون نے بیان دیا کہ اسے تعلق قائم کرنے کے لیے دھمکایا گیا تھا یہ وڈیو ثبوت کے طور پر اس نے بنائی۔
حکومتی ردعمل دلچسپ تھا۔ حکومت نے کہا یہ کھیل خزب اختلاف نے کھیلا تاکہ ہمارے معصوم چئیرمین صاحب کو پھانسا جائے۔ کیونکہ چئیرمین نیب تمام لٹیروں و بدعنوان لوگوں کو گرفتار کر چکے ہیں۔
حالانکہ نیب ڈاکٹر سے لے کر پروفیسر، بزنس مین اور وائس چانسلر سب کو گرفتار کر چکی ہے۔ بعدازاں انہیں کچھ ثابت نہ ہونے پر رہائی مل جا تی ہے۔ لیکن وہ پنجابی میں کہتے ہیں نہ ”پج دوڑ کرن ڈئے آں“ (بھاگ دوڑ جاری ہے ) ۔
خزب اختلاف پہلے ہی نیب سے تنگ تھی۔ اس نے حقائق واضع کرنے کا مطالبہ کیا، خیر ان کی کون سنتا ہے۔ عوامی ردعمل ملا جلا نظر آیا۔ اکثریت حکومت سے مطمئن تھی۔ لوگوں نے کہا تبدیلی سے مراد یہ ”تبدیلی“ نہیں۔
اب دوسرا واقعہ ملاحظہ کیجیے، لکس ایوارڈ کی تقریب جاری تھی۔ اداکار یاسر حسین نے تقریب میں شریک اداکارہ اقرا عزیز کو شادی کے لیے پیشکش کی۔ اقرا عزیز ایک لمحہ تو دنگ رہ گئیں لیکن رضامندی ظاہر کی۔ یاسر حسین نے اداکارہ کو سر وماتھے پر بوسہ دیا۔ قریب موجود لوگوں نے وڈیو بنائی۔ وڈیو سوشل میڈیا پر اپ لوڈ ہو تے ہی آگ کی طرح پھیلی۔ ہر جگہ اسی وڈیو کے چر چے رہے۔ لوگوں نے اس عمل کو پاکستان کی تہذیب پر حملہ قرار دیا اور حکومت سے مطالبہ کیا کہ ان اداکاروں کے خلاف کارروائی کی جائے اور آئندہ ایسے کاموں کو روکا جائے۔ زیادہ لوگ ایسے تھے جو قبل از ذکر واقعہ میں چئیرمین صاحب کی حمایت میں پیش پیش تھے۔
چیئرمین نیب کو سرکاری عہدے رکھنے کی وجہ سے اپنی پوزیشن کو واضح کرتے تو بہتر ہوتا، عوام کو بھی چئیرمین صاحب سے پوچھ گچھ کا مطالبہ کر نا چاہیے تھا، لیکن اکثریت نے کچھ نہ کہا اور معاملہ ردی کی ٹوکری میں گیا۔
ان دونوں معاملات میں مماثلت ہے، مختلف عوامی ردعمل نے عکاسی کی کہ ہم لوگ اجتماعی منافقت کا شکار ہیں۔ اس نے ہمارے معاشرے کو کھوکھلا کردیا ہے۔
ہائے! رے منافقت ترا ہی آسرا ہے ورنہ دنیا کب کی برباد ہوچکی تھی۔


