دھندہ ہے، پر گندا ہے‎

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

پاکستان میں سیاست یقینی طور پر عنوان پہ صادق آتی ہے۔ کیوں کہ ہمارے ہاں سیاست اور اخلاقیات کا دور دور تک بھی واسطہ نہیں ہے۔ اور مزید پستی کی علامت یہ ہے کہ یہاں جس کا جو کام ہے وہ کر نہیں رہا۔ جس کا جہاں داؤ لگ رہا ہے وہ لگا رہا ہے۔ یہ حقیقت پس پشت ڈالی جا رہی ہے کہ اس سے ملک کو کتنا نقصان ہو گا اور ہمارا پاکستان اس تمام کشمکش سے آگے بڑھے گا یا اس کی ترقی کی رفتار مزید سست ہو جائے گی۔ تبدیلی سرکار کا بیانیہ بھی موجودہ حالات میں پٹ رہا ہے۔

اور ایسے فیصلے عام ہو رہے ہیں جن پہ کبھی تنقید کی جاتی تھی۔ نہ مہنگائی روکنے کا دعویٰ عملی کام بن سکا۔ نہ شاہ خرچیاں کم ہو سکیں، نہ عوام تک بنیادی حقوق پہنچ سکے نہ انصاف کی راہداریوں میں دنوں میں فیصلے ہو پا رہے، نہ باہر سے پاکستانی بھاگے پاکستان چلے آئے، نہ دنیا سے لوگ یہاں نوکریاں ڈھونڈنے آئے، نہ بجلی کی قیمتیں کم ہوئیں، نہ پٹرول کم قیمت پہ دستیاب ہے، نہ گورنر ہاؤسز و وزیراعظم ہاؤس میں قائم ہونے والی درسگاہوں میں تعلیمی سال شروع ہو پایا ہے۔ دعووں کی ایک لمبی لائن تھی جس کے بارے میں عام تاثر یہ تھا کہ اگر ان میں سے پچاس فیصد بھی مکمل ہو گئے تو ملک کی حالت سنور جائے گی۔ ہمارے دعوے بس دعوے رہتے ہیں۔ اور ہم عوام سے یہ توقع کرتے ہیں کہ تھوڑا صبر، تھوڑا حوصلہ۔

نواز شریف جیل میں اپنے کردہ یا ناکردہ گناہوں کی سزا بھگت رہے ہیں۔ ایسا لگتا ہے یہ حکومت کے لیے بظاہر ٹیسٹ کیس تھا لیکن اب گلے کی ہڈی بنتا جا رہا ہے کہ نہ نگل سکتے ہیں نہ ہی اُگل سکتے ہیں۔ اور آنے والے وقت بتائے گا کہ اس کیس کا اونٹ کس کروٹ بیٹھتا ہے لیکن اس کیس سے جڑے معروضی حالات خطرناک صور تحال کی نشاندہی کر رہے ہیں۔ مریم نواز کھل کے میدان میں آ چکی ہیں۔ پیپلز پارٹی اور بلاول بھٹو کے جہاں پر جلتے ہیں وہاں مریم نواز ایک قدم آگے بڑھا چکی ہیں۔

ویڈیو معاملہ شاید ترپ کا آخری پتا ہے جو ایک جوئے کی مانند ہے۔ مقاصد حاصل بھی ہو سکتے ہیں اور الٹا بلا گلے بھی پڑ سکتی ہے۔ لیکن بظاہر ایسا لگتا ہے کہ اس کے علاوہ ان کے پاس کوئی چارہ باقی نہیں بچا۔ میڈیا اس محلے کی خالہ کا کردار ادا کر رہا ہے۔ جو ایک کان سے سن کر دوسرے کان تک پہنچانے کی ماہر ہیں، اور ساتھ ہی یہ بھی کہتی ہیں کہ ”کسے نوں دسنا نہیں“۔ ویڈیو معاملہ بظاہر پیچیدہ مسئلہ لگتا ہے۔ لیکن یہ پاکستان کی سیاسی تاریخ میں تو نیا نہیں۔

دھندہ پورے عروج پہ ہے کسی کا زوال شروع ہونے کو ہے اور کسی کی گڈی بلند ہو رہی ہے۔ لیکن پاکستانی سیاست تنزلی کی طرف جا رہی ہے۔ نوجوان نسل بڑی حسرت سے سوچا کرتی تھی کہ وہ میاں محمد نواز شریف اور بینظیر بھٹو جو میوزیکل چیئر کھیل رہے تھے وہ ناجانے کیسی تھی لیکن موجودہ دور کی سیاست سے یقینی طور پہ ان کی یہ حسرت پوری ہو گئی ہو گی۔ کیوں کہ پچھلے کچھ عرصے میں ایک ایسی سیاسی نسل پروان چڑھی جو گالم گلوچ میں جدیدیت لے آئی ہے۔

ٹویٹر و فیس بک نے معاملات کو بہت آسان بنا دیا ہے۔ اب حالات نوے کی دہائی سے بھی بدتر ہیں۔ آپ کسی بھی شخصیت کو منتخب کیجیے، اس کے خلاف چند پوسٹس بنائیں۔ اور آپ کے پاس کچھ سر پھرے نوجوان ہونے ضروری ہیں جو ہر لمحہ ٹک ٹک کرنے کی صلاحیت رکھتے ہوں، اور بس لمحوں میں وائرل۔ پارلیمان کی صورت حال کا جائزہ لے لیجیے۔ سینٹ الیکشن میں کیا کچھ نہیں ہوا۔ الیکشن سے پہلے اور بعد میں کیسے کیسے معرکے سر نہیں کیے گئے۔

الیکشن کے بعد سے اب تک کس کس طرح مخالفین نے غلیظ نعروں کے ساتھ ایک دوسرے کا گریباں چاک نہیں کیا۔ حیرت ہوتی ہے جب وہ لوگ جنہیں ہم منتخب کر کے بھیجتے ہیں، اور وہ گالم گلوچ اپنا وتیرہ بنا لیتے ہیں۔ ہمیشہ سے سیاسی نصاب میں لکھا جاتا رہا ہے، پڑھا جاتا رہا ہے، پڑھایا جاتا رہا ہے کہ حکومت کا کام تنقید سہنا ہے۔ لیکن اب حالات شاید مختلف ہو چکے ہیں اور سیاسی لغت میں سے لفظ صبر بھی منہا کر دیا گیا ہے کہ اپوزیشن کی جانب سے طوفان بدتمیزی کے جواب میں کارکردگی کو جواب بنانے کے بجائے حکومتی وزرء، مشراء اپوزیشن سے بھی سخت اور بے ہودہ ایسا لہجہ اپناتے ہیں کہ الاماں۔

دوسری جانب اپنے اوپر لگے الزامات کو غلط ثابت کرنے کے بجائے نہ جانے کس کس دور کی ویڈیوز نکال باہر کی جا رہی ہیں۔ اور کچھ بعید نہیں کہ کچھ عرصے بعد ہی ایسی ویڈیوز آنا شروع ہو جائیں کہ جن پہ واضح لکھا ہو کہ ”صرف بالغوں کے لیے“ کیوں کہ جس روش پہ پاکستانی سیاست قدم رکھ رہی ہے اس میں کچھ بعید نہیں ہے۔ آپ نے مشیر بننا ہے تو بدتمیز ہونا اولین شرط ہے۔ آپ نے اپوزیشن کی صفوں میں اپنا نام ہراول دستے میں لکھوانا ہے تو غیراخلاقی گفتگو میں مہارت ہونی لازمی ہے۔ کہاں جائیں، کس سے کہیں کہ ہماری سیاست کو تھوڑی تمیز سکھا دیجیے۔ ہماری سیاست کے کان ایسے کھینچ دیجیے کہ سبق یاد کر کے آئے۔

تعمیری رویے پاکستان کی سیاست نہ اپنا پائی ہے نہ مستقبل قریب میں ایسی کوئی امید دکھائی دیتی ہے۔ اب ڈیلی میل کی مارکیٹ میں آنے والی نئی سٹوری ایک مزید برننگ ایشو ہے جو ذاتیات کے بخیے ادھیڑنے کے لیے میسر آ گیا ہے۔ حیرت انگیز اور افسوس ناک پہلو یہ ہے کہ اس حمام میں سب ہی ننگے ہیں۔ اور مزید سونے پہ سہاگہ برطانوی ادارے کا اس خبر کی تردید کا اعلان ثابت ہوا۔ غیر ملکی اخبارات میں خبریں کیسے لگتی ہیں، کیسے لگوائی جاتی ہیں، کون لگواتا ہے، لگوانے کے لیے کیا پاپڑ بیلنے پڑتے ہیں، یہ ہم جیسا ناچیز طالبعلم بھلا کیسے جانے یہ تو کوئی مہان صحافی و لکھاری ہی بتا سکتے ہیں۔ ہاں مگر اتنا کہنا تو بنتا ہے کہ صحافت کی تعلیم میں ایک چیز ہم پڑھتے آئے کہ لوگوں کے ذہنوں میں کچھ ڈالنے کے لیے اس کی مسلسل گردان لازمی ہے۔ تو آج کل حال اسی گردان والا ہے۔ اب کون اپنی گردان کامیابی سے لوگوں کے ذہنوں میں نقش کر پائے گا مستقبل قریب میں واضح ہو جائے گا۔

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •