جنگل میں بسنے والا انسان گزرتے وقت کے ساتھ ساتھ تہذیب یافتہ ہوتا چلا گیا۔ جنگل میں رہنے والے جنگلی جانور اور درندوں سے بچنے کے لیے وہ نئے طریقے تلاش کرتا رہا۔ گزرتے وقت کے ساتھ ساتھ انسان نے ان جنگلی درندوں کے ساتھ رہنا اور ان سے بچاؤ کا طریقہ سیکھ لیا۔ جنگلی جانوروں کو ڈنڈے، لکڑی اور پتھر کے اپنے ہی بنائے ہوئے ہتھیاروں سے ڈرا کر انسان نے اپنے آپ کو ان درندوں سے محفوظ کر لیا۔ لیکن یہ حفاظتی انتظامات بھی وقت کے ساتھ ساتھ بدلتے رہے۔
جب انسان نے آگ جلانا اور اس پر قابو پانا سیکھ لیا تو یہ انسان کی ایک عظیم کامیابی تھی جس کو استعمال کرتے ہوئے انسان جنگلی درندوں اور جانوروں سے خود کو محفوظ سمجھنے لگا۔ آگ پر قابو اور اس کے استعمال نے انسان کو تمام دوسرے جانوروں کا حاکم بھی بنا دیا۔ پھر انسان نے اپنے آپ کو اور اپنے پیاروں کو ان جنگلی درندوں سے بچانے کے لئے گھر بنانے شروع کیے جو انسان اور جنگلی درندوں کے درمیان ایک حفاظتی بند کا کام کرتے تھے۔ گزرتے وقت کے ساتھ انسان نے جنگلی جانوروں اور درندوں سے الگ اپنی انسانی دنیا بسانا شروع کر دی۔ یہ انسان کی اپنی بنائی ہوئی تہذیب تھی جو وقت کے ساتھ ساتھ ترقی کرتی رہی۔ اپنی اس تہذیب یافتہ زندگی کے اصول و ضوابط میں انسان اپنے آپ کو جنگلی درندوں سے بالکل محفوظ سمجھنے لگا۔
Read more