سنکیانگ کا ترقیاتی ماڈل اور گلگت بلتستان


\"aliجب سے شاہراہ ریشم کو قراقرم ہائی وے بنا دیا گیا ہے چین کا زمینی سفر دشوار نہیں رہا ۔ گلگت سے اڈھائی تین گھنٹے مین سوست کی چیک پوسٹ پر پاکستانی امیگریشن کے کاؤنٹر سے فارغ اور بس میں بیٹھ کر اگلے دو سے تین گھنٹے بعد تاشقرغن کے چینی امیگریشن کے کاؤنٹر پر حاضر۔ یہاں سے کاشغرشہر کی خاک چھاننے کے لیٔے آپ آزاد ہیں سرکاری بس میں جائیں یا اپنے بندوبست پر ۔
مجھے پہلی بار ایک سرکاری وفد کے ہمراہ سنہ 2000 میں چین کے صوبے سنکیانگ جانے کا اتفاق ہوا۔ سرکاری وفد کی حثیت سے ہمیں اپنی مخصوص گاڑی میں جانے دیا گیا۔ سوست کے پاکستانی ایمگریشن میں تو آؤ بھگت ہی ہوئی لیکن خنجراب کے بعد پہلی چیک پوسٹ پر چینی محافظوں کو میرے لیپ ٹاپ کے کمپیوٹر اور کچھ سی ڈیز او فلاپی ڈیسک پر اعتراض ہوا کہ اس قسم کی اشیا ء جمہوریہ چین لیجانے کی اجازت نہیں ۔ اب بحث اشاروں کی عالمی زبان میں ہورہی تھی وہ بھی ایک بندوق بردار سے تو ہم اپنی اوقات خوب پہچانتے تھے۔ محافظوں کو بھی گمان تو ہوا کہ ہم بھی کوئی خاص قسم کی مخلوق ہیں لیکن وہ بھی کیا کرتے جواپنے ڈیوٹی سے بھی مجبور تھے ۔ ایک محافط ہماری گاڑی میں بیٹھ گیااور ہمیں ہمارے سامان ممنوع سمیت تاشقرغن میں کسٹم اہلکاروں کو حوالے کیا۔ چونکہ یہاں بھی کسٹم حکام کو ہماری آمد کی اطلا ع پہلے سے تھی تھی لہٰذا خاطر مدارت ہی ہوئی۔
کاشغر میں پاکستانیوں کو اپنی گاڑی صرف ہوٹل سے کسی ورکشاپ یا پیٹرول پمپ تک لیجانے کی اجازت تھی سو گاڑیاں ہوٹل کے احاطے میں کھڑی کرکے ہم پیدل تھے۔ کاشغر میں لوگوں کوجنوبی ایشیا میں سکھوں کی طرح خنجروں سے لیس دیکھ کر میں نے پوچھا کہ ایسا کیوں ہے تو بتایا گیا ہے کہ خنجر رکھنا یہاں کی ثقافت کا حصہ ہے اس لئے چینی سرکار کی طرف سے لوگوں کو اجازت ہے۔ مقامی طور پر سرکاری افسران سے ملاقاتیں ہوئی تو پتہ چلا کہ ان کے حکام بالا صوبائی دارالخلافہ اورمچی میں رہتے ہیں، تو ہم بھی روانہ ہوۓ۔
اورمچی کا سفر دسمبر کے آخری ہفتے میں کافی مشکل تھا۔ منفی درجہ حرارت میں دھوپ نہ نکلے تو دن کے وقت بھی باہر جانا مشکل ہو جاتا ہے۔ خواچو بینگن نام کے ہوٹل میں رہائش تھی جو شہر کی قدیم آبادی کے بیچ تھا۔ یہاں سیاح کو پردیسی یا خواچو کہتے ہیں جس کی نسبت سے اس ہوٹل کا نام تھا۔ ہوٹل انتہائی آرام دہ اور سہولیات سے بھر پور تھا۔ اس دوران عید آئی تو نماز کے لیٔے اورمچی کی مشہور جامعہ مسجد گئے جہاں نماز اور خطبے کے اختتام سے پہلے ہی نوجوانوں کو مسجد کی چھت پر ڈھول بجاتے دیکھا تو ہمارے پاکستانی ہمسفروں کو اچھا نہیں لگا ۔ حسب علم و عقل و توفیق فتوے صادر ہوۓ ۔ ہمیں ہمارے پاکستانی ہم وطنوں نےانتباہ بھی کیا کہ صرف یوغروں کے ہاں گھوڑے کا گوشت نہیں پکتا حالانکہ کرغزوں کی مرغوب غذا ہی یہی ہے۔ چینی حکام سے جب بات ہوئی تو پتہ چلا کہ حکومت اس علاقے کو ہانگ کانگ کے برابر لانا چاہ رہی ہے۔ بڑی بڑی سڑکیں بن رہی تھیں، بڑے پلازے بن رہے تھے۔ مارکیٹیں کھل رہی تھیں جہاں ہر قسم کی تجارت کی توقع کی جارہی تھی۔ ہم نے روسی اور وسط ایشیائی ممالک کے بڑی تعداد میں تاجروں اور سیاحوں کو بھی دیکھا ۔ ہم نےیہاں دوکانوں، ہوٹلوں اور کلبوں میں نو جوان چینیوں کی کثیر تعداد دیکھی جو مختلف خدمات سر انجام دے رہے تھے۔ یہاں کے یوغر اپنی زبان ترکی میں ہی تعلیم حاصل کرنے کو ترجیح دے رہے ہیں اور چینی زبان سیکھنے میں ہچکچاہٹ پائی جاتی ہے۔ پتہ چلا کہ چینی حکومت بڑے شہروں سے نو جوانوں کویہاں لارہی ہے اور یہاں کے لوگوں کو دوسرے شہروں میں بھیج رہی ہے۔ حکومت کامقصد یہ تھا کہ یہاں خدمات کا معیار بہتر ہو اور یہاں کے لوگ دوسرے شہروں میں جا کر چینی طرز زندگی اختیار کریں۔ ان دنوں کلبوں میں جا نا اور اپنی مخصوص شراب ٌ ماتھائیٌ سے لطف اندوز ہونایہاں کے مقامی لوگوں کا محبوب مشغلہ تھا ۔ ہم نے کچھ مقامی لوگوں کو شراب کے پہلے جام کو اٹھانے سے پہلے ایک دعا بھی پڑھتے دیکھا۔ دیگر ایشیا کے علاوہ شراب چین کے دوسرے شہروں کے نسبت یہاں سستی بھی بتائی گئی۔
بارہ سال بعد مجھے منگولیا کے شہر اولن باتر سے پاکستان آتے ہوۓ یہاں رکنا پڑا۔ سوچا کہ اسی ہوٹل میں ٹھہروں تاکہ دیکھا جا سکے کہ یہ شہر کتنا بدلا ہے۔ خواچو بینگن اب ایک ٹوٹا پھوٹا ہوٹل تھا جس کو اب چینی نہیں تھے مقامی لوگ چلا رہے تھے۔ ہوٹل چلانے والے سب پھر پھر اردو اور پشتو بول رہے تھے کیونکہ ہوٹل میں رہنے والے بھی سب پاکستانی تاجر ہی تھے۔ ہوٹل کے کمرے میں اب چاۓ بنانے اور گرم اور ٹھنڈے پانی کی سہولیات تو نہیں تھیں مگر ایک جاء نماز ہر کمرے میں موجود تھا۔ بیرے کو بلانے والی گھنٹی ہی خراب تھی نہ ہی کمرے میں ٹیلی فون اور انٹر کام کی سہولت موجود۔
دودھ والی کالی چاۓ پینے کا دل چاہا تو سامنے گلی میں ایک چھوٹا سا کھوکھا مجھے یاد تھا تو وہاں چلا گیا۔ وہ کھوکھا بالکل اسی طرح ہی تھا جس طرح بارہ سال پہلے تھا۔ چاۓ بناتے ہوۓ اس خاتوں نے پوچھا کہ میں نمکین یا میٹھی چاۓ پیونگا۔ اس کا ملبا یہ تھا کہ اس کےہاں پٹھانوں کے علاوہ گلگت کے لوگ کافی آتے ہیں جو نمک والی چاۓ پیتے ہیں۔ اس کوٹوٹی پھوٹی اردو بھی آنے لگی تھی لیکن اس کی بیٹی جو اب اس کا کام سنبھالتی تھی اردو اچھی خاصی بول لیتی تھی۔ اس نے کہا کہ اورمچی کے حالات ٹھیک نہیں یہاں اب فساد ہونے لگا ہے۔ یہاں اب خوف ہے کہ کب مارا ماری شروع ہو اور فوجی پکڑ کر لے جائیں۔
شام کو کلب بھی گئے جہاں اب خانسو کہلانے والے چینی نہیں بلکہ مقامی نوجوان خدمات سر انجام دے رہے تھے۔ کلب میں بیرے اور ناچنے والی لڑکیاں بھی مقامی تھیں۔ میں نے ایک بیرے کا کام کرنے والی خاتون جس کو اردو کی سمجھ تھی سے پوچھا کہ پہلے تو یہاں مقامی خواتین یہ کام نہیں کرتی تھیں اب کیوں کرتی ہیں ۔ اس نے بتایا کہ جب شروع شروع میں یہاں کلب کھلے تو مقامی مرد یہاں آنے لگے ۔ پیسے لٹاتے گئے اور کنگال ہوگئے۔ اب اگر عورتیں کام نہ کریں تو گھر کیسے چلے۔ اس خاتون نے شکایتاً کہا کہ ان کے مرد دو ہی کام کرتے ہیں شراب پیتے ہیں یا عورتوں کو مارتے ہیں۔ عورتیں کام بھی کرتی ہیں اور مردوں کی مار بھی کھاتی ہیں۔ اس خاتون نے بتایا کہ کسی کلب یا ہوٹل میں بیرے کا کام کرنا اس سے بہتر ہے جو اب یہاں کی مقامی خواتین کرنے پر مجبور ہیں۔ یہ کہتے ہوے اس کے چہرے کے تاثرات بتا رہے تھے کہ وہ کس بات کی طرف اشارہ کر رہی تھیں۔
واپسی میں جہاز پر ایک یوغر نوجوان سے ملاقات ہوئی جو میرے ساتھ والی نشست پر بیٹھا تھا۔ اس سے پوچھا کہ اورمچی میں جھڑتے کیوں ہو رہے ہیں۔ اس نے کہا کہ بات سیدھی سی ہے۔ چینیوں کو زمین چاہیے اس لئے وہ لوگوں کو مار رہے ہیں جو اس زمین کے مالک ہیں۔
پاکستان اور چین کے درمیان تجارتی راہ داری کے منصوبے سی پیک کی کامیابی کے لیٔے گلگت بلتستان کو سنکیانگ اور اورمچی کے ماڈل پر ترقی دینے کی بات ہو رہی تو کیا چین کی طرح پاکستان کے لئے بھی گلگت بلتستان کی زمین یہاں کے لوگوں سے زیادہ اہمیت رکھتی ہے؟

Facebook Comments HS

علی احمد جان

علی احمد جان سماجی ترقی اور ماحولیات کے شعبے سے منسلک ہیں۔ گھومنے پھرنے کے شوقین ہیں، کو ہ نوردی سے بھی شغف ہے، لوگوں سے مل کر ہمیشہ خوش ہوتے ہیں اور کہتے ہیں کہ ہر شخص ایک کتاب ہے۔ بلا سوچے لکھتے ہیں کیونکہ جو سوچتے ہیں, وہ لکھ نہیں سکتے۔

ali-ahmad-jan has 289 posts and counting.See all posts by ali-ahmad-jan