کھانا کب کھلے گا؟

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

جب آپ یہ سطور پڑھ رہے ہوں گے تو اس وقت ملک عزیز کے کسی نہ کسی حصے میں لوگ کسی بارات، ولیمہ، سالگرہ، عقیقہ، چہلم، برسی یا جلسے میں کھانا کھلنے کا انتظار کر رہے ہوں گے۔ ایک دوسرے سے پوچھ رہے ہوں گے کہ کھانا کب کھلے گا؟ کھلے گا بھی یا نہیں کھلے گا؟ منصوبہ بندی کر رہے ہوں گے کہ کھانا کھلتے ہی اس پر کس سمت سے حملہ کرنا ہے اور ناکامی کی صورت میں پلان بی کیا ہوگا۔

میرے دوست فراز کا کہنا ہے کہ میں زندگی میں کافی دفع انتظار کے کرب سے گزرا ہوں۔ کبھی بارش میں پل کے نیچے موٹر سائیکل کھڑی کرکے بارش رکنے کا انتظار، کبھی سخت گرمی میں بس میں بیٹھ کر اس کے چلنے کا انتظار، کبھی خضاب لگا کر بال کالے ہونے کا انتظار اور کبھی میں نے گلی سے گزرتے ہوئے کسی بدتمیزکتے کا دوسری طرف نکل جانے کا انتظار کیا ہے لیکن مجھے سب سے جان لیوا، کھانا کھلنے کا انتظار محسوس ہوتا ہے۔ انسان کو بالکل سمجھ نہیں آرہی ہوتی کہ پہلے کھانا کھلے گا یا پہلے روح پرواز کر ے گی۔

اچانک زندگی کے معانی بھی بدل جاتے ہیں، ساتھ بیٹھا گہرا دوست انتہائی چغد جب کہ میزبان منہوس لگنے لگتا ہے۔ ایک ولیمہ میں میرے دوست نے دولہے سے ملنے کے بعد میرے کان میں سرگوشی کی، ”یار مجھے دولہا پاگل لگتا ہے، دیکھو شادی کے بعد بھی کتنا خوش ہے؟ “۔ میں نے اس کے کان میں جوابی سرگوشی کرتے ہوئے اسے بتایا کہ تمہارا قصور نہیں ہے بھوک انسان کو فلسفی بنا دیتی ہے۔

یہ آج تک معلوم نہیں ہو سکا کہ کھانا کھلنے کے منتظر انسان کے اندر ہونے والی روحانی، ذہنی، کیمیائی اور جسمانی تبدیلیوں کی وجہ بھوک ہوتی ہے یا پھر انتظار کا کرب ہوتا ہے۔ ہمارے ملک میں چونکہ سائنسدان نہ ہونے کے برابر ہیں اور جو ہیں وہ عرصے سے نعرے تخلیق کر رہے ہیں جیسے، گندم کے تین ڈاکو۔ پوہلی، پیازی اور باتھو اور جب سے امریکن سنڈی آئی، کپاس کے ٹینڈے کی شامت لائی وغیرہ اس لئے اتنے اہم موضوع پر تحقیق کرنے کا ان کے پاس وقت نہیں ہے۔

ہم دوستوں نے فراز سے درخواست کی کہ چونکہ تم نے میٹرک میں حیاتیات اور کیمیا جیسے مضامین جب کہ ایف اے میں عمرانیات اور نفسیات جیسے علوم پر دسترس حاصل کی ہے اس لئے تم، ”منتظر طعام میں رونما ہونے والی تبدیلی کے اسباب و اثرات“ پر تحقیقی مقالہ لکھو۔ پہلے تو وہ نہیں مانا لیکن جب میں نے اسے بتایا کہ نہ تم ڈاکٹر ہو کہ دُکھی انسانیت کی خدمت کرسکو، نہ تم فوجی ہو کہ کبھی تمہیں وطن پر جان قربان کرنے کا موقع ملے گا، اور نہ ہی تم سیاستدان ہو جو کبھی تمہیں ملک و قوم کی خاطر جیل کاٹنا نصیب ہو گا۔ اس لئے یہی موقع ہے کے اس موضوع پر تحقیق کرکے دھرتی ماں کا قرض اتار دو۔ میری یہ بات سنتے ہی فراز اٹھ کھڑا ہوا اور میز پر مکہ مارتے ہوئے بولا، ”اپنے وطن کی خاطر میں یہ تحقیق ضرور کروں گا“۔ اس مکے کے بعد ہم دوستوں نے اس کا نام فراز محقق رکھ دیا۔

پاکستان میں نئی حکومت آتے ہی محقق نے اپنے کام کا آغاز کیا اور ایک سال ہونے کو ہے تحقیق ہنوز جاری ہے۔ سب سے پہلے اس نے اپنے حکیم دوست سے سفید لیب کوٹ لیا جس کو اس نے ریسرچ کے دوران پہنے رکھا۔ ہم نے اسے سمجھایا کہ ایسی تحقیق کے دوران یہ کوٹ پہننا زیب نہیں دیتا جبکہ فراز محقق کا کہنا تھا کہ اگر ڈاکٹر یہ کوٹ ریڑھی سے گول گپے یا سموسے کھاتے ہوئے پہن سکتے ہیں تو مجھے بھی آئین کے آرٹیکل 19 کے تحت یہ آزادی حاصل ہے کہ جو جی چاہے پہنوں، جو مر ضی لکھوں اور جو من میں آئے بولوں۔ یہ سنتے ہی سب دوستوں نے زور کا قہقہہ لگایا جب کہ جمیل معنی خیز لہجے میں بولا، ”بچے لگتے ہو تم“۔

دوران تحقیق محقق نے بے شمار ولیمے، باراتیں، ظہرانے، عصرانے، عشائیے اور دعوتیں اڑائیں اور کھانا کھلنے کے انتظار کے کرب میں مبتلا لوگوں کا نہایت قریب سے جائزہ لیا۔ محقق کو ایک تقریب میں بن بلائے شرکت کرنے پر تقریب کے بھوکے شرکا سے مار بھی پڑی۔ یہ وہ موقع تھا جب اس نے اپنی تحقیق کا نتیجہ نکالا کہ انسان ایک خونخوار اور ظالم جانور ہے جو سائنس کو سخت ناپسند کرتا ہے اور تحقیق جاری رکھنے سے معذرت کرلی۔ تحقیق جاری رکھوانے کے لئے ہم دوستوں نے مل کر اسے افریقہ کہ ایک ترقی پذیر ملک کا ویزہ لگوا کر اسے کہا کہ تم ہمارے خرچ پر گھومو پھرو اور وہاں کے عوام کا بھی مشاہدہ کر و کہ وہ کھانے کے انتظار کو کیسے برداشت کرتے ہیں۔ یوں فراز محقق افریقہ چلا گیا۔

افریقہ کے اس ترقی پذیر ملک میں ایک بہت بڑے انقلاب کے بعد ایک انتہائی ایماندار حکومت آئی تھی۔ نئی حکومت نے آتے ہی تمام بدعنوان لوگوں کو جیل میں ڈال دیا تھا۔ فراز بتاتا ہے کہ اس نے اس افریقی ملک میں وزیر اعظم کے چمچہ وزیر سے بھی ملاقات کی۔ اس وزیر نے بتایا کہ اس نے چند دن پہلے اپنے وزیر اعظم سے بھی یہ سوال پوچھا تھا کہ سر ہم نے الیکشن میں اتنا زیادہ خرچہ کیا ہے، اگلا الیکشن بھی لڑنا ہے، جب ہم بدعنوان حکومتوں میں وزیر ہوتے تھے تو کوئی مسئلہ نہیں تھا اب آپ ہمیں بتائیں، کھانا کب کھلے گا؟ ہمیں حلوہ کھانے کی اجازت کب ملے گی؟

وزیر اعظم نے جواب میں غصیلی نظروں سے وزیر کی طرف دیکھا، غصے سے اپنے چشمے اتارے اور پھر زور کا قہقہہ لگایا اور بغیر جواب دیے وہاں سے چلے گئے۔ چمچہ وزیر سخت پریشان تھا کہ اس کے سوال پوچھتے ہی وزیر اعظم پر ہیجانی کیفیت کیوں طاری ہوگئی تھی۔ وزیر نے فراز محقق سے مدد چاہی۔ فراز نے اپنے علم کے زور پر اسے بتایا کہ وزیر اعظم کو غصہ انسان کی بے بسی پر آیا کہ وہ بغیر ”چمچے“ کی مدد سے حلوہ نہیں کھا سکتا اور ہنسی چمچے کی لا علمی پر آئی کہ جب تک کسی بھوکے کے ہاتھ نہ آ ئے اسے پتہ ہی نہیں چلتا کہ کھانا تو کھل چکا ہے۔

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •