شیخ صاحب صرف نمبر ٹانگنے سے ریل نہیں چلے گی

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

پاکستان ریلوے میں نمبر ٹانگنے کی روایت بہت پرانی ہے۔ اور لوگ کہتے ہیں کہ ریلوے میں حقیقی تبدیلی لانے کی بجائے شیخ رشید بھی صرف نمبر ٹانگ رہے ہیں۔ یہ نمبر ٹانگنا کہتے کس کو ہیں؟ بعض لوگوں کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ وہاں محض نمبر ٹانگنے گیا تھا یعنی کام کسی اور نے کیا اور ذمہ داری خود لے لی یا پھر کسی جگہ پہنچ کر صحیح طریقے سے کام کرنے کی بجائے دکھاوے کے طور آگے آگے رہنا اور ظاہر کرنا کہ وہ زیادہ بہتر طریقے سے کام کررہا ہے بلکہ دوسروں کے کیے ہوئے کاموں کا بھی کریڈٹ خود لے لیتا ہے۔

محمد ایوب پینتیس سال قبل پاکستان ریلوے میں بھرتی ہوا۔ پہلے چند سال تو باقاعدگی سے مغل پورہ ریلوے کیرج شاپ میں اپنی ڈیوٹی سرانجام دیتا رہا مگر کچھ عرصے بعد اس نے دیکھا کہ اس کے بیشتر ساتھی صبح صبح ورکشاپ پہنچتے تو ضرور ہیں مگر داخل ہوتے ہی غائب ہو جاتے ہیں۔ دراصل روزانہ حاضری کا طریقہ یہ ہے کہ ہر ملازم کو الاٹ شدہ نمبر ورکشاپ میں داخل ہوتے ہی مل جاتا ہے اس کے بعد اس نمبر کو آگے حاضری بورڈ پر ٹانگ دیا جاتا ہے۔ اس طرح اس کی حاضری لگا دی جاتی ہے۔ مگر چند لوگ وہاں رشوت دے کر نمبر ٹانگنے کے بعد کام کرنے کی بجائے گھروں کو یا پھر کسی اور جگہ کام کرنے نکل جاتے ہیں۔

محمد ایوب نے بھی گزشتہ تین دہائیوں میں کام کرنے کی بجائے صرف وہاں نمبرہی ٹانگا ہے اوراپنا نجی کام کیا۔ ایوب کا کہنا ہے کہ بعض ورکشاپس میں تو یہ عالم ہے کہ لوگ نمبر ٹانگنے کے بعد وہیں درختوں کی چھاؤں میں سونے کی جگہ تلاش کرتے ہیں اور ڈیوٹی کا پورا وقت سو کر گزارتے ہیں۔ یہ سب وہاں کے نگران افسر کی ملی بھگت سے ہوتا ہے۔ پھر اوور ٹائم لگوانے کے لیے بھی نگران افسر کی مٹھی گرم کرنا پڑتی ہے یعنی کام کے وقت سونا اور کام صرف اوور ٹائم میں کرنا۔

ایوب کا کہنا ہے ہے کہ یہ کام افسر کی مرضی کے بغیر نہیں ہوسکتا۔ وہ اپنی تنخواہ کا ایک حصہ اپنے افسروں کو دیتا ہے اور ریلوے میں نمبر ٹانگ کر مختلف کاروبار کرتا رہا ہے۔ کبھی رکشہ چلایا تو کبھی دکان۔ ایوب نے بتایا کہ نمبر ٹانگنے کے علاوہ افسر اور ملازم ورکشاپس کے اندر سے دھاگا، ڈوری، ریکسین، فوم، تانبا سمیت دیگر سامان چوری کرکے مارکیٹ میں بیچتے دیتے ہیں یا پھر گھر میں استعمال کرتے ہیں۔ یہاں تک کہ ریٹائرڈ ملازمین کی پنشن کے چیک کی وصولی کے لیے بھی رشوت دینا پڑتی ہے۔ اس کا کہنا ہے کہ آج کل بجٹ کم ہونے کی وجہ سے پنشنروں کے مسائل بھی بڑھ گئے ہیں۔

یہ مسئلہ صرف پاکستان ریلوے کا نہیں بلکہ تقریبآ ہر محکمے میں اسی طرح کام چل رہا ہے۔ معاشرے میں یہ عمومی مزاج بنتا جا رہا ہے کہ اپنا کام ٹھیک طریقے سے کرنے کی بجائے نمبر زیادہ ٹانگے جاتے ہیں۔ کہیں عوامی نمائندے چھوٹے موٹے ترقیاتی کاموں کی تختیاں لگواتے ہیں تو کہیں عالمی سطح پر امریکہ کو خوش کرنے کے لیے شدت پسندوں کی گرفتاریاں کرکے نمبر ٹانگے جاتے ہیں۔

محمد ایوب اگر نمبر ٹانگ رہا ہے تو شیخ رشید کیوں پیچھے رہے۔ وزیرریلوے نے وزارت سنبھالتے ہی آئے دن نئی ٹرین بچھانے کے بعد وزیراعظم عمران خان کے سامنے اپنے نمبر ٹانگنا شروع کر دیے۔ انہوں نے شاید یہ سوچا کہ اس طرح مشہوری زیادہ ہوگی۔ اور ایسا ہی ہوا۔ عمران خان نے ایک سے زیادہ مرتبہ ان کی تعریف کی اور کہا، ’دیکھیں شیخ رشید دن رات محنت کر کے ریلوے کے نظام کو بہتر کررہا ہے‘ ۔

اس کے برعکس حالات یہ ہیں کہ ٹرینوں کے حادثات بڑھ رہے ہیں۔ صادق آباد کے حادثے میں چوبیس سے زائد ہلاکتوں نے سارے پول کھول دیے۔ ریلوے کی لائنیں خستہ حال، ملازمین کی تعداد انتہائی کم، سگنل کا نظام بوسیدہ، یعنی جن لائینوں پر نئی گاڑیاں چلائی جارہی ہیں وہ اس قابل ہی نہیں ہیں۔ شیخ رشید خود تسلیم کرتے ہیں کہ ان کے دور میں اب تک چوہتر حادثات ہو چکے ہیں۔ ایک رپورٹ کے مطابق فرنس تیل کی شدید قلت کی وجہ سے بیشتر مال گاڑیوں کی سروس بند کردی گئی ہے۔ اس کے علاوہ صادق آباد کے ٹرین المیے سے اب تک ٹرینوں کے چھ حادثات ہوتے ہوتے بچ گئے۔ اور یہ سب کچھ ہو رہا ہے سگنل اور کانٹے کے دقیانوسی نظام کی وجہ سے۔ ستم ظریفی یہ ہے کہ اب شیخ رشید نے اعلان کیا ہے کہ وہ مزید پانچ مال گاڑیاں چلانے جا رہے ہیں۔

پاکستان میں ہر سیاسی یا فوجی حکومت نے اقتدار میں آنے کے بعد ایسے منصوبے شروع کیے جن سے وہ عوام کے سامنے زیادہ سے زیادہ نمبر ٹانگ کر ووٹ حاصل کرکے دوبارہ منصب سنبھالیں یا اپنے اقتدار کو طول دے سکیں۔ نتیجہ یہ نکلا کہ زیادہ تر مسائل وہیں کہ وہیں کھڑے ہیں۔ شیخ رشید اگر یہ ٹھان لیتے کہ انہوں نے پہلے مرحلے میں صرف لاہور اسلام آباد کے روٹ پر توجہ دینی ہے اس کی لائینیں نئی بچھانی ہیں، اس روٹ پر تاریخی ریلوے اسٹیشنوں کی تعمیر و مرمت کر کے بحال کرنا ہے اور اس روٹ کو مثالی بنا کر یہاں اعلی ترین ٹرین سروس مہیا کرنی ہے۔ اور یہ سارے کام کرنے کے بعد پھر کسی دوسرے روٹ پر توجہ دینی ہے تو سسٹم میں نمایاں بہتری دکھائی دیتی اور مسافر خود اس کی تعریف میں رطب اللسان ہوتے اور شیخ صاحب کو خود نمبر ٹانگنے کی ضرورت پیش نہ آتی۔ اسی طرح دو تین روٹس کو ٹھیک کردیتے تاکہ ہر آنے والی حکومت اس کام کو آگے بڑھاتی۔

اس کی مثالیں موجود ہیں۔ چوہدری پرویز الہی نے لاہور میں ٹریفک وارڈنز کا آغاز کیا جو پنجاب کے بڑے اضلاع تک پھیل چکا ہے۔ انہوں نے ریسکیوسروس شروع کی جو آج پنجاب کے دیگر اضلاع بلکہ خیبرپختونخواہ میں بھی کامیابی سے جاری ہے۔ اور ان کے ان کاموں کی تعریف ہر شخص کرتا ہے۔

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •