علم کی لاش پر کھڑا تاج محل

کہا جاتا ہے کہ ایک زمانے میں دنیا کے نقشے پر ایک ریاست تھی، جس کا نام تھا الکمونیا۔ یہ وہ سرزمین تھی جہاں صبح کی اذان اور اسکول کی گھنٹی ایک ساتھ گونجا کرتی تھی۔ جہاں استاد کو مسیحا سمجھا جاتا تھا اور طالب علم کو مستقبل کی روشنی۔ الکمونیا میں کتاب محض علم کا ذریعہ نہ تھی بلکہ ایک روحانی رشتہ تھی قوم اور شعور کے درمیان۔ لیکن یہ سب ماضی کی بات ہے۔ وقت بدلا نہیں، موڑا

Read more

جب بھوک سوال چھین لے: تاریخ کا سبق

دنیا کی تاریخ ہمیں یہ سکھاتی ہے کہ طاقتور طبقے ہمیشہ عوام کو قابو میں رکھنے کے لیے دو بنیادی ہتھکنڈے استعمال کرتے رہے ہیں : ”بھوک“ اور ”خوف“ ۔ جب انسان بھوک کی شدت میں مبتلا ہو، تو وہ اپنی آزادی، حق، انصاف اور سوال کرنے کی صلاحیت کھو بیٹھتا ہے۔ اسی تناظر میں یہ بات صادق آتی ہے کہ: ”عوام کو صرف دو وقت کی روٹی میں الجھا دو، وہ کبھی تمہاری طاقت، چوری یا سازش پر سوال

Read more

سنہرا پاکستان: 1960 سے 1975 کا خواب نما دور

پاکستان کی تاریخ میں 1960 سے 1975 کا دور ایک ایسا سنہرا باب ہے جو آج بھی بزرگوں کی باتوں، پرانی فلموں، ریڈیو کی گونجتی آوازوں اور پرانی تصویروں میں زندہ ہے۔ یہ وہ وقت تھا جب ملک ترقی کی جانب بڑھ رہا تھا، جب ثقافت، فن اور معاشرتی رشتے اپنی بہترین صورت میں موجود تھے۔ پاکستان نہ صرف ایک ابھرتی ہوئی معیشت تھا بلکہ ایک زندہ دل قوم کا آئینہ بھی۔ اس دور میں صدر ایوب خان کے پانچ

Read more

پروٹوکول کلچر اور ریاستی اداروں کی تباہی

افسر شاہی یا بیوروکریسی کسی بھی ریاست کے نظم و نسق کا ایک لازمی ستون اور انتظامی ڈھانچے کی ریڑھ کی ہڈی ہوتی ہے۔ اس کا اصل مقصد ریاستی معاملات کو قانون اور اصولوں کے دائرے میں رہتے ہوئے شفاف اور منظم انداز میں چلانا، پالیسیوں پر عمل درآمد کروانا اور عوام کو بہتر سے بہتر خدمات فراہم کرنا ہوتا ہے۔ ایک دیانت دار، غیر جانبدار اور عوام دوست بیوروکریٹ ریاست کی ترقی اور عوام کی فلاح میں اہم کردار

Read more

احساسِ کمتری سے انتقام تک: نوجوانوں کی نفسیاتی ٹوٹ پھوٹ کی داستان

ہمارا معاشرہ اس وقت ایک ایسے المیے کی زد میں ہے جو صرف غربت، بدامنی یا سیاسی بحرانوں تک محدود نہیں بلکہ اس کی جڑیں ہمارے معاشرتی اور نفسیاتی ڈھانچے میں پیوست ہیں۔ ہم آئے روز کسی نہ کسی دل دہلا دینے والے سانحے کا سامنا کرتے ہیں، اور ہر واقعہ ہمیں یہ احساس دلاتا ہے کہ ہم کہیں نہ کہیں اپنی نئی نسل کی ذہنی و جذباتی تربیت میں ناکام ہو چکے ہیں۔ حالیہ واقعہ، جس میں ثنا یوسف

Read more

عشق محبت اور عادت

عشق، محبت اور عادت۔ یہ تینوں الفاظ بظاہر ایک دوسرے سے جُڑے ہوئے محسوس ہوتے ہیں، مگر ان کے پیچھے چھپے جذبات، اثرات اور نتائج نہایت مختلف ہوتے ہیں۔ ان میں فرق نہ سمجھنے سے ہم اکثر خود کو ذہنی الجھنوں، ٹوٹے ہوئے رشتوں اور جذباتی تکلیفوں کا شکار بنا لیتے ہیں۔ زندگی میں ہم جب کسی سے قریب ہوتے ہیں تو یہ قربت کبھی عشق بن جاتی ہے، کبھی محبت اور کبھی محض ایک عادت۔ ہم ان رشتوں کو

Read more

محنت کشوں کی تذلیل، نکموں کا غرور

ہم کس طرف جا رہے ہیں؟ یہ سوال ہمیں روز خود سے پوچھنا چاہیے۔ ہم نے بحیثیت قوم، محنت کو عزت دینا چھوڑ دیا ہے، اور کام چوری کو دانائی کا درجہ دے دیا ہے۔ افسوس اس بات کا نہیں کہ چند افراد غلط راہ پر ہیں، افسوس اس بات کا ہے کہ وہی لوگ ہمارے اداروں پر قابض ہوتے جا رہے ہیں۔ جن کا ایمان صرف اپنی کرسی، اپنی سہولت اور اپنے نام کی شہرت ہے، ان کے لیے

Read more

شادی شدہ اور شادی زدہ۔ دو قومیں، ایک انجام

شادی ایک ایسا عظیم الشان ادارہ ہے جس میں داخل ہوتے ہی انسان خود کو ”زندہ لاش“ محسوس کرنے لگتا ہے۔ اور اگر بندہ شادی شدہ ہو تو ہنسی ہنسی برداشت کرتا ہے، لیکن اگر شادی زدہ ہو تو برداشت کی ہنسی بھی آنسو بن کر نکلتی ہے۔ شادی شدہ افراد وہ ہوتے ہیں جو نکاح کے بعد مکمل طور پر ”شد“ ہو جاتے ہیں۔ یعنی ان کی ’شدت‘ بیوی کی مرضی سے طے ہوتی ہے۔ ان کی رائے صرف

Read more

رابطوں کے ہجوم میں تنہا انسان

ایک وقت تھا کہ خاندانوں کے اندر خاموش بیٹھ کر چائے پینا، بزرگوں کی باتیں سننا، محلے کے چھوٹے بڑوں سے سلام لینا، اور ایک دوسرے کے دکھ سکھ میں شریک ہونا ہماری روزمرہ زندگی کا فطری حُسن ہوتا تھا۔ یہ سب کچھ ہماری تہذیب کا حصہ تھا، اور یہی وہ خوشبو تھی جو ہماری گھریلو فضا میں بکھری ہوتی تھی۔ دلوں میں نرمیاں تھیں، چہروں پر مسکراہٹیں، اور رشتوں میں ایک ان کہی مٹھاس ہوتی تھی۔ مگر آج اگر

Read more

کرُوگر ایفیکٹ اور پاکستانی قوم

ہماری روزمرہ زندگی میں ہمیں ایسے بے شمار لوگ ملتے ہیں جو کم علمی کے باوجود خود کو ہر فن مولا سمجھتے ہیں۔ ماہرینِ نفسیات نے اس رجحان کو ”ڈننگ۔ کروگر ایفیکٹ“ کا نام دیا ہے۔ یہ ایک ایسا نفسیاتی رجحان ہے جس میں کم علم یا کم تجربہ رکھنے والے افراد اپنی قابلیت کو حد سے زیادہ سمجھتے ہیں، جبکہ اصل ماہرین ہمیشہ سیکھنے کی جستجو میں رہتے ہیں اور اپنے علم کو محدود سمجھتے ہیں۔ پاکستانی معاشرے میں

Read more

شدت پسندی سے اعتدال تک: ایک نئی سوچ کی ضرورت

ہم معاشرتی اور رویوں کے حوالے سے ایک عجیب الجھن کا شکار ہیں۔ ہمارے اندر شدت پسندی کا ایسا طوفان برپا ہے جس نے ہماری روزمرہ زندگی سے لے کر مذہبی، سماجی، تعلیمی اور ثقافتی سرگرمیوں تک کو اپنی لپیٹ میں لے رکھا ہے۔ ہم جب مذہبی ہوتے ہیں تو انتہا پسند ہو جاتے ہیں، دوسروں کو کافر اور گمراہ قرار دینے میں دیر نہیں لگاتے، اور جب غیر مذہبی رخ اختیار کرتے ہیں تو مذہب کو بالکل چھوڑ کر

Read more

القمونیہ کا باغی

القُمونیہ ایک ایسا دیس تھا جہاں صدیوں سے ذہنوں پر تالے لگا دیے گئے تھے۔ یہ وہ سرزمین تھی جہاں سوچنا جرم تھا، سوال اٹھانا بغاوت تھی، اور حقیقت کی تلاش گستاخی سمجھی جاتی تھی۔ یہاں حکمرانی اُن لوگوں کی تھی جو علم کو محدود کرنے، آزادی کو کچلنے اور سوچنے والوں کو خاموش کرنے میں مہارت رکھتے تھے۔ یہ لوگ اپنے آپ کو دانشمند کہتے، لیکن ان کی دانش صرف پرانے، رٹے رٹائے عقائد کو دہرانے تک محدود تھی۔

Read more

عورت کی آزادی: برابری کی بنیاد پر ایک بہتر سماج کی تعمیر

دنیا کے ہر ترقی یافتہ معاشرے کی بنیاد برابری پر رکھی جاتی ہے، جہاں مرد اور عورت دونوں کو مساوی حقوق حاصل ہوتے ہیں۔ مگر ہمارے ہاں عورت کی آزادی ہمیشہ ایک متنازعہ موضوع بنا رہا ہے۔ آزادی کا مطلب یہ نہیں کہ عورت اپنے فرائض سے آزاد ہونا چاہتی ہے، بلکہ وہ ان ذمہ داریوں کے ساتھ ساتھ اپنے بنیادی انسانی حقوق کی بھی حقدار ہے۔ ہر سال عورت مارچ کے موقع پر یہ سوال اٹھایا جاتا ہے کہ

Read more

وحید مراد: شہرت کی بلندیوں سے حسد کی گہرائیوں تک

انسانی فطرت میں ایک دلچسپ مگر تباہ کن عنصر پایا جاتا ہے، جسے ہم حسد کہتے ہیں۔ یہ وہ جذبہ ہے جو کسی کی خوشحالی، کامیابی، یا خوبصورتی کو دیکھ کر پیدا ہوتا ہے اور دھیرے دھیرے نفرت میں بدل جاتا ہے۔ دنیا کے ہر معاشرے میں حسد کے نتیجے میں نفرت کے مظاہر دیکھنے کو ملتے ہیں، مگر پاکستانی معاشرے میں یہ رویہ نہایت شدت کے ساتھ پایا جاتا ہے۔ یہاں جو شخص بھی غیر معمولی کامیابی حاصل کرتا

Read more

ایسا تعلق جو محبت نہیں تھا

دفتر کی سفید ٹیوب لائٹس، کمپیوٹر کی سکرینوں پر چلتے گراف، اور کافی کے ہلکے دھوئیں میں نایاب اور حسن کی دوستی ہر دن تھوڑا سا اور گہرا رنگ اختیار کرتی جا رہی تھی۔ وہ دونوں کولیگ تھے، مگر ان کے درمیان ایک ایسا بہاؤ تھا جو عام دفتری تعلقات سے مختلف تھا۔ جیسے دو ساز مل کر ایک خوبصورت دھن بناتے ہیں، مگر وہ دھن کبھی کسی گیت میں نہیں ڈھلتی۔ نایاب شادی شدہ تھی، دو بچوں کی ماں۔

Read more

استاد جی، اللہ جو واسطو آھی

مدرسے کے صحن میں دھوپ تیز تھی، جیسے زمین آگ اگل رہی ہو۔ چاروں طرف قرآن کی تلاوت کی آوازیں گونج رہی تھیں، اور کہیں دور سے ہوا کے ساتھ درختوں کے پتوں کی سرسراہٹ مدھم سی سنائی دے رہی تھی۔ مدرسے کے مرکزی ہال کے ایک کونے میں رسول بخش، خاموشی سے دیوار کے سائے میں بیٹھا ہوا، اپنے ہاتھوں پر نظریں جمائے ہوئے تھا۔ اس کے ناخن چبانے کی پرانی عادت اب بھی باقی تھی، اور زخموں سے

Read more

مڈل ایج کرائسز

مڈل ایج کرائسز، یا درمیانی عمر کا بحران، ایک ایسا مرحلہ ہے جو انسان کی زندگی کے درمیانی حصے میں اکثر ظاہر ہوتا ہے، عام طور پر 35 سے 55 سال کی عمر کے درمیان۔ یہ وہ وقت ہوتا ہے جب لوگ اپنی زندگی کا جائزہ لیتے ہیں، اپنی کامیابیوں اور ناکامیوں پر غور کرتے ہیں، اور یہ سوال کرتے ہیں کہ انہوں نے اپنی زندگی کو کیسے گزارا ہے۔ اس مضمون میں ہم مڈل ایج کرائسز کے سماجی، نفسیاتی

Read more

محبت: برابری اور خودمختاری کا حقیقی اظہار

محبت کے تصور پر جب ہم بات کرتے ہیں تو یہ ایک جذباتی تعلق کے علاوہ انسانی معاشرت اور سماجی رشتوں کا بھی ایک اہم پہلو بن جاتا ہے۔ ہمارے معاشرے میں عموماً محبت اور شادی کو ایک ایسا بندھن سمجھا جاتا ہے جس میں مرد اور عورت کی ذمہ داریاں غیر مساوی ہوتی ہیں۔ مرد کو کفیل اور عورت کو کفالت حاصل کرنے والی کے طور پر دیکھا جاتا ہے۔ یہ ایک ایسا نظریہ ہے جو محبت کے خالص

Read more

معاشرتی رویوں کا ارتقا: پرانی روایات اور نئے چیلنجز

سماج کی تشکیل دراصل کچھ اصولوں اور روایات پر مبنی ہوتی ہے جو لوگوں کے رہن سہن، فکر اور عمل کو متاثر کرتی ہیں۔ ہر دور میں کچھ روایات ایسی ہوتی ہیں جنہیں لازم سمجھ کر لوگ اپنا لیتے ہیں۔ یہ روایات نسل در نسل منتقل ہوتی رہتی ہیں، لیکن وقت کے ساتھ جب نئی سوچ اور علم کا نور آتا ہے تو یہ اصول اور روایات بدلتے بھی ہیں۔ پہلے جو باتیں ناقابل قبول اور حرام سمجھی جاتی تھیں،

Read more

جعلی خبروں کی مقبولیت: وجوہات اور معاشرتی اثرات

آج کے جدید دور میں، انٹرنیٹ اور سوشل میڈیا کی ترقی نے خبروں تک رسائی کو بے حد آسان بنا دیا ہے، جس کا نتیجہ یہ نکلا ہے کہ جعلی خبریں بھی تیزی سے پھیل رہی ہیں۔ اس رجحان نے لوگوں کو غلط معلومات کی دلدل میں دھکیل دیا ہے، اور یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ آخر لوگ جعلی خبروں کو اتنی دلچسپی سے کیوں سنتے اور شیئر کرتے ہیں؟ جعلی خبروں کی مقبولیت کی کئی وجوہات ہیں، جن

Read more

ہم کیوں ہیں الجھے ہوئے؟

ہماری موجودہ نسل ایک سنگین بحران جھیل رہی ہے جو ہماری شناخت، اخلاقیات، اور معاشرتی رشتوں کی تشکیل کو متاثر کر رہا ہے۔ اس بحران کی بنیادی وجوہات میں خاندانی نظام کی ناکامی، تعلیمی نظام کی خامیاں، معاشرتی دباؤ، ثقافتی اثرات، اقتصادی مسائل، اور تاریخی پس منظر شامل ہیں۔ ان تمام پہلوؤں کا گہرائی سے جائزہ لینے سے ہمیں یہ سمجھنے میں مدد ملے گی کہ ہم کہاں کھڑے ہیں اور اس بحران سے کیسے نکل سکتے ہیں۔ پاکستان کا

Read more

سائنسی طرز فکر اور مذہبی عقائد: ایک متوازن رویے کی ضرورت

ہمارے معاشرے میں ایک حیران کن تضاد پایا جاتا ہے کہ سائنس کے اعلیٰ تعلیم یافتہ افراد، جیسے کہ ایم فل اور پی ایچ ڈی کرنے والے کیمسٹری، فزکس، اور بائیولوجی کے ماہرین، اکثر اپنی سائنسی تعلیم کے باوجود کہانیوں اور عقائد پر گہرا یقین رکھتے ہیں۔ یہ رویہ اس بات کو ظاہر کرتا ہے کہ ہمارے ہاں سائنسی معلومات تو دی جاتی ہیں، مگر سائنسی اندازِ فکر کو فروغ نہیں دیا جاتا۔ اس مضمون میں ہم اسی تضاد پر

Read more

محبت اور ملکیت

محبت انسان کی زندگی میں ایک بنیادی اور اہم جذبہ ہے جو دلوں کو جوڑتا ہے اور دنیا کو ایک خوبصورت مقام بناتا ہے۔ اس جذبے میں خوشی، قربانی، احساس، اور ایک دوسرے کے لیے خود کو وقف کرنے کا عنصر شامل ہوتا ہے۔ لیکن جب محبت کو غلط سمجھا جائے اور اسے ملکیت کا روپ دے دیا جائے، تو یہ جذبہ اپنی اصل سے ہٹ کر ایک قید و بند میں بدل جاتا ہے، جس میں آزادی کی کوئی

Read more

فرعونیت سے پارسائی کا سفر

انسانی رویے کی یہ بات بہت غور طلب ہے کہ اکثر لوگ اپنی زندگی کے آخری حصے میں ہی مذہب کی طرف رجوع کرتے ہیں، جبکہ حقیقت یہ ہے کہ پوری زندگی کو نیک اعمال اور مذہبی رجحانات کے مطابق گزارنا چاہیے۔ پاکستان جیسے معاشروں میں یہ رویہ عام ہے، جہاں اکثر کرپٹ افسران اور بیوروکریٹ اپنی زندگی کے طاقتور ادوار میں بے تحاشا کرپشن کرتے ہیں، اپنی کرسی پر بیٹھ کر خود کو فرعون سمجھتے ہیں، اور جب ان

Read more

پاکستان میں پیپر لیس سسٹم کی ضرورت

ڈیجیٹل ترقی کا حقیقی مفہوم سمجھنا اور اسے صحیح طریقے سے اپنانا آج کے دور کی ایک اہم ضرورت ہے، خاص طور پر پاکستان جیسے ترقی پذیر ممالک میں۔ بدقسمتی سے، یہاں عام طور پر ڈیجیٹلائزیشن کا مطلب صرف کمپیوٹر پر کام کرنا اور کاغذی دستاویزات کو ڈیجیٹل فارمیٹ میں تبدیل کرنا سمجھا جاتا ہے۔ زیادہ تر لوگوں کا خیال ہے کہ کمپیوٹرائزیشن کا مقصد دستاویزات کو کمپیوٹر پر ٹائپ کر کے پرنٹ نکالنا اور پھر ان کی فوٹو کاپی

Read more

حسد: انسانی فطرت کا ایک منفی پہلو اور اس کے معاشرتی اثرات

انسانی فطرت میں مختلف قسم کے جذبات پائے جاتے ہیں، جن میں سے کچھ مثبت ہیں جیسے محبت، ہمدردی، اور رحم، اور کچھ منفی جیسے غصہ، نفرت، اور حسد۔ حسد ایک ایسا منفی جذبہ ہے جو کسی دوسرے کی کامیابی، خوشحالی، یا خوشیوں کو دیکھ کر پیدا ہوتا ہے۔ یہ ایک ایسی آگ ہے جو انسان کے دل کو جلا کر راکھ کر دیتی ہے اور اس کے دل میں نہ صرف اپنے لیے بلکہ دوسروں کے لیے بھی خوشیوں

Read more

ریٹائرمنٹ کے بعد کی زندگی کیسے خوشگوار بنائیں؟

ریٹائرمنٹ کے بعد زندگی کو مختلف معاشروں میں مختلف انداز میں دیکھا جاتا ہے۔ ترقی یافتہ ممالک میں لوگ ریٹائرمنٹ کو ایک نئے سفر کی ابتدا سمجھتے ہیں۔ وہ اپنی زندگی کے اس مرحلے کو اپنے خوابوں کو پورا کرنے، سفر کرنے، نئے شوق اپنانے، اور معاشرتی کاموں میں حصہ لینے کا موقع سمجھتے ہیں۔ وہ اس دور کو خوشیوں سے بھرپور گزارنے کی کوشش کرتے ہیں، جس سے ان کی زندگی کی رونق برقرار رہتی ہے۔ اس کے برعکس،

Read more

پاکستانی جامعات: کرپشن، نااہل تقرریاں، اور تعلیمی بحران

پاکستان کی جامعات کبھی علم و تحقیق کے عظیم مراکز سمجھی جاتی تھیں، لیکن آج یہ ادارے کرپشن، نا اہل تقرریوں، اور تعلیمی معیار کی گراوٹ جیسے سنگین مسائل کا شکار ہیں۔ یہ مسائل نہ صرف طلبہ کی تعلیمی کارکردگی پر منفی اثرات مرتب کر رہے ہیں بلکہ ملک کی مجموعی ترقی کو بھی خطرے میں ڈال رہے ہیں۔ جامعات میں پھیلتی کرپشن اور غیر معیاری تقرریاں اس حد تک بڑھ چکی ہیں کہ اب یہ مسائل ہمارے تعلیمی نظام

Read more

پروفیسر فیصل عباس ہاشمی: ایک عظیم انسان کی یاد

30 اپریل 2024 کی صبح جب ہم کالج پہنچے، تو پروفیسر اختر بخاری کا وائس میسج واٹس ایپ پر موصول ہوا، جس میں ان کی آواز اضطراب اور پریشانی سے لرز رہی تھی۔ انہوں نے بتایا کہ مرشد کی حالت بہت نازک ہے۔ فوراً ہم دوست، راقم الحروف، پروفیسر ڈاکٹر جاوید احمد، پروفیسر بلال خان، پروفیسر علی حسن، اور دیگر احباب ہسپتال پہنچے۔ وہاں پہنچ کر ہماری آنکھوں نے پروفیسر فیصل ہاشمی کو دل کا دورہ کی حالت میں زندگی

Read more

پاکستان میں اعلیٰ تعلیم کا زوال

پاکستان میں اعلیٰ تعلیم کے زوال کو سمجھنے کے لیے ہمیں کئی اہم پہلوؤں پر غور کرنا ہو گا۔ حالیہ برسوں میں، کالجز اور یونیورسٹیز میں داخلہ لینے والے طلباء کی تعداد میں نمایاں کمی آئی ہے، اور اس کی وجوہات گہری ہیں۔ اس مضمون میں، ہم ان وجوہات کا جائزہ لیں گے اور دیکھیں گے کہ کیسے یہ مسائل پاکستان کے تعلیمی نظام کو متاثر کر رہے ہیں۔ سب سے پہلی اور اہم وجہ تعلیمی معیار کی کمی ہے۔

Read more

قرضوں میں جکڑی قوم کا شاہانہ پروٹوکول

دنیا بھر میں بہت سے ممالک مختلف وجوہات کی بنا پر معاشی مشکلات کا شکار ہوتے ہیں اور اپنی مالی ضروریات پوری کرنے کے لیے بین الاقوامی مالیاتی اداروں سے قرضے لیتے ہیں۔ ان اداروں میں آئی ایم ایف (International Monetary Fund) سرِ فہرست ہے، جو مختلف شرائط کے تحت قرضے فراہم کرتا ہے۔ بدقسمتی سے، جن ممالک میں حکومتی نظم و نسق کا فقدان ہوتا ہے، وہاں یہ قرضے عوامی فلاح و بہبود کے بجائے اعلیٰ افسران اور سیاست

Read more

انٹری ٹیسٹ کو ختم کرنا اور حکومت کی زیر قیادت امتحانی نظام کا قیام: افراتفری کا حل

انٹری ٹیسٹ کا نظام ہمارے تعلیمی نظام میں ایک متنازعہ مسئلہ رہا ہے، جس کی وجہ سے طلباء اور والدین یکساں طور پر بے جا دباؤ اور پریشانی کا باعث بن رہے ہیں۔ انٹری ٹیسٹ کی تیاری کے لیے حکومت کے نجی اداروں پر انحصار نے کمرشلائزیشن کی ثقافت کو جنم دیا ہے، جہاں طلباء کو سیکھنے والوں کے بجائے گاہک کے طور پر دیکھا جاتا ہے۔ اس کی وجہ سے مسائل کی بہتات ہوئی ہے، بشمول عدم مساوات، تعصب

Read more

پاکستانی معاشرے میں خواتین کا بڑھتا ہوا کردار

پاکستان میں مختلف شعبوں میں خواتین کا عروج اور غلبہ ایک قابل ذکر رجحان ہے جس میں حالیہ برسوں کے دوران نمایاں اضافہ ہوا ہے۔ متعدد چیلنجز اور رکاوٹوں کا سامنا کرنے کے باوجود پاکستانی خواتین نے سیاست، تعلیم، کاروبار، کھیل اور فنون سمیت مختلف شعبوں میں شاندار ترقی کی ہے۔ پاکستان میں صنفی محرکات کی ایک پیچیدہ تاریخ ہے، جہاں خواتین کو عوامی زندگی میں حصہ لینے میں اہم رکاوٹوں کا سامنا ہے۔ ملک کی مردانہ اثر و رسوخ

Read more

پاکستان میں سائنسی تعلیم کا زوال : اسباب اور علاج

سائنس کی تعلیم کسی ملک کی ترقی کی تشکیل میں اہم کردار ادا کرتی ہے۔ تاہم پاکستان حالیہ برسوں میں اپنے سائنس کی تعلیم کے شعبے میں کمی سے دوچار ہے۔ اس مضمون کا مقصد اس کمی کے پیچھے بنیادی وجوہات کو تلاش کرنا اور اس مسئلے کو حل کرنے کے لیے ممکنہ علاج تجویز کرنا ہے۔ 1۔ سماجی و اقتصادی عوامل: غربت: پاکستان کی آبادی کا ایک اہم حصہ غربت کی لکیر سے نیچے زندگی گزار رہا ہے، جس

Read more

کیا کمپیوٹر پروگرام واٹسن میڈیکل ڈاکٹرز کو بے روزگار کر سکتا ہے؟

ڈاکٹرز حضرات جو مریضوں کو ادویات تجویز کرتے ہیں ان کا ڈاکٹر کے موڈ، معاشی حالات اور کمپنیوں کی پرکشش آفرز سے بہت گہرا تعلق ہوتا ہے۔ عموماً یہی ہوتا ہے کہ جب کوئی مریض ڈاکٹر کے پاس اپنی بیماری کے علاج کے لیے جاتے ہیں تو ڈاکٹر ان سے معمولی ہسٹری پوچھنے کے بعد کاغذ پر انتہائی قیمتی اور مخصوص کلینکل لیبارٹریز میں موجود ٹیسٹ پر مشتمل ایک لسٹ پکڑا دیتے ہیں۔ مختلف ٹیسٹوں کے مراحل سے گزرنے کے

Read more

دلیپ کمار اور سائرہ بانو – آخری بوسے کی ٹھنڈک

ایک انسان کا اپنی خواہش، چاہت اور مرضی کے ساتھ اپنے آپ کو کسی دوسرے انسان کے مکمل سپرد کر دینا محبت کہلاتا ہے۔ محبت کی مختلف تعریفیں زمانے میں رائج رہیں۔ ادب کے دانشوروں کے نزدیک محبت کا مقام کچھ اور ہے جبکہ سائنسدانوں کے نزدیک محبت صرف ہارمونز کے رد و بدل کا نام ہے۔ کسی انسان کو بے لوث، غیرمشروط اور اپنی چاہت سے اپنانے کا نام محبت ہے۔ اگر یہی محبت، چاہت اور غیر مشروط عشق

Read more

سائنسدان ، عالم اور اداکار

محترم قارئین یہ تین الفاظ ہیں جو میں آپ کے سامنے رکھ رہا ہوں آپ تمام دوست ان الفاظ کی تعریف کو پڑھیں اور ان کے مطلب کو جاننے کی کوشش کریں۔ یہ تین الفاظ ہیں سائنسدان، عالم اور اداکار۔ سائنس کا علم رکھنے والے شخص کو سائنسدان کہا جاتا ہے۔ سائنس کا علم جیسا کہ آپ سب لوگ جانتے ہیں نظریات، مشاہدات اور تجربات پر مشتمل ہوتا ہے۔ کوئی بھی سائنسی علم اس وقت تک مستند نہیں ہوتا جب

Read more

انسان، تہذیب اور زندگی

کسی قوم کی ثقافت اس قوم کے ذہن کی پیداوار ہوتی ہے۔ انسانی ذہن ہی اپنی ثقافت کی بنیاد رکھتا ہے اور انسانی ثقافت ہی ہے جو انسان کی زندگی کو آسان یا مشکل بناتی ہے۔ اہم بات یہ ہے کہ جب اپنی ہی بنائی ہوئی انسانی ثقافت انسان کے لئے لیے زندگی میں خوشی اور غم کا باعث ہوتی ہے تو پھر کیوں نہ صرف ایسی ثقافت بنائی اور اپنائی جائے جو انسان کے لئے صرف اور صرف خوشی

Read more

پبلک سروس کمیشن اور یونیورسٹی کا نظامِ تعلیم

امتحانات سے ہمیشہ ہی طالب علم جان چھڑاتے آئے ہیں۔ ہر طالب علم کی کوشش ہوتی ہے کہ بغیر امتحان کے کامیاب ہو جائے مگر ایسا ممکن نہیں ہوتا۔ امتحانات تو زندگی کا حصہ ہے اور دیکھا جائے تو زندگی بذات خود ایک کڑا امتحان ہے۔ یونیورسٹی کی تعلیم ایک اعلی تعلیم سمجھی جاتی ہے جس سے ایک طالب علم کو اپنے متعلقہ مضمون میں مکمل عبور حاصل ہو جاتا ہے۔ ماسٹر ڈگری لینے کے بعد طالب علم مزید اعلی تعلیم اور اپنے مضمون میں تحقیقی اور منطقی مہارت حاصل کرنے کے لیے ایم فل اور پھر سب سے اعلی پی ایچ ڈی کی ڈگری حاصل کرتا ہے۔

Read more

سانحات پر کڑھنے کی بجائے ان کا حل تلاش کریں

جنگل میں بسنے والا انسان گزرتے وقت کے ساتھ ساتھ تہذیب یافتہ ہوتا چلا گیا۔ جنگل میں رہنے والے جنگلی جانور اور درندوں سے بچنے کے لیے وہ نئے طریقے تلاش کرتا رہا۔ گزرتے وقت کے ساتھ ساتھ انسان نے ان جنگلی درندوں کے ساتھ رہنا اور ان سے بچاؤ کا طریقہ سیکھ لیا۔ جنگلی جانوروں کو ڈنڈے، لکڑی اور پتھر کے اپنے ہی بنائے ہوئے ہتھیاروں سے ڈرا کر انسان نے اپنے آپ کو ان درندوں سے محفوظ کر لیا۔ لیکن یہ حفاظتی انتظامات بھی وقت کے ساتھ ساتھ بدلتے رہے۔

جب انسان نے آگ جلانا اور اس پر قابو پانا سیکھ لیا تو یہ انسان کی ایک عظیم کامیابی تھی جس کو استعمال کرتے ہوئے انسان جنگلی درندوں اور جانوروں سے خود کو محفوظ سمجھنے لگا۔ آگ پر قابو اور اس کے استعمال نے انسان کو تمام دوسرے جانوروں کا حاکم بھی بنا دیا۔ پھر انسان نے اپنے آپ کو اور اپنے پیاروں کو ان جنگلی درندوں سے بچانے کے لئے گھر بنانے شروع کیے جو انسان اور جنگلی درندوں کے درمیان ایک حفاظتی بند کا کام کرتے تھے۔ گزرتے وقت کے ساتھ انسان نے جنگلی جانوروں اور درندوں سے الگ اپنی انسانی دنیا بسانا شروع کر دی۔ یہ انسان کی اپنی بنائی ہوئی تہذیب تھی جو وقت کے ساتھ ساتھ ترقی کرتی رہی۔ اپنی اس تہذیب یافتہ زندگی کے اصول و ضوابط میں انسان اپنے آپ کو جنگلی درندوں سے بالکل محفوظ سمجھنے لگا۔

Read more

بچوں میں فطری مشاہدے کو مَت ختم کریں

چند سائنسدانوں کی سوانح عمریاں پڑھنے کے بعد میں اس نتیجے پر پہنچا ہوں کہ ان سائنسدانوں نے جتنی بھی انسانیت کے فائدے کے لئے حیران کن ایجادات کی ہیں وہ اپنے فطری مشاہدے کی بنیاد پر کی ہیں۔ ہر انسان دنیا میں اپنا ایک علیحدہ مشاہدہ کرنے والے طبیعت اور ذہن لے کر پیدا ہوتا ہے۔ دنیا میں پیدا ہونے اور آنکھ کھولنے کے بعد اپنے حواس خمسہ اور دماغ کو فطرت کے اصولوں کو جاننے کے لیے استعمال کرنا شروع کرتا ہے۔ ہر انسان کا مشاہدہ تجربہ اور اس کا اظہار مختلف ہوتا ہے۔

Read more

کیا یونیورسٹی میں ہونے والی تحقیق ہمارے معاشرتی مسائل حل کرتی ہے

یونیورسٹی کا نام سنتے ہی انسان کے ذہن میں بہت بڑے اور عظیم تعلیمی ادارے کا تصور ابھرتا ہے۔ یورپ اور ایشیا کی ابتدائی تہذیبوں میں کوئی تعلیمی ادارہ نہیں ہوتا تھا۔ تعلیم استاد اور شاگرد کے رشتہ کے ذریعے ہی دی جاتی تھی۔ طالب علم استاد کے گرد جمع ہو جاتے تھے اور اس سے علم حاصل کرتے تھے۔ رومیوں کے زمانہ میں بھی تعلیمی اداروں کا ذکر ملتا ہے جہاں خصوصیت سے فن خطابت، گرامر، منطق اور قانون

Read more

کیا سائنسی ایجادات بھی روحانی فیض کا نتیجہ ہیں؟

اگر انسانی جسم پر غور کریں تو یہ جسم دو حصوں پر مشتمل ہے۔ ایک جسم خاکی ہے اور ایک جسم لطیف۔ جسم خاکی جسم کا وہ حصہ ہے جو بظاہر آپ کو نظر آتا ہے جس میں سارے جسمانی اعضا شامل ہیں۔ جسم لطیف وہ حصہ جو بظاہر نظر نہیں آتا لیکن سارا جسم اسی کی وجہ سے حرکت کرتا ہے۔ جسے عرف عام میں روح کا نام دیا جاتا ہے۔ آج کل کی سادہ زبان میں آپ جسم خاکی کو ہارڈ ویئر اور جسم لطیف کو سافٹ ویئر کہہ سکتے ہیں۔ اور کمپیوٹر کے لوگ جانتے ہیں کہ سافٹ وئیر کے بغیر ہارڈویئر کسی کام کا نہیں بلکہ بالکل ناکارہ ہے چاہے وہ کتنا بھی قیمتی کیوں نہ ہو۔

Read more

عقلمندوں کے اقوال کم عقلوں کے ہاتھ

دور حاضر میں علم کو سب سے بڑا خطرہ حوالہ جات کی عدم موجودگی سے ہے۔ تحقیق میں کوئی بھی بات اس وقت تک درست نہیں مانی جاتی جب تک کہ اس کا مناسب اور مکمل حوالہ ساتھ نہ لکھا جائے۔ آپ کوئی بھی ریسرچ پیپر پڑھ کر دیکھ لیں اس میں آپ کو محقق کی طرف سے دی گئی معلومات مکمل حوالہ جات کے ساتھ بیان کی گئی ہوتی ہیں۔ اگر کسی ریسرچ پیپر میں محقق کسی سائنس دان،

Read more

لمحوں میں بدلتی ہوئی زندگی

آپ کا موسم بہت خوشگوار ہے۔ زندگی ہنستی اور گنگناتی ہوئی محسوس ہورہی ہے۔ حسب معمول صبح صبح اٹھتے ہیں۔ بچے سکول جانے کی تیاری کر رہے ہیں، میرے والد صاحب تیار ہو کر ناشتہ کی میز پر آ چکے ہیں۔ میرے والد صاحب پچھلے چار سال سے ریٹائر زندگی گزار رہے ہیں مگر ان کی یہ عادت ہے کہ صبح صبح ناشتہ ہمارے ساتھ ہی کر لیتے ہیں۔ میری بیگم کچن میں ناشتہ تیار کر رہی ہے۔ میرے دونوں

Read more

زندگی ویسے نہیں رہے گی جیسے تھی

انسان جب سے اس کرہِ ارض پر آیا ہے تب سے ہی اسے کئی چیلنجز کا سامنا ہے۔ مختلف قسم کے حادثات، زلزلے، طوفان اور وبائی امراض کا سامنا کرتے کرتے آج کا ترقی یافتہ انسان اس دنیا میں موجود ہے۔ لیکن انسان کو اب بھی کئی طرح کی مشکلات کا سامنا رہتا ہے۔ ماضی قریب میں ہی انسان کئی وبائی امراض کا سامنا کر چکا ہے۔ موجودہ صدی میں پھیلنے والے کچھ وبائی امراض کا خلاصہ درج ذیل ہے۔

Read more

زندگی ویسے نہیں رہے گی جیسے تھی

انسان جب سے اس کرہِ ارض پر آیا ہے تب سے ہی اسے کئی چیلنجز کا سامنا ہے۔ مختلف قسم کے حادثات، زلزلے، طوفان اور وبائی امراض کا سامنا کرتے کرتے آج کا ترقی یافتہ انسان اس دنیا میں موجود ہے۔ لیکن انسان کو اب بھی کئی طرح کی مشکلات کا سامنا رہتا ہے۔ ماضی قریب میں ہی انسان کئی وبائی امراض کا سامنا کر چکا ہے۔ موجودہ صدی میں پھیلنے والے کچھ وبائی امراض کا خلاصہ درج ذیل ہے۔

Read more

عورت اور مرد کے جھگڑے سے باہر آئیے

یونانی فلسفی ارسطو نے انسان کی معاشرتی نوعیت کے بارے میں سختی سے کہا تھا: انسان فطری طور پر ایک معاشرتی جانور ہے۔ اگر کوئی فرد اتفاقی طور پر یا حادثاتی طور پر اس زمرے میں نہیں آتا تو پھر یا تو وہ انسان سے بہت اوپر کی کوئی چیز ہے یا پھر وہ انسان ہی نہیں۔ سماج میں رہتے ہوئے ایک نارمل انسان کو سماجی رویوں کا خیال رکھنا پڑتا ہے۔ عورت اور مرد نسلِ انسانی کی بقا کا

Read more

بدعنوانی ایک نفسیاتی خرابی ہے

آج کل وطنِ عزیز میں ہر طرف بدعنوانی اور کرپشن کا شور ہے۔ حکومتی ایوانوں سے لے کر مزدور اور چپڑاسی تک کرپشن کے راگ الاپ رہا ہے۔ حکومتی وزراء کبھی پچھلی حکومتوں کو بدعنوان کہتے ہیں تو کبھی قوم کے لوگوں کو ٹیکس چور۔ ویسے تو یہ اس ملک میں ایک روایت ہی چل نکلی ہے کہ ہر آنے والے حکومت ہر گزری حکومت کو بے ایمان، بدعنوان، نالائق اور ملک کی تباہی کا ذمہ دار ٹھہراتی ہے اور

Read more

کیا بے وفا لوگوں کی روح ہمیشہ بے چین رہتی ہے؟

جدید دور میں شاپنگ مال میں لگی ہوئی برقی سیڑھیاں میرے لیے ہمیشہ پریشانی کا باعث رہی ہیں۔ سچی بات تو یہ ہے کہ میں ان سیڑھیوں پر قدم رکھتے ہی ڈر جاتا ہوں اور مجھے یوں لگتا ہے کہ یہ سیڑھیاں مجھے پیچھے چھوڑ کر بہت آگے نکل جائیں گی۔ میں ہمیشہ لفٹ استعمال کرتا ہوں اور اگر لفٹ نہ ہو تو اپنے قدموں پر زور دے کر دوسری سیڑھیوں سے اپنے منزل مقصود پر پہنچ جاتا ہوں۔ پچھلے

Read more

خارجہ پالیسی کی کشتی کو کس گھاٹ باندھنا ہے؟

ہم پاکستانی بہت ہی عجیب قوم ہیں۔ بہت جلد لوگوں سے متاثر ہو جاتے ہیں۔ کبھی یک دم بہت ماڈرن اور کبھی انتہائی مذہبی ہو جاتے ہیں۔ کبھی مکہ مدینہ جانے کے لیے دل بیٹھا جا رہا ہوتا ہے تو کبھی امریکہ میں مستقل سکونت اختیار کرنے کی خواہش ہوتی ہے۔ ہر نماز میں شہادت کی موت کی دعا کرتے ہیں لیکن عملی زندگی میں کبھی اس کے لئے کوشش نہیں کرتے۔ بحیثیت عوام ہماری نفسیات میں کچھ چیزیں شامل

Read more

یہ قوم کبھی ٹھیک نہیں ہوسکتی

غلط اور ٹھیک کی جنگ دنیا میں ہمیشہ سے چلی آ رہی ہے۔ ہر وہ شخص جو غلط ہوتا ہے وہ اپنے آپ کو ٹھیک ہی سمجھتا ہے۔ اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ایک اوسط درجے کے آدمی کو کو کیسے پتہ چلے گا وہ غلط ہے یا ٹھیک۔ اس کے لئے دنیا میں کچھ معیار بنائے گئے ہیں۔ آسمانی مذاہب نے بھی ٹھیک اورغلط کی نشاندہی کی ہے اور اپنی کتابوں میں بتا دیا کہ فلاں چیز

Read more

انسان اور خدا

ڈاکٹر خالد سہیل صاحب کا مضمون ”آپ کو کتنا یقین ہے کہ خدا موجود ہے“ پڑھا۔ ڈاکٹر صاحب نے ماہر نفسیات اور انسان دوست ہونے کے ناتے انسان کو چھے گروہوں میں تقسیم کیا ہے۔ میں ڈاکٹر صاحب کی اس بات سے بالکل متفق ہوں۔ جہاں تک خدا کی موجودگی کا تعلق ہے اس بارے میں میرا خیال کچھ یوں ہے کہ خدا اور محبت میں ایک چیز مشترک ہے کہ وہ دونوں نظر نہیں آتے صرف محسوس کیے جا سکتے

Read more

خوبصورت بے رحم عورت اور روحانی سائنسدان

کیمسٹری میں ڈاکٹریٹ کرنے اور پچاس سے زائد تحقیقی مقالاجات چھاپنے کے بعد ہم سائنسدان تو بن بیٹھے مگر زندگی اور اس کی روح کو سمجھنے سے کو سوں دور تھے۔ انسانی زندگی میں دلچسپی اور سماجی رویوں کی وجہ سے میرے دوست اکثر کہا کرتے تھے کہ تم سائنس کے آدمی بالکل نہیں لگتے۔ لیکن ساری زندگی پڑھنے لکھنے میں گزری اور بچپن میں ماں باپ نے بھی بالکل برائلر مرغی کی طرح تربیت کی تھی۔ زندگی کو بس

Read more

رمضان، انسان اور شیطان

رمضان کا با برکت مہینہ گزرا۔ ماہ رمضان کے پہلے عشرے میں یوں لگ رہا تھا جیسے مہنگائی کا پہاڑ ٹوٹ پڑا ہو۔ بنیادی ضرورت کی ہر چیز کے نرخ آسمان سے باتیں کر رہے تھے۔ ایک متوسط طبقے کے لیے اِن بنیادی ضروریات ِ اشیاء کی خرید کسی بھی تکلیف سے کم نہ تھی اور آپ غریب طبقے کا اندازہ لگا سکتے ہیں کہ ان کا کیا حال ہو گا۔ تمام تاجر حضرات پہلے عشرے میں غیر معیاری اشیاء انتہائی مہنگے داموں فروخت کرتے ہیں۔ وہ چیزیں جو پورے سال میں نہیں بکتیں اس عشرے میں وہ تمام بِک جاتی ہیں اور تاجر منافع بھی کئی گنا زیادہ کما لیتے ہیں۔

Read more

ضرورت کا ہے ہر رشتہ، جسے زمانہ محبت پکارے

انسان فطری طورپر ایک سماجی جاندار ہے۔ وہ تنہا زندگی بسر نہیں کر سکتا۔ جنت سے نکالے گئے انسان کو فطرتا ً خوبصورت اور حسین چیزیں پسند ہیں۔ حضرت آدم ؑ اور حضرت حوا جب زمین پر آئے تو اِنہوں نے زندگی گزارنے کے لیے کئی چیزوں کی ضرورت محسوس کی۔ اللہ تعالیٰ نے بھی زمین پر آدم اور اولادِ آدم کی ضرورت تمام اشیاء مہیا کردیں تھی مگر ان کو تلاش کرنا اولادِ آدم کی ذمہ داری ٹھہری۔ ضرورت کے تحت انسان نے اشیاء کو تلاش کرنا شروع کیا اور اپنی ابتدائی ضروریات کو پورا کیا۔

Read more

علم و شعور خنجرکی نوک پر

انسان دنیا میں کبھی بھی تنہا وقت نہیں گزارتا، وہ کئی رشتوں ناطوں کے ساتھ جڑا رہتا ہے۔ان میں کچھ رشتے اور تعلق خونی ہوتے ہیں جبکہ بہت سے رشتے اور تعلق روحانی، اخلاقی اور معاشرتی طور پر بنتے ہیں۔ ان ہی میں سے ایک رشتہ استاد کا بھی ہے۔ استاد کو معاشرے میں روحانی باپ کا درجہ حاصل ہے۔ اسلام میں استاد کا رتبہ والدین کے رتبے کے برابر قرار دیا گیا ہے۔ کیونکہ یہ استاد ہی ہے جو

Read more

حصولِ علم کے لیے قسمت، محنت اور دولت کا کردار

انسان کی زندگی کا سب سے اہم مقصد اور فرض سمجھ بُوجھ حاصل کرنا ہے۔ اس مقصد کے لیے جو وہ کوشس کرتا ہے اسے تعلیم کہتے ہیں۔ یہ تعلیم روحانی، ذہنی اور جسمانی ہر طرح کی ہوتی ہے اور اس طرح ہم اشرف المخلوقات کے درجے تک پہنچتے ہیں۔ مذہبِ اسلام کی ابتدا بھی لفظ اِقراء (پڑھ) سے ہے۔ علم کا لفظی مطلب ہے جاننا، آگاہی، پہچان وغیرہ۔ اللہ تعالیٰ سورۃ الذہر آیت نمبر 9 میں فرماتا ہے،

اے نبی کہہ دیجیے کیا علم والے (عالم) اور بے علم (جاہل) برابر ہو سکتے ہیں۔

Read more

زندگی عشق و محبت سے جواں ہوتی ہے

زندگی کو آپ ایک جلیبی یا گول دائرے سے تشبہہ دے سکتے ہیں۔ اگر آپ کی زندگی جلیبی کی طرح ہے تو آپ کو زندگی میں کئی موڑ اور مشکلات کا سامنا ہو سکتا ہے اور اگر دائرے کی طرح ہے تو پھر کولہو کے بیل کی طرح چلتے جائیں، چلتے جائیں اور بس چلتے جائیں۔ لیکن دونوں صورتوں میں تھک ہار کر آنا آپ نے اپنے ابتدائی نقطہ پر ہی ہے جہا ں سے یہ زندگی شروع ہوئی تھی۔ انسان جب دنیا میں آتا ہے تو اس کا پہلا سا منا اپنی پیدا کرنے والی ماں سے ہوتا ہے۔

Read more

ہیں نمازیں میری سبھی پوری فرضِ انسانیت قضا ہوا ہے

زندگی کیا ہے! پیدائش اور موت کے درمیان گزرا ہوا ایک قلیل وقت۔ زندگی کی ابتدا بھی دوسروں کے سہارے ہے اور اختتام بھی دوسروں پر انحصار کرتا ہے۔ انسان پیدا ہونے کے بعد ماں کی گود سے لے کر زمیں پر چلنے تک ماں باپ پر انحصار کرتا ہے۔ مرنے کے بعد چار کندھوں پر قبرستان تک جانے کے لیے وہ لوگوں کا محتاج ہے۔ چار پاوّں سے چلنا سیکھنے والا انسان جن دو پاوّں پہ کھڑا ہو جا

Read more

تقدیر کے کھیل اور نصیبوں کی بارش

کچھ الفاظ اور دعائیں ایسی ہوتی ہیں جو ہمیں بظاہرکچھ خاص اہمیت کی حامل نہیں لگتی مگر دراصل اپنے اندر بہت گہرائی اور وسیع معنی رکھتی ہیں۔ تین الفاظ پر مشتمل ایک دعا جو اکثر ہم اپنے کسی عزیز کو اس کی نئی گاڑی یا مکان خریدتے وقت دیتے ہیں ’ اللہ نصیب کرے‘ اپنے اندر ایک زندگی کو سموئے ہوئے ہے۔ ایسا لگتا ہے جیسے یہ الفاظ ساری زندگی کا نچوڑ ہیں۔ انسان زندگی میں بہت محنت کرتا ہے

Read more

محبت کا کیمیائی فارمولہ

محبت ایک فطری جذبہ ہے۔ انسان کو اپنے ماں، باپ، بہن، بھائی،شریک حیات اور اولاد سے محبت ہوتی ہے۔ محبت ایک قدرتی عمل ہے جو کہ ہر جاندار میں نظر آتا ہے۔ اس کی دوسری طرف محبت کی ایک اور قسم ہے جو انسان کو جنسِ مخالف سے ہوتی ہے ، جسے ما ہرِ نفسیات کبھی محبت، کبھی حوّس اور کبھی پاگل پن کا نام دیتے ہیں۔ ہماری لوک داستانیں ہیر رانجھا، سسی پنوّں، لیلیٰ مجنوں، سوہنی ماہیوال اور مرزا

Read more

انسانی جسم میں موجود عناصر کی قیمت کتنی ہے

کبھی کبھی میں سوچتا ہوں کہ یہ زندگی، زندگی نہیں بلکہ ایک خواب ہے۔ ہماری اصل زندگی ولادت سے پہلے کہیں سرگرم عمل تھی اور مرنے کے بعد پھر مصروفِ عمل ہو جائے گی۔ جس طرح ایک مسافر کو جاتے جاتے نیند آ جاتی ہے اور وہ نیند میں ایک سہانا خواب دیکھنا شروع کر دیتا ہے، اِسی طرح چلتے چلتے ہمیں نیند نے آلیا اور ایک سہانا خواب شروع ہو گیا۔ اِسی خواب میں بیدار ہوئے، تعلیم پائی، ملازم

Read more