کیا ایران کو ہمیشہ کے لیے توڑنے کی کوشش کی جا رہی ہے؟

جو کچھ اس وقت ایران میں ہو رہا ہے وہ صرف جوہری تنصیبات اور انتقامی حملوں کا معاملہ نہیں ہے۔ یہ اب محض ایک آمرانہ حکومت کو کمزور کرنے کا مسئلہ بھی نہیں رہا۔ جو کچھ سامنے آ رہا ہے، وہ ایران کی قومی اہمیت کو طویل مدتی، منصوبہ بندی، اور معاشی طور پر مربوط طریقے سے کم کرنے کی ایک کوشش ہے — شاید ہمیشہ کے لیے۔ ایران نے سکندر اعظم کی یلغار، منگولوں کی تباہ کاریاں، برطانوی و

Read more

مردوں کو عورتوں کے حقوق (فیمینزم) سے خوف کیوں آتا ہے؟

کیا فیمنیزم پر منفی ردعمل غلط فہمیوں کی بنیاد پر ہے یا یہ ایک دفاعی کوشش ہے؟ حالیہ برسوں میں ہم نے خاص طور پر نوجوان مردوں میں اینٹی۔ فیمینزم رجحانات کا ابھرتے دیکھا ہے۔ اینٹی فیمینزم کو عام طور پر مساجونسٹ سمجھا جاتا ہے اور کسی حد تک ان پر خواتین سے نفرت کرنے کا الزام لگا دیا جاتا ہے لیکن حقیقت اس سے کہیں زیادہ پیچیدہ ہے۔ اینٹی۔ فیمینسٹ رویے اکثر خواتین یا برابری کی مخالفت سے نہیں،

Read more

دیپ جلتے رہے: عفت نوید کی کتاب

2024 کے نومبر میں کراچی کے ایک ہوٹل کی لابی میں میری ملاقات عفت نوید سے ہوئی۔ مجھے اعزاز بخشا اور ملنے آئیں۔ ملاقات بہت مختصر رہی۔ تنگی وقت نے سیراب نہ ہونے دیا۔ لوگ دوچار ملاقاتوں میں کھلتے ہیں ہم اتنے کم وقت میں ہی کھل گئے۔ عفت سے مل کر یوں لگا جیسے کوئی سہیلی بچپن کی۔ ہم نے باتیں بھی کیں اور ہنسے بھی۔ عفت نے اپنی کتاب بھی مجھے دی۔ عفت کو جانے کی جلدی تھی

Read more

حالات کا موڑ: شکست تخت پہلوی (11)

پرشین گلف میں واقع جزیرہ ’کیش‘ صدیوں سے تجارت اور بحری قزاقوں کی آماجگاہ رہا۔ شاہ نے ساٹھ کی دہائی کے آخر میں پہلی بار کیش دیکھا۔ جہاں ماہی گیری اور اسمگلنگ زوروں پر تھی۔ وہ اس جزیرے کو دیکھ کر مبہوت ہو گئے۔ کیش کا لمبا ساحل، آب وہوا اور لوکیشن یہ تعطیلات کے لیے بہترین مقام بن سکتا ہے۔ کیش ایران سے دور بھی نہیں تھا۔ شاہ کیش کو مغربی دنیا کے لیے بھی ایک سیاحت کا مقام

Read more

تیل کا بادشاہ: شکست تخت پہلوی (10)

1972 میں ابوالحسن بنی صدر اپنے والد آیت اللہ نصر اللہ بنی صدر کی وفات پر عراق کے شہر نجف گئے جو پہلوی رژیم کے مخالفوں میں سے تھے۔ وہ خود جلا وطنی میں پیرس میں رہتے تھے اور اکنامکس پڑھاتے تھے لیکن ایران کے مستقبل کے بارے میں متفکر تھے۔ انہیں شاہ کی مقبولیت اور طاقت سے کوئی ڈر نہیں تھا۔ بنی صدر اور دوسرے جلاوطن لوگ یہ بات جانتے تھے کہ طاقت لوگوں کو سڑک پر لانے سے

Read more

پہلوی ترقی: شکست تخت پہلوی (9)

 نیاوران محل روایتی پرشین تعمیر کے امتزاج کا نمونہ تھا جس میں یورپین اور امریکی آرکیٹیکچر کی جھلکی بھی تھی۔ پہلی نظر میں یہ کوئی ملٹری کی تنصیب نظر آتا لیکن اس کے گرد فرش سے چھت تک کی آرائش آنے والوں کو خوش آمدید کا پیغام دیتی تھی۔ ریسپشن کا ایریا ملکہ فرح کے ہنر کا نمونہ تھا۔ یہاں کا ماحول گرم، گھلا ملا تھا اور سلیقہ ظاہر کرتا تھا۔ قیمتی قالین، فن کے نمونے، پینٹنگز، پردے اور ایرانی

Read more

سنہری خیمہ بستی: شکست تخت پہلوی (8)

پرسیپولس میں جشن تاج پوشی کا تصور گیارہ سال پہلے شجاع الدین شفا نے پیش کیا جو ایرانی اسکالر تھے۔ شاہ نے اس کی منظوری دے دی اور ایک بجٹ کمیٹی بنا دی لیکن ملک میں غیر یقینی حالات اور وسائل کی کمی کی وجہ سے منصوبے کو پورا ہونے میں دس سال لگ گئے۔ 1970 کے موسم سرما میں شاہ نے اعلان کیا کہ وہ ایک ایسا جشن منانے کا اہتمام کر رہے ہیں جو دنیا نے اس سے

Read more

شاہی اور باغی: شکست تخت پہلوی (7)

شاہ کے شاہانہ پائے تخت سے دور نجف کے مقام پر جلاوطن بوڑھا آدمی صبح ہونے سے پہلے ہی جاگ جاتا۔ پورے دن کی سرگرمیاں ٹھیک وقت پر ہوتیں۔ انہیں دیکھ کر لوگ اپنی گھڑیاں ٹھیک کرلیتے تھے۔ یہ شخص آیت اللہ خمینی ہیں۔ وہ صبح پانچ بجے نماز کے لیے اٹھتے، دو گھنٹے بعد ناشتہ کرتے۔ پنیر، روٹی اور کچھ خشک میوہ۔ صبح کا باقی حصہ خبریں دیکھتے، کتابیں پڑھتے، تقاریر تیار کرتے اور لوگوں سے ملاقاتیں کرتے گزرتا۔

Read more

شکست تخت پہلوی (6) ۔ جاوید شاہ

ہر صبح شاہ اپنے چار سالہ بیٹے رضا کے ہاتھ میں ہاتھ ڈالے اپنی رہائش گاہ اختصاصی محل سے دفتر جاتے۔ وہاں سے شہزادے کی گورننس آ کر انہیں کنڈر گارڈن لے جاتی۔ لیکن 10 اپریل 1965 کی صبح ننھا شہزادہ ذرا جلدی چلا گیا کیونکہ آج ایک نیا بچہ کلاس میں آ رہا تھا جسے خوش آمدید کہنا تھا۔ معمول سے ہٹ کر اس دن شاہ بھی پیدل چلنے کے بجائے کار میں دفتر گئے اور اس فیصلے نے

Read more

شکست تخت پہلوی (5) ۔ آیت اللہ خمینی

روح اللہ خمینی 24 ستمبر 1902 میں ایران کے ایک چھوٹے سے گائوں خمین میں متولد ہوئے۔ ان کی پرورش ایک اونچی دیواروں والے کمپاونڈ میں گارڈز اور ملازموں کے درمیان ہوئی۔ ان کے خاندان کا یہ ماننا تھا کہ ان کا شجرہ پیغمبر محمد کے سلسلے کے ساتویں امام سے ملتا ہے اس لیئے انہیں ’سید’ ہونے کا شرف حاصل ہے۔ سید علما سیاہ عمامے پہنتے تھے اور معاشرے میں ان کی تکریم تھی۔ سترہ صدی عیسوی میں خمینی

Read more

شکست تخت پہلوی (4) – فرح دیبا

شاہ مسائل میں گھرے ہوئے تھے۔ بیرونی مداخلتیں، اندرونی شورشیں، تیل کی برآمد، سیاسی بے چینی، پڑوسی ملک عراق میں خونی انقلاب یہ سب انہیں پریشان کرنے کو کافی تھا۔ شاہ کی دوسری شادی بھی ناکام ہو چکی تھی اور ثریا ایران چھوڑ کر جا چکی تھیں۔ اس طلاق کے بارے میں ایک رپورٹر کے سوال کے جواب میں شاہ نے کہا ”یہ میری زندگی کا مشکل ترین فیصلہ تھا“ شاہ کی آواز بھرائی ہوئی تھی ”ملک کی خدمت کرنے

Read more

شکست تخت پہلوی (3) – بوڑھا شیر

4 فروری 1949 کی ایک زرد دوپہر تہران یونیورسٹی کی فضا گولیوں سے گونج اٹھی جہاں لوگوں کا مجمع شاہ کی آمد پر جمع ہوا تھا۔ شاہ کھلی جگہ پر درجنوں لوگوں کے درمیان سے گزر رہے تھے جب ایک شخص نے کیمرے میں چھپا ریوالور نکالا، ان کے سر کا نشانہ لیا اور نزدیک سے فائر کر دیے۔ شاہ کہتے تھے۔ ”پہلی تین گولیاں میرے سر کو چھوئے بغیر میری ملٹری کیپ سے ہوتی ہوئی گزر گیں۔ لیکن حملہ

Read more

شکست تخت پہلوی (2) – تخت و تاج

خزاں کی ایک سرد دوپہر 26 اکتوبر 1919 – نیم تاج نامی ایک نوجوان عورت تہران میں اپنے خاندانی گھر میں درد زہ میں مبتلا تھی۔ اس کا شوہر رضا خان ایران کی شاہی فوج کے خاص گروپ قزاق رجمنٹ میں بریگیڈیر تھا۔ باہر برآمدے میں بے چینی سے سگریٹ نوشی کرتا خبر کا منتظر تھا۔ رضا کی پہلی بیوی تاج ماہ ایک بچی کی پیدائش کے دوران فوت ہو گئی تھی۔ دوسری شادی اس نے اپنے کمانڈنگ افسر کی

Read more

شکست تخت پہلوی (1)

محمد رضا شاہ پہلوی کا دن صبح سات بجے نیواران محل کی خواب گاہ کے دروازے پر ہلکی سی دستک کے ساتھ شروع ہو جاتا۔ محل کے کمپاونڈ میں شاہ کی رہائش بھی تھی اور دفتر بھی۔ "صبح بخیر اعلی حضرت” امیرپور شجاع نے کہا۔ جب تک شاہ حمام سے آتے، ان کا ناشتہ تیار ہوتا۔ ٹوسٹ پر ہلکا سا مکھن اور شہد، پانچ یا چھ دانے خاص قسم کے سوکھے آلو بخارے کے اور مالٹوں کا جوس۔ شاہ سادہ

Read more

شکست تخت پہلوی (ابتدائیہ)

اینڈریو سکاٹ کوپر (Andrew Scott Cooper) کی یہ کتاب (The Fall of Heaven) ایران کے پہلوی خاندان کے بارے میں ہے۔ اس میں بہت تفصیل سے شاہی خاندان کے عروج و زوال کی داستان لکھی گئی ہے۔ قارئین کی دلچسپی کے لیے اس کا کتاب کے کچھ حصے اردو میں ترجمہ کیے ہیں۔ مصنف کا تعلق نیوزی لینڈ سے ہے۔ مشرق وسطی کی تاریخ سے خاص دلچسپی رکھتے ہیں۔ امریکہ کی کولمبیا یونیورسٹی میں پروفیسر ہیں۔ ٭٭٭            ٭٭٭    

Read more

نوروز کیسے مناتے ہیں؟

آپا نادرہ مہرنواز نے یہ تحریر 2021 میں لکھی تھی۔ میں سدا کا کاہل ہوں۔ جو تحریر 21 مارچ کو شائع ہونا تھی۔ وہ 24 مارچ 2021 تک معرض تعویق میں رہی۔ تین برس مزید گزر گئے۔ وہ بڑی بہن کے مرتبے میں تین برس مزید بڑی ہو گئیں۔ میں اپنی کوتاہیوں میں مزید چھوٹا ہو گیا۔ حکم ہوا ہے کہ 20 مارچ کی شام یا 21 مارچ کی صبح نشر مکرر کا اہتمام کیا جائے نیز خیال رہے کہ

Read more

فیس بک نگری

آپ کے فیس بک فرینڈز ہوں گے میرے بھی ہیں اور کافی زیادہ ہیں یا شاید مجھے ہی زیادہ لگتے ہیں۔ ہارورڈ یونیورسٹی کے چار طلبا نے 2004 میں مل کر فیس بک بنائی۔ پہلے یہ صرف طلبا کے آپس میں رابطہ کرنے کے لیے بنائی گئی لیکن جلد ہی اسے عام لوگ بھی استعمال کرنے لگے اور فیس بک سوشل میڈیا کا مقبول ترین ذریعہ بن گیا۔ 2021 کے اعداد و شمار کے مطابق اس وقت تین ارب لوگ

Read more

کچھ جناح کے بارے میں

علامہ اقبال نے خواب دیکھا اور محمد علی جناح نے اس خواب کو اپنی ذہانت، سیاست فہمی اور تدبر سے حقیقت بنا دیا۔ قائد کی صلاحیتوں کی دنیا متعقد ہے۔ برطانیہ سے آزادی کی مہم میں شریک رہے۔ کانگرس کے ممبر بنے لیکن پھر مسلم لیگ میں شرکت کر لی اور الگ وطن کے لیے جان لڑا دی۔ حیرت کی بات یہ تھی کہ ہند کے مسلمان مذہبی رہنما ان کے سخت مخالف تھے۔ انہیں مسلمانوں کا اپنے لیے الگ

Read more

کی بورڈ جنگجو

لفظ کی بورڈ واریئرز تو آپ نے سن رکھا ہو گا۔ جنگجوؤں کی یہ قسم اسی سوشل میڈیا اور ورچوئل ریالٹی میں پائی جاتی ہے۔ یہ جنگجو فیس بک، ٹویٹر اور انسٹاگرام سے آشنا ہیں اور سوشل میڈیا پر سر گرم ہیں۔ سوشل میڈیا ایک موثر پلیٹ فارم ہے جہاں لوگ ایک دوسرے سے گفتگو کر کے یا خیالات شیئر کر کے اچھا محسوس کرتے ہیں۔ دل ہلکا کرنے اور معلومات شیئر کرنے کا ایک موثر ذریعہ ہے۔ یوں لگا

Read more

محمد طارق کی کتاب: جمہوریت کیوں اور کیسے؟

میرے پاس یہ کتاب مطالعہ اور تبصرے کے لیے آئی تو موضوع دیکھ کر لگا کہ ایک خشک قسم کی کتاب ہو گی اور شاید اسے پڑھنے میں دل نہ لگے لیکن یہ معلوماتی ہونے کے ساتھ دلچسپ بھی ہے۔ مصنف نے سیاست کی تعریف کچھ یوں کی ہے کہ مل جل کر گروپ کی شکل میں کسی کام کو پایہ انجام تک پہنچایا جائے۔ جیسے ایک فٹ بال ٹیم میں مختلف کھلاڑی ہوتے ہیں لیکن ان سب کا ہدف

Read more

میری کتاب اور عکس پبلیکیشنز

میری کتاب ’ناروے۔ پگڈنڈیوں سے شاہراہوں تک‘ شائع ہو چکی۔ بازار میں آ گئی۔ اس کتاب کی اشاعت میں مجھے کن کن مراحل سے گزرنا پڑا یہ ایک تھکا دینے والی کہانی ہے۔ یہ کتاب میرے مضامین پر مشتمل ہے جو ناروے کے بارے میں لکھے تھے اور یہ ’ہم سب‘ پر پبلش ہو چکے ہیں۔ اب ان مضامین کو کتابی شکل دی گئی اور یہ ’عکس پبلیکیشنز‘ کے محمد فہد نے شایع کی ہے۔ ان سے پہلے بھی چند

Read more

سہاگن کا ایک اور دن

بینش روز ہی الارم لگا کر سوتی تھی لیکن اکثر الارم بجنے سے کچھ ہی دیر پہلے اس کی آنکھ کھل جاتی۔ آج صبح بھی یہی ہوا۔ ابھی دس منٹ باقی تھے جی تو چاہا ایک نیند کا جھونکا اور لے لے لیکن الارم سے صاحب کی نیند ٹوٹنے کے خیال سے الارم بند کیا۔ کمر میں حائل صاحب کا بازو احتیاط سے ہٹایا اور بستر سے اٹھ گئی۔ باتھ روم جا کر منہ دھویا اور پھر لپک کر کچن

Read more

وائیکینگز۔ ہیرو یا ویلن؟

ناروے کا ذکر ہو اور وائیکینگز کا تذکرہ نہ ہو تو بات ادھوری ہی رہ جاتی ہے۔ وائیکینگز کون لوگ تھے؟ کہاں سے آئے تھے؟ کیا کرتے تھے؟ عام تاثر تو ان کا یہی ہے کہ یہ سفاک بحری قذاق تھے۔ وائیکینگز لفظ ”وائیک“ سے ہے جس کا مطلب نوردن زبان میں ساحل سمندر ”جیٹی“ ہے۔ وائیکینگ کا مطلب پھر یہ ہوا کہ سمندر کی طرف جانے والے۔ یہ لوگ سمندر کی طرف کس نیت سے جاتے تھے؟ کشتیوں میں

Read more

ناروے کے پرانے باسی : ”سامی“

ناروے کے شمال میں دور بہت دور ایک قوم آباد ہے جو اپنے قدیمی رسم و رواج، اچھوتی دستکاری، رنگا رنگ لباس، اپنی موسیقی، زبان اور تہذیب کو سنبھالے بیٹھی ہے لیکن ساتھ ساتھ جدید ٹیکنالوجی اور ماڈرن تعلیم بھی اپنائے ہوئے ہیں۔ یہ سامی قوم ہے جو ناروے کے اصلی قدیم باشندے ہیں۔ انہیں ناروے کے ”انڈیگوز“ بھی کہا جاتا ہے۔ سامی قوم چار مختلف ملکوں میں رہائش پذیر ہے۔ ناروے، سویڈن، فن لینڈ اور روس۔ ناروے میں ان

Read more

جھلملاتی روشنیوں اور تحائف کا تہوار کرسمس اور سال نو کی آتش بازی

چوبیس دسمبر کو شام پانچ بجے گرجوں کی گھنٹیاں بجنا شروع ہو جاتی ہیں۔ یہ اس بات کا اعلان ہے کہ کرسمس ایو شروع ہو چکی ہے۔ اس دن کی تیاری میں لوگوں نے گھروں کی دھلائی صفائی کی، اسے سجایا سنوارا اور اب اس تہوار کو منانے کا وقت آن پہنچا۔ ناروے میں کرسمس کو ”یول“ کہتے ہیں۔ تمام نورڈیک ممالک میں کرسمس کا یہی نام ہے۔ اسی مناسبت سے سانٹا کلاوز کو ”یولے نیسے“ کہا جاتا ہے۔ یوں

Read more

مجھ سے مت کہو – بچھڑ جانے والے بیٹے کے لیے نظم

مجھ سے مت کہو کہ تم میرا دکھ سمجھتے ہو کیا تم نے بھی اپنا بچہ کھویا ہے؟ (اگر نہیں تو تم میرا دکھ جان ہی نہیں سکتے ) مجھ سے مت کہو کہ میرا ٹوٹا ہوا دل پھر جڑ جائے گا کیونکہ یہ ممکن ہی نہیں مجھ سے مت کہو کہ میرا بیٹا ایک بہتر جگہ پر ہے یہ سچ ہو گا مگر میں اسے یہاں اپنے پاس چاہتی ہوں مت کہو کہ کسی دن میں دوبارہ اس کی

Read more

تعلق کا نادیدہ بوجھ (3)

سونیا اور فہد نے مل کر دونوں بچوں کے لیے کچھ سخت اصول اور ضابطے بنا لیے ۔ اسکول سے سیدھے گھر آؤ، کہیں جانا ہو تو بتا کر جاؤ، کب آؤ گے۔ کس کے ساتھ ہو۔ فون بند نہیں ہو، شام سے پہلے واپس آنا ہو گا۔ کسی کو گھر بلانا ہو تو اجازت لینی ہو گی۔ ملاقات لیوینگ روم میں ہوگی بیڈ رومز میں کوئی مہمان نہیں جائے گا۔ بچوں نے منہ بنائے لیکن اصول نرم نہ ہوئے۔

Read more

تعلق کا نادیدہ بوجھ (3)

سونیا گاڑی میں بیٹھ کر جا چکی تھی۔ فہد نے جیب میں رکھے جیولری بکس کو انگلیوں سے چھوا۔ سوچا تھا کہ سونیا کو گھر چھوڑتے وقت شب بخیر کہہ کر اس کے گال پر ہلکا سا دوستانہ بوسہ دے کر اسے دے گا۔ اگر اس نے اجازت دی تو یہ بریسلٹ اس کی کلائی پر باندھ بھی دے گا لیکن وہ سنہری بالوں والا آ گیا اور سونیا ہاتھ ہلاتی رخصت ہو گئی۔ جاتے جاتے گھر کی چابی بھی

Read more

تعلق کا نادیدہ بوجھ (2)

  علیحدگی کو چھ ماہ سے اوپر ہو گئے۔ طلاق ابھی فائل ہی نہیں کی گئی تو فائنل کیا ہوتی۔ دونوں طرف کے وکیل کوئی معقول سی دستاویز بنائیں گے۔ پھر وہ اس پر سائن کریں گے۔ پھر فائل کی جائے گی لیکن لگتا تھا دونوں میں سے کسی کو کوئی جلدی نہیں اور نہ ہی وقت ہے۔ کم سے کم فہد کے پاس تو بالکل وقت نہیں۔ اس کے ہاتھ میں کئی کیس تھے۔ سارا دن کورٹ میں گزرتا

Read more

تعلق کا نادیدہ بوجھ اور آخری موڑ

طلاق ابھی فائنل نہیں ہوئی تھی۔ علیحدگی کو سات ماہ ہو چکے تھے لیکن ابھی تک اسے اکیلے رہنے کی عادت نہیں پڑی تھی حالانکہ اس کے ہوتے بھی وہ اکیلی ہی تھی۔ علیحدگی کی وجہ یہی تھی کہ دونوں ایک دوسرے میں دلچسپی کھو چکے۔ فہد وکیل تھا، ہنیڈسم تھا، اچھا کماتا تھا۔ باتیں اچھی کرتا تھا۔ سونیا بھی دو ٹین ایجر بچوں کی ماں ہوتے بھی کافی اسمارٹ اور حسین بھی تھی۔ ڈاکٹر تھی اور بات چیت کا

Read more

نگہت کی کہانی (آخری حصہ)

” سلام باجی صاحبہ میں سلطان ہوں۔ نگہت کا سابقہ شوہر۔ میرا ناروے کا ویزا لگ گیا ہے میں آ گیا ہوں۔ کام بھی مل گیا۔ میں اپنے بیٹے سے ملنا چاہتا ہوں۔ نگہت کے گھر گیا تو وہاں کوئی اور لوگ ہیں۔ نگہت کہاں ہے؟ آپ کو تو ضرور پتہ ہو گا۔ اسے کہیں میں ملنا چاہتا ہوں“ میسنجر پر آئے اس کو پیغام پڑھ کر میں دیر تک سر پکڑے بیٹھی رہی۔ ایک نیا قضیہ؟ کیا ایک بار

Read more

نگہت کی کہانی… بس اب اور نہیں؟

سوچا بہت سوچا کہ بس اب اور نہیں لیکن پھر وہی سوچ کہ نگہت کی بات سن تو لوں۔ اگر اس کے ساتھ زیادتی ہوئی ہے تو وہ ہمدردی کی مستحق ہے۔  اس کے فلیٹ میں ہم آمنے سامنے بیٹھے تھے۔ ’’وہ رات عجیب سی رات تھی ْشدید بارش تھی تیز ہوایں چلیں۔ کئی درخت ٹوٹ گئے اور شہر میں کچھ جگہوں پر بجلی چلی گئی تھی’’۔ مجھے موسم خزاں کی وہ طوفانی رات یاد تھی۔ میرے علاقے کی بجلی

Read more

ایک تھی ملکہ

اب تک آپ نے ملکہ برطانیہ کے بارے میں بہت کچھ پڑھ لیا ہوگا۔ تھوڑا سا اور پڑھ لیں۔  ایلزبتھ ڈیوک اور ڈچز آف یارک کی پہلی اولاد تھی۔ اکیس اپریل 1926 کو پیدا ہوئی۔ نام رکھا گیا الیزبتھ الیکسندرا میری۔ یوں تو ہر ایک بات کی کھوج لگائی جاتی ہے اور کہیں نا کہیں سے کچھ چٹ پٹا مواد نکلا لیا جاتا ہے۔ اچھی بات ہے دل لگا رہتا ہے لیکن کھوج میں حقیقت سے زیادہ فسانے ہوتے ہیں

Read more

اور ایک بار پھر نگہت…

نگہت کو گئے دو سال ہو گئے۔ ہمارا رابطے اب بھی کسی حد تک باقی تھا۔ سالگرہ اور عید کی مبارکباد آتی۔ یا سالار کی کوئی نئی تصویر، اپنے بیوٹی پارلر کی تصاویر بھی بھیجتی۔ کبھی کسی دلہن کی جسے اس نے سجایا سنوارا تھا۔ مجھے بھی کہتی ”بچوں کی نئی فوٹو بھیجیں۔ اور ناروے کی برفوں کی بھی۔ اور اپنی بھی اسٹائلش سی۔ بہت یاد آتی ہیں آپ“ لمبی لمبی فون کالز اب کم کم ہی ہوتیں۔ واٹس اپ

Read more

شادی شدہ لڑکی

نگہت کی شادی کے ڈنر سے واپسی پر راستے میں میرے میاں نے تشویش سے کہا ”تمہاری دوست نے سوچ سمجھ کر فیصلہ کیا ہے یا بس یونہی“ ۔ اندیشے تو مجھے بھی تھے۔ سلطان تین مہینے گزار کر روانہ ہو گیا اور نگہت نے خوشخبری سنائی کہ وہ پریگنینٹ ہے۔ جتنی جلدی اسے شادی کی تھی اتنی ہے ماں بننے کی۔ اب وہ سلطان کے پرمانینٹ ویزا کے لیے پریشان تھی۔ مشورے میں دینا نہیں چاہتی تھی اس لیے

Read more

اب نگہت کیا کرنے جا رہی ہے؟

نگہت کی کہانی کے دو سیزن تو آپ کی نظر سے گزر چکے ہیں۔ آپ کہیں گے کہ اب بس بھی کرو۔ کہانی کا دی اینڈ کرو۔ پر کیا کریں زندگی میں موڑ آتے رہتے ہیں اور کہانیاں نیا رخ دھارتی ہیں۔ نگہت کی کہانی تو ویسے بھی پوری کی پوری تھرلر ہے۔ اگلا باب حاضر ہے۔ نگہت کا وہ جملہ ”دھکا میں نے نہیں دیا تھا“ رہ رہ کر مجھے تنگ کر رہا تھا۔ ایک بار پوچھا بھی لیکن

Read more

جیل والی لڑکی

شاید آپ لوگوں نے میری لکھی کہانی ’’ٹرین والی لڑکی’’ پڑھی ہو۔ اگر نہیں تو پہلے وہ پڑھ لیں تاکہ کہانی کا تسلسل قائم رہے۔ یہ اسی کہانی کا سیکوئیل ہے۔ ٹرین والی لڑکی نگہت کی کہانی تھی۔ ایک موڑ پر یہ اپنے کلائیمکس پر پہنچی اور لگا کہ کہانی ختم ہو گئی۔ لیکن وہ  اس کا دی اینڈ نہیں تھا ۔پکچر باقی ہے اور یہ اس کا دوسرا سیزن ہے۔ ہوا یہ کہ نگہت کو تین سال تین مہینے

Read more

ٹرین والی لڑکی

وہ مجھے میٹرو ٹرین میں پہلی بار ملی اور پھر بار بار ملی۔ ہم ایک ہی اسٹیشن سے سوار ہوتے۔ جو میٹرو کا پہلا اسٹیشن تھا اس لیے صبح کے وقت بھی کافی خالی سیٹیں مل جاتیں۔ اگلے اسٹیشنوں سے رش شروع ہو جاتا اور کچھ کو تو کھڑے کھڑے سفر کرنا پڑتا۔ میں اور وہ اکثر ایک ساتھ اندر جاتے اور کبھی کبھار تو ایک ہی سیٹ پر بیٹھ بھی جاتے۔ اس کا اسٹاپ پہلے آتا تھا وہ اتر

Read more

ذرا سی بات

شادی کو ہفتہ ہی ہوا تھا۔ خالہ کے ہاں دعوت تھی میں نے ستاروں بھری نیلی ساری پہنی میک اپ کیا زیور پہنے اور عابد کے سامنے بڑے چاؤ سے جا کھڑی ہوئی۔ اس نے ایک نظر بھر کر مجھے دیکھا۔ مسکرایا اور بولا ” واہ۔ کیا کہنے۔ “ اور میں نے ہنس کر آنچل لہرایا۔ ” وہ جو اس دن تم نے غرارہ پہنا تھا ہلکے گلابی رنگ کا“ ” جی“ ” وہ تم پر بہت جچ رہا تھا۔

Read more

گل بانو: ایک پھول کے پانچ رنگ

اوسلو سے دو سو کلو میٹر کے فاصلے پر ایک شہر میں ہمارا گھر تھا۔ ہم سب نارویجین شہریت رکھتے تھے۔ ہم چار بھائی تھے۔ میرا نمبر تیسرا تھا۔ والد گھر کی سلطنت کے بلا شرکت غیرے حکمران تھے۔ ہماری ماں کی حیثیت دبی ہوئی رعایا تھی۔ ہم بھائی بھی غلام ہی تھے۔ میری زندگی کے کئی مختلف ادوار ہیں اور ہر دور میں میرا رویہ مختلف رہا۔ پہلا دور ماں ہماری اکثر پیٹتی زخم کھاتی اور روتی رہتی۔ ابا

Read more

ذکر حلال پر بھی ہے فتوی حرام کا

گاہ بگاہ حلال حرام پر بات ہوتی رہتی ہے۔ معصوم مسلمانوں کو بتایا جاتا ہے کہ حلال کیا ہے۔ یاد دہانی کرائی جاتی ہے کہ کیا کیا حرام ہے۔ حلال وہ جس کی اجازت ہے حرام وہ جو جس کی ممانعت ہے۔

عجیب بات یہ ہے کہ یہ ساری حلال حرام کی باتیں کھانے سے متعلق ہیں۔ کھانے پینے کی چیزوں پر سب ہی متفق ہیں وہ یہ ہیں مردہ جانور، بہتا خون، خمر اور خنزیر لیکن پھر بھی بحثیں ہوتی رہتی ہیں۔ نئے نئے ایشوز کھڑے کیے جاتے ہیں۔ کبھی جھینگا حرام ہے کبھی خرگوش حرام ہے۔ کوئی مور اور ٹڈی کو حلال ثابت کر رہا ہے اور کوئی طوطا اور چایئنیز سالٹ کو حرام۔ کبھی گھوڑے اور گدھے پر بحث ہو رہی ہے اور اب بھینس کے بارے میں شکوک پیدا کیے جا رہے ہیں۔

Read more

تئیس برس، پانچ مہینے اور گیارہ دن۔۔۔

جان مادر تئیس برس، پانچ مہینے اور گیارہ دن۔۔۔ اتنی جلدی؟ یہ کوئی عمر تھی جانے کی؟ ابھی تو بہت کچھ باقی تھا بہت کچھ کرنا اور کہنا تھا کنتی ہی باتیں  بہت سا اور پیار بھی تمہیں دینا تھا ویسے تم اکیلے نہیں گئے میرے دل کا ایک ٹکڑا ساتھ لے گئے اور وہاں جو جگہ خالی ہوئی  اسے میں نے تمہارے کھلونوں سے بھر لیا ہے انہیں خاموشی سے دیکھتی ہوں کیونکہ اب کوئی نئی یاد تو بنے

Read more

کارڈیف کی زیبا پر کیا گذری

ہم عورتوں کی کہانیاں شادی کے گرد ہی گھومتی ہیں۔ میں بھی وہیں سے شروع کرتی ہوں۔ اکنامکس میں ماسٹرز کرنے کے بعد ایک کالج میں لیکچرر کی جاب کر رہی تھی اور ساتھ ہی کسی اچھے رشتے کا انتظار بھی۔ میری عمر کے ساتھ گھر والوں کی فکر بھی۔ اور پھر بالکل اچانک میری شادی ہو گئی۔ شادی نہ تو لو میریج تھی نہ ارینجیڈ۔ یہ ایک اتفاقیہ یعنی بائی چانس میریج تھی۔ ہمارے گھر کے سامنے مسز جواد

Read more

اور سنچری ہو گئی۔۔۔

لوگ پوچھ رہے ہیں پیغام بھیجوا رہے ہیں کہ کیا ہوا۔۔؟ ننانوے پر رک گیں؟ ایک ہی تو باقی ہے سو پورے ہونے میں۔ ایک زور دار شاٹ لگائیں اور باونڈری پر چوکا چھکا ماریں، لیکن باونڈری مارنے میں کیچ آوٹ ہونے کا خطرہ ہوتا ہے ۔ چوکا چھکا مارنے کے بجائے ایک سنگل رن بنا لیں؟ لیکن اس میں بھی رن آوٹ کا ڈر ہے۔ بات یہ ہے کہ لکھنے پر دل نہیں آمادہ۔ اور یہ کرکٹ کی ٹرمنولوجی،

Read more

ننانوے ناٹ آوٹ

یہ عنوان کچھ سنا سنا سا لگا ہو گا۔ ہے نا؟ جی بالکل۔ یہ شفیق الرحمن کے ایک مضمون کا عنوان ہے جو میں نے مستعار لیا ہے۔ وجہ اس کی یہ ہے کہ یہ میرا ننانواں مضمون ہے جو ’’ ہم سب’’ پر شائع ہو رہا ہے۔ سینچری ہونے والی ہے۔ پہلے سوچا کہ سو ہو جائیں تو سنچری منایں گے۔ لیکن کیسے منائیں گے؟ کیا کسی سے کہوں کہ سنو ذرا مجھ پر کوئی مضمون لکھ دو اچھی

Read more

میں نے ناروے کے لوگوں کو کیسا پایا؟

ناروے کے بارے میں میرے مضامین کا سلسلہ اب تمام ہوتا ہے۔ میں نے کوشش کی کہ تمام مضامین، جہاں تک ممکن ہو، غیر جانبدار رہ کر لکھوں۔ تاہم آج آپ ناروے کو ذرا میری آنکھ سے دیکھیے۔ میرے لکھے سے آپ کا متفق ہونا لازمی نہیں۔ آپ کو اختلاف کا پورا حق ہے۔ جب کوئی نووارد پہلی بار ناروے آتا ہے تو اسے یہی لگتا ہے جیسے یہاں کے لوگ بہت سرد مزاج ہیں۔ کہیں کوئی گرم جوشی نظر

Read more

کیا ناروے میں غربت بڑھ رہی ہے؟

دنیا کے امیرترین ممالک کے نام لیئے جائیں تو ناروے ان میں پوری شان و شوکت سے موجود ہے۔ تو پھر یہ کیسے ممکن ہے کہ اس ملک میں کچھ غریب لوگ بھی رہتے ہیں؟ اور یہ غریب کون ہیں اور کیوں غریب ہیں؟ غربت کو کس پیمانے سے ناپا جاتا ہے؟ کیا لوگ بھوکے سوتے ہیں؟ کیا والدین غربت سے مجبور ہو کر بچوں کو اسکول بھیجنے کے بجائے کام پر لگا دیتے ہیں؟ کیا کوئی بچہ اسکول میں

Read more

ناروے میں ذرائع آمد و رفت: کہاں جائیں؟ کیسے جائیں؟

آپ نے ناروے کے حسین مقامات کے بارے میں پڑھا اور مختلف شہروں کے بارے میں بھی۔ اب آپ ذرائع آمد و رفت کے بارے بھی جان لیجیے کہ یہاں کیسی کیسی اور کون کون سی سواریاں مل سکتی ہیں۔ ناروے کا ٹرانسپورٹ سسٹم دنیا کا جدید ترین سسٹم ہے۔ اس لئے ایک جگہ سے دوسری جگہ پہنچنا مشکل نہیں۔ بس سروس ہر شہر کی اپنی بس سروس ہے اور ہر گلی محلے میں اس کے اسٹاپ ہیں۔ کوئی علاقہ

Read more

ناروے کے شہر بھی حسین ہیں

پچھلے مضمون میں آپ کو ناروے کے قدرتی حسن سے مالا مال علاقوں کی سیر کروائی۔ اگر آپ کو فطرت کے ساتھ ساتھ شہروں کی گہما گہمی بھی پسند ہے تو وہ بھی مل جائے گی۔ اوسلو ناروے کا پائے تخت ہے اور کاسموپولیٹن شہر ہے۔ اوسلو کا پرانا نام کرسٹانیا تھا۔ 1624 میں ایک خوفناک آگ لگی اور پورا شہر جل گیا۔ اسے نئے سرے سے آباد کیا گیا اور نام بھی بدل کر اوسلو رکھ دیا۔ اوسلو میں کئی

Read more

ایک پتہ بھی سبز باقی نہیں رہے گا

طالبان آ رہے ہیں۔ چھا رہے ہیں۔ یوں جیسے لہلہاتی فصل پر ٹڈی دل کا حملہ ہو جائے اور پھر ایک بھی سبز پتہ باقی نہ رہے۔ سب تاراج ہو جائے۔ تیار ہو جائیے اب ایک بار پھر ٹی وی اسکرین پر وہی مناظر دیکھنے کے لیے۔ نیلے برقعوں میں سمٹی سمٹائی ڈری ڈری سی عورتوں پر لاٹھیاں برساتے بہادر طالبان۔ میدان میں سر سے پیر تک باپردہ دہشت میں ڈوبی شرم سے زمین میں گڑی بے بس نہتی عورت

Read more

خوبصورت ناروے

ناروے کے بارے میں میرے مضامین کا سلسلہ اب اپنے اختتام کے قریب ہے۔ سوچا آپ کو ناروے کی سیر بھی کرا دوں۔ قطعی غیر جانبداری سے یہ کہا جاسکتا ہے کہ ناروے دنیا کے حسین ترین ملکوں میں سے ایک ہے بلکہ حسین ملکوں کی اگر لسٹ بنے تو ناروے کا نام ٹاپ پر ہوگا۔ اس کی بڑی وجہ اس کا قدرتی حسن ہے۔ فطرت کو جہاں تک ممکن ہے چھیڑا نہیں گیا۔ یوں تو ناروے پورا کا پوار

Read more

بوائز آر بوائز

کیا عورت کا قتل اب ایک عام سی خبر بن کر رہ گئی ہے؟ اب اس پر ایک جھرجھری لینے کے بعد ہم کسی اور خبر میں گم جاتے ہیں؟ یہ وحشت یہ جنون یہ بربربیت اب روز کا معمول بن گیا ہے اتنی نفرت؟ اتنی سنگدلی؟ کیوں؟ کیا یہ تربیت کی کمی ہے۔ ماحول اور معاشرے کا قصور ہے؟ یہ کہیں سے کوئی نیا وائرس گھس آیا ہے جو اس وحشت کا باعث بن رہا ہے۔ ؟ بات تربیت

Read more

پاکستان اور ناروے میں تعلقات

ناروے اور پاکستان کی دوستی خواہ سمندر سے گہری, ہمالیہ سے اونچی یا شہد سے میٹھی نہ ہو لیکن یہ مستحکم ضرور ہے. اس کی بنیاد دو طرفہ احترام اور اعتماد پر ہے. ناروے نے پاکستان کو 1947 میں ہی آزاد ملک تسلیم کر لیا تھا. پہلے ناروے کا باقاعدہ سفارت خانہ نہیں تھا. ایک اعزازی قونصلیٹ کراچی میں تھا. 1976 میں ایک سفارت خانہ اسلام آباد میں کھولا گیا. کراچی اور لاہور میں اعزازی قونصلیٹ بھی ہیں. دونوں ملک ہر لحاظ

Read more

ناروے آنے کا ارادہ ہو تو کچھ ضروری باتیں جان لیجیئے

اگر آپ ناروے آنا چاہتے ہیں یا آپ ناروے میں ہیں اور یہاں کے سسٹم کو جاننا اور سمجھنا چاہتے ہیں تو شاید اس مضمون سے آپ کی کچھ رہنمائی ہو سکے۔ ویزا کون سا اور کیسے؟ اگر آپ کے کوئی رشتےدار ناروے میں ہیں اور آپ انہیں ملنے آنا چاہتے ہیں۔ یا آپ کی کسی نارویجین شہری سے شادی ہوئی ہے اور اب آپ ناروے آنے کے خواہشمند ہیں تو آپ کو فیملی ویزا کی درخواست دینی ہے۔ جو

Read more

اوسلو کے تاریک پہلو: ڈرگز، ریپ، جسم فروشی، شراب نوشی، گداگری اور ڈارک روم

آپ نے اوسلو کی رنگین راتوں کے بارے میں پڑھا، اب اسی اوسلو کے کچھ تاریک رنگ دیکھیں۔ اوسلو نے اپنے لیے ایک نیا نام پا لیا ہے ”ڈرگ ڈیتھ کیپیٹل آف یورپ“ کیونکہ اس وقت یورپ میں سب سے زیادہ ہیروئن کے عادی افراد اوسلو میں ہیں۔ اوور ڈوز اموات کی شرح بھی یورپ میں سب سے زیادہ ہے۔ اوور ڈوز سے اموات کی بڑی وجہ یہ ہے کہ یہاں لوگ ہیروئن کو انجیکٹ کرتے ہیں، اسموک نہیں۔ اس

Read more

ناروے کی راتیں۔ سرد مگر رنگین

ناروے کہنے کو ایک چھوٹا سا ملک ہے۔ دارلحکومت اوسلو بھی چھوٹا سا شہر ہے۔ کل آبادی ساڑھے چھ لاکھ سے بھی کچھ کم ہی ہے۔ آپ کہیں گے کہ اتنےٹھنڈے ملک کی اتنی سی آبادی والے بھلا کیا کرتے ہوں گے اور ان کی تفریح کے مراکز کہاں اتنے زیادہ ہوں گے۔ جی آپ غلط سمجھے۔ اوسلو میں شب و نیم شب کی لطف اندوزی کے کئی اسباب اور مراکز ہیں۔ ان میں اعلی معیار کے بارز، نایئٹ کلبز،

Read more

ناروے میں رقص خوشی کا استعارہ ہے

کیا دنیا کی کوئی قوم کوئی علاقہ ایسا ہے جہاں رقص نہ کیا جاتا ہو؟ رقص زندگی کی علامت ہے۔ خوشی اور جذبات کا اظہار ہے۔ خوشی میں لوگ اچھلتے کودتے ہیں۔ یہ اچھل کود اگر ترتیب اور توازن سے کی جائے تو رقص بن جاتا ہے۔ ناروے میں رسمی اور کلاسیک انداز کے رقص کی تاریخ بہت پرانی نہیں۔ وجہ اس کی یہ بتائی جاتی ہے کہ ناروے میں یا ڈنمارک کی حکومت تھی یا پھر سویڈن کی مداخلت۔

Read more

چھوٹے قد کا بڑا گلوکار اور ننگے پیر گانے والی چھوٹی سی لڑکی۔

ناروے ملک تو چھوٹا سے ہے لیکن اس میں بڑے بڑے لوگ پیدا ہوئے ہیں۔ ناروے کی موسیقی کے بارے میں ایک مضمون لکھا۔ اب دوسرا بھی حاضر ہے۔ اس میں دو لوگوں کا ذکر ہے جن کے بغیر ناروے کی موسیقی پر بات کچھ ادھوری سی رہے گی۔ کرٹ ایریک نیلسن (Kurt Erik Nilsen- September 1978) 2003 کی بات ہے۔ ناروے کے ایک ریئلیٹی شو ”آیڈل“ میں پانچ فٹ چار انچ قد کا چوبیس سالہ نوجوان آڈیشن کے لیے

Read more

کچھ ناروے کی موسیقی کے بارے میں

اور کئی آرٹ کی طرح ناروے موسیقی میں آگے رہا۔ ناروے کے قدیمی سازوں میں بکرے کی سینگ سے بنا ساز، ماوتھ آرگن، ٹرمپٹ، آکارڈین اور بانسری شامل ہے۔ پھر پیانو، وایلن اور گٹار نے جگہ بنائی۔ پیانو بہت مقبول ہے۔ اکثر گھروں میں ہوتا ہے اور کوئی نہ کوئی بجانے والا بھی۔ ناروے نے اپنی ہر قسم کی تاریخ کو محفوظ کیا ہوا ہے۔ اپنی سیاسی کاوشوں، سماجی خدمات، لکھنے والوں کی تحاریر، فنکاروں کی تاریخ سب دستاویز ہو

Read more

ایک مصور اور ایک مجسمہ ساز

جس طرح تھیٹر ناروے میں مقبول تھا اسی طرح آرٹ گیلریز بھی عام اور مقبول تھیں۔ ناروے میں فنکار بھی کئی گزرے ہیں اچھی بات یہ ہے کہ آرٹسٹ کو اس کی زندگی میں ہی مقبولیت اور شہرت ملی۔ مصوروں میں ایک نمایاں نام ایڈورڈ مونک (Edvard Munch 1863۔ 1944) کا ہے۔ مونک نے ساری زندگی تصویریں بناتے اور ان میں رنگ بھرتے گزاری۔ زندگی میں ہی انہیں شہرت بھی مل گئی اور مقام بھی۔ آرٹ کی ابتدائی تعلیم ناروے

Read more

گولڈن گرلز سے گرینڈ گولڈی کا مکالمہ

سب سے پہلے تو گولڈن گرلز کو مبارک باد کہ اتنے ٹیبو قسم کے موضوعات پر اتنا دبنگ لکھ رہی ہیں۔ اس خط و کتابت نے بہت سے لوگوں کو چونکا دیا بلکہ چوکنا کر دیا۔ کچھ کو آئینہ نظر آیا اور کچھ اس آئینے میں اپنی شبیہ دیکھ کر بھی کچھ نہ سمجھے۔ کچھ کو اپنی شکل بری لگی لیکن انہوں نے آئینے ہی کو گالی دی اور دکھانے والیوں کو بھی۔ گولڈن گرلز کی جانب سے مجھے بھی

Read more

ناروے کے دو بڑے ڈرامہ نگار: ہنریک ایبسن اور بیورنستیارنے بیورنسون

ناروے آبادی کے لحاظ سے بہت چھوٹا ملک ضرور ہے لیکن اس کی مٹی زرخیز ہے۔ مختصر سے آبادی والے چھوٹے سے ملک میں اعلی قسم کا ادب لکھا گیا۔ ابتدائی ادب لاطینی حروف تہجی میں لکھا گیا۔ گیارہویں صدی تک یہی مروج رہا۔ بتدریج یہ زبان اور اس کے حروف تہجی اپنی موت مر گئے اور نوردن کی اپنی زبان وجود میں آئی اور اسی زبان میں ادب لکھا گیا۔ تیرہویں سے پندرہویں صدی تک ناروے ڈنمارک کے زیر

Read more

کچھ ناروے کی ثقافت کے بارے میں

یہ ثقافت آخر ہے کیا چیز؟ ثقافت کے بارے میں بہت بات ہوتی ہے۔ لیکن یہ آخر ہے کیا؟ کیا یہ کوئی ورثہ میں ملنی والی شے ہے جسے ہم جوں کی توں سنبھالے چلے جا رہے ہیں؟ ایسا نہیں ہے۔ ثقافت خود کوئی چیز نہیں۔ یہ بہت سی چیزوں سے مل کر ایک چیز بنتی ہے۔ جیسے ہانڈی پکاتے ہوئے کئی اشیا ڈالتے ہیں۔ گوشت، سبزی، تیل، مصالحے وغیرہ۔ اور جب یہ سارے لوازم پک جا ہوں تو ہم

Read more

ناروے میں اپنا مقام بنانے والے پاکستانی

ناروے میں پاکستانی سیاست بھی کر رہے ہیں اور بہت سے دیگر شعبوں میںبھی قابل قدر خدمات انجام دے رہے ہیں۔ پاکستان سے ناروے آنے والی پہلی نسل کے لوگ کام کرنے آئے تھے، بہت محنت سے کام کیا اور آجروں کے دل جیت لیے۔ کوئی شعبہ ایسا نہیں جس میں پاکستانی نہ ہوں۔ پاکستانی سیاسی طور پر کافی بیدار ہیں۔ پاکستان میں بھی سیاست ان کا مرغوب ترین موضوع ہے اور یہاں ناروے میں بھی وہ صرف پاکستانی سیاست

Read more

ناروے میں ایسٹر کیسے مناتے ہیں؟

ناروے کا سب سے بڑا تہوار یوں تو سترہ مئی ہے جو قومی دن ہے۔ اس دن ناروے نے اپنا آئین تشکیل دیا۔ اور یہ وہ دن ہے جہاں سب لوگ گھروں سے نکلتے ہیں ایک دوسرے سے ملتے ہیں، مبارکبادیں دینے اور لیتے ہیں۔ اس دن نارویجنوں کا جوش و خروش دیکھنے کے لائق ہے۔ لیکن دو تہوار اور بھی ہیں جو جوش سے منائے جاتے ہیں۔ دونوں کا تعلق مذہب سے ہے۔ کرسمس اور ایسٹر۔ ناروے میں ایسٹر

Read more

ناروے میں مہاجر اور تارکین وطن

ناروے میں باہر سے آنے والوں کا سلسلہ زمانہ قدیم نویں صدی سے جا ملتا ہے۔ اس کے بعد 1535 سے لے کر 1814 تک ڈنمارک سے بہت لوگ آئے اور یہیں بس گئے۔ ناروے میں دوسرے ملکوں سے آنے والوں کو تین گروپس میں تقسیم کیا جاتا ہے۔ ریکروٹنگ، مین پاور اور پناہ گزین۔ باہر کے کسی ملک سے ریکروٹ کرنا۔ یعنی کچھ خاص لوگ کسی خاص مقصد، کسی خاص شعبے کے ماہر۔ کام یا عہدے کے لیے بلائے

Read more

ناروے کا شاہی خاندان جو بہت شاہی نہیں ہے

ناروے کا شاہی خاندان دوسرے شاہی خاندانوں سے ذرا الگ سا ہے۔ یہ کچھ عوامی سا خاندان ہے۔ شہزادے شہزادیاں محبت میں گرفتار ہوئے۔ خاندان سے بغاوت کی۔ اپنی بات منوا کر چھوڑی۔ عوام میں گھل مل جاتے ہیں۔ فلاحی رفاہی کام کرتے ہیں۔ اور بادشاہ تاج بھی نہیں پہنتے۔ یہ رواج اب ختم ہو گیا ہے۔ بادشاہ کا تاج ایک میوزیم میں رکھا ہوا ہے، اس کا وزن ڈیڑھ کلو گرام ہے۔ شاہی خواتین ضرور اپنے سر پر جڑاؤ

Read more

آٹھ مارچ: عورتوں کے عالمی دن کی تاریخ

آٹھ مارچ عورتوں کا اب دن پوری دنیا میں منایا جاتا ہے۔ عورتیں اپنے حقوق کے لیے اور اپنے ساتھ ہونے والی نا انصافیوں پر آواز اٹھاتی ہیں۔ ناروے میں بھی یہ دن پورے خلوص اور دل و جان سے منایا جاتا ہے۔ سوال شاید اٹھے کی ناروے کی عورتوں کو کیا ضرورت ہے یہ دن منانے کی انہیں تو تقریباً سب ہی حقوق حاصل ہیں۔ آزاد ہیں۔ معاشی طور پر بھی اور معاشرتی طور پر بھی۔ لیکن اس بحث

Read more

ناروے میں گے، لیزبین اور ٹرانس جینڈر افراد کیسے رہتے ہیں؟

آج اگر ناروے میں دو مرد ہاتھوں میں ہاتھ ڈالے یا دو لڑکیاں ایک دوسری کی کمر میں بازو حمائل کیے دکھائی دیں تو اب اتنا عجیب نہیں لگتا. لیکن کچھ اتنا زیادہ لمبا عرصہ نہیں گزرا جب ایسے مناظر کو عجیب، ناپسندیدہ، عیب اور گناہ کی نشانی سمجھا جاتا تھا. یہ حقیقت ہے کہ جو گروہ یا فرقہ اقلیت میں ہو وہ کمزور بھی ہوتا ہے اور اسے اپنے حقوق کی خاطر آواز خود ہی اٹھانی ہوتی ہے. ہم

Read more

ناروے میں آزادی رائے کی بحث

آزادی رائے اور جمہوریت ساتھ ساتھ چلتے ہیں۔ اظہار کی آزادی کے بغیر جمہوریت پنپ تو کیا زندہ بھی نہیں رہ سکتی۔ آزادی رائے وہ آزادی ہے کہ جو آپ کہنا چاہتے ہیں وہ کہہ سکیں۔ جو لکھنا چاہیں لکھ سکیں۔ کسی بھی موضوع پر اپنے خیال کا اظہار کر سکیں اور اپنا بیان دے سکیں۔ اتفاق اور اختلاف کا بھی آپ کو حق ہو اور آپ اس کا اظہار بھی کر سکیں۔ ناروے میں آزادی رائے کو بہت اہمیت

Read more

ناروے میں سب ہی کچھ اچھا اچھا نہیں ہے

ابھی تک آپ لوگوں نے ناروے پر میرے سلسلہ وار مضامین سے کچھ ایسا تاثر لیا ہو گا جیسے ناروے کوئی جنت کا ٹکڑا ہے جہاں سب اچھا ہے اور سب لوگ ہمیشہ ہنسی خوشی رہتے ہیں۔ ایسا نہیں ہے۔ ناروے بھی اسی دنیا کا حصہ ہے۔ اس میں انسان ہی بستے ہیں، فرشتے نہیں۔ جیسے ساری دنیا میں ہوتا ہے، یہاں بھی اچھے برے انسان ہوتے ہیں۔ یہاں چوریاں بھی ہوتی ہیں۔ ڈاکے بھی پڑتے ہیں۔ قتل بھی ہوتے

Read more

ناروے: ایک حقیقی فلاحی ریاست کیسی ہوتی ہے؟

ناروے ایک انتہائی خوبصورت ملک ہے۔ سمندر، دریا، نہریں، پہاڑ، جنگل۔ جھرنے، لگتا ہے اس سرزمین کو اللہ میاں نے خود اپنے ہاتھوں سے بنایا ہے۔ سردیوں میں برف ہی برف اور گرمیوں میں لہلہاتا سبزہ اور ہزار رنگوں کے پھول۔ لیکن یہ صرف خوبصورت ہی نہیں بلکہ رہنے کے لیے ایک بہترین ملک ہے۔ اقوام متحدہ کی ہیومن ڈیوپلمنٹ رپورٹ کے مطابق ناروے کئی برسوں سے دنیا کے بہترین ملکوں میں ٹاپ پر رہا ہے۔ ہر سال اس ضمن

Read more

ناروے میں شادی، طلاق، اسقاط حمل اور شہری آزادیاں

جمہوری ملکوں میں قوانین عوام کی ضرورت اور سہولت کو مد نظر رکھ کر بنائے جاتے ہیں۔ ناروے میں بھی بالکل ایسا ہی نظام ہے۔ قانون بنانے کا اختیار پارلیمنٹ کو ہے۔ بلز (مسودہ قانون) یا تجاویز لائی جاتی ہیں، ممبران ان پر بحث کرتے ہیں۔ بل کی حمایت اور مخالفت میں تکرار ہوتی ہے اور پھر اکثریت رائے سے قانون بن جاتا ہے۔ ان میں ضرورت کے تحت اتفاق رائے سے تبدیلی بھی لائی جا سکتی ہے۔ عوام اپنے

Read more

عورتوں کو کبھی بھی کچھ پلیٹ میں رکھا نہیں ملا

آج ہم ناروے میں دیکھتے ہیں کہ عورت اور مرد کے بیچ مساوات ہے۔ عورت ہر شعبے اور ہر کام میں مردوں کے ساتھ ہے۔ لڑکے اور لڑکی کو برابر کے امکانات اور مواقع ملتے ہیں۔ بلا شبہ ناروے آج دنیا میں سر اٹھا کر یہ کہہ سکتا ہے کہ جنس کی بنیاد پر تفریق اس ملک میں نہیں ہے۔ سوسائٹی میں عورت کی وہی قدر و منزلت ہے جو مرد کی ہے۔ ہر جگہ ہر مقام ہر شعبے میں

Read more

ایک کمینی سی خوشی کا احساس

امریکہ میں 6 جنوری کو جو ہوا وہ ساری دنیا کے لیے ایک حیران کن منظر تھا۔ اچھا تو یہاں بھی ایسا ہوتا ہے؟ یہاں بھی ایسا ہو سکتا ہے؟ ایسے مناظر تو غریب ملکوں کی اسٹیج پر سجائے جاتے ہیں۔ اور مزے کی بات کہ یہ سب جمہوریت کے نام پر ہو رہا ہے۔ وہی جمہوریت جو امریکہ فی سبیل للہ دنیا کو سکھانے نکلا تھا۔ یہ سب ہوتا دیکھ ایک کمینی سی خوشی ہو رہی ہے۔ امریکہ کو

Read more

ناروے: دیومالائی خداؤں سے جمہوریت اور مذہبی آزادی تک

آج کا ناروے ایک مضبوط اور مستحکم جمہوری ملک ہے۔ بادشاہت ہے لیکن طاقت عوام کے پاس ہے۔ ناروے کسی کا غلام ہے نہ محتاج۔ نہ ہی اس فیصلے کوئی اور کرتا ہے۔ لیکن ایسا ہمیشہ سے نہیں تھا۔ یہاں تک پہنچنے میں ایک لمبی تگ و دو ہوئی۔ جمہوریت کا یہ سفر صبر آزما تھا۔ 1814 میں ناروے نے اپنا آئین بنا تو لیا لیکن آزاد نہیں تھے۔ ڈنمارک یا سویڈن کے بادشاہوں کے تابع تھے۔ اہل ناروے نے

Read more

کالی موت، ہجرت، بیٹیوں کی بے حرمتی اور پھر نکلنا تیل کا

جادو نگری جیسے اس دیس ناروے نے کئی اتار چڑھاو دیکھے۔ کئی مشکلات کا سامنا کیا۔ سختیاں جھیلیں پر ہمت نہیں ہاری۔ گرتے پڑتے پھسلتے سنبھلتے سفر جاری رکھا۔ ان دنوں کورونا کی وبا نے دنیا کو اپنی لپیٹ میں لیا ہوا ہے۔ ناروے بھی اس وبا کے متاثرین میں سے ہے۔ لیکن یہ پہلی بار نہیں کہ ناروے میں وبا نے حملہ کیا۔ پرانے زمانے میں بھی کچھ ایسا ہی ہوا تھا۔ طاعون کی وبا ۔ سیاہ موت (1346

Read more

جادوئی ملک: بادشاہ کی تلاش اور غدار وزیر اعظم کو سزائے موت

بچپن میں پریوں کی جادوئی کہانیاں سنتے تھے۔ ان میں کسی ایک کہانی میں ذکر تھا کہ دنیا میں ایک ایسی جگہ ہے ایک ایسا ملک ہے جہاں چھے مہنیے رات اور چھے مہینے دن ہوتا ہے۔ بہت حیرت ہوتی تھی یہ سوچ کر کہ وہاں لوگ کیسے زندگی گذارتے ہوں گے۔ چھے مہینے سوتے رہتے ہوں گے اور پھر پورے چھے مہینے جاگ کر گذارتے ہوں گے؟ چھے مہینے بغیر کھائے پیے؟ جب ذرا بڑے ہوئے تو سننے میں

Read more

بارود کے شعلوں سے امن کی فاختہ

ایک تھا الفریڈ نوبل جو 1833 میں ملک سویڈن میں پیدا ہوا۔ اور 1896 میں اٹلی میں فوت ہوا۔ الفریڈ کی دلچسپی سائنس کے شعبے سے رہی۔ خاص طور پر دھماکا خیز مواد اسے بہت دلچسپی بھی تھی اور تجسس بھی۔ باپ انجنیئر تھا اس لیے بنیادی معلومات اسے حاصل کرنا مشکل نہ لگا۔ اپنے باپ کی فیکٹری میں کام بھی کیا جو ملٹری کے کام آنے والی مصنوعات تیار کرتی تھی۔ الفریڈ نوبل اپنے کام میں بہت مگن رہا

Read more

میرا بیٹا ابھی آتا ہی ہو گا

سردی بڑھ گئی ہے اندھیرا چھا چکا ہے دروازے کی گھنٹی بجی ہے یہ اس وقت کون آ گیا؟ شاید بیٹا آ گیا؟ کہہ کر گیا تھا کہ کھانے کے وقت تک آ جائے گا۔ ہم نے بھی اس کے انتظار میں نہیں کھایا لیکن اس کے پاس تو چابی ہے وہ کیوں گھنٹی بجائے گاَ؟ دروازے پر یونیفارم پہنے یہ دو لوگ؟ یہ کون ہیں ؟ یہاں کیوں ہیں؟ کیا چاہیے آپ لوگوں کو؟ ہاں ہاں یہ میرے بیٹے

Read more

ہمارے بھی حقوق ہیں

آپ نے انسانی حقوق کے بارے میں تو ضرور سن رکھا ہوگا۔ اقوام متحدہ کے اعلامیے میں اسے تفصیل سے بیان کیا گیا ہے کہ انسان کے انسان ہونے کے ناتے حقوق بنتے ہیں۔ کچھ ملکوں نے اس پر عمل بھی کیا اور مدنیہ سے ملتی جلتی ریاستیں تشکیل دے دیں۔ یہ اور بات کہ بہت سے ممالک میں لوگ اور حکومتیں اس سے بے خبر ہیں۔ خبر آتے آتے بھی دیر ہو جاتی ہے۔ جب پتہ لگ جائے گا

Read more

مظلومیت کی چادر اتاریے: مثبت اظہار کو اپنی شناخت بنائیے

کیا آپ کسی ایسے بندے کو جانتے ہیں جو ہر وقت اپنی مظلومیت کا رونا روتا ہے خود پر آنے والی ہر مصیبت ہر مشکل کسی اور پر تھوپتا ہے اور کبھی اپنے کسی بھی عمل کی ذمہ داری نہیں لیتا؟ اگر ہاں تو آپ سمجھ سکتے ہیں کہ یہ کس قدر تھکا دینے والا سلسلہ ہے۔ ان کی کبھی نا ختم ہونے والی درد بھری داستاں سن سن آپ خود بھی ڈپریشن کا شکار ہونے لگتے ہیں۔ نا صرف

Read more

ٹرمپ بھائی تم بالکل ہم جیسے نکلے

بالآخر انتظار کی گھڑیاں ختم ہوئیں اور امریکی انتخابات کا نتیجہ آ گیا۔ کتنے دن ایک ہی جگہ اٹکا رہا، سب کہہ رہے تھے کہ جو بائیڈن جیت گیا ہے لیکن امریکی میڈیا نے ذمہ داری کا ثبوت دیا اور جب تک گنتی پوری نہیں ہوئی اور بائیڈن کو واضح اکثریت نہیں مل گئی یہ اعلان روکے رکھا۔ بذریعہ ڈاک آنے والے ووٹوں کو گننا ذرا زیادہ وقت لے رہا ہے۔ ٹرمپ کی بے چینی تین دن پہلے ہی شروع

Read more

مردوں میں جسم فروشی کے کچھ پہلو

کچھ عرصہ پہلے ایک مضمون لکھا تھا کیا جسم فروشی قانونی ہونی چاہیے؟ یہ عورتوں کی جسم فروشی سے متعلق تھا۔ اس پر کسی نے توجہ دلائی کہ مرد بھی جسم فروشی کرتے ہیں، اس پر بھی لکھیے۔ اندازہ تو تھا لیکن لکھنے بیٹھی تو پتہ چلا کہ صورت حال کہیں زیادہ خوفناک ہے۔ زمانہ قدیم سے ہر معاشرے، تمدن اور ہر سرزمین پر ہم جنسیت موجود رہی ہے۔ کبھی اسے ناپسندیدہ کہا گیا، کبھی برداشت کر لیا گیا، کبھی

Read more

چھاتی کا سرطان: آپ کو یہ سب کیسے جھیلنا ہے؟

 چھاتی کا سرطان۔۔۔ اف اس لفظ سے ہی دل کانپ جاتا ہے۔ جب عورت پر یہ ظالم حملہ آور ہوتا ہے تو وہ تو اسے جھیل ہی رہی ہوتی ہے لیکن اس کے ساتھ ساتھ اس کی فیملی بھی متاثر ہوتی ہے۔ خاص طور پر شوہر یا پارٹنر پر یہ خبر بجلی بن کر گرتی ہے۔ انہیں یہ سب ایک ڈراونا خوب لگتا ہے جس سے وہ جلد جاگ جانا چاہتے ہیں۔ آج میرے مخاطب وہی مرد حضرات ہیں جنہیں

Read more

بشری ببوشکا سیکس ورکر کیسے بنی؟

میرا نام بشری تھا۔ اپنا یہ نام مجھے کبھی کبھی ہی یاد آتا ہے۔ کیونکہ میرے کئی نام رکھے اور بدلے گئے۔ یہ بشری نام بھی عجیب ہے۔ جب اوپر تلے کئی لڑکیاں پیدا ہو جائیں تو ایک کا نام بشری رکھ دیا جاتا ہے کہ یہ آنے والے بیٹے کی بشارت لائے گی۔ میرے ساتھ بھی یہی ہوا۔ بڑی بہنوں مہ ناز اور مہ جبیں کے بعد میرا نام بالکل الگ سا لگتا۔ لیکن یہ ٹوٹکا بھی کام نہ

Read more

اسرائیل کو تسلیم کرنے میں پاکستان کا فائدہ ہے

ایک تھا مشرقی پاکستان، وہ ہمارا تھا۔ پھر اس نے نام بدل لیا اور ہمارا بھی نہ رہا۔ وہ جدا کیوں ہوا؟ یہ کہانی بہت بار دہرائی جا چکی ہے۔ ہم اپنے جانی دشمن بھارت کو الزام دیتے ہیں لیکن حقیقت یہی ہے کہ وہ جو ہمارے تھے، ہم سے خفا تھے ان کے دل ٹوٹ چکے تھے۔ بھارت سے مدد لے کر انہوں نے خود کو ہم سے الگ کر دیا۔ اپنا نام تک بدل لیا۔ بنگلا دیش۔ اور

Read more

فہمیدہ ریاض: ڈرو مت، پورا سچ بدصورت نہیں ہوتا

خبر پڑھی کہ معروف شاعرہ فہمیدہ ریاض کی بیٹی نے ملک میں صحافیوں اور ادیبوں کے اغوا اور تشدد کے خلاف احتجاج کے طور پر اپنی مرحومہ والدہ کے حکومت کی جانب سے اعلان کردہ صدارتی ایوارڈ لینے سے انکار کردیا۔ بہادر ماں کی بہادر بیٹی۔ خود فہمیدہ کے اپنے الفاظ ہیں۔ "فنکار کو اپنے فن کے ساتھ مکمل طور پر مخلص اور معیار پر کسی قسم کا سمجھوتہ نہیں کرنا چاہیے۔ میرے لیے فن مقدس ہے” فہمیدہ ریاض سے

Read more

میں ایک معروف شاعر ہوں۔ کیوں اور کیسے؟

میں ایک معروف شاعر ہوں۔ خوش نصیب ہوں کہ میرے اتنے چاہنے والے ہیں۔ میری نظموں نے فیس بک پر دھوم دھام مچائی ہوئی ہے۔ فالورز میں کوئی ہزار وں لوگ ہیں۔ اور مجھے ہر روز نئی فرینڈز ریکویسٹ آتی رہتی ہیں اور میں کسی کا دل نہیں توڑنے کی ہمت نہیں رکھتا۔ سب ہی میرے فینز ہیں اور میرے لیے اہم بھی۔ میں ایک ایک کو ذاتی طور پر اپنی نظمیں بھیجتا ہوں۔ سب ہی لایئک کرتے ہیں۔ تو

Read more

پاکستانی عوام اور خارجہ پالیسی: دل تو پاگل ہے

ہم جلد باز لوگ ہیں۔ بحثیت قوم ہمیں محبت بڑی جلدی ہو جاتی ہے۔ ذرا کسی نے تھوڑی سی اہمیت دی، ہم نے اسے پیار کا انداز سمجھ لیا۔ جب پاکستان بنا تو اس سے پہلے ہمیں کسی سے محبت ہوتی، ہم نے نفرت کرنا سیکھی۔ محمد علی جناح کا خیال اور گمان تھا کہ پاکستان الگ ملک بن بھی گیا، تب بھی انڈیا پاکستان تعلقات ایسے ہی رہیں گے، جیسے امریکہ اور کینیڈا کے ہیں۔ آنا جانا بھی آسان

Read more

بہروز بوچانی: جس نے آسٹریلیا کا نقاب نوچ لیا

ایک طویل عرصے تک آسٹریلیا تارکین وطن کی جنت بنا رہا۔ امریکہ کی طرح یہ بھی ایک ایسا ملک رہا تھا جہاں دینا بھر سے لوگ آ کر بس گئے۔ یہاں طرح طرح کے لوگ اپنی اپنی شناخت برقرار رکھے ہوئے بھی یہاں رچ بس گئے اور امن اور استحکام سے زندگی بسر کرنے لگے۔ ان دونوں ملکوں نے دل کھول کر تارکین وطن کو خوش آمدید کہا۔ دونوں ملکوں کے اصلی باشندے پس پردہ رہ گئے۔ آنے والوں نے

Read more

مجھ پر ایک اور ٹھپہ لگ چکا ہے

زندگی بڑی مشکل سے نارمل ہوئی تھی۔ میں نئے ملک، نئی زبان، نئے لوگ اور نئے ماحول سے رفتہ رفتہ آشنا ہو رہا تھا۔ تحفظ ملا تو اطمینان اور خوشی کا احساس بھی ہونے لگا۔ تعلیم تھی، اچھا جاب تھا۔ ایک گرل فرینڈ بھی تھی جس سےمحبت بھی تھی اور ہم آہنگی بھی تھی۔ وہ ایک سرکاری ادارے میں کام کرتی تھی۔ میرا ایک چھوٹا سا اپارٹمنٹ اور ایک چھوٹی سی گاڑی تھی۔ ایک رات میں کوڑے کا کین پاہر

Read more

جب اوسلو میں سگے بھائی نے تین پاکستانی بہنوں کو قتل کیا

2 اکتوبر 2006 رات ڈھائی بجے ہیومن رائٹس سرویس ناروے کو ایک ایس ایم ایس آیا ” تین بہنوں کو ان کے بھائی نے قتل کر دیا۔ لعنت ان پاکیوں پر” بھیجنے والی ایک پاکستانی خاتون تھی جو اس بہیمانہ قتل پر بپھری ہوئی تھی۔ صبح تک یہ بات پھیل گئی۔ پاکستانی نارویجین کمیونیٹی میں سب ہی اس ٹرپل مرڈر کی بات کر رہے تھے۔ میڈیا پر اس کا خوب چرچا ہوا۔ اور اس سانحے کی بات ناروے کی سرحدوں

Read more

اذیت ناک دوستوں سے پیچھا چھڑائیے

سب انسان یقینی طور پر ایک ہیں۔ پیدائش کے اعتبار سے ایک جیسی عزت اور تکریم کے لائق ہیں۔ نسلی بڑائی یا حسب نسب کی اتراہٹ قطعی طور پر بے معنی اور فضول باتیں ہیں۔ اگر آپ اتفاق سے کسی اونچی ذات کے گھر میں پیدا ہو گئے ہیں تو اس میں آپ کی کیا بڑائی ہے؟ اور اگر نچلی ذات میں پیدا ہوئے تو اس میں آپ کا کیا قصور ہے؟ ہاں یہ بات درست اور سچی ہے کہ

Read more

سیکس کی نفسیات: آزادی اور اخلاقیات

محبت کا کیا ہے وہ تو آتے جاتے ہو ہی جاتی ہے۔ اصل امتحان اسے نبھانا ہے۔ تعلقات استوار تو ہو جاتے ہیں لیکن جب انہیں کوئی نام دینے کی بات آتی ہے تو کچھ لوگ بدک جاتے ہیں۔ بعض لوگوں کے لیئے ریلشن شپ ایسے ہی آسان ہے جیسے سانس لینا یا کھانا پکانا۔ لیکن کچھ لوگوں کے لیئے کمٹمنٹ یعنی بندھ جانا آسان نہیں۔ محبت نبھانا کیا ہے؟ محبت نبھانا یہ ہے کہ جس سے محبت کا دعوی

Read more

بچہ گود لینا – پاکستانی تناظر میں 

پہلے حصے میں بچہ گود لینے کی بات مغربی ملکوں کے معاشرے کو سامنے رکھ کر کی تھی۔ اب کچھ بات کرتے ہیں کہ پاکستان میں بچہ گود لینے کا کیا طریقہ کار ہے۔ پہلی بات تو یہ کہ پاکستان میں مغربی طریقے پر بچہ گود لیا ہی نہیں جاسکتا۔ اور اسی لیئے اس پر قانون سازی بھی نہیں ہوئی۔ کسی لاوارث بچے کا سر پرست تو بنا جا سکتا لیکن بچے کو اپنی اولاد نہیں بنا سکتے۔ 1989 میں

Read more

بچہ گود لینا

بے اولاد جوڑے اگر شدید تمنا رکھتے ہوئے بھی اولاد سے محروم ہوں اور سارے علاج، دعایں اور ٹوٹکے بے کار ہو چکے ہوں وقت کی ٹک ٹک آگے ہی بڑھتی جائے تو یہ ایک گہرا دکھ ہے۔ ایسے میں کوئی بچہ گود لینے کا خیال آتا ہے۔ لیکن کیا بچہ گود لینا ایک آسان سا کام ہے؟ والدین نے پیپر سائن کیے، چند ماہ انتظار کیا اور ایک ہنستا کھیلتا بچہ ان کی گود میں آ گیا۔ سونا آنگن

Read more

ڈانلڈ ٹرمپ کی آئینے کے سامنے تقریر

وائٹ ہاؤس اوول آفس۔
” مسٹر پریذیڈنٹ آپ چار جولائی یعنی امریکہ کی آزادی کے دن پر تقریر کریں گے۔ اس کی تیاری کر لیجیے۔ “
” اوہ یس۔ یس۔ یس۔ اچھا یاد دلایا۔ بس ابھی“

Read more

کیا جسم فروشی قانونی ہونی چاہیے؟

جسم فروشی دنیا کے قدیم ترین پیشوں میں سے ہے۔ یہ سوال اپنی جگہ کہ آیا یہ مجبوری ہے یا اپنا انتخاب ہے؟ اب اگر جسم فروشی ایک پیشہ ہے تو اسے ایک پیشے کے طور پر ہی کیوں نہیں لیا جاتا؟ اور اگر یہ ایک برائی ہے تو اسے مٹایا کیوں نہیں جاتا؟ اور اگر یہ جرم ہے تو اب تک جاری کیسے ہے؟ یہ پیشہ جتنا پرانا ہے اتنا ہی نا پسندیدہ اور ظالمانہ ہے اسے انسانی حقوق

Read more

دریا کے دوسرے کنارے والی لڑکی

تانیا سے میری ملاقات ہوئی جب میں نے نیو یارک کی کولمبیا یونیورسٹی سے کمپیوٹر اینڈ انفورمیشن میں ماسٹرز کر رہا تھا۔ وہ ہمارے ہی گروپ میں تھی۔ تعارف ہوا تو بولی۔ ” تمہارا نام حسن ہے۔ پاکستانی ہو کیا؟” میں نے اثبات میں سر ہلایا۔ ” میں انڈین ہوں۔ مسلم فیملی سے ہوں۔ حیدرآباد میرا شہر ہے” ” اردو آتی ہے؟” میں نے اردو میں پوچھا۔ ” ہاں ہاں مجھے بہت اچھے سے اردو بولنا آتا ہے” اس کے

Read more