انسان اور خدا

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

ڈاکٹر خالد سہیل صاحب کا مضمون ”آپ کو کتنا یقین ہے کہ خدا موجود ہے“ پڑھا۔ ڈاکٹر صاحب نے ماہر نفسیات اور انسان دوست ہونے کے ناتے انسان کو چھے گروہوں میں تقسیم کیا ہے۔ میں ڈاکٹر صاحب کی اس بات سے بالکل متفق ہوں۔ جہاں تک خدا کی موجودگی کا تعلق ہے اس بارے میں میرا خیال کچھ یوں ہے کہ خدا اور محبت میں ایک چیز مشترک ہے کہ وہ دونوں نظر نہیں آتے صرف محسوس کیے جا سکتے ہیں۔ خدا نے محبت کو پیدا کیا یا محبت نے خدا کی پہچان کرائی یہ بھی ایک راز ہے جو ابھی تک کوئی نہیں جان سکا۔ انسان نے جب سے شعور کی منزل کو حاصل کیا وہ اِسی کھوج میں ہے کہ خدا کیا ہے، خدا کون ہے، خدا کہاں ہے۔ انسان نے خدا کو فطرت میں تلاش کیا، دوسرے جاندار اور غیر جاندار اجسام میں تلاش کیا اور کبھی مایوس ہو کر اِس کے وجود سے ہی انکار کر دیا۔

مگر اس ناقص العقل انسان کو ابھی تک یہ بات سمجھ نہیں آ ئی کہ خدا کیا ہے، کب نظر آتا ہے اور کہاں رہتا ہے۔ خدا کو پانے کی چاہت نے انسان کو بت پرستی پر مجبور کر دیا، کبھی وہ خدا کو بتوں میں ڈھونڈتا ہوا پایا گیا تو کبھی وہ سورج، چاند اور ستاروں کو خدا ماننے پر راضی نظر آیا۔ کڑکتی آسمانی بجلی سے ڈرا تو اسے خدا مان لیا، سمندر اور دریا نے تباہی پھیلائی تو خوف نے اِسے اِنکو خدا ماننے پر راضی کر لیا۔ انسان کو ڈرا ر، دھمکا کر، لالچ دے کر اور کبھی آخرت کی آسائشوں کا ذکر کرکے خدا کا احساس دلایا گیا۔ جہاں انسان بے بس ہوا وہیں اس نے خدا کے بارے میں سوچنا شروع کردیا۔

خدا کو ایک انسانی فطرت کے مطابق بنا کر پیش کیا گیا جو کہ غلطی پر سزا دیتا ہے اور گہرے گڑھے میں ڈال دیتا ہے اور نیکی پر اجروثواب دیتا ہے جو کہ جنّت کی شکل میں انسانی خواہشات تک کو پورا کرتا ہے جیسا کہ حوریں، شہد، شرابِ طہوراور مکمل آرام کی زندگی۔ آپ کو تمام عقیدت مندوں کی باتوں میں دنیا سے بے زاری، انسانی زندگی سے نفرت، مزاج میں سختی، شدت پسندی اور تنگ نظری نظر آئے گی۔ خدا کا تصوّر ان لوگوں کی نزدیک ایک انسان کا سا ہے۔ جو ناراض بھی ہوتا ہے، خوش بھی ہوتا ہے، اگر اس کی تعریف کی جائے توراضی بھی ہو جاتا ہے۔ گویا ساری کائنات کے خدا کو ہم لوگوں نے اپنی تنگ نظری کے مطابق ایک خاص حد تک محدود کر دیا ہے۔

گوپال متل نے کہا تھا

فطرت میں آدمی کی ہے مبہم سا ایک خوف

اس خوف کا کسی نے خدا نام رکھ دیا

مذہبی پیشواؤں نے بھی انسان کی اِس کمزوری کا بھرپور فائدہ اُٹھایا۔ مختلف مذاہب بنے کچھ الہامی کہلائے اور کچھ انسانی۔ الغرض ارتقاء کا عمل چلتا رہا اور انسان کا شعور بھی آہستہ آہستہ کامل ہوتا رہا۔

انسان کے نزدیک خدا کا تصور اس کے شعور، عقل اور علم کے مطابق ہے۔ آپ یوں کہہ سکتے ہیں کہ ہر انسان کا تصور خدا اپنا اپنا ہے۔ گاؤں میں رہنے والے ایک عام ان پڑھ آدمی کا تصور خدا اتنا ہی ہے جتنا اسے اس کے والدین اور مقامی مولوی صاحب نے سمجھا دیا۔ جبکہ ایک عالم اور تحقیق کرنے والے انسان کے نزدیک خدا کا تصور ایک عام آدمی سے بالکل مختلف ہے۔

آج کے ترقی یافتہ انسان کے پاس فزکس، کیمسٹری، میڈیکل سائنس اور نفسیات کا مکمل علم ہے۔ ملیریا سے موت کے منہ میں چلا جانے والے انسان آج مارکیٹ سے بیس روپے کی گولی خرید کر ملیریا کے جراثیم کو ہی مار دیتا ہے۔ دل کی کارکردگی سے ہار جانے والے انسان مارکیٹ سے سے مصنوعی اسٹنٹ لے کر دل کی کارکردگی کو بڑھا دیتا ہے۔

میں سمجھتا ہوں کہ یہ حضرت انسان اس دن خود خدا ہونے کا دعویٰ بھی کر بیٹھے گا جس دن اس نے جسم سے نکلتی ہوئی روح کو قابو کر لیا اور واپس انسانی جسم میں ڈال دیا۔

انسان نے سائنس میں چاہے جتنی بھی ترقی کر لی ہے لیکن پھر بھی وہ خدا تک پہنچنے میں ناکام رہا ہے۔ سائنس کا بھی جہاں پر اختتام ہو جاتا ہے اور کوئی بات سائنسدانوں کی سمجھ میں نہیں آتی تو وہ اسے وائٹل فورس کا نام کہہ کر اس سے اپنی جان چھڑا لیتے ہیں۔

لیکن یہ بات سچ ہے کہ دنیا میں مذہب کے بعد سائنس پر اعتماد دن بدن بہت تیزی سے بڑھ رہا ہے۔ اب سائنس خدا کی کیا تعریف کرتی ہے یا اس کی موجودگی کے لیے کیا ثبوت فراہم کرتی ہے یہ تو آنے والا وقت ہی بتائے گا۔

میرے نزدیک مذہب ہو یا سائنس دونوں ہمیں زندگی میں کچھ اصول و ضوابط سکھاتے ہیں۔ کائنات میں بھی آپ کو ایک ترتیب ایک اصول اور ایک ضابطہ نظر آتا ہے۔ یہی اصول و ضوابط اگر انسان کی زندگی میں نہیں تو پھر چاہے وہ مذہبی ہو یا سائنسی اس کا کوئی فائدہ نہیں۔ کسی بھی مذہب کو اٹھا کر پڑھ لیں وہ آپ کو معاشرے میں امن، بھائی چارہ اور محبت کے ماحول کو پروان چڑھانے کی ترغیب دے گا۔

رہا یہ سوال کہ کیا خدا ہے یا نہیں تو میرا ایک سوال ہے کہ اگر علم کو پیدا کرنے والا انسان ہے ہے تو پھر انسان کو پیدا کرنے والا کون ہے؟

اسے آپ فطرت کہیں، خدا کہیں، اللہ کہیں، بھگوان کہیں یا گاڈ کہیں مگر اس کی موجودگی سے انکار ممکن نہیں۔

انسان خدا بننے کی کوشش میں ہے مصروف

مگر یہ تماشا بھی خدا دیکھ رہا ہے

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •