استاد عظیم ہے خدایا


\"jamshedاُستاد کسی کا غلام نہیں ہوتا کہ وہ ہمیشہ استاد روپ میں ہی ملے۔ آپ سیکھنا چاہتے ہوں تو وہ شاگرد کے روپ میں بھی مل سکتا ہے۔ شرط اُستاد کا روپ نہیں ، شاگرد کی تیاری ہے۔ ایسے لوگ استاد کا سامنا کرنے اور بدلنے کے لئے تیار نہیں جو اپنے تعصبات کے دیے لے کر اُس کی تلاش میں نکلے ہیں۔ جو اپنے پیمانے لیکر نکلتا ہے کہ استاد ایسا ہونا چاہیے ، تو اُسے استاد کی تلاش نہیں بلکہ وہ خود بہت بڑا استاد ہے کیونکہ استاد کی ایسی کھوج محض استاد سے بچنے کا ڈھنگ ہے۔ ایسا شخص محض اپنا بدلاؤ موخر کرنا چاہتا ہے کہ جب اُستاد ملے گا تب کچھ سیکھ لیں گے۔
اس لئے استاد کی تلاش مشکل ہے لیکن یہ ممکن ہے کہ خود استاد آپ کو تلاش کرلے۔
یہ سب اور بہت کچھ ہمیں استاد عظیم سے مل کر معلوم ہوا ۔ وہ ہمیں استاد سمجھ کر آئے تھے لیکن ہم نےبغیر بتائے ان کی شاگری اختیار کرلی۔ پہلی بار ملے ، مصافحہ کیا تو نام نہیں’شاعر’ بتایا اور اس طرح ملتے ہی ہماری ایک غلط فہمی دُور کردی ۔ اس ملاقات سے قبل ہم یہ بھی سمجھتے تھے کہ شاعری شعور کی جمالیاتی جہت کا تجربہ ہے اور شعر اس کی آواز۔ استاد ِ عظیم سے مل کر پتہ چلا کہ یہ سب کتابی باتیں ہیں۔ شاعر ہونا محض ایک پیشہ اور تعارف ہے۔ پھر شعر کی فرمائش کی تو پتہ چلا کہ شعر کہنا بھی لازم نہیں، محض یہ دھونس ہی کافی ہے کہ آپ کوئی عام آدمی نہیں ، شاعر ہیں۔
ہمارے شہر میں بڑے نامور شعرأ تھے لیکن ہم احتراماً ان سے ملنے نہیں جاتے تھے۔ سوچتے تھے کہ یہ لوگ اپنی شاعری سے کتنے بڑے ہوں گے۔ ان کی شاعری تو ان کے من سے نکلا ہوا ایک جھونکا ہے۔ وہ جھونکا دل و دماغ معطر کرسکتا ہے ، وجد میں لے آتا ہے تو ایک جیتا جاگتا شاعر کیا حال کردے گا ؟ استادِ عظیم یہ سحر توڑ دیا۔ انہوں نے بتا یا کہ ان کے ڈیرے پر کئی شعرأ ان سے ملنے آتے ہیں اور جو آپ بتارہے ہیں، وہ سب غلط ہے۔
پہلی ملاقات میں اتنا کچھ سیکھنے کے بعد شوق ہمیں ان کے ڈیرے پر لے گیا اور وہاں کئی شعرأ سے ملاقات کا موقع ملا۔ اس دوران ہم نے اور بہت کچھ سیکھا۔ کوئی شاعر پہلی بار وہاں آتا ، ان سے شعر کی فرمائش کرتا تو موسم ِ سرما میں ابلے ہوئے انڈے اور گرمیوں میں چونسے کے تازہ آم فرمائش کرنے والے کے منہ میں ٹھونس کر اُن کا منہ فوراً بند کردیا جاتا ۔ اس کے بعد جب بھی اس کا انڈے یا آم کھانے کو دل کرتا وہ شعر کی فرمائش کردیتا۔ انڈے تو خیر انڈوں جیسے تھے لیکن آم اس قدر خوش ذائقہ تھے کہ اُن کے کلام کی شہرت پورے شہر میں پھیلی ہوئی تھی۔
سردیوں میں مرغن کھانوں کے دور بھی چلتے اور ان کی خوشبو ہر دُوسرے کو شخص شاعر بنا کر ڈیرے پر لے آتی ۔ استاد ِ عظیم کھانے کی شکم کش خوشبو کو اپنی شاعری کی خوشبو قرار دیتے اور کھانے کی تعریف کو اپنے ان کہے اشعار کی۔ شاعر اصل ہو یا نقل، پروفیسر ہو یا میٹرک فیل، بے تکلفی کا یہ عالم تھا کہ ہمیشہ شازب کو شازی ، شوذب کو شوذی ملقب کرتے اور نام لیتے وقت شاعر کی ران پر زور دار ہاتھ رسید کرنا کبھی نہ بھولتے ۔

ان سے ملنے سے قبل ہمیں یہ بھی معلوم نہیں تھا کہ شعروادب کی مدد سے دنیوی مسائل سے کیسے نمٹنا جاسکتا ہے۔ لیکن ہم نے دیکھا کہ جس طرح ہتھوڑی کے نزدیک ہر مسئلہ کیل ہوتا ہے ویسے ہی شاعری اور دانشوری استادِ عظیم کے نزدیک وہ شہ کلید تھی جس سے وہ ہر تالا کھولنے کا فن جانتےتھے۔

جب بھی ملتان میں موٹر سائیکل کی ڈبل سواری پر پابندی عائد ہوتی تو ایک کی بجائے تین تین دوست سوار کئے پھرتے اور دھرے جانے پر پولیس کو ادبی مجلے نوائے سخن کا کارڈ ‘‘کرائم رپورٹر’’ کہہ کر اس اعتماد سے پیش کرتے کہ جان چھوٹ جاتی ۔ اگر پولیس والے مجلے کو پہچاننے سے انکار کرتے تو یہ کہہ کر ان کا منہ بند کردیتے ، ’’ادبی اخبار ہے۔ تمہارا ادب سے کیا تعلق ؟‘‘۔
ہمیں کوئی ایسا پولیس والا نہ ملا جس نے جواباً یہ پوچھا ہو کہ ادبی اخبار میں کرائم رپورٹر کا کیا کام۔
یہ کارڈ انہیں ایک صاحب کتاب شاعر نے چھاپ کر دیا تھا جو ان کا شعری مجموعہ شائع کرنے کا منصوبہ بنارہے تھے۔ لیکن وہ صرف ایک کارڈ پر تکیہ نہیں کرتے تے۔ کبھی کبھار رُکے بغیر اے ٹی ایم کارڈ دکھا کر ’’انٹلیکچوال آن سپیشل ڈیوٹی ‘‘ کہتے اور سیلوٹ وصول کرتے ہوئے نکل جاتے۔
مجموعہ شائع ہونے کا سن کر شاعری میں اس قدر غرق ہوئے کہ شعر کہنے سے پہلے ہی تخیل زمان و مکان تو کیا حیات و ممات کی سرحدیں پار کرگیا۔ مدیر اعلیٰ نے انہیں بتایا کہ ان کا شکار اسا تذہ میں ہوگا لہٰذا جب بھی ہمارے پاس آتے کسی زندہ شاعر کے جنارے پر مرحوم شاعر سے ملاقات کرنے کے بعد آتے۔ جنازے کے بعد مرحوم شاعر بعد ازمرگ شائع ہونے والا مجموعہ خود نوشت دستخطوں کے ساتھ ان کی خدمت میں پیش کرنا کبھی نہ بھولتا۔
ہم نے ایسے کئی دستخط اپنی گناہ گار آنکھوں سے دیکھے لیکن یہ معما حل کرنے سے قاصر رہے کہ ہر شاعر ان کے بارے میں ایک ہی رائے کیوں رکھتا ہے۔ کیا انہیں کتاب پیش کرتے ہوئے ان کے تخلیقی سوتے خشک ہوجاتے ہیں کیونکہ ہمیں شعرأ میں کہیں اور اتفاق دکھائی دے نہ دے استادِ عظیم کے بارے میں دی گئی آرأ میں ہمیشہ اتفاق ہی دکھائی دیتا تھا۔
ایک بار کئی روز غائب رہے اور پھر ایک شام یہ بتانے کے لئے آئے کہ وہ یہ دن میر حسن کے ساتھ گذار کر آئے ہیں۔ اس سے پہلے کہ ہم میر صاحب کا سن وفات بتاپاتے ، شکیب جلالی کی کتاب تھمادی اور بولے ، ’’دیکھیں شکیب نےبھی مجھے عصر حاضر کا ذہن ترین شاعر قرار دیا ہے‘‘۔
معروف شعرأ کی مجالس میں اٹھنے بیٹھنے لگے تو اور کچھ نہیں مگر سر دھننے اور داد دینے کا فن آگیا ۔ شاعروں کا حلیہ بھی اختیار کرلیا اورپھر استادوں کے استاد ہوگئے۔
ہم ان دنوں اپنی بیٹھک میں غالب ، میر اور داغ کی غزلیں سنا کرتے تھے وہ جب بھی آتے ، کچھ دیر تک سنتے رہتے لیکن غزل کسی کی بھی ہو ، ایک آدھ شعر کے بعد ٹیپ روک کر دوبارہ شعر سننے کی فرمائش کرتے، آنکھیں بند کرکے فعولن فعولن کا منتر پڑھتے اور پھر فوراً وزن سے خارج قرار دے دیتے۔
ملتان میں ایک ایف ایم ریڈیو نشریات کا آغاز ہوا تو استادِ عظیم شہر میں دستیاب ساری تنقیدی کتب خرید لائے۔ سارا دن ان کتب کی مدد سے تنقیدی شربت تیار کرکے پیتے ، رات کو ایک ادبی پروگرام سنتے اور بذریعہ ٹیلی فون سب اگل دیتے ۔ اس سے ریڈیو انتظامیہ اس حد تک متاثر ہوئی کہ ایک بار جب لاہور سے ایک شاعر کی آمد ہوئی تو انتظامیہ کو استادِ عظیم کے علاوہ مہمان شاعر کی ہم پلہ علمی و ادبی شخصیت شہر بھر میں کہیں دکھائی نہ دی اور وہ بطور ادبی شخصیت مدعو کرلئے گئے۔
جس روز تیار ہوکر ریڈیو گئے تو کچھ نوش فرماکر مرزا نوشہ لگ رہے تھے ۔ جاتے ہوئے جھومتی ہوئی دھمکی لگائی کہ اگر ہم نے پروگرام نہ سنا تو اچھا نہ ہوگا اور ساتھ ہی یہ بھی بتایا کہ ان کے یار شکیب جلالی اور میر حسن پروگرام میں ضرور فون کریں گے۔ ہماری چھٹی حس نے بتا یا کہ کچھ ہونے والا ہے۔ ہمیں ایک خوف یہ بھی تھا کہ اگر پروگرام نہ سنا تو آئندہ کئی سال تک ہر بات کی سند آدھ گھنٹے کے اس پروگرام سے لایا کریں گے۔ اس لئے ہم ریڈیو لگا کر بیٹھ گئے اور ساتھ ہی ریکارڈنگ کا بندوبست بھی کرلیا تاکہ سند رہے اور بوقت ِ ضرورت کام آوے۔
پروگرام شروع ہوا۔ استادِ عظیم کا تعارف کراتے وقت میزبان مارے ادب کے دبا دبا دکھائی دیا ۔ مہمان شاعر کا تعارف کراتے ہوئے میزبان نے ان کا ایک شعر پڑھا اور استادِ عظیم کو اس پر بات کرنے کی دعوت دی۔ استادِ عظیم نے خالص شاعرانہ انداز میں میزبان کا شکریہ ادا کیا ، سامعین کو سلام پیش کرنے کے بعد شعر پر داد دی لیکن مضمون مسروقہ قرار دے ڈالا ۔ مہمان شاعر نے چونک کر دعوے کی دلیل مانگی تو کہا :
’’ اس میں پیچھے پیچھے کا ذکر ہے اور چار سوسال قبل از مسیح کا یونانی شاعر کبیر پاچھے پاچھے والے گیت میں یہ مضمون باندھ چکا ہے ‘‘۔
مہمان شاعر نے پوچھا ، ’’آپ ہوش میں تو ہیں ‘‘ ۔
یہ سن کر پہلے استادِ عظیم ٹوٹ پڑے ، پھر آواز اور آخر میں رابطہ بھی ٹوٹ گیا ۔ کچھ دیر بعد فنی خرابی کا اعلان ہوا۔ بعد میں پتہ چلا کہ جب استادِ عظیم مہمان شاعر کو مطالعے میں وسعت لانے کا کہہ رہے ہیں تو انہیں خبر تک نہ ہوئی کہ وہ مہمان کے سینے پر سوار ٹائی کو باگ کے دھوکے میں کھینچ رہے ہیں۔
بے حس نہیں تھے لہٰذا اس واقعہ کا گہرا اثر لیا۔ چند ماہ غائب رہے پھر ایک دن تشریف لائے تو بیاض ہاتھ میں تھی۔ کہنے لگے کتاب کا مواد لکھ لیا ہے ، جمعے کے روز ڈیرے پر شہر کے اہم شعرأ کی دعوت ہے ، ان کے سامنے شعر پڑھے جائیں گے اور کھانے کے دوران تنقیدی نشست ہوگی۔
اُس شام ڈیرے پر خوب اہتمام کیا گیا تھا اور شہر کے نمایاں شاعر ، جو دراصل نوائے سخن نامی مجلے کے مدیرِ اعلیٰ کے دوست تھے ، مدعو تھے۔ استادِ عظیم کے لئے ایک چبوترہ تیار کیا گیا تھا جس پر وہ چوڑی دار پاجامہ پہنے بیٹھے تھے ۔ ان کی دائیں جانب اُن کے والد بائیں جانب ادبی مجلے کے مدیرِ اعلیٰ براجمان میزبانی کے فرائض سر انجام دینے کے لئے تیار تھے ۔ پروگرام شروع ہوا تو میزبان نے تعارف استادِ عظیم کی آواز کو روحِ عصرکی آواز قرار دیا۔ استادِ عظیم نے نمونے کے طور پر کلام پیش کیا تو ہمیں کچھ معروف شعرأ بھی دکھائی دیے جو بمثل ِ بُوئے گل ، نالۂ دل نکل رہے تھے۔
ان کے جانے کے بعد مدیرِ اعلیٰ کے دوستوں نے استادِ عظیم کو مزید دل کھول کر داد دینا شروع کردی۔ ہم جو اپنے تئیں شعر و ادب کی شاخ زعفران بنے پھرتے تھے ، ان کی موجودگی میں تو محض ابجد خواں لگ رہے تھے ۔ ان کے اشعار پہلی مرتبہ سنے تو خبر ہوئی کہ زبان کی خوبی اس کا سلاست ، عام فہمی ، نرمی ، موزونی سے تہی ہونا تھا۔ ہم نے بڑے بڑے الفاظ سے چھوٹے چھوٹے مفاہیم جننے کا ایسا مظاہرہ نہ کبھی دیکھا تھا اور نہ پھر کہیں دیکھنے کی خواہش نہ رہی۔

اگر ، بقول سارتر، اچھے کی ادب کی پہچان ایسا ادب ہے جو بُرے ادب سے بیزار کردے تو پھر بُرے ادب کی پہچان وہ ادب قرار پاتا ہے جو اچھے ادب کی پیاس بھڑکادے۔ اس شب انہوں نے ایسے کڑے سخن کہے کہ ہم کئی ماہ تک صرف اچھا ادب پڑھتے رہے۔

کلام ختم ہوا تو مدیرِ اعلیٰ نے فرمایا کہ صرف جدید جمالیات سے بے بہرہ لوگ ہی اسے منظوم مغلظات قرار دے سکتے ہیں لیکن ہم جیسے فن شناسوں کو اس میں مزاحمت ہی مزاحمت دکھائی دیتی ہے۔

شاید ان کا مطلب یہ تھا کہ جو کچھ استادِ عظیم نے کہا اس کا مقصد بورژواکی زُبان کو پایہ اعتبار و افتخار سے گرانا تھا۔ یوں ان کا ادب بھی مزاحمتی ادب کہلانے کا مستحق تھا۔ یہ بات ہم نے بھی محسوس کی تھی کہ کلام میں مجازو مبالغہ ، تشبیہ و تمثیل ، مصوری و محاکات اور رمزیت و اشاریت جیسے بورژوائی جمالیاتی کھلونے دھرنے کے لئے کہیں کوئی جگہ نہ تھی۔

تنقیدی نشست کے خاتمے پر تالیاں بجیں۔ مدیدِ اعلیٰ نے آخر میں اعلان کیا کہ استادِ عظیم کی کتاب روئے سخن عنقریب منظرِ عام پر آنے والی ہے۔ کتاب کی مارکیٹنگ ، اشاعت اور تقریبات کے لئے انہیں پیسے مہیا کردیے گئے اور ٹھیک ایک ماہ بعد کتاب سب کے ہاتھوں میں ہوگی۔
’’یہ کتاب بورژوا جمالیات کے پجاریوں پر بجلی بن کر گرے گی۔ انشا اللہ ‘‘۔
تقریب کے خاتمے پر ہم نے استادِ عظیم کے سامنے مدیرِ اعلیٰ کی نیت پر شک ظاہر کردیا تو انہوں نے اسے ادبی نفاق سمجھ کر قطع تعلقی اختیار کرلی۔ ایک ماہ تک ہماری ان سے ملاقات نہ ہوسکی۔ اس دوران وہ اور ان کے نوکر چاکر گلی گلی رُوئے سخن کا وہ تعارفی مواد بانٹتے رہے جو مدیرِ اعلی ٰ کے چھاپہ خانے میں سونے کے بھاؤ چھپ رہا تھا۔ کتاب کی اشاعت کے لئے مقرر کردہ دن استادِ عظیم چھاپہ خانے پہنچے تو پتہ چلا کہ مدیر اعلیٰ بال بچوں سمیت ملک چھوڑ کر مستقل قیام کی نیت سے حجاز مقدس روانہ ہوچکے ہیں۔
اس واقعے کے کچھ روز بعد ہم سے ملنے آئے تو چہرے پر انتہائی پُرا اعتمادمسکراہٹ اور ایسی تازگی تھی جو پوری نیند سوکر جاگنے والوں کے چہرے پر دکھائی دیتی ہے ۔ ہم نے کتاب کے سلسلے میں دکھ کا اظہار کیا تو مسکرا کر جواب دیا۔
اب تو آپ بھی مان گئے ہونگے کہ یہاں ادبی کرائم کا امکان ہے اور اس لئے کوئی کرائم رپورٹر بھی ہوسکتا ہے۔ مدیرِ اعلیٰ اب بھی میرے استاد ہیں۔ وہ مجھے بہت کچھ سکھا کر گئے ہیں۔ ضروری نہیں کہ استاد ہمیشہ استاد کے روپ ہی میں ملے۔ آپ سیکھنا چاہتے ہوں تو وہ کسی بھی روپ میں مل سکتا ہے۔

Facebook Comments HS