امریکہ سے کیا ملنے والا ہے؟

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

وزیر اعظم عمران خان نے اقتدار سنبھالنے کے بعد جتنے بھی غیر ملکی دورے کیے زیادہ تر کا مقصد معاشی امداد حاصل کرنا تھا۔ چند ایک کسی بین الاقوامی پلیٹ فارم پر ملکی نمائندگی کے لیے کیے۔ یہ پہلا دورہ ہوگا جس میں براہ راست جناب کی سفارتکاری کا امتحان ہوگا۔ جیسی روح ویسے فرشتے، ممتحن بھی حضرت ٹرمپ ہوں گے۔ زبان پھسلنے، جذبات کی رو میں بہہ جانے اور ضرورت سے زیادہ حقیقت پسندی کا مظاہرہ کرنے کی روش دونوں جانب بدرجہ اتم موجود ہے۔ اور ایک آدھی پھسلن بریکنگ نیوز بن سکتی ہے۔ ایک بات تو طے ہے کہ اس ملاقات میں افغانستان کے علاوہ کوئی دوسرا ایجنڈا اہمیت کا حامل نہیں ہے۔

حالیہ امکانات سے پہلے اس منظرنامے کا ذکر ضروری ہے جو تیس سال پہلے قریب قریب انہی حالات میں وقوع پذیر ہوا۔ سوویت یونین جو ایک دہائی قبل افغانستان داخل ہوئی تھی نکل کر روس بننے والی تھی۔ آج امریکہ بھی قریب دو دہائیاں گزارنے کے بعد یہاں سے نکلنے والا ہے۔

سوویت یونین کے انخلاء کے وقت افغانستان کا مرکزی ڈھانچہ موجود نہیں تھا۔ وار لارڈز اور نسلی گروہوں کے سربراہان اپنے اپنے علاقوں میں حاکم اور مرکزی حکومت کی سربراہی چاہتے تھے۔ اسی کشمکش کا شکار افغان عوام ہورہے تھے۔ جنہیں جنگ کے بعد بھی سکون میسر نہ تھا۔ عوام کی اسی بے چینی اور وار لارڈز سے بیزاری نے طالبان کی راہ ہموار کی۔

ملاّ عمر اور ان کے ساتھی جنوبی افغانستان سے اٹھے اور تیزی کے ساتھ مرکز کی جانب بڑھنے لگے۔ اگرچہ افغان وار میں ہی مذہبی رنگ واضح تھا اور جنگجوؤں کے ساتھ لگنے والا لفظ مجاہدین بلاشبہ ان کی عزت اور وقار کا باعث تھا لیکن طالبان کا بنیاد پرست مذہبی رنگ ان کی پذیرائی کا باعث تھا۔ فوری انصاف بالخصوص اپنے ہی دو کمانڈروں کا کسی سنگین جرم کے ارتکاب کے بعد قتل، ملاّ عمر کی مقبولیت کے لیے خاصا سود مند ثابت ہوا۔ جلد ہی طالبان نے شمالی اتحاد کے زیر اثر علاقے کے علاوہ پورے افغانستان پر قبضہ کرلیا۔

اب امریکہ کے انخلاء کے وقت افغانستان کے اکثریتی علاقے میں طالبان کی ڈی فیکٹو حکومت قائم ہے۔ اگرچہ ملاّ عمر کے بعد طالبان امارت کے جھگڑے کا شکار ہوئے تاہم جلد ہی باہمی اختلافات پر قابو پانے میں کامیاب ہوگئے۔ طالبان افغانستان کی واحد قوت نہیں ہیں۔ داعش وہ سب سے بڑا خطرہ ہے جو واپس جاتے ہوئے امریکہ اور ہمسایہ ممالک کے لیے سب سے بڑا سوالیہ نشان ہے۔ اگر داعش اسی طرح افغانستان میں قدم جما جاتی ہے جس طرح طالبان افغان وار کے خاتمے کے بعد ابھرے، تو یقیناً افغانستان میں ایک اور جنگ ناگزیر ہوجائے گی۔

سوویت یونین کی آمد سے قبل ہی افغانستان میں بیرونی قوتوں کی رسہ کشی شروع ہوچکی تھی۔ سوویت یونین کی آمد کے بعد امریکہ کا اظہار دلچسپی ناگزیر تھا۔ امریکہ نے مسلمانوں کے مذہبی جذبات کا بھرپور استعمال کیا اور اس جنگ کو جہاد کا درجہ دلوانے کی بھرپور کوشش کی۔ نتیجہ یہ نکلا کہ پوری دنیا سے اسلام پسند افغانستان براستہ پاکستان پہنچنا شروع ہوگئے۔ عرب ممالک سے آنے والے مجاہدین کی تعداد قابل ذکر رہی۔ سوویت انخلاء کے بعد جب طالبان کی حکومت بنی تو امارات، پاکستان، سعودی عرب نے اس حکومت کو باقاعدہ تسلیم کیا۔

امریکی حملے کے بعد عرب ممالک کا قبلہ بھی بدل گیا۔ پاکستان خصوصاً جنرل مشرف پر ڈبل گیم کا الزام شدت سے لگا۔ تاہم سرکاری سطح پر پاکستان نے امریکہ کی بھر پور مدد کی۔ ایران ہمسائیگی کے حق کے تحت افغان وار اور پھر طالبان حکومت کے قیام کا اسٹیک ہولڈر رہا۔

لیکن اب حالات خاصے مختلف ہیں۔ مری کانفرنس ہو یا قطر میں طالبان کا دفتر، امریکہ کا انخلاء یو یا طالبان سے مذاکرات کا ڈول ڈالا گیا ہو روس، چین، اور افغانستان کا نیا اسٹیک ہولڈر بھارت بھر پور دلچسپی لے رہے ہیں۔ یعنی اس وقت امریکی انخلاء سوویت انخلاء سے زیادہ عالمی توجہ حاصل کررہا ہے۔

افغان وار کے وقت بھارت کو ٹانگ اڑانے کا موقع نہ مل سکا۔ لیکن طالبان حکومت کے قیام کے بعد بھارت کا فطری جھکاؤ اس وقت کے شمالی اتحاد کی جانب ہوگیا۔ امریکی حملے کے بعد طالبان جنوبی افغانستان میں سمٹ گئے اور بھارت نواز لوگ مرکز میں آگئے تو بھارت کو اپنا اثر ورسوخ بڑھانے کا موقع ملا۔ تاہم مستقبل میں امریکی انخلاء کے بعد براہ راست زمینی رابطہ نہ ہونے کے باعث بھارت کی عملداری افغانستان میں کم ہوجائے گی۔ کیونکہ موجودہ افغان انتظامیہ امریکی انخلاء کے بعد شاید چند ہفتے بھی قائم نہ رہے۔ اس کا عملی مظاہرہ طالبان نے گزشتہ سال شمالی افغانستان کے صوبے قندوز میں شدید حملے اور قبضے کے بعد کیا۔

افغان وار کے وقت اسلحہ کی فراہمی امریکہ جبکہ وسائل عرب ممالک میں ریاستی اور انفرادی سطح پر فراہم کیے گئے۔ امریکہ حملے کے وقت کچھ بوجھ نیٹو ممالک پر ڈالا گیا تاہم سب سے زیادہ اخراجات امریکہ کو ہی برداشت کرنا پڑے۔

افغان وار کا براہ راست اثر پاکستان پر یہ اثر پڑا کہ مہاجرین کی ایک بہت بڑی تعداد پاکستان آگئی۔ جس سے پاکستانی معیشت پر خاصا منفی اثر پڑا۔ انہی دنوں کلاشنکوف اور ہیروئن کے راستے بھی کھلے۔ جس کے مضمرات آج تک پاکستان بھگت رہا ہے۔ امریکی حملے کے اثرات اس سے بھی زیادہ تباہ کن تھے۔ خود کش حملے، ٹی ٹی پی، اندازاً ایک کھرب ڈالر کا نقصان اور لاکھوں شہریوں اور فوجیوں کی ہلاکت اور معذوری۔ پاکستان کبھی بھی یہ نہیں چاہے گا کہ سہ بارہ کسی بھی صورت یہی میدان ایک دفعہ پھر گرم ہو۔ یعنی پاکستان ایک اور بیرونی حملے کا متحمل نہیں ہوسکتا جس کا واحد حل افغانستان میں امن کا قیام ہے۔ لہذا ممکنہ طور پر پاکستان کسی لچک کا مظاہرہ کرسکتا ہے۔

افغان وار کے دوران پاکستان کو بڑی مقدار میں مالی امداد بھی ملی۔ مبینہ طور پر اسی رقم کا کچھ حصہ پاکستان کے ایٹمی پروگرام پر صرف ہوتا رہا۔ جس کی وجہ سے پریسلر ترمیم کے ذریعے پاکستان پر پابندیاں عائد کردی گئیں۔ امریکی حملے کے دوران بھی پاکستان کو معقول امداد ملی لیکن جانی و مالی نقصان اس قدر شدید تھا کہ وہ امداد اس نقصان کا مداوا نہ کرسکی۔ اب حال ہی میں مسٹر ٹرمپ پاکستان کو دی جانی والی امداد کا ”احتساب“ کرنے کا عندیہ بھی دے چکے ہیں۔ لہذا مسٹر ٹرمپ سے کچھ خاطر خواہ امداد ملنا خارج از امکان ہے۔

پاکستان اور امریکہ کی محبت جنرل ایوب خان کے زمانے تک ہی نظر بد سے محفوظ رہ سکی۔ بھٹو صاحب کا جھکاؤ بائیں جانب تھا۔ جس سے عام عوام میں امریکہ سے متعلق تحفظات بڑھے۔ جہاد افغانستان میں کچھ مذہبی جماعتیں امریکہ سے خاصا قریب رہیں۔ لیکن 9 / 11 کے بعد سے آج تک عوامی سطح پر وہ گرمجوشی بحال نہیں ہوسکی۔ مستقبل میں بھی اس کا امکان نظر نہیں آتا۔ یو ایس ایڈ جیسے ادارے بھی امریکہ کی صفائی پیش کرنے میں ناکام رہے۔ آج بھی امریکہ سے قریبی تعلقات کسی بھی سیاستدان کے لیے طعنہ ہیں۔

 ڈونلڈ ٹرمپ سے ملاقات بھی طے ہے لیکن افغانستان کے علاوہ کوئی بھی اور مسئلہ زیر بحث آنے کا امکان کم ہے۔ آج تک افغانستان سے متعلقہ تمام معاملات راولپنڈی میں طے کیے گئے ہیں۔ اسلام آباد کو دخل دینے کا کبھی موقع نہیں ملا۔ اگر اس دفعہ بھی راولپنڈی سے کوئی تگڑا ”سفارتکار“ عمران خان کے ہمراہ جاتا ہے تو طے ہونے والی تفصیلات کا منظر پر آنا اور پاکستان کی گزشتہ 40 سال کی پالیسی کا بدلنا ناممکن ہے۔ تاہم صرف اسلام آباد کی ٹیم کے جانے کی صورت میں پاکستان اپنی گزشتہ پالیسی سے کچھ ہٹ کرچلنے کی یقین دہانی کروا سکتا ہے۔

مختلف پہلوؤں کا احاطہ کرنے کے بعد یہ نتیجہ اخذ کیا جاتا ہے کہ اس دورے میں معاشی، سیاسی یا جغرافیائی لحاظ سے پاکستان کو کچھ خاص حصہ ملنے کا امکان کم ہے۔ تاہم ممکنہ طور پر صدر ٹرمپ اور امریکی انتظامیہ کی جانب سے پاکستان کی قربانیوں کو سراہا جانا اور دہشتگردی کے خلاف جنگ میں پاکستان کے بے مثال کردار کا اعتراف وہ بیانیہ ہوگا جو حکومت کی جانب سے بار بار دہرا کر اس دورے کو کامیابی سے تعبیر کیا جاسکے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •