فواد چودھری کے انکشافات کے بعد اب تحریک انصاف کے پلے کیا رہ گیا ہے؟

تحریک انصاف کی حکومت پر تنقید کچھ یوں ہو رہی ہے : تبدیلی کا خواب پورا نہیں ہوسکا۔ تحریک انصاف اپنی ٹیم کے ہاتھوں پٹ گئی۔ کشمیر کو بیچ دیا۔ رشوت ختم نہیں ہوئی بلکہ ریٹ بڑھ گیا ہے۔ تعلیم، صحت، کاروبار، کچھ بھی بہتر نہیں ہوسکا۔ احتساب کا ڈھول بہت بجایا پیسہ تو کوئی نہ نکلا مگر سب باہر نکل آئے۔ ایک کروڑ نوکریاں کہاں گئیں؟ اربوں ڈالر واپس نہیں آئے۔ بلدیاتی نظام کے ذریعے اختیارات کی نچلی سطح

Read more

کورونا کے ساتھ جینا ہے یا مرنا ہے؟

وزیراعظم عمران خان کہتے ہیں کہ ہمیں اب کورونا کے ساتھ جینا پڑے گا لہذا اپنا خیال خود رکھیں۔ ریاست ماں ہے مگر بچوں کا خیال رکھنے سے قاصر ہے۔ لیکن تذبذب کی شکار حکومت اقدامات سے اب لگ رہا ہے کہ کورونا کہ ساتھ جینا نہیں مرنا پڑے گا۔ اب کورونا گلی گلی، نگر نگر پہنچ کر اپنے پنجے گاڑ رہا ہے۔ ڈر اور خوف نے سب کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔ وجہ کورونا ہو یا کچھ اور زندگی میں پہلی مرتبہ اتنی بڑی تعداد میں لوگوں کے انتقال کی اطلاعات مل رہی ہیں۔ ہر طرف سے افسوسناک خبریں۔ اور ان میں تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے۔ ایسا تاثر مل رہا ہے کہ معاملہ ریاست کے بس سے باہر ہوتا جا رہا ہے۔ ایسے میں عوام کس ماں سے دلاسے اور تسلیاں تلاش کریں؟

لبرٹی مارکیٹ کے تاجروں میں کورونا پھیل گیا بعض دکانیں بند کر کے بیٹھ گئے۔ اب تک کی اطلاعات کے مطابق 10 سے 12 افراد جاں بحق ہو چکے ہیں۔ ان میں ایسے لوگ بھی تھے جو کورونا کو سنجیدگی سے نہیں لے رہے تھے۔ تلس پورہ میں 60 سالہ محمد سلیم انتقال کر گئے۔ مغلپورہ رام گڑھ کے علاقے میں 30 سالہ عمر سانس کی تکلیف اور ٹائیفائڈ کی وجہ سے انتقال کر گیا مگر کوئی ٹیسٹ نہیں ہوا اور نہ حکومت نے موت کی وجہ جاننے کی کوشش کی۔ اس کے ایک سالہ بیٹے کی اسی دن سالگرہ تھی جس دن وہ اس دنیا سے چلا گیا۔ اس کے غمزدہ باپ اور بیوہ سے پوچھیں کہ ’مدینہ کی ریاست‘ ان کے جوان بیٹے اور خاوند کی جان بچانے میں کیسے ناکام رہی۔

Read more

‘دوسرے صفحے’ کے لوگوں کا وارث کون؟

سوالات اٹھ رہے تھے۔ کوئی تو ہو جو آگے بڑھ کر محض بات ہی کرلے۔ گھٹن اور تاریکی اتنی کہ کوئی رستہ نہ دکھ رہا تھا۔ ہوا بھی ایک ہی سمت میں چل رہی تھی۔ احتساب کے دل آویز نعروں سے مہنگائی کی چکی میں پستے عوام کو ‘محظوظ’ کیا جا رہا تھا۔ صاحب اقتدار اور مقتدر ایک صفحے کا ڈھول پیٹ رہے تھے۔ دوسرے صفحے پر کھڑی قوم مایوسی کے عالم میں سوال کررہی تھی، ؟کیا یہ سب ایسے

Read more

نواز شریف کے پاس ہارنے کے لیے کچھ نہیں

ہوا میں خنکی شروع ہوتے ہی سیاسی موسم کی حدت میں بھی تبدیلی محسوس ہونا شروع ہوگئی ہے۔ نواز شریف کی خرابی صحت نے حکومت کو دفاعی پوزیشن میں ڈال دیا ہے۔ حکومت نے حالات کی سنگینی کا درست اندازہ ہونے کے بعد نواز شریف کو فوری طور ہر ہسپتال منتقل کیا۔ پہلے ایک دو روز تو حکومتی پارٹی کے رہ نماء کلثوم نواز کی طرح نواز شریف کی بیماری پر بھی جملے کستے رہے۔ پھر یک دم وزیراعظم کے

Read more

مولانا فضل الرحمن، شہباز شریف اور نئی دلہن

پاکستان مسلم لیگ ن کے ایک سینئر رہنما کہتے ہیں کہ ان کی پارٹی کا حال اس بیوی جیسا ہے جس کا شوہر دوسری  شادی کر کے نئی نویلی دلہن گھر لے آیا ہے، اس کی خوب خاطرمدارت کی جا رہی ہے، نازنخرے اٹھائے جا رہے ہیں۔ اب پہلی بیوی اندر ہی اندر سے انتہائی جل کڑھ رہی ہے۔ غصہ بھی ہے مگر اس گھڑی کے انتظار میں ہے کہ کسی روز اس کے شوہر کی نئی دلہن سے لڑائی

Read more

وزیراعظم بے بس کیوں ہے؟

پاکستان کے عوام اکثر بات کرتے ہیں کہ ہماری قوم ڈنڈے کی زبان سمجھتی ہے۔ کاش ایران کی طرح کوئی خمینی آئے جو ہزاروں بے ایمان اور کرپٹ لوگوں کو سمندر میں پھینک دے یا انہیں سرعام پھانسیاں دے پھردیکھیں اس ملک سے جرائم اور بدعنوانی کا ہمیشہ کے لیے خاتمہ کیسے نہیں ہوتا۔ اور یہ باتیں ایسے لوگ بھی کرتے ہیں جو خود تو ٹیکس ادا نہیں کرنا چاہتے مگر حکومت سے امید لگائے بیٹھے ہیں کہ وہ انہیں

Read more

دنیا ہماری پکار کب سنے گی؟

نیویارک میں عمران خان سے سوال ہوا کہ ہم پکار پکار کر عالمی برادری کو کشمیر میں بھارتی جارحیت کے بارے میں آگاہ کررہے ہیں مگر کیا وجہ ہے کہ جوابأ ہمیں کسی ملک کی طرف سے کوئی حوصلہ افزا اشارے نہیں مل رہے۔ وزیراعظم نے جواب دیا کہ اور اس کے سوا ہم کربھی کیا سکتے ہیں۔ بھارت پر حملہ کرنے سے تو رہے۔ جنگ کے سوا ہم نے ہر ممکن کوشش کرکے کشمیر کے مسئلے کو اقوام عالم کے سامنے رکھ دیا ہے۔ بین الاقوامی میڈیا بھی مثبت کردار ادا کررہا ہے اگر ایسے ہی میڈیا کشمیر پر شورمچاتا رہا تو شاید بوسنیا کی طرح کشمیر پربھی عالمی برادری کوئی ایکشن لے لے۔

Read more

عثمان بزدار سیکھ رہے ہیں؟

ایک سال بیت گیا مگر عثمان بزدار وسیم اکرم پلس نہ بن سکے۔ آج بھی تحریک انصاف کے رہنماء اورکارکن چاہتے ہیں کسی طرح سے عثمان بزدار کی جگہ کوئی اور وزیراعلیٰ بنا دیا جائے۔ مگر اکیلے وزیراعظم عمران خان ماننے کے لیے تیار نہیں۔ وہ بضد ہیں کہ عثمان بزدار پنجاب کی تاریخ کا بہترین وزیراعلیٰ ثابت ہو گا۔

Read more

شمال کا حسن توجہ مانگتا ہے

گزشتہ ہفتے وادی کاغان جانے کا پروگرام بنا۔ لاہور سے بذریعہ موٹروے ایبٹ آباد سے 30 کلومیٹر پہلے شاہ مقصود تک کا سفر تو پرسکون رہا۔ اس کے بعد تقریباّ 6 گھنٹے کا وہی روایتی سفر، بے ہنگم ٹریفک اور قیام و طعام کی جگہوں کے فقدان جیسی مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ فیملی کے ساتھ سفر کرتے وقت موٹروے کے انتخاب کا مقصد یہ بھی ہوتا ہے کہ راستے میں قیام و طعام کی سہولت موجود ہوتی ہے جو کسی نعمت سے کم نہیں جہاں کم از کم آپ بچوں کے ہمراہ نسبتاّ صاف ستھرے واش رومز استعمال کرسکتے ہیں اور قدرے بہتر کھانے پینے کی اشیاء میسر ہوتی ہیں۔

Read more

سراب کا تعاقب

72 سال سے سرابوں کا پیچھا کررہے ہیں کہ ہمارے ہاتھ کچھ نہیں آرہا۔ ہم کوئی بھی کام شروع کرنے سے پہلے اس کی پوری جانچ پڑتال اور تحقیق نہیں کر پاتے یا پھر ہمارے مشیر نالائق ہیں یا ہم کسی کی بات نہیں سنتے اور ٹھوکر کھا کر ہی واپس مڑتے ہیں جسے یو ٹرن بولتے ہیں۔ پھر ہم معصوم بن کر یہ عذر پیش کرتے ہیں کہ ہمیں تو اس کا اندازہ ہی نہیں تھا۔

سابق وزیراعظم نواز شریف نے مئی 2013 کے انتخابات کے بعد اپنا پہلا خطاب کرنے میں تین مہینے لگا دیے اس خطاب میں انہوں انتہائی حیرانی کا اظہار کیا کہ انہیں اندازہ ہی نہیں تھا کہ ملک کے حالات اتنے زیادہ خراب ہیں کیونکہ اپوزیشن میں رہتے ہوئے فرضی کابینہ بنانے کا یہاں رواج ہی نہیں۔ ہم تو صرف آخری لمحے جاگنے والی قوم ہیں۔ پنجابی میں کہتے ہیں ’بُوہے آئی جنج تے ونہو کڑی دے کن‘ یعنی دروازے پر بارات کھڑی ہے اوردلہن کے کان ابھی چھدوانے ہیں۔

Read more

آخری جنگ

شیخ رشید کہتے ہیں کہ پاکستان نے اپنی افواج کو 72 سال سے آج کے دن کے لیے تیار کیا ہے اور اب بھارت کے ساتھ آخری جنگ ہو گی۔ شعلہ بیاں وزیر ریلوے ہمیشہ سے ہی کشمیر کے معاملے میں انتہائی جذبات کا مظاہرہ کرتے رہے ہیں۔ اگرچہ 1998 میں جب پاکستان نے ایٹمی دھماکے کیے تو اپنے آپ کو سب سے دبنگ قرار دینے والے موصوف نے ڈر کے مارے جہاز کی فلائِٹ پکڑی اور ملک سے باہر چلے گئے جہاں انہوں ایک سفیر کے کمرے میں بیٹھ کر خبر سنی کے پاکستان نے کامیاب ایٹمی دھماکے کر دیے ہیں اور سب ٹھیک ٹھاک ہے۔

Read more

پاکستان تنہا کیوں رہ گیا ہے؟

جنوبی ایشیا آج پھر ایک دوراہے پر کھڑا ہے۔ ایک طرف دنیا کی طاقت ور ترین جمہوری قوت امریکہ افغانستان کی لمبی اور تھکا دینے والی جنگ سے نکلنے کے لیے بے چین ہے۔ ناقدین مختلف دھڑوں میں ایک لمبی لڑائی کا عندیہ دے رہے ہیں۔ دوسری طرف ایک فاشسٹ اور قوم پرست وزیراعظم نریندر مودی طاقت کے نشے میں دنیا کی سب سے بڑی جمہوری اور سیکولر ریاست میں اقلیتوں بالخصوص مسلمانوں کے بنیادی حقوق سلب کرنے پر تلا ہے۔ پوری دنیا کہ لبرل حلقوں میں تشویش کی لہر دوڑ گئی ہے کہ کشمیرمیں بنتی نئی صورت حال کے بعد خطے میں پُرتشدد کارروائیاں مزید تیز ہو سکتی ہیں۔ جموں و کشمیر میں کرفیو اٹھنے کے بعد شدید ردعمل آنے کا خدشہ ہے۔

Read more

بھارت ہم سے زیادہ چالاک کیوں ہے؟

ہم 11 جولائی 2003 کی صبح 6 بجے لاہور کے تاریخی ہوٹل فلیٹیز پہنچے جہاں سے پاکستان اور انڈیا کے درمیان دوبارہ شروع ہونے والی دوستی بس سروس کے ذریعے دہلی روانہ ہونا تھا۔ اس بس کا آغاز 1999 میں بھارتی وزیراعظم اٹل بہاری واجپائی کے دورہ پاکستان کے وقت ہوا۔ پھر بھارتی پارلیمنٹ حملے کے بعد یہ بس سروس معطل کردی گئی۔

Read more

چنگاری اور بارود کا ڈھیر

آج کل جہاں جائیں اک نئی کہانی سننے کو ملتی ہے۔ کوئی نوکری سے ہاتھ دھو بیٹھا ہے تو کسی کو اپنے کاروبار کے مندے کی فکر کھانے لگی ہے۔ کوئی اپنے بچوں کے کے لیے سستے سکول کی تلاش کر رہا ہے تو کسی نے نوکری کے ساتھ چھوٹا موٹا کاروبار ڈھونڈنا شروع کر دیا ہے مگرتاریخی معاشی بحران کے اس دور میں سب بے سود۔

Read more

عاطف میاں ٹھیک کہتے ہیں یا عمران خان؟

انتخابات سے قبل وزیراعظم عمران خان نے کہا تھا کہ وہ اپنے سیاسی مخالفین کو رلائیں گے۔ اس کے بعد ان کے سب سے با اعتماد ساتھی اسد عمر نے کہا تھا کہ مہنگائی میں اضافہ ہو گا اور لوگ چیخیں گے۔ انہوں نے بالکل ٹھیک کہا تھا۔ آج سارا شریف اور زرداری خاندان رو رہا ہے اور ان کے ساتھ پورے ملک کی چیخیں بھی نکل رہی ہیں۔ کچھ مہنگائی تو شاید ناگزیر تھی مگر کاروبار میں مندی کا سہرا حکومت کی گو مگو کیفیت پرکچھ زیادہ جاتا ہے۔ تحریک انصاف کا پہلا سال کرپشن کرپشن کی رٹ میں گزر گیا۔

Read more

شیخ صاحب صرف نمبر ٹانگنے سے ریل نہیں چلے گی

پاکستان ریلوے میں نمبر ٹانگنے کی روایت بہت پرانی ہے۔ اور لوگ کہتے ہیں کہ ریلوے میں حقیقی تبدیلی لانے کی بجائے شیخ رشید بھی صرف نمبر ٹانگ رہے ہیں۔ یہ نمبر ٹانگنا کہتے کس کو ہیں؟ بعض لوگوں کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ وہاں محض نمبر ٹانگنے گیا تھا یعنی کام کسی اور نے کیا اور ذمہ داری خود لے لی یا پھر کسی جگہ پہنچ کر صحیح طریقے سے کام کرنے کی بجائے دکھاوے کے طور آگے آگے رہنا اور ظاہر کرنا کہ وہ زیادہ بہتر طریقے سے کام کررہا ہے بلکہ دوسروں کے کیے ہوئے کاموں کا بھی کریڈٹ خود لے لیتا ہے۔

Read more

تھانیدار تمن خان، عمران خان اور ٹیکس وصولی

کحھ عرصہ قبل لاہور کے علاقے گوالمنڈی میں تمن خان ایک نیا ایس ایچ او تعینات ہوا تو علاقے کے بدمعاش اور بھتہ گیروں کو سبق سکھانے کی ٹھان لی۔ سب سے بدنام بھتہ گیر کو اٹھایا اور تھانے لا کر خوب لترول کی۔ اگلی صبح گوالمنڈی چوک میں جن دکانداروں سے وہ جگا ٹیکس لیتا تھا ان کے سامنے مرغا بنا دیا اور چابک لگا کر کہا کہ بولو میں کتا ہوں۔ سب لوگ حیران تھے کہ کل تک یہ آدمی اہل علاقہ کے لیے خوف اور دہشت کی علامت بنا ہوا تھا آج دیکھو اس کا کیا حال ہوا ہے۔

تھانے دارچاہتا تھا کہ اس بھتہ گیر کو دوسرے بدمعاشوں کے لیے ایک عبرتناک مثال بنا دے۔ اس کی لوگوں کے سامنے اتنا بے عزت اور ذلیل ہو کہ وہ شرم سے اپنا سر نہ اٹھا سکے۔ اور پھر وہ آئیندہ کے لیے توبہ کرلے کہ اس نے جگا ٹیکس نہیں لینا اور نہ ہی وہ کسی کو تنگ کرنا۔ پھر لوگ بھی ایس ایچ او کی تعریفیں کریں۔ یاد رکھیں کہ ایک ایسا ایمانداراور نڈر پولیس افسر اس علاقے میں آیا جس کہ بعد وہاں جرائم کا خاتمہ ہوگیا

Read more