گورنمنٹ، طوائف اور گدھے

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

خوشونت سنگھ کا ناول ”Train to Pakistan“ تقسیم ہند کے وقت برپا ہونے والے فسادات اور المیے کی منظر کشی کرتا ہے۔ ناول میں حکم چند نامی ضلعی مجسٹریٹ اور ڈپٹی کمشنر کی سرکاری رہائش گاہ پر گانے بجانے کی محفل کا انعقاد کیا جاتا ہے۔ گانے بجانے والے طائفے میں دو سازندے، ایک نوجوان طوائف اور ایک بوڑھی نائیکہ شامل ہیں۔ جب طوائف کے گانے پر لاٹ صاحب نے واہ، واہ کی صدا بلند کی تو ساتھ ہی جیب سے پانچ روپے کا نوٹ نکال لیا۔ تاہم حکم چند نے وہ نوٹ طوائف پر نچھاور نہیں کیا بلکہ اشارے سے اسے خود لے کر جانے کا کہا۔ ڈپٹی کمشنر کے اس اشارے پر بوڑھی نائیکہ نے بے ساختہ نوجوان طوائف سے کہا ”جاؤ، جاؤ، گورنمٹ سے لے لو“۔

طوائف جیسے ہی نوٹ پکڑنے کے لیے آگے بڑھی تو صاحب بہادر نے اپنا ہاتھ کھینچ لیا اور نوٹ اپنے سینے پر رکھ لیا۔ طوائف تھوڑا لجائی تو حکم چند نے نوٹ اپنے سامنے دھری ٹیبل پر رکھ دیا۔ طوائف آگے بڑھ کر اسے اٹھانے ہی لگی تھی کہ حکم چند نے دوبارہ نوٹ اٹھا لیا۔ طوائف واپس پلٹی تو حکم چند نے نوٹ دوبارہ آگے بڑھا دیا۔ بوڑھی نائیکہ نے طوائف سے کہا ”جاؤ، جاؤ، گورنمنٹ کے پاس جاؤ“۔

طوائف دوبارہ لاٹ صاحب کی جانب پلٹی تو لاٹ صاحب نے اپنی بانہیں اس نوجوان طوائف کی کمر کے گرد حائل کر لیں اور اس سے کہا ”تم بہت اچھا گاتی ہو“۔ طوائف اس صورتحال پر پریشان نظروں سے نائیکہ کی جانب دیکھتی ہے تو بوڑھی عورت کہتی ہے ”گورنمنٹ تم سے بات کر رہی ہے، تم جواب کیوں نہیں دے رہی“۔ بوڑھی نائیکہ ڈپٹی کمشنر کی جناب دیکھ کر التجا آمیز لہجے میں کہتی ہے ”گورنمنٹ، لڑکی ابھی چھوٹی ہے، اس لیے گھبرا رہی ہے، لیکن یہ سیکھ جائے گی“۔

پاکستانی عوام اور گورنمنٹ کا معاملہ بعینہ یہی ہے۔ پاکستانی عوام اس وقت گھبراہٹ کا کچھ یوں شکار ہے جیسے اس پر کوئی افتاد آن پڑی ہو۔ جب سے ”تبدیلی سرکار“ نے عنان اقتدار سنبھالی ہے ایک کے بعد ایک مصیبت اس پر یوں ٹوٹ رہی ہے جیسے فارسی شاعر انوری کے ”خانہ انوری“ کے باسی ہوں جو فارسی زبان میں ضرب المثل بن گیا کہ آسمان سے جو بھی بلا نازل ہوتی ہے وہ سیدھا انوری کے گھر کا رخ کر لیتی ہے۔ عمران خان کی سربراہی میں وفاقی حکومت جہاں بہت سے محازوں پر ہزیمت کا شکار ہے تو عوام کو ریلیف فراہم کرنے میں اس کا نامہ اعمال اس وقت کورے کاغذ کی طرح ہے۔

موجودہ حکومت خشونت سنگھ کے ناول مجسٹریٹ صاحب کے نقش پا پر چل رہی ہے کہ جو نوٹ دکھا کر اسے واپس کھینچ لیتا ہے۔ حکومت بھی زبانی جمع خرچ اور وعدوں پر عوام کو ابھی تک ٹرخا رہی ہے کہ جن کی مشکلات میں روز افزوں اضافہ ہی ہوتا چلا جا رہا ہے۔ مہنگائی کی شرح اس وقت حالیہ برسوں میں بلند ترین سطح پر پہنچ چکی ہے اور مرکزی بینک نے اس میں مزید اضافے کی پیشنگوئی کر کے عوام کے زخموں پر مرچیں چھڑک دی ہیں۔ روزمرہ اشیاء ضرورت کے نرخوں میں موجودہ حکومت کے اقتدار سنبھالنے کے بعد جو ہو شربا اضافہ ہوا ہے اس نے غریب اور متوسط طبقے کی قوت خرید کو بری طرح زک پہنچائی ہے۔

حکومت کے مدت اقتدار کو اگرچہ ایک برس ہونے کو ہے لیکن اس تبدیلی کے آثار نظروں سے اوجھل ہیں کہ جس کا وعدہ انتخابات قبل کیا گیا تھا۔ ماضی کے حکمرانوں کی مبینہ کرپشن کی داستانیں سنا سنا کر ان مشکلات اور مصائب کا مداوا نہیں کیا جاسکتا کہ جو آئے روز حکومتی ترجمان عوام کی سماعتوں کے آر پار کرتے رہتے ہیں۔ کسی جوہری تبدیلی کا اثرات جانچنے کا سب سے بڑا پیمانہ عوام ہوتے ہیں کہ ان کے شب و روز کس قدر سہل اور آسان ہوئے ہیں۔

اب تک زمینی حقائق یہی بتاتے ہیں کہ عوام کے دن رات میں مثبت تبدیلی تو خاک آئی بلکہ وہ مزید چرکے کھا کھا کر ادھ موئے ہوئے جا رہے ہیں۔ معیشت کا معاملہ اس وقت سب سے نازک صورتحال کا شکار ہے۔ اس محاذ پر حکومت کی جانب سے کی گئی ساری تدبیریں ایک ایک کر کے دھوپ میں رکھی برف کی طرح پگھل رہی ہیں۔ معیشت میں زبوں حالی نے تحریک انصاف حکومت کے دور میں عوام کے لیے کیا مشکلات پیدا کی ہیں اس کے لیے موٹے موٹے معاشی اشاریوں پر تکیہ کرنے کی بجائے سڑک پر نکل کھڑے ہوں اور راہ چلتے کسی شخص سے پوچھ لیں وہ معیشت کی ساری حقیقت دو لفظوں میں بیان کر دے گا۔

اگر شریف النفس اور کم گو ہوا تو بڑے مہذب انداز میں مہنگائی کے ہاتھوں اپنی پریشانی کا ذکر کرے گا اور اگر شومئی قسمت سے آپ کسی منہ پھٹ اور بدتمیز شخص سے یہ پوچھ بیٹھیں تو جواب میں ایسی ایس صلواتیں اور مغلظات سننے کو ملیں گی جو ناقابل اشاعت ہوتی ہیں۔ عمران خان کو آج بھی پاکستان کے ایک بڑے طبقے میں مقبولیت حاصل ہے اور آج بھی اس کے چاہنے والے پورے ملک میں موجود ہیں لیکن حکومت کی ناکامی اور نااہلی بہت تیزی سے تحریک انصاف کے حق میں حمایت و تائید کے غبارے سے ہوا نکال رہی ہے۔

اس وقت حکومت کے سامنے مزاحم اپوزیشن میں دم خم نہیں ہے کہ وہ حکومت کا کچھ بگاڑ سکیں کیونکہ اپوزیشن کی بڑی جماعتوں کے گزشتہ دو ادوار کے انداز حکمرانی کی وجہ سے عوام میں ان کے لیے ہمدردی کا جذبہ عنقا ہے اور وہ حکومت کے خلاف عوامی حمایت و تائید سے محروم رہیں۔ تاہم جب حکومت خود اپنی دشمن بنی ہو اور عوام کو ریلیف پہنچانے میں ناکام ہوتی چلی جائے تو پھر ایک نہ ایک دن عوامی جذبات کا پھٹ پڑنا بعید از امکان نہیں۔

حکومتی وزراء اور مشینری اگر اپنی توانائیاں کا عشر عشیر اپوزیشن کے خلاف پروپیگنڈے کی بجائے عوام کی فلاح و بہبود پر خرچ کریں تو عوام کے ساتھ ساتھ ان کے اپنے سیاسی مستقبل کے لیے بھی سود مند ہو۔ اگر یہ سوچ حکومت کی صفوں میں جگہ نہیں پاتی تو پھر لازماً کسی وزیر با تدبیر نے اس مشورے سے نوازا ہوگا کہ عوام پر بوجھ ڈالتے جائیں اور یہ بوجھ سہتے سہتے عادی ہو جائے گی۔ لیکن شاید کسی نے حکومتی وزراء کے گوش گزار نہیں کیا کہ یہ عوام ہیں، گدھے نہیں۔ اور کبھی کبھار تو گدھے بھی دولتی جھاڑ دیتے ہیں۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •