عمران ٹرمپ ملاقات: نتیجہ کیا نکلے گا؟

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

گزشتہ شب واشگٹن کے کیپیٹل ون ایرینا میں ہزاروں پرجوش پاکستانی امریکی شہریوں سے خطاب کے بعد آج رات وزیر اعظم عمران خان نے وہائٹ ہاؤس میں صدر ڈونلڈٹرمپ سے ملاقات کی اور اوول آفس میں گھنٹہ بھر باہمی دلچسپی کے امور پر تبادلہ خیال کیا۔ میڈیا سے باتیں کرتے ہوئے دونوں لیڈروں نے پاک امریکہ تعلقات میں بہتری کی امید ظاہر کی ہے ۔
اس موقع پر بھی صدر ٹرمپ نے ماضی میں پاکستان کے کردار کو ناقابل قبول اور غلط قرار دیتے ہوئے کہا کہ اب پاکستان امریکہ کی بہت مدد کررہا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ ’ امن کے ذریعے پاکستان مستقبل میں افغانستان میں لاکھوں جانیں بچانے کا سبب بنے گا‘۔ اس کے ساتھ ہی صدر ٹرمپ نے ایک بار پھر اپنے مخصوص انداز میں دعویٰ کیا کہ ’امریکہ چاہے تو دس دن میں افغانستان کو ملیا میٹ کر سکتا ہے اور یہ جنگ ختم کر سکتا ہے۔ لیکن میں ایسا نہیں کرنا چاہتا‘۔ پاکستانی وزیر اعظم نے اس موقع پر کہا کہ پاکستان جو وعدہ کرے گا اسے پورا کیا جائے گا۔ افغانستان میں جنگ مسئلہ کا حل نہیں ہے‘۔ انہوں نے اس بات پر خوشی کا اظہار کیاکہ صدر ٹرمپ بھی اس مسئلہ کو مذاکرات کے ذریعے حل کرنا چاہتے ہیں۔
اس طرح اوول آفس میں ہونے والی ملاقات اور میڈیا سے گفتگو میں طالبان کے ساتھ مذاکرات ہی اہم ترین موضوع تھا۔ اسی حوالے سے بات کرتے ہوئے صدر ٹرمپ نے پاکستان کی عسکری امداد بحال کرنے اور وہاں امریکی سرمایہ کاری میں دس گنا اضافہ کرنے کی بات بھی کی۔ تاہم میڈیا سے دونوں رہنماؤں کی باتوں سے یہ عیاں تھا کہ پاک امریکہ تعلقات کا انحصار طالبان سے کے ساتھ امریکی مذاکرات کی کامیابی پر ہے۔ اس حوالے سے بعد میں وہائٹ ہاؤس کے کمیٹی روم میں ورکنگ لنچ کے دوران تفصیل سے بات چیت کی گئی۔ اسی دوران ممکنہ طور پر پاکستان نے بھی اپنے ’مطالبات یا خواہشات ‘ کی فہرست صدر ٹرمپ کے سامنے رکھی ہوگی اور ٹرمپ انتظامیہ نے بھی پاکستان کو واضح الفاظ میں بتایا ہوگا کہ وہ پاکستانی حکومت سے کس قسم کے تعاون اور مدد کی خواہشمند ہے۔
وہائٹ ہاؤس کے کمیٹی روم میں ہونے والی بات چیت میں پاک فوج کے سربراہ جنرل قمر جاوید باجوہ بھی شریک ہوئے ہیں۔ اس لئے پاکستانی مؤقف کے علاوہ اس موضوع پر بھی تفصیل سے بات ہوئی ہوگی کہ پاکستان افغان طالبان کو امریکہ کے مطالبات ماننے پر کس حد تک راضی کرنے کی پوزیشن میں ہے۔ البتہ میڈیا سے باتیں کرتے ہوئے پاکستانی وزیر اعظم نے یہ تاثر دینے کی کوشش ضرور کی ہے کہ پاکستان ، افغانستان میں امن کے معاملہ میں بہت سنجیدہ ہے اور اس سلسلہ میں حتی الامکان تعاون فراہم کرے گا۔ کیوں کہ عمران خان کا دعویٰ ہے کہ وہ اس وقت سے مذاکرات کو مسئلہ کا حل قرار دے رہے ہیں جب طالبان کو ختم کرنے کے لئے جنگ جوئی عروج پر تھی۔ ان کے خیال میں امریکہ نے اب وہی طریقہ اختیار کیا ہے جس کی طرف وہ کئی برسوں سے اشارہ کررہے تھے۔
البتہ افغان طالبان کے ساتھ پاکستان کے مراسم کے حوالے سے پاکستان کی سویلین حکومت کا اثر و رسوخ محدود ہے۔ پاکستان کے عسکری اداروں کے ساتھ افغان طالبان کے تعلقات اور روابط کے بارے میں کسی کو کوئی شبہ نہیں ہے لیکن ان کی نوعیت کا اندازہ کرنا بھی آسان نہیں ہے۔ واشنگٹن میں ہونے والی بات چیت دراصل تیسرے فریق کے بارے میں ہوئی ہے۔ امریکہ سمجھتا ہے کہ پاک فوج اس حد تک طالبان کو دباؤ میں لا سکتی ہے کہ وہ افغان حکومت کو مذاکرات کا فریق بنالیں تاکہ موجودہ آئینی انتظام کو تسلیم کروانے کے بعد امریکی افواج نکالنےکے معاملہ پر اتفاق رائے ہوسکے۔ طالبان اگر افغانستان کے موجودہ آئینی ڈھانچہ کو تسلیم کرنے سے انکار کرتے ہیں تو دوحہ میں ہونے والے مذاکرات کسی حتمی نتیجہ پر نہیں پہنچ سکتے۔ اس حوالے سے امریکہ اور طالبان کے نقطہ نظر میں بنیادی فرق ہے۔ امریکہ افغانستان میں مسلط کئے گئے آئینی انتظام کو تسلیم کرواکر وہاں امن کا خواہشمند ہے۔ یہ مقصد حاصل کئے بغیر وہاں سے انخلا کو امریکہ کی شکست سے تعبیر کیا جائے گا۔ یہ ان تمام اصولوں کی نفی بھی ہوگی جن کا نعرہ لگاتے ہوئے امریکہ نے افغانستان پر جنگ مسلط کی تھی۔
اس امریکی مؤقف کے برعکس افغان طالبان، امریکہ کے ساتھ اپنے ملک پر قابض فوج کے طور پر مذاکرات کررہے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ امریکہ اپنی افواج وہاں سے نکال لے۔ اس کے بعد افغان عوام فیصلہ کریں گے کہ کہ کابل میں کیسی حکومت قائم کی جائے۔ اس مؤقف کو تسلیم کرنے کی صورت میں امریکہ درحقیقت 2001 میں افغانستان میں قائم طالبان حکومت کو جائز تسلیم کرلے گا۔ ان خطوط پر ہونے والا کوئی معاہدہ افغانستان میں امریکہ کا ساتھ دینے والے تمام عناصر کی سیاسی شکست کا سبب بھی بنے گا اور اس خطے میں امریکہ کے طویل المدت مفادات کو شدید زک پہنچائے گا۔ امریکہ کا خیال ہے کہ پاکستان نے ہمیشہ افغان طالبان کو عسکری امداد فراہم کی ہے اور افغانستان سے بھاگنے والے طالبان رہنماؤں اور خاندانوں کو بھی اپنے ملک میں پناہ دے رکھی ہے۔ اس لئے طالبان قیادت پاکستان کے کہنے پر امریکی شرائط مان لے گی۔ دوسری طرف پاکستان کا مؤقف رہا ہے کہ وہ طالبان کو ہر مطالبہ ماننے پر مجبور نہیں کرسکتا۔ وہ خود مختارانہ رائے رکھتے ہیں اور اپنے ملک کے مستقبل کے حوالے سے خود ہی فیصلہ کرنے کے مجاز ہیں اور آزادی سے اس حق کو استعمال بھی کرتے ہیں۔ یہ بات کسی حد تک درست بھی ہے۔ پاکستان کا کوئی لیڈر طالبان کی طرف سے کوئی وعدہ کرنے اور افغانستان میں ایک خاص طرح کا حل مسلط کرنے کا نہ ہی وعدہ کرسکتا ہے اور نہ ہی اس کا متحمل ہو سکتا ہے۔
دوسری طرف پاکستان، امریکہ کی طرف سے عسکری امداد کی بحالی کے علاوہ مختلف عالمی فورمز پر امریکہ کے سفارتی تعاون کا خواہشمند ہے۔ لیکن یہ تعاون بنیادی طور پر افغان مذاکرات میں پیش رفت کے معاملہ سے جڑا ہؤا ہے۔ صدر ٹرمپ کی خوشگوار اور گرمجوش باتوں کو اسی تناظر میں دیکھنے کی ضرورت ہے۔ صدر ٹرمپ کسی ملک یا شخصیت کے بارے میں بڑے بڑے اسمائے صفت استعمال کرنے کے عادی ہیں۔ وہ ایک موقع پر کسی کی تعریف کرنے کے بعد دوسرے موقع پر اسے مسترد کرنے میں دیر نہیں لگاتے۔ عمران خان کی قیادت میں پاکستانی وفد امریکہ کے ساتھ سرد مہری ختم کرنے کی خواہش لے کر واشنگٹن گیا ہے۔ باتوں اور ایک دوسرے کی توصیف کی حد تک تو یہ سرد مہری ختم ہوتی دکھائی دیتی ہے۔ عمران خان کی ٹرمپ سے ملاقات اس لحاظ سے بھی ایک اہم پیش رفت ہے کہ بھارت اپنے طور پر پاکستان اور امریکہ کے تعلقات میں رخنہ ڈالنے کی کوشش کرتا رہا ہے۔ لیکن طالبان کے ساتھ معاہدہ کی خواہش میں امریکی صدر نے مودی حکومت کی توقع کے برعکس پاکستانی وزیر اعظم سے ملاقات کا فیصلہ کیا تھا۔ یہ بلاشبہ بڑی سفارتی کامیابی ہے لیکن ملاقات کے بعد پاکستان کو امریکہ کی بعض ضروریات پوری کرنے کے لئے کچھ کرکے دکھانا ہوگا۔
پاکستان اپنی تمام تر خواہش کے باوجود اگر طالبان کے ساتھ مذاکرات میں کوئی ڈرامائی پیش رفت کروانے میں کامیاب نہیں ہوتا تو صدر ٹرمپ اسے پاکستان کی ’بدنیتی‘ قرار دیتے دیر نہیں لگائیں گے۔ جیسا کہ آج کی ملاقات میں بھی انہوں نے واضح کیا کہ ’ پاکستان نے ماضی میں امریکی لیڈروں کی عزت نہیں کی۔ میرا خیال ہے کہ پاکستان افغانستان میں امن کے لئے بہت کچھ کرسکتا تھا لیکن اس نے ایسا کچھ نہیں کیا۔ شاید اس کی وجہ یہ تھی وہ غلط امریکی صدور سے ڈیل کررہے تھے۔ لیکن اب پاکستان افغانستان میں امن کے لئے بہت مدد کررہا ہے‘۔ امریکی صدر کی گفتگو کا یہ انداز پاکستانی وزیر اعظم کے طریقہ گفتگو سے مختلف نہیں ہے جو ناکامیوں کی ذمہ داری ماضی کی حکومتوں پر ڈال کر یہ بتانے کی کوشش کررہے تھے کہ اب امریکہ میں چونکہ ٹرمپ کی حکومت ہے ، اس لئے پاکستان بھی ’بھیگی بلی‘ بن گیا ہے۔ حسب منشا اور جلد نتیجہ سامنے نہ آنے کی صورت میں ایسا خود پسند لیڈر پاکستان جیسے کمزور ملک کے خلاف کسی بھی قسم کا انتہا پسندانہ اور خطرناک رویہ اختیار کرسکتا ہے۔
پاکستانی قیادت امریکہ کے موجودہ دورہ سے وسیع تر سفارتی ، اسٹریجک اور معاشی مفادات کی توقع رکھتی ہے۔ صدر ٹرمپ نے میڈیا سے گفتگو میں بظاہر گرمجوشی کامظاہرہ کیا ہے اور امکانات کی طرف اشارہ بھی کیا ہے لیکن اس ملاقات کے نتیجہ میں امریکی اہداف محدود جبکہ پاکستان کی ضرورتیں اور توقعات زیادہ ہیں۔ ان دونوں میں توازن کا کوئی راستہ ہی اس بات کا تعین کرسکے گا کہ یہ دورہ کتنا کامیاب رہا ۔ یہ بات واضح ہے کہ پاکستان اور امریکہ ماضی جیسے دوست اور حلیف نہیں بن سکتے ۔ اب یہ رشتہ ٹھوس لین دین پر استوار ہے۔
صدر ٹرمپ تاجرانہ ذہنیت کے حامل ہیں۔ ان کا مؤقف بھی صاف ہے۔ امریکہ اگر کچھ کرے گا تو اسے بدلے میں کیا ملے گا۔ عمران خان اور جنرل قمر جاوید باجوہ سے بھی یہی بات کہی گئی ہوگی۔ آنے والا وقت بتائے گا کہ امریکہ کا تعاون لینے کے لئے پاکستانی لیڈر کیا پیشکش کرکے آئیں گے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

سید مجاہد علی

(بشکریہ کاروان ناروے)

syed-mujahid-ali has 1260 posts and counting.See all posts by syed-mujahid-ali