ننھے بادل مسیح کا قتل

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

بادل مسیح ولد شہزاد بعمر گیارہ سال ہے اور بادل کی فیملی میں اس کی والدہ، والد اور ایک بھائی ہے۔ بادل مسیح کی فیملی کرایہ کے گھر میں رشید آ باد، عیسیٰ نگری میں رہائش پذیر ہے۔ بادل مسیح کا والد عادی نشئی ہے اس لئے گھر کا نظم و نسق اور بچوں کی کفالت والدہ ادا کرتی ہے۔ بادل مسیح کلاس اول میں سٹوڈنٹ تھا اور گرمیوں کی چھٹیوں کے باعث گھر کے قریب عرفان عرف کالو کے کباڑ خانے میں مزدوری کرتا تھا۔ جس کے عوض بادل مسیح کو سو پچاس روپے ملتے تھے۔

بادل مسیح کی والدہ نے بتایا کہ بادل کا والد چونکہ نشئی ہے اور کوئی کام وغیرہ نہ کرتا ہے اس لئے میں گھروں میں کام کر کے ان بچوں کی کفالت کرتی ہوں تو سکول سے فارغ ہونے کی وجہ سے بادل نے اصرار کیا کہ ماں میں محنت مزدوری کر کے آ پکا ساتھ دینا چاہتا ہوں، اور ماں سے بار بار اصرار کر کے اجازت لینے کے بعد بادل نے عرفان اور اکرام کے پاس مزدوری کرنا شروع کر دی۔ کباڑیے میرے بیٹے کو کبھی پچاس اور کبھی سو روپے دیتے تھے۔ مورخہ 10۔ 07۔ 2019 کو موقع پا کر کباڑیوں نے میرے بیٹے سے زیادتی کی اور جرم کو چھپانے کے لئے میرے بیٹے کو تشدد کر کے قتل کر دیا۔ میرا بیٹا ایک بہادر بچہ تھا جس نے غربت کے با وجود تعلیم شروع کی اور مزدوری کر کے اپنی والدہ کا سہارا بننے کی کوشش کی۔

بادل مسیح ولد شہزاد مسیح رشید آ باد، عیسیٰ نگری فیصل آباد کا رہائشی ہے اور مورخہ 10۔ 07۔ 2019 کو بادل مسیح کے مالک عرفان عرف کالو اور اکرام تشدد کر کے قتل کر دیا۔ بادل مسیح کا والدہ نے الزام عائد کیا کہ ملزمان نے میرے بیٹے کے ساتھ جنسی زیادتی کر کے بادل کو وار سریہ سے قتل کرنے کی کوشش کی، بادل مسیح کو الائیڈ ہسپتال لے جایا گیا جہاں وہ خموں کی تاب نہ لاتے ہوئے فوت ہو گیا۔ تھانہ غلام آ باد کی پولیس نے ابتدائی طور پر مورخہ 11۔ 07۔ 2019 کو بادل مسیح کی والدہ کی درخواست پر ملزمان عرفان اور اکرام کے خلاف کارروائی شروع کر دی ہے۔

مقامی افراد میں سے ندیم انیل جو کہ بادل مسیح کا محلے دار ہے، نے بتایا کہ بادل مسیح نے کچھ دن پہلے ہی کباڑیے کے پاس کام شروع کیا تھا اور کباڑ یے نے معصوم بچے کو ظلم اور درندگی کا نشا نہ بنا کر انسانیت کی شدید تذلیل کی جس کی جتنی مذمت کی جائے کم ہے۔ چونکہ یہ خاندان انتہائی غریب ہے اس لئے ہم سب لوگ ملکر ان کا قانونی ومالی ساتھ دیں گے۔

ایس ایچ او تھانہ غلام آ باد ایوب ساہی نے بتا یا کہ ہم جائے وقوعہ سے لے کر مرحوم کے ساتھ ساتھ ہیں شروع میں ملزمان نے بادل مسیح کو زخمی حالت میں کو میں لا جا کر حادثہ ثابت کرنے کی کوشش کی اور جب وہ زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے فوت ہو گیا تو ملزمان خاندان سمیت فرار ہو گئے۔ ہم نے مقدمہ درج کر کے فوراً بچے کی پوسٹ مارٹم کے لئے درخواست دی جس میں ہم اس کے ساتھ ہونے والی جنسی زیادتی کے بارے میں بھی دریافت کیا۔ ابھی تک میڈیکو لیگل رپورٹ نہ آ ئی ہے اس لئے ہم یہ بتانے سے قاصر ہیں کہ جنسی زیادتی ہوئی یا نہیں۔

وزیر برائے انسانی حقوق اعجاز عالم نے واقعہ کا نوٹس لے کر متعلقہ حکام سے رپورٹ طلب کر لی ہے مگر ضرورت اس امر کی ہے باقاعدہ قانون سازی کر کے ذمہ داروں کو سخت سزائیں دی جائیں تا کہ معاشرے میں ایسے واقعات کو رو کا جا سکے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •