تاریخی اور کامیاب دورہ امریکہ

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

ایک تو ہماری یاداشت کمزور ہے۔ دوسرا تعصب کی پٹی ہمیں اپنے پسندیدہ سیاستدان سے آگے کچھ دیکھنے بھی نہیں دیتی۔

دورہ امریکہ کے دوران نہ عمران خان کی شکوار قمیض کوئی انوکھا واقعہ ہے نہ آرمی آفیسرز کا وزیراعظم کے ساتھ دورے پہ جانا کوئی اچنبھے کی بات ہے۔ نہ ہی کشمیر پر ثالثی کی امریکی پیشکش کوئی عظیم معجزہ ہے۔

زرداری صاحب شلوار قمیض کے اوپر بلوچی پگڑی پہنے بی بی کے ساتھ اسی وائٹ ہاؤس میں جا چکے ہیں۔

“اسٹبلشمنٹ مزاحم” نوازشریف تک جرنیلوں کے جلو میں ایک ہی جہاز میں دورے فرمایا کرتے تھے۔

کشمیر پر ثالثی کی پیشکش بہت دفعہ ہو چکی، ہم سفارتی کامیابی کا ڈھول پیٹتے ہیں اورانڈیا پیشکش کرنے والوں کو کھری کھری سنا دیتا ہے۔ ڈھول کی اسی آواز میں پاکستانیوں کے کان تک انڈیا کی طرف سے ثالثی رد کر دیئے جانے کی آواز پہنچ نہیں پاتی۔ کھیل ختم، پیسہ ہضم وہ اپنے گھر خوش، ہم اپنی جگہ مطمئن۔

عمران خان کا دورہ بھی اتنا ہی “تاریخی اور کامیاب “رہنے کی توقع ہے جتنا پچھلی کئی دہائیوں سے ہر سربراہ حکومت کا ہوتا آیا ہے۔ شاید چند ملین ڈالرز، کشمیر ثالثی کا لالی پاپ اور پاکستان ہمارا اتحادی، دہشت گردی کے خلاف قربانیاں سراہنے جیسی باتیں کر کے امریکہ بہادر جو چاہ رہا ہے، اپنا الو سیدھا کر لے گا۔ باقی دو چار ہفتوں میں کسی سینیٹر کا بیان آ جائے گا، ٹرمپ کی ٹویٹ بھی آ سکتی ہی کہ پاکستان دہشت گردی کو فروغ دے رہا ہے،آئندہ اسے امداد نہ دی جائے۔ہم پھر وضاحتوں پہ اتر آئیں گے۔

تنزلی آپ خود ملاحظہ کرلیں کہ ہم جنرل ایوب خان کی ویڈیوز دیکھ دیکھ خوش ہوتے رہتے ہیں کہ انہیں جان ایف کینیڈی نے ریڈ کارپٹ پروٹوکول دیا تھا۔ لیکن قومی طور پر اپنے گریبان میں جھانک کر اندازہ لگانا مشکل نہیں کہ اس عرصے میں ہم نے کیا کھویا کہ اب کسی وزیراعظم کے کپڑے اتروا لئے جاتے ہیں تو کسی کو کوئی سینیٹر بھی لینے نہیں آتا۔ ہم باہم دست و گریبان ہیں کہ میرے لیڈر کا استقبال زیادہ شاندار تھا یا آپ کے لیڈر نے پرچی پکڑی تھی۔ فلاں ٹرین میں بیٹھا تھا اور فلاں کو لینے لیموزین آئی تھی۔

شاہ محمود قریشی صاحب اس بات پہ خوش ہیں کہ ٹرمپ نے پاکستانیوں کو عظیم قوم کہہ دیا ہے۔ لگتا ہے اب صرف وہی قوم عظیم کہلایا کرے گی جسے امریکن عظیم کہا کریں گے۔ بھولے بادشاہو قوم عظیم ہو تو اسے کسی کے سرٹیفیکیٹ کی ضرورت نہیں پڑا کرتی۔ اپنے آپ میں گن پیدا کرو نہ کہ ٹرمپ کے سرٹیفیکیٹ کی بدولت عظیم سمجھ کر خوش رہو۔

اپنی صلاحیتیں ہوں گی، جرم ضعیفی سے چھٹکارا مل جائے گا، کشکول ٹوٹ جائے گا، تو نہ ملاقات کے لئےکسی عربی کی سفارش کی ضرورت ہوگی، نہ کسی گورے کے سرٹیفیکیٹ کی، نہ کسی بیان کی اور نہ ہی کسی خاص لباس کی۔

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •