طالبان کا سودا کرنے کی کوشش نہ کریں ۔ مایوسی ہوگی

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

قطر میں طالبان کے سیاسی نمائندوں سے پوچھا کہ پاکستانی وزیر اعظم عمران خان کے ایک معاون خصوصی نعیم الحق نے کہا ہے کہ طالبان کا وفد بہت جلد خان صاحب سے ملاقات کرے گا لیکن جس سے بھی میں نے گزشتہ ہفتے یہ سوال کیا جواب نفی میں ملا۔ اسلام آباد میں سنا گیا تھا کہ ملاقات شاید عمران خان کے دورہ امریکہ سے پہلے ہو لیکن طالبان کا موقف تھا کہ یہ ممکن نہیں اور یہ کہ ان سے کسی نے بھی رابطہ نہیں کیا۔

ماضی میں پاکستانی رہنماؤں کے امریکہ کے دوروں سے پہلے حکومتوں نے کئی مواقع پر ایسے اقدامات اٹھاتے ہیں جو امریکہ کو خوش کرنے کی کوشش تصور کیے گئے تھے۔ ویسے بھی 17 جولائی کو جماعت الدعوہ کے سربراہ حافظ سعید کی گرفتاری کا ذکر امریکی صدرڈونلڈ ٹرمپ نے بھی کیا کہ حافظ سعید کو تلاش کے لئے دو سال سے دباؤ بڑھایا جا رہا تھا۔ وزیر داخلہ اعجاز شاہ نے کراچی میں جمعرات کو پریس کانفرنس میں کہا کہ حافظ سعید کی گرفتاری قومی مفاد میں کی گئی ہے۔ لیکن کوئی وزیر صاحب سے پوچھے کہ یہ قومی مفاد وزیر اعظم کے دورہ امریکہ سے چند روز پہلے کیسے یاد آ گیا؟ کیا قومی مفاد کے لئے بھی مخصوص ایام ہوتے ہیں؟ معلوم نہیں کب پاکستانیوں کے ساتھ مذاق ختم ہوگا؟

بات افغان طالبان سے شروع ہوئی تو اپنے موضوع پر وآپس جاتے ہیں۔ اب جبکہ امریکی صدر نے وزیر اعظم کو دورے کی دعوت دی ہے اور 22 جولائی کو وائٹ ہاؤس میں دونوں کی ملاقات طے ہے توعمران خان کی حکومت ایسے اقدامات اور اعلانات کرے گی تاکہ امریکہ میں پزیرائی حاصل کرسکے۔ امریکہ سے اچھے تعلقات ہونے چاہیے لیکن اطاعت قبول نہیں ہونی چاہیے۔

جیسا کہ یہ ایک حقیقت ہے کہ اس وقت پاکستان اور امریکہ کے درمیان افغان مسئلے کا سیاسی حل ہی واحد اہم نقطہ ہے جس پر دونوں ممالک مشورے کر رہے ہیں۔ اس میں بھی کوئی شک نہیں کہ پاکستان کا کردار مسئلے کے حل میں بہت اہم ہے اور بیجنگ میں حالیہ چین، روس اور امریکہ کے اہم اجلاس میں پاکستان کو دعوت دی گئی اور مشترکہ بیان میں کہا گیا کہ پاکستان مسئلے کے حل میں سہولت کار کا کردار ادا کرسکتا ہے۔

پاکستانی حکمران اپنے ملک کے حوالے سے امریکہ کے ساتھ کوئی بھی معاملہ کرسکتے ہیں لیکن افغان طالبان سے متعلق پاکستان کا امریکہ یا کسی اور ملک سے معاملے کی کوشش ایک بڑی غلطی ہوگی۔ طالبان کے امریکہ سے قطر میں امن مذاکرات فیصلہ کن مرحلے میں داخل ہوچکے ہیں۔ طالبان کے سیاسی ترجمان سہیل شاہین نے گزشتہ ہفتے مجھ سے ایک تفصیلی ملاقات میں اس توقع کا اظہار کیا کہ ایک ماہ میں امن معاہدہ ہوسکتا ہے اور مستقبل سے متعلق بین الافغانی اجلاسوں کا سلسلہ بھی شروع ہوچکا ہے۔

جب طالبان کا امریکہ اور اہم افغان شخصیات سے مذاکرات ہورہے ہیں تو پاکستان سمیت دیگر ممالک اس امن مذاکرات کے عمل سے دور رہیں تاکہ فریقین کسی نتیجے پر پہنچ جائیں۔ پاکستانی حکومت یا کسی اور ملک کی جانب سے پوائینٹ سکورنگ بہت بڑی غلطی ہوگی۔ افغان طالبان پر کوئی سمجھوتہ کرنے کی غلطی نہیں ہونی چاہیے کیونکہ ایسا کرنے سے شاید مایوسی ہوجائے گی۔ ماضی میں کئی بار افغان طالبان پر دباؤ ڈالا گیا اور فوجی آمر پرویز مشرف نے امریکہ کو خوش کرنے کے لئے طالبان کے سیاسی دفتر کے موجودہ سربراہ ملا عبد الغنی برادر سمیت 50 تک سینئر افغان طالبان کو گرفتار کر لیا تھا اور سالوں سال تک قید میں رکھا۔

2013 اور 2014 میں طالبان کے اکثر طالبان رہنما رہا کردیے گئے تھے اور کئی نے بعد میں رابطوں کے دوران بتایا کہ امریکی ایجنٹوں نے بھی ان سے پاکستان میں حراست کے دوران پوچھ گچھ کی۔ طالبان کے سیاسی نمائندوں نے روس، چین، جاپان، ایران، یورپی ممالک، ازبکستان، انڈونیشیا اور کئی دیگر ممالک سے رابطے مضبوط کیے ہیں اور قطر میں طالبان رہنماؤں سے بات چیت کے دوران معلوم ہوا کہ وہ دنیا کے اہم ممالک سے رابطوں پر بہت خوش ہیں۔

سہیل شاہین سے پوچھا کہ روس تو وہ کمیونسٹ ملک تھا جس نے افغانستان پر قبضہ بھی کیا تھا تو طالبان کی کیسے اس سے صلح ہوگئی اور بار بار وہاں کے دورے ہوتے ہیں تو انہوں نے کہا روس نے طالبان کو 11 ممالک کے اجلاس میں دعوت دے کر ان کو دنیا تک اپنا موقف براہ راست پہنچانے کا موقع فراہم کیا اور بعد میں روس نے بین الافغانی نشستوں کا بھی اغاز کیا تاکہ افغان آپس میں مل بیٹھ کر مستقبل کے حوالے سے مشورے کر سکیں۔

طالبان سے ملاقاتوں میں محسوس ہوا کہ طالبان کسی کے وساطت کے بغیر دنیا کے اہم ممالک کے ساتھ روابط بڑھانا چاہتے ہیں تو دوسرے بھی طالبان کا نام استعمال کرکے ان کا سودا کرنے کی کوشش نہ کریں تاکہ کل کو مایوسی نہ ہو۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •