سجو ٹھیکیدار، نواز شریف اور لاڈو کے ہمراہ شوگران تک

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

وہ سب کہے رہے تھے لاڈو آپ لوگوں کے ساتھ پاکستان کے شمالی علاقہ جات نہیں جا پائے گی مگر میں بضد ہی رہا کہ میں اپنی لاڈو کو ہر حال اپنے ہمراہ شمالی علاقہ جات لے جاؤں گا بڑوں مشکلوں سے دوست مانے کہ جیسے آپ کی مرضی لے چلیں لاڈو کو بھی ساتھ۔

یہ اٹھارہ جولائی دو ہزار انیس کی شام ہے۔ ہم تقریباً شام آٹھ بجے ڈیرہ غازیخان سے ناردرن ایریاز کے کچھ علاقوں کی سیر کے لئے روانہ ہوئے۔ میرے ساتھ میرا کزن دوست رمضان میرانی ایڈووکیٹ ان کے دوست عمران کھوسہ ایڈووکیٹ کے بی خان اور سجاد عرف سجو ٹھیکیدار بھی ہمراہ روانہ ہوئے دونوں وکیل ڈیرہ غازیخان ڈسٹرکٹ کورٹس میں پریکٹس کرتے ہیں۔ کے بی خان ایک بینک میں شعبہ سیلز سے وابستہ ہیں جبکہ سجو بھائی ایک پرائیویٹ ٹھیکیدار ہیں بندہ ناچیز شعبہ تعلیم و صحافت سے وابستہ ہے اور ہم سب کے ساتھ تھی ہماری لاڈو اور ہاں اب تک آپ سمجھ گئے ہوں گے کہ لاڈو کون ہے لاڈو ہماری چھوٹی سی مہران کار ہے جو ہمیں بہت عزیز ہے۔

فیصلہ یہ ہوا کہ بذریعہ موٹر وے جایا جائے کیونکہ وکیل دوست پہلے بھی کئی مرتبہ جا چکے تھے انڈس ہائی وے براستہ ڈیرہ اسماعیل خان اور مظفرگڑھ میانوالی ایم ایم روڈ دونوں سنگل سڑکیں ٹریفک کے بے ڈھنگے بہاؤ اور ٹوٹی پھوٹی ہونے کی وجہ سے مسترد کر دی گئیں سو ڈیرہ غازیخان سے ملتان کے لئے نئی تعمیر شدہ ڈوئل کیرج وے پر چل پڑے اس سڑک پر سفر شاندار رہا ڈیرہ ملتان روڈ کا منصوبہ کئی سال اٹکا رہا مسلم لیگ ن کے گزشتہ دور حکومت کے آخری سال میں اس کی تعمیر کا کام زور و شور سے شروع ہوا ستر فیصد تکمیل تک ہی پہنچا تھا کہ ن لیگ کی حکومت ختم ہو گئی اور یہ منصوبہ ایک بار پھر التوا کا شکار ہو گیا تاہم موجودہ حکومت کے دور میں دریائے سندھ دراہمہ کے نزدیک ہونے والے خوفناک حادثہ نے حکومتی زعماء کو جھنجھوڑ دیا اور سوشل میڈیا پر ایک منظم کمپین کے بعد ڈیرہ غازیخان سے تعلق رکھنے والے وزیر اعلیٰ سردار عثمان بزدار نے اس کا نوٹس لیا اور جلد سے جلد تکمیل کا حکم دیا سڑک مکمل ہو چکی ہے مگر کہیں کہیں فنشگ کا کام باقی ہے ہمارے سفر کا یہ حصہ شاندار رہا ملتان پہنچنے تک ہمارے وکیل دوست اس منصوبہ کو ن لیگ کے کھاتے میں ڈالتے رہے جبکہ ہمارے دوست سجو ٹھیکیدار اس کو عثمان خان کی کاوش کہتے رہے۔ ملتان سے عبدالحکیم انٹرچینج تقریباً سو کلومیٹر وہی پرانی طرز کی سنگل سڑک ہے وہی روایتی گڑھے اور جابجا سڑک پر کھڑا بارش کا پانی۔

نئی بنے والی فور لائین موٹروے ایم فور بلاشبہ سابق وزیراعظم نواز شریف کا جنوبی پنجاب کے لئے ایک بہت بڑا تحفہ ہے ایم فور کی کل لمبائی دو سو چھیاسی کلومیٹر ہے جبکہ یہ موٹر وے سکھر ملتان ایم فائیو موٹر وے جو ابھی زیرِ تعمیر ہے کو پنڈی بھٹیاں ایم ٹو اسلام آباد اور ایم تھری لاہور سے جوڑتی ہے۔ اس فور لائین موٹر وے پر بنے طعام و آرام گاہ پوائنٹس کو مزید اپ گریڈ کرنے کی ضرورت ہے ہم ایک پوائنٹ پر پیٹرول کے لئے رُکے وہاں صرف ایک جنرل سٹور ٹائپ ٹٓک شاپ تھی جس میں اوون تک موجود نا تھا جبکہ واش رومز کی تعداد بھی بہت کم تھی صفائی کے انتظامات انتہائی ناقص تھے اُس وقت مسجد کی ٹوٹیوں اور واش بیسن میں پانی تک موجود نا تھا موٹر وے اتھارٹی کو اس پر مزید توجہ دینے کی ضرورت ہے۔

پنڈی بھٹیاں انٹرچینج سے اسلام آباد سکس لائن موٹر وے پر سفر انتہائی شاندار رہا سفر کے دوران ہلکی ہلکی بوندا باندی ہوتی رہی مزے کی بات یہ ہوئی جب ہم لوگ صبح سویرے اسلام آباد کے قریب پہنچے تو ہمارے ٹھیکیدار دوست جو پی ٹی آئی سے ہمدردی رکھتے ہیں نے نعرہِ مستانہ بلند کیا کہ موٹر وے زندہ باد۔ اس نعرہ کے بعد جیسے گاڑی میں بھونچال آ گیا مجھے اپنے وکیل دوستوں کی طرف سے حکم ہوا کہ گاڑی سائیڈ پر روکیں۔ گاڑی رکتے ہی سارے نیچے اترے اور پھر بیچارے ٹھیکیدار کی شامت آ گئی۔ مطالبہ یہ تھا کہ سجو نے جس طرح موٹر وے زندہ باد کا نعرہ لگایا ہے اسی طرح موٹر وے بنانے والے نواز شریف زندہ باد کا نعرہ بھی لگایا جائے ورنہ اسے یہیں چھوڑ کے ہم چلتے ہیں ٹھیکیدار بھائی مرتا کیا نا کرتا مجبوراً اسے نواز شریف زندہ باد کا نعرہ لگانا ہی پڑا۔

مسلسل تیرہ گھنٹے کے طویل اور تھکا دینے والے سفر کے بعد ہم صبح ساڑھے نو بجے کے قریب ایبٹ آباد ناشتے کے لئے رُکے گو کہ پھیکے پھیکے سے ناشتے کے بعد ایک بار پھر ہم لوگ اپنے سفر پر روانہ ہوئے اس بار ڈرائیونگ رمضان خان کے ذمہ لگی تقریباً چار گھنٹے بعد ہم براستہ مانسہرہ، بالاکوٹ کیوائی پہنچے کیوائی میں ہمیں شدید ٹریفک جام کا سامنا کرنا پڑا اور شوگران کے راستے تک پہنچنے میں ہمیں مزید ایک گھنٹہ لگ گیا یاد رہے ہم نے رات کا سفر صرف اس لئے چُنا تھا کہ ایبٹ آباد کے رش آور ٹریفک بلاک سے بچ سکیں وہاں سے تو بچ گئے مگر کیوائی میں پھنس گئے۔

ہری پور، حویلیاں، ایبٹ آباد، مانسہرہ، بالاکوٹ، ناران، کاغان سے بابو سر ٹاپ اور چلاس تک روڈ تو بنا ہوا ہے مگر ہم اسے شاندار نہیں کہے سکتے اس روڈ پر بلاشبہ سیرو سیاحت کے لئے آنے والے لاکھوں سیاح سالانہ سفر کرتے ہیں اور یہاں کی اکانومی میں اضافہ کرتے ہیں ان کی مشکلات کو کم کرنے کے لئے ناران روڈ کم از کم ایکسپریس وے / ڈوئل کیرج وے کی طرز پر بننا چاہیے۔

کیوائی سے گاڑی جیسے ہی ہم نے شوگران ٹریک پر ڈالی ہمیں عجیب مضحکہ خیز صورت حال کا سامنا کرنا پڑا وہاں کھڑے ایک بزرگ نے ہمیں ہاتھ کے اشارے سے روکا اور ہنستے ہوئے طنزیہ لہجے میں کہا کہ یہ چھوٹی سی صابن دانی اوپر شوگران تک نہیں پہنچ پائے گی بہتر ہے آپ لوگ اسے نیچے کیوائی میں پارک کریں اور جیپ پر اوپر شوگران جائیں۔ ہماری لاڈو کو صابن دانی کہنے پر ہمیں شدید صدمہ ہوا اور ہم نے فیصلہ کیا کہ ہم ہر حال میں اپنی لاڈو پر ہی شوگران جائیں گے۔

گو کہ ہم اپنی بلوچی ضد پر اڑ تو گئے مگر شوگران کی خطرناک چڑھائی سڑک کی انتہائی خستہ حالی پتھر گڑھے پانی نے ہمیں چھٹی کا دودھ یاد دلا دیا تاہم آہستہ آہستہ رینگتے رُکتے ہم شوگران پہنچ ہی گئے۔ درختوں سے گھرے شوگران میں بادلوں اور بارش کے ساتھ شاندار موسم نے ہمارا استقبال کیا۔ ہم جیپ ڈرائیوروں کو فاتحانہ نظروں سے گھورتے ہوئے رہائش کے لئے کمرے کی تلاش میں ہوٹلوں کی جانب چل پڑے۔

شوگران سطح سمندر سے تئیس سو باسٹھ میٹر کی بلندی پر واقع پرفضاء پوائنٹ ہے شو کو ہندکو میں تندو تیز ہوا اور گراں کو گاؤں کہتے ہیں یعنی ایسی جگہ جہاں تیز ہواؤں کا راج ہو دوسری روایت میں شو کو خوبصورت کے معنوں میں لیا گیا ہے یعنی خوبصورت گاؤں شوگران پاکستان کے صوبہ خیبر پختون خواہ ضلع مانسہرہ میں واقع ہے آسمان کو چھوتے بلند درختوں سے گھرا یہ پر فضاء مقام تقریباً ہر وقت بادلوں سے گھرا رہتا ہے پہاڑی علاقوں کے موسموں کی طرح یہاں بھی اچانک بارش شروع ہو جاتی ہے اور اچانک ہی دھوپ نکل آتی ہے کیوائی سے شوگران تک کا سارا راستہ درختوں اور سبزے سے گھرا ہوا ہے بہت ہی خوبصورت جیپ ٹریک دونوں طرف سے سبزہ ہی سبزہ مختلف اقسام کے درخت۔

شوگران پہنچ کر ہمارے تین ساتھی ہوٹل کی تلاش میں پھیل گئے ہوٹلوں کے کرائے کافی حد تک زیادہ ہی تھے تاہم ٹھیکیدار سجو ایک اچھی لوکیشن پر مناسب قیمت میں کمرہ ڈھونڈنے میں کامیاب ہوگیا اس ہوٹل کی کچن بھی اپنی تھی یعنی رہائشی کمروں کے ساتھ، ساتھ ریسٹورنٹ بھی پارکنگ کی جگہ بھی اچھی ملی تقریباً دو بجے تک اپنے کمرے میں شفٹ ہونے کے بعد ہمارے وکیل دوست عمران کھوسہ نے بھوک، بھوک کا راگ الاپنا شروع کر دیا فیصلہ ہوا کہ شام و رات کا اکٹھے ہی کھایا جائے سب نے اپنے اپنے بیڈز پر قبضہ جمایا اور کھانے کی انتظار میں جیسے بیڈز پر ڈھے سے گئے شام پانچ بجے کھانا سرو ہوا کھانا بہت ہی شاندار تھا تاہم مہنگا بھی۔

کھانا کھانے کے بعد امیرِ سفر رمضان خان تو لمبی تان کے سو گیا جبکہ باقی ہم چاروں باہر نکل آئے محکمہ جنگلات کے بنائے ریسٹ کے بڑے گراسی پلاٹ میں جیسے میلا سا لگا تھا بچے بوڑھے خواتین سب خوب موج مستیاں کر رہے تھے ایک گروپ تو باقاعدہ ڈیک لگا کر بھنگڑا ڈال رہا تھا دو فیملیوں میں پتنگ بازی کا مقابلہ ہو رہا تھا بچے گھڑ سواری کے لئے بے تاب نظر آ رہے تھے جبکہ نوجوان جوڑوں کی کوشش تھی کہ وہ تھوڑا نیچے درختوں کے جنگل میں گم ہو جائیں۔

اور ہم جیسے چھڑے یہ سارے مناظر اپنی آنکھوں اور موبائل کیمروں میں محفوظ کرنے کی کوشش کر رہے تھے۔ اسی اثناء میں بغیر بادل گرجے بوندا باندی شروع ہوئی اور تیز ہوتی گئی۔ سب اپنی اپنی ہوٹلوں میں بھاگے جبکہ کپلز کی کوشش تھی کہ وہ ہوٹلز جانے کی بجائے درختوں کے نیچے ہی رُکے رہیں ہم بھاگم بھاگ ہوٹل کے ٹیرس پر جا بیٹھے اور چائے کا کہا اس دوران بارش بھی کچھ ہلکی ہوتی گئی چائے پینے کے بعد سب کمرے میں پہنچے اور کچھ دیر بعد سب کے ہاتھوں میں موبائل تھا اور وہ دنیا و مافیا سے گم موبائل میں کھو گئے۔

یہ بیس جولائی کی سُہانی صبح تھی شوگران آئے ہوئے ہمیں دوسرا دن تھا فیصلہ ہوا کہ شوگران کے نزدیک ایک اور پوائنٹ سری پائے جایا جائے۔ پائے شوگران سے تقریباً نو کلومیٹر کی دوری پر ہے اور ایک پرفضا مقام ہے یہاں سردی کی شدت شوگران سے بھی زیادہ ہوتی ہے شاندار موسم ہوتا ہے بلاشبہ پائے کو شوگران کا دل کہا جا سکتا ہے پائے سطح سمندر سے اٹھائیس سو پچانوے میٹر بلند ہے اس میں چھوٹی سی جھیل اور چھوٹا میدان بھی ہے جبکہ یہ مکڑا پہاڑ اور پربت پہاڑ سے گھرا ہوا ہے ہم لوگ صبح تقریباً ساڑھے دس بجے بذریعہ جیپ سری پائے روانہ ہوئے بیس پچیس منٹ کا راستہ انتہائی دشوار گزار تھا جیپ کے سفر نے سارے کس بل نکال دیے راستے میں کائل چیل پرتل سمیت دیگر درخت سر اٹھائے کھڑے تھے دونوں طرف سبزہ ہی سبزہ اور درمیان میں پگڈنڈی سری سے گزر کر ہم پائے پہنچے اور سیدھا جھیل میدان سے ہوتے ہوئے مکڑا پہاڑ کے قریبی چھوٹے سے گلیشئر تک پہنچنے کی کوشش کی جیپ اڈے سے پہاڑی پر جیسے میلا لگا ہوا تھا پگڈنڈی کے دونوں طرف خیمہ نما چائے کے ڈھابے بنے ہوئے ہیں ساتھ ہی ٹینٹوں کے نیچے کرسیاں اور بینچز لگے ہوئے ہیں سٹالز میں چائے کافی فروٹس سمیت دیگر اشیاء میسر ہیں جبکہ لاہوری ناشتہ بھی میسر ہے ہم اسی بازار نما پگڈنڈی سے ہوتے ہوئے نیچے میدان میں پہنچے یہاں نوجوانوں کا ایک پورا جتھا کرکٹ کھیلنے میں مصروف تھا مختلف فیملیاں وہاں انجوائے کرنے کے لئے موجود تھیں بچے خصوصاً گھڑ سواری پر مصروف تھے یہاں بازار اور نیچے گھوڑوں کی لید کی ناخوشگوار بو پھیلی ہوئی تھی اس بو سے بچنے کے لئے ہم مکڑا پہاڑ اور گلیشئیر کی طرف روانہ ہوئے مگر لمبے ٹریک کی وجہ سے ساتھیوں نے مزید آگے جانے سے انکار کر دیا مجبوراً وہاں کچھ دیر بیٹھ گئے بادل آنکھ مچولیاں کر رہے تھے کبھی دھوپ اور کبھی بادل تھوڑی دیر بیٹھنے اور آرام کرنے کے بعد ہم نے واپسی کی راہ لی اور سری پوائنٹ پر رُک گئے۔

سری، پائے کے راستے میں آنے والا ایک چھوٹا سا پوائنٹ ہے جو پچیس سو نوے میٹر بلند ہے یہاں ایک تالاب نما چھوٹی سی جھیل بھی موجودہ ہے ایک ڈھابہ اور ایک ڈرنک کارنر یہ پوائنٹ چاروں طرف پہاڑیوں اور سبزے سے گھرا ہوا ہے ہم تھوڑا سا آگے گئے تو ایک کاٹیج نما خوبصورت سی بیٹھک نظر آئی جہاں ایک بچی شاید اپنا ہوم ورک کر رہی تھی ہم نے اس بچی سے اجازت لے کر تصویر بنائی اور بچی سے اس کی تعلیم کے متعلق پوچھا بچی نے بتایا وہ چھٹی کلاس کی طالبہ ہے اس اثناء میں دوستوں کی آوازیں آنے لگیں کہ جلدی آو تھک چکے ہیں واپس بھی جانا ہے ہم واپسی کے لئے جیپ پر بیٹھے اور شوگران ہوٹل پہنچ گئے پائے جیسے خوبصورت مقام کے ٹریک پر گھوڑوں کی لید کی بدبو پھیلی ہوتی ہے انتظامیہ کو چاہیے کہ اس جنت نظیر جگہوں کو ایسی آلائشوں سے پاک کرے۔

ہماری سری پائے سے واپسی پر شوگران میں بادل چھائے ہوئے تھے ہوٹل پہنچنے پر فریش ہوئے کھانا کھایا اور پھر باہر گھومنے نکلے تھوڑی دیر بعد ہی پھر بارش نے آ لیا تھکے ہوئے تو ویسے ہی تھے اسی بہانے کمرے میں پہنچے شام کی چائے کمرے میں ہی پی گئی سب بل ادا کیے گئے یوں تو ہوٹل کی طرف سے فراہم کیا جانے والا کھانا اچھا ہی ہوتا تھا مگر قیمتیں کچھ زیادہ تھیں بہرحال جنت جیسی جگہ پر تھوڑی مہنگائی اتنی بھی بری نہیں لگی چائے پینے کے بعد امیرِ کارواں رمضان خان نے حکم دیا کہ سب لوگ اپنی پیکنگ مکمل کر کے سوئیں کیونکہ ہم لوگ صبح ہی صبح رش سے بچنے کے لئے ناران جائیں گے وہاں کسی ہوٹل میں کمرہ لے کر سیدھا بابوسر ٹاپ نکل جائیں گے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
بلال میرانی کی دیگر تحریریں
بلال میرانی کی دیگر تحریریں