ایران خطے میں تنہا کیوں رہ گیا ہے؟

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

چوں چراغ لالہ سوزم در خیابان شما۔
اقبال نے یہ جوانان عجم کے بارے میں کہا تھا۔ بلکہ ایک پوری نظم ہے جس میں فارس کے ساتھ اپنایت اور خلوص کا اظہار کیا ہے۔

فارسی کا اردو زبان پر خاصا اثر ہے۔ ہمارے بہترین شعرا نے فارسی میں شاعری کی۔ اقبال اور غالب نے تو فارسی میں کمال کے اشعار لکھے۔ اردو میں فارسی کے الفاظ جوں کے توں استعمال ہوتے رہے ہیں۔ بلکہ ہم تو فارسی کے محاورے بھی بولتے ہیں۔ یک نہ شد دو شد۔ دیر آید درست آید۔ کنند ہم جنس با ہم جنس پرواز۔ گویم مشکل وگرنہ گویم مشکل، ہنوز دلی دور است۔ گربہ کشتن روز اول۔ وغیرہ۔ یعنی اگر اردو سے ہم فارسی کو با یک جنبش قلم ممنوع کر دیں تو اردو لنگڑی ہو جائے گی۔ ہمارا تو قومی ترانہ بھی پورا کا پورا فارسی میں ہے سوائے ایک لفظ کے۔

ایران کی تاریخ نہایت مرعوب کن ہے۔ اس کا شمار دنیا کی قدیم ترین تہذیبوں میں ہوتا ہے۔ فارسی زبان کی تاریخ بھی سات سو سال قبل از مسیح کی ہے۔ فارسی ادب بھی دنیا کے بہترین ادب میں شمار ہوتا ہے۔ سعدی، خیام، رومی، شمس تبریزی اور حافظ دنیا میں مشہور ہیں اور ان کی شاعری کا ترجمہ کئی زبانوں میں ہو چکا ہے۔ ان کے علاوہ کئی ایرانی فلسفہ دان اور ماہر علوم فلکیات، سایئنس دان اور ریاضی دان بھی گزرے ہیں جن میں البیرونی، ابو سینا، فرغانی، منصور اور غزالی جیسے معتبر نام شامل ہیں۔

ایرانی تہذیب و تمدن سے دنیا متاثر تھی۔ اس تہذیب کے اثرات دوسرے ملکوں میں بھی پہنیچے اور اپنا لئے گئے۔ مغلوں کے دور میں فارسی ہندوستان کی سرکاری زبان تھی۔ بعد میں بھی بر صغیر میں فارسی شیریں زبان کا طوطی بولتا رہا۔ پاکستان میں بھی فارسی اسکولوں میں پڑھائی گئی۔

کیا وجہ ہے کہ آج کا ایران اپنی اتنی پرانی تہذیب اور شان و شوکت کے باوجود تنہا تنہا نظر آتا ہے؟ دور کے ملکوں کو چھوڑیئے ایران کے تو اپنے پڑوسیوں سے بھی اچھے تعلقات نہیں ہیں۔ ۔ ایران کی سرحدیں سات ممالک سے ملتی ہیں۔ یہ ساوتھ ایسٹ اشیا میں سب سے لمبی سرحدیں ہیں۔ عراق، ترکمانستان، آذربائیجان، آرمینیا، ترکی۔ افغانستان اور پاکستان۔ اسلامی انقلاب کے بعد سے ایران مشکلات کا شکار رہا۔ مغربی ممالک سے دشمنی لی۔ امریکہ کو بڑا شیطان اور انگلستان کو چھوٹا شیطان کا لقب دیا۔

عراق سے آٹھ سال کی جنگ نے اندرونی طور پر بھی ایران کو نڈھال کر دیا۔ عرب ممالک سے بھی کبھی نہیں بنی۔ اسرائیل کو کھلے عام برا بھلا کہنے کے باوجود عربوں نے ایران کا کھل کر ساتھ نہیں دیا۔ آج ایران جنگ کے شدید خطرے سے دوچار ہے اور ادھر ادھر نظریں دوڑانے پر بھی اس کوئی اپنے ساتھ کھڑا دکھائی نہیں دیتا۔ ایسا کیوں ہے؟ ایران اکیلا کیوں ہے؟ ایران کے ہمسائے ملک کیوں فاصلہ رکھے ہوئے ہیں؟

افغانستان۔

افغانستان سے ایران کے تعلقات بہت پرانے اور تاریخی ہیں۔ حالات میں مماثلت بھی ان دونوں ملکوں میں دوسرے ہمسایہ ممالک کی نسبت زیادہ تھی۔ جغرافیائی حیثیت، موسم، نژاد اور زبان بھی ملتی جلتی۔ ایران کے بادشاہ اسماعیل نے اس علاقے پر حملہ کر کے اسے اپنی پرشین امپائر کا حصہ بنا لیا۔ سترہویں صدی میں افغانستان نے ایک قبائلی سردار میر ویس کی کوششوں سے آزادی حاصل کی۔ دونوں ہی ملک اس بات کو بھول نہیں پائے۔ 1953 میں ظاہر شاہ نے بادشاہت سنبھالی اور اگلے چالیس سال حکومت کی۔ اسی دوران ایران میں پہلوی بادشاہت قائم ہوئی۔ دونوں ملکوں نے تیزی سے ترقی کی راہ پکڑلی اور تعلیم کو عام کیا۔ دونوں ہی ملکوں میں خواتین کی آزادی پر کام ہوا۔ اسکول کالجوں اور یونیورسیٹیوں میں لڑکیاں داخلے لینے لگیں اور مغربی لباس عام ہو گیا۔

افغان خواتین 1960

دونوں ملکوں میں پہلے باشاہت تھی پھر مجاہدین کی کوششوں سے انقلاب آیا اور حکومت پائی مذہبی گروہ نے۔ اتنی مماثلت ہونے کے باوجود دونوں ملکوں کے تعلقات سرد ہیں۔ ایک اور ملتی جلتی بات۔ افغانستان نے اسامہ بن لادن کو پناہ دی تو ایران نے بن لادن کے بیٹے کو چھپائے رکھا۔

اس وقت ایران میں تیس لاکھ کے قریب افغان مہاجرین آباد ہیں۔ 10 لاکھ کام کاج اور کاروبار کرتے ہیں۔ افغان مہاجرین کے طلباء کی تعداد پانچ لاکھ کے قریب ہے جو ایرانی تعلیمی اداروں میں مفت تعلیم حاصل کر رہے ہیں۔

امریکی پابندیوں ‌ کے بعد ایرانی پٹرولیم مصنوعات کی فروخت صفر ہو گئی ہیں۔ ایسے میں اسلامی جمہوریہ ایران اپنی اقتصادی پالیسی میں ضروری تبدیلی کرے گا۔ وہ افغان مہاجرین کا بوجھ مزید نہیں اٹھا سکیں گے اور انہیں واپس جانے کے لیے کہیں گے اور دونوں ملکوں کے تعلقات اور بگڑ جایں گے۔

۔ افغان حکومت کے اپنے مسائل اتنے ہیں کہ وہ ان مہاجرین کو واپس لینے کو تیار نہیں اور وہ ایران کے اس عمل کو نا مناسب قرار دے رہی ہے۔ اور اسے اسلامی تعلیمات کے اور انسانی ہمدردی کی نفی کہا جا رہا ہے۔ دونوں ملکوں کی ایک دوسرے پر الزام تراشیاں جاری ہیں۔

ترکی

ترکی اور ایران کے تعلقات اچھے رہے ہیں اور رہنے چاہیے تھے۔ دونوں نزدیک ہمسائے ہیں اور تاریخی ورثہ رکھتے ہیں۔ ترکی کے عثمانی اور ایران کے صفوی طاقتور شاہی خاندان تھے۔ ایران کا یک لسانی فرقہ جو ارومیہ کے علاقے میں ہے ترکی بولتا ہے اور ترک ایرانی کہلاتا ہے۔

پہلی جنگ عظیم نے کئی بادشاہتوں کو لپیٹ دیا۔ ان میں ترکی کی عثمانیہ سلطنت بھی تھی۔ اور ترکی کو یورپ کا مرد بیمار کہا جانے لگا۔ پھر ایک سپاہی مصفطی کمال نے ہمت کی اور جان توڑ محنت سے اس مرد بیمار کو شفا دلائی۔ ترکی ایک کروٹ سے اٹھا اور اپنے پیروں پر کھڑا ہونے لگا۔ اتا ترک مصطفے کمال پاشا نے واقعی کمال کر دکھایا۔ 1923 میں ملک کے صدر بنے اور 1938 میں اپنی وفات تک صدر رہے۔ اتا ترک نے خلافت، بادشاہت اور امامت کو یکسر رد کر کے ترکی کو جدیدت سے روشناس کرایا۔ اپنی ترکی زبان کو عربی رسم الخط سے نکال کر رومن کردیا اور تعلیم عام ہو گئی۔

اسی دوران ایران میں بھی ایک سپاہی رضا شاہ نے قاچار شاہی خاندان سے بغاوت کی اسے شکست دی لیکن جمہوریت قائم کرنے کے بجائے خود ایک بادشاہ بن گئے اور پہلوی خاندان کی بنیاد ڈالی اور اپنے لئے آریا مہر شہنشاہ کا خطاب چنا۔

جب ترکی بیماری سے شفا یاب ہو رہا تھا اور پرانے بوسیدہ نظام کو رد کر کے جدیدیت کی راہ پر گامزن ہوا ٹھیک انہی سالوں میں ایران میں بھی نئی لہر آئی۔ دونوں ملکوں نے تعلیم کو اہمیت دی۔ جس وقت مصطفے کمال پاشا خواتین کو برابر کے حقوق دلا رہے تھے اسی وقت رضا شاہ بھی ایرانی خواتین کو چادریں اتار پھینکنے اور مغربی لباس اپنانے کا مشورہ دے رہے تھے۔ دونوں ملکوں کے عوام باخوشی یہ جدیدیت اپنا رہے تھے لیکن دونوں ہی ملکوں کے مذہبی رہنما اپنے اپنے حکمرانوں سے نا خوش تھے۔

رضا شاہ اور محمد رضا دونوں کمال اتاترک کو ہیرو مانتے تھے۔ ایران اور ترکی کے آپس کے تعلقات اس زمانے میں بہت خوشگوار اور مضبوط ہوتے جا رہے تھے۔

لیکن 1979 میں جب شاہ ایران کو ملک چھوڑنا پڑا اور آیت اللہ خمینی ایران لوٹے اور ایک مذہبی گروہ نے حکومت بنائی تو ترکی کی سیکیولر حکومت کو تحفظات ہوئے۔ لیکن ایران کا مغربی ممالک اور بطورخاص امریکہ کی خلاف سخت رویہ ترکی کی عوام میں خاصا مقبول ہوا۔ انقلاب کے بعد ایران ترکی کو تنقید کا نشانہ بناتا رہا کہ وہاں حجاب پہننے والی خواتین کو اعلی عہدوں پر نہیں رکھا جاتا اور ان کی حوصلہ شکنی کی جاتی ہے۔ دوسری طرف ترکی بھی ایران میں جبری حجاب کو سخت قدامت پرست اور ناپسندیدہ عمل کہتا رہا۔

دونوں ملکوں کا ایک اور اختلاف کرد تھے۔ ایران عراقی کردوں کی علیحدگی چاہنے والوں کی دل کھول کر حمایت کر تا اور ترکی کو اپنے کردوں کو سنبھالنے میں مشکل ہونے لگی۔

ایران کی نیوکلر انرجی سے امریکہ اور اسرایئل دونوں ناخوش تھے۔ دونوں نے ترکی پر دباؤ ڈالا کہ وہ ایک راڈار سسٹم تعمیر کرے جس سے ایران کے میزائیل ٹریک ہو سکیں۔ اس کے بعد سے دونوں ملکوں کے تعلقات اور بھی سرد ہو گئے۔

پاکستان۔

پاکستان اور ایران کے تاریخی اور ثقافتی حالات میں کوئی مماثلت نہیں۔ ایران دنیا کی قدیم ترین سیویلیزیشن میں سے ایک ہے۔ جبکہ پاکستان ایک نومولود مملکت۔ ایران کبھی کسی دوسرے ملک کے زیر تسلط نہیں رہا اور پاکستان نے آزادی حاصل کی۔ ایران میں صدیوں سے بادشاہت چلی آرہی تھی اور پاکستان کی بنیاد جمہوریت پر اٹھی۔ قایئد اعظم محمد علی جناح پاکستان کو ایک جدید فلاحی ریاست بنانا چاہتے تھے اور غیر مسلموں کو پوری آزادی اور برابر کے شہری دینا چاہتے تھے۔ پاکستان بنا تو ایران پہلا ملک تھا اس نے پاکستان کو تسلیم کیا اور پاکستانیوں کے دل جیت لئے شاہ ایران پہلے سربراہ تھے جنہوں نے پاکستان کا دورہ کیا۔ اور پاکستانی ایران کو اپنا قریبی دوست ماننے لگے۔ دونوں ملکوں کا آنا جانا بھی تھا۔ جنرل ایوب کے زمانے میں یہ تعلقات خوب پھلے پھولے۔

سنہ پینسٹھ کی جنگ میں ایران نے پاکستان کی بھرپور مدد کی۔ ڈاکٹرز اور نرسز اور پانچ ہزار ٹن پیٹرولیم کا تحفہ بھی۔ پاکستان کے پہلے صدر اسکندر مرزا کی بیوی ایرانی تھیں۔ وہ خود بھی شیعہ مذہب سے تعلق رکھتے تھے لیکن ان دنوں پاکستان میں مذہب کے نام پر سیاست نہیں ہوتی تھی۔ جب ایوب خان صدر بنے تو اسکندر مرزا کو جلا وطن کردیا۔ وہ لندن چلے گئے اور برطانوی وظیفے سے تنگی میں زندگی گذاری۔ اور وہیں ان کا انتقال ہوا یحیی خان نے ان کی میت کو پاکستان لانے کی اجازت نہیں دی۔

پھر شیعہ سنی کا مسئلہ بن گیا۔ پاکستان کے شیعہ عوام نے ایران سے شکایت کی کہ انہیں سکٹیرین جانبداری کا سامنا کرنا پڑتا ہے اور وہ برابری کے حقوق نہیں رکھتے۔ سنہ اکہتر کی جنگ میں بھی ایران نے پاکستان کو پوری سپورٹ دی۔ لیکن ایران کو پاکستانی بلوچوں کی مزاحمت کا سامنا کرنا پڑتا رہا اور وہ پاکستان کو کسی حد تک الزام دیتا رہا کہ پاکستان اپنے بلوچوں کو کنٹرول نہیں کر پا رہا۔

پھر ذوالفقار بھٹو آئے ان کی بیگم بھی ایرانی تھیں یوں کچھ کچھ بگڑتے تعلقات پھر بننے لگے۔ کئی معاہدے بھی طے ہوئے۔ ایران، ترکی اور پاکستان نے مل کر آر سی ڈی معاہدہ کیا۔ جس کے تحت ان تینوں ممالک کے طالب علم ایک دوسرے کے ملکوں میں اسکالرشپ پر جانے لگے۔ یہ دور نہایت دوستانہ تھا۔

پاکستان میں فوجی آمر ضیالحق آیا۔ بھٹو قید ہوا۔ فروری 1979 میں ایران میں انقلاب آیا اسی سال اپریل میں بھٹو کو پھانسی دے دی گئی۔ ضیا کے زیر حکومت پاکستان سب سے پہلا ملک تھا جس نے ایران کی اسلامی حکومت کو قبول کیا۔ دونوں ملکوں میں مذہبیت حاوی تھی لیکن نظریاتی اور فرقہ کے فرق نے تعالقات ٹھنڈے کر دیے۔ اور ان میں کبھی دوبارہ گرمی نہ آسکی۔

ضیا الحق نے جلد ہی دیکھ لیا کہ ایران شیعہ ازم کو سامنے رکھ کر حکومت چل رہا ہے۔ ضیا نے بھی سنی کارڈ نکال لیا اور بازی لگا دی۔ اپنے اس کھیل میں سعودی عرب اور امارات کو بھی شامل کر لیا۔ اور اسی کی آڑ میں افغانستان میں جہاد کا خونی کھیل شروع کردیا۔ امریکہ پہلے ہی روس کی پیشقدمی سے ڈرا ہوا تھا پاکستان کا سہارا لے کر اس کھیل کا مرکزی کردار بن گیا۔

ایران کا مغربی ممالک کے سامنے سینہ تان کر کھڑے ہونے اور اسرایئل کو دنیا کے نقشے سے مٹا دینے کا بیان جذباتی مسلمانوں کے دلوں کو بہت بھایا۔ لیکن ان ممالک کی حکومتیں ایران سے دور ہونے لگیں۔

شیعہ سنی کا یہ بیج جو اس وقت کی دونوں حکومتوں نے بویا اب کسی حد تک تن آور درخت بن چکا ہے۔ پاکستان میں شیعہ برادری خود کو غیر محفوظ محسوس کرتی ہے اور یہ حقیقت بھی ہے۔ بلوچستان میں ہزارہ کمیونٹی کو چن چن کر مرا جارہا ہے اور جو زندہ ہیں وہ ایک لمبے عرصے سے خوف و ہراس میں زندگی گذار رہے ہیں۔

ایران میں بھی اقلیتیں ہیں۔ وہاں مسیحی اور یہودی بھی ہیں جن کے ساتھ کافی حد تک اچھا سلوک ہوتا ہے۔ لیکن بہائی اور سنی فرقہ منافقانہ رویہ کا شکار ہے۔

ایران کے تنہا رہ جانے کی بری وجہ یہ ہے کہ وہاں کی حکومتی علما نے بجائے اسلامی یکجہتی کے شیعہ ازم پر زور دیا۔ پاستانیوں کے دل اب بھی اپنے ایرانی بھایؤں کے لئے دھڑکتے ہیں۔ حکومت مشکل میں ہے کہ کیا کرے۔ عربوں کو ناراض کرنے کا خطرہ مول نہیں لے سکتی اور ایران کا ساتھ بھی دینا چاہتی ہے۔ افغانستان اور ترکی بھی ایران کا ساتھ دینے کو تییار نہیں۔

ایرانی حکومت کا ڈھانچا کچھ ایسا ہے کہ اصلی طاقت ہمیشہ علما کے پاس رہے گی۔ ان کی مجلس شورای ملک کے منتخب صدر کو بھی ویٹو کر سکتی ہے۔ اور اس مجلس نے ہی ایران کوجمہوری اسلامی کا نام دیا اور شیعہ ازم کو سرکاری مذہب کا درجہ دیا۔

ایران اس وقت ہولناک جنگ سے بس کچھ ہی دور ہے۔ ہمسائے ممالک کب تک آنکھیں چرائیں گے؟ کیا روس ایران کے ساتھ دوستی نبھائے گا یا وہ بھی کترا کر گزر جائے گا؟ کیا دنیا ایک بڑی جنگ کی متحمل ہو سکتی ہے؟

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •