کیا عمران خان مریم نواز سے خوفزدہ ہیں؟

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

گزشتہ روز ‏نور الہدیٰ شاہ صاحبہ کا ٹوئٹ نظروں سے گزرا، جس میں انھوں نے کہا ‏کہ مجھے رانا ثنااللہ پسند نہیں تھے۔ آج دل ان کے ساتھ کھڑا ہے۔ مجھے مریم نواز پسند نہیں تھیں، آج دل ان کے ساتھ کھڑا ہے۔ مجھے مریم اورنگزیب پسند نہیں تھیں، آج دل ان کے ساتھ کھڑا ہے۔ بہت بہت شکریہ‎ عمران خان۔ تاریخ اس بات کی شاہد ہے کہ طاقت اور قوت کے بل پر کسی بھی فرد یا قوم کو زیادہ دیر تک دبایا نہیں جا سکتا۔

‏آپ اس کو جتنا دباؤ گے وہ پہلے سے زیادہ قوت سے ابھر کر سامنے آئے گا۔ مصنوعی طریقے اور طاقت و غرور کے نشے میں وقتی طور پر تو اس کو روک لو گے۔ مگر یہ حقیقت ہے کہ اپنے اس آمرانہ عمل سے آپ اس کو مزید طاقت عطا کرتے ہیں۔ محترم عمران خان جب اپوزیشن میں ہوا کرتے تھے تو موصوف نا صرف میڈیا کی آزادی کی بات کرتے تھے بلکہ وہ عوامی آزادی اظہار رائے کی بڑی بڑی ڈینگیں بھی مارا کرتے تھے۔

مگر آج جب وہ برسر اقتدار آئے تو کبھی جس “حامد میر” کو اپنا پسندیدہ و بہادر صحافی کہا کرتے تھے ان کے دور حکومت میں اس ہی حامد میر کا “کیپیٹل ٹاک” چلتے چلتے اچانک پردہ اسکرین سے غائب کردیا جاتا ہے۔ نا صرف حامد میر و عاصمہ شیرازی جیسے صحافیوں کو سنسر شپ کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ بلکہ ان پر ملک دشمنی جیسے جھوٹے الزامات لگاکر ان کو ہراساں بھی کیا جارہا ہے۔

نواز شریف کے دور حکومت میں جہاں میڈیا سارا سارا دن عمران خان کے دھرنے کی دن رات کوریج کرتا تھا وہاں آج میڈیا پر مریم نواز اور حزب اختلاف کہ جلسے جلوس کی کوریج پر پابندی ہے۔ کل عمران خان جس اسمبلی پر اور وہاں بیٹھے ارکان اسمبلی پر لعنتیں بھیجا کرتے تھے۔ سابق وزیر اعظم کو گاڈ فادر، چور ڈاکو اور موٹو گینگ کے نام سے پکارا کرتے تھے، وہاں آج عمران خان کو لفظ “سلیکٹیڈ” ناگوار گزرتا ہے۔

اسی لئے قومی اسمبلی کو بھی اسپیکر کی مدد سے پابند سلاسل کیا جا رہا ہے۔ وہاں بھی اظہار رائے پر پہرے بٹھائے جا رہے ہیں۔ موجودہ حکومت تو آمر پرویز مشرف سے بھی چار ہاتھ آگے جا چکی ہے۔ محترم عمران خان کی موجودہ حکومت اپنے طرز عمل میں کہیں سے بھی ایک جمہوری حکومت نظر نہیں آتی۔ ڈکٹیٹر پرویز مشرف کے دور میں بھی جہاں میڈیا کو پابند سلاسل گیا۔ سیاست دانوں کی سیاسی وفاداریاں تبدیل کرائی گئیں۔ اور ان پر جھوٹے مقدمات قائم کر کے ان کو جیلوں میں ڈالا گیا۔ آج بھی بالکل وہی حالات ہیں۔

مشرف و ضیاء دور کا وہی کھیل کھیلا جارہا ہے جو ہم نصف صدی سے دیکھتے چلے آرہے ہیں۔ ایک طرف جناب عمران خان کہا کرتے ہیں کہ نواز شریف کی عوامی مقبولیت ختم ہوچکی ہے۔ عوام اس کو مسترد کرچکے ہیں وہیں عمران خان مریم نواز شریف سے بری طرح خوفزدہ نظر آتے ہیں۔ منڈی بہاو الدین کے جلسے کو منفی ہتھکنڈوں سے روکنا۔ اس میں رکاوٹیں کھڑی کرنا اور مسلم لیگ نون کے سینکڑوں کارکنان کی گرفتاری اور مریم نواز کے احتساب عدالت جاتے ہوئے راستے میں رکاوٹیں کھڑی کرنا اور کارکنان پر تشدد اس بات کا ثبوت ہے کہ عمران خان اور ان کی حکومت مریم نواز شریف سے بری طرح خوفزدہ ہیں۔

اس امر میں کوئی دو رائے نہیں کہ موجودہ حکومت کی منفی پالسیز اور انتقامی کارروائیوں سے عوام میں مریم نواز کا بیانیہ تیزی سے مقبول ہورہا ہے اور ایسا محسوس ہوتا ہے کہ آنے والے دنوں میں مریم نواز ایک بہت بڑی لیڈر بننے جا رہی ہے۔ اسی لئے موجودہ حکومت بری طرح بوکھلاہٹ کا شکار ہوکر منفی ہتھکنڈے استعمال کررہی ہے۔ وزیر اعظم صاحب انتہائی افسوس کہ ساتھ کہنا پڑ رہا ہے آپ بھی اس ہی راستے پر گامزن ہیں جہاں آپ سے پہلی حکومتیں چلتی رہی ہیں۔

جو آج اپنی سابقہ غلطیوں اور پالیسی پر شرمندہ ہیں۔ آپ کی موجودہ پالیسیوں، انتقامی کارروائیوں اور یو ٹرن سے کسی کا نہیں صرف آپ کا اپنا نقصان ہورہا ہے۔ آپ کا بیانیہ جو ایک وقت میں تیزی سے مقبول ہورہا تھا۔ وہ بہت تیزی سے نیچے کی طرف جا رہا ہے۔عوامی آزادی اظہار رائے اور میڈیا پر سینسر شپ لگا کر آپ بہت دیر تک پرواز نہیں کرسکتے۔ آپ بھی اسی راہ پر چل رہے ہیں جہاں پچھلے ادوار میں مسلم لیگ نون اور پیپلز پارٹی چلتی رہی ہیں۔ مگر وقت اور حالات سے سیکھتے ہوئے وہ آج اپنے پچھلے گناہوں پر شرمندہ ہیں۔ اور آج اس کا کفارہ ادا کررہی ہیں۔

اب بھی وقت ہے اپنی پالیسیز اور اپنے طرز حکومت پر نظر ثانی فرمائیں۔ اور جمہوریت کو مضبوط کریں۔ ورنہ وہ وقت دور نہیں جب کل آپ کے ساتھ بھی وہی کھیل کھیلا جارہا ہوگا جو آج نواز شریف اور آصف زرداری کے ساتھ کھیلا جا رہا ہے۔

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •