عمران خان خاموش رہے، عمران کیا بولتے؟

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

وزیر اعظم عمران خان نے وہائٹ ہاؤس کے دورہ کے بعد صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی فراخدلانہ میزبانی کا شکریہ ادا کیا ہے اور کہا ہے کہ ’میں صدر ٹرمپ کو یقین دلانا چاہتا ہوں کہ پاکستان افغان امن معاہدہ کے لئے ہر ممکن کوشش کرے گا۔ چالیس سال کی جنگ کے بعد امن افغان عوام کا حق ہے‘۔ اس کے ساتھ ہی انہوں نے کشمیر میں ثالثی کے لئے امریکی صدر کی پیشکش کو اہم قرار دیا اور اس پر بھارتی حکومت کے رد عمل پر حیرت کا اظہار کیا ہے۔

پاکستانی وزیراعظم نے بھارتی حکومت کی طرف سے امریکی ثالثی کی پیشکش مسترد کرنے اور اس بات پہ شور مچانے پر بھی حیرت کا اظہار کیا ہے کہ وزیر اعظم نریندر مودی نے صدر ٹرمپ سے خود ثالث کا کردار ادا کرنے کی خواہش ظاہر کی تھی۔ عمران خان کا کہنا ہے کہ ’کشمیریوں کی کئی نسلیں اس تنازع کی وجہ سے مصائب کا شکار رہی ہیں۔ اس مسئلہ کی وجہ سے ستر برس سے برصغیر یرغمال بنا ہؤا ہے‘۔  بھارتی حکومت نے صدر ٹرمپ کے اس دعویٰ کو سختی سے مسترد کیاہے کہ بھارتی وزیر اعظم نے کسی موقع پر امریکی ثالثی کی خواہش ظاہر کی تھی۔ بھارتی وزیر خارجہ سبرامنیم جے شنکر نے لوک سبھا میں بیان دیتے ہوئے واضح کیا ہے کہ بھارت اصولی طور پر دو ملکوں کے تعلقات میں تیسرے ملک کی ثالثی کے خلاف ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان اور بھارت کے درمیان مذاکرات صرف سرحد پار سے دہشت گردی ختم ہونے کی صورت میں ہی شروع ہوسکتے ہیں۔

امریکی صدر نے گزشتہ روز وہائٹ ہاؤس میں عمران خان کا استقبال کرتے ہوئے پیش کش کی تھی کہ وہ تنازعہ کشمیر میں ثالثی کے لئے تیار ہیں ۔ انہوں نے کہا تھا کہ ’ میں دو ہفتے پہلے وزیر اعظم نریندر مودی سے ملا تھا۔ ہم نے اس موضوع پر بات کی تھی۔ اس موقع پر درحقیقت انہوں نے خود پوچھا تھا کہ ’کیا آپ ثالث بننا پسند کریں گے‘۔ میں نے پوچھا کہ ’کہاں؟‘ تو انہوں نے کہا کہ ’کشمیر‘ کیوں کہ یہ تنازعہ بہت برسوں سے چلا آرہا ہے‘۔ میں یہ جان کر حیران ہؤا کہ یہ کتنا پرانا مسئلہ ہے۔ میں سمجھتا ہوں کہ وہ (بھارت) چاہتا ہے کہ مسئلہ حل ہوجائے۔ آپ بھی یہ مسئلہ حل کرنا چاہتے ہیں۔۔۔ اگر میں مدد کرسکتا ہوں تو میں ثالث بننے کو تیار ہوں‘۔ اگرچہ بھارت میں صدر ٹرمپ کے اس بیان پر سیاسی طوفان برپا ہے اور بھارتی میڈیا پرجوش طریقہ سے صدر ٹرمپ کو ’جھوٹا‘ قرار دینے کی کوشش کر رہا ہے تاہم خود پر ہونے والی تنقید کا فوری ٹویٹ کے ذریعے تلخ اور سخت جواب دینے کی شہرت رکھنے والے ڈونلڈ ٹرمپ نے ابھی تک بھارتی رد عمل پر خاموشی اختیار کی ہے۔

عمران خان نے صدر ٹرمپ کی طرف سے ثالثی کی پیشکش پر خوشی و اطمینان ظاہرکرتے ہوئے گزشتہ روز وہائٹ ہاؤس میں میڈیا گفتگو کے دوران کہا تھا کہ ’اگر صدر ٹرمپ کشمیر کا تنازعہ حل کروا دیں تو وہ ایک ارب لوگوں کی دعا لیں گے‘۔ ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ امریکہ ہی دنیا کا ایسا طاقت ور ملک ہے جو پاکستان اور بھارت کے درمیان اس معاملہ کو حل کروانے میں کردار ادا کرسکتا ہے۔ وزیر اعظم کی خوشی اس حوالے سے بھی قابل فہم تھی کہ پاکستان تنازعہ کشمیر کو کسی تیسرے فریق کی مدد سے حل کرنے پر زور دیتا آیا ہے جبکہ بھارت نے ہمیشہ اس کی مخالفت کی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ پاکستان میں صدر ٹرمپ کی پیشکش پر مثبت رد عمل سامنے آیا اور حکومتی نمائیندوں کے علاوہ تبصرہ نگاروں نے بھی اسے عمران خان کی بڑی کامیابی قرار دیا۔

بھارت کی جانب سے ٹرمپ کے مؤقف کی فوری تردید اور آج بھارتی لوک سبھا میں ہونے والے شدید ہنگامہ کے باوجود پاکستان کے متعدد تجزیہ نگاروں کا خیال ہے کہ کوئی امریکی صدر کسی بنیاد کے بغیر اس قسم کا بیان جاری نہیں کرسکتا۔ اس لئے پاکستان کی حد تک یہ سمجھا جا رہا ہے بھارت اگرچہ سیاسی فیس سیونگ کے لئے تردید کرے گا لیکن اگر صدر ٹرمپ نے سنجیدگی سے بھارتی حکومت پر یہ تنازعہ حل کرنے کے لئے دباؤ ڈالا تو بھارت کو پاکستان کے ساتھ مذاکرات شروع کرنا پڑیں گے۔ پاک بھارت تعلقات کے موجودہ پس منظر میں یہ بہت بڑی سفارتی اور سیاسی پیش رفت ہوگی۔ اس قسم کی کامیاب تبدیلی کا عمران خان کو مشکل اقتصادی حالات اور حکومت کی ناکام معاشی پالیسی کے باوجود کافی سیاسی فائدہ ہو سکتا ہے۔ تاہم اس حوالے سے یہ دیکھنا ضروری ہوگا کہ امریکہ اچانک کیوں بھارت جیسے حلیف پر ایک ایسے سوال پر دباؤ ڈالے گا جس کا براہ راست اس کے اپنے مفادات سے کوئی تعلق نہیں۔

اس سوال کا ایک جواب یہ ہے کہ امریکہ افغانستان سے نکلنے کے لئے بڑی سے بڑی قیمت ادا کرنے کے لئے تیار ہے۔ صدر ٹرمپ کو آئندہ برس دوبارہ انتخاب کا سامنا ہے اور انہیں بظاہر افغانستان سے نکلنے کی جلدی بھی ہے۔ اس لئے اگر پاکستان طالبان پر اپنے اثر و رسوخ کی وجہ سے افغانستان سے امریکی فوجوں کے انخلا کو ممکن بنانے میں کامیاب ہوجائے تو امریکہ بھی اس کے بدلے میں کشمیر کے تنازعہ میں سرگرم اور مؤثر کردار ادا کرنے پر تیار ہوگا۔ یہ صورت حال خوش کن اور کسی حد تک ممکن ہونے کے باوجود عملی طور سے قابل عمل نہیں کہی جا سکتی۔ بھارت ایک بڑا اور خود مختار ملک ہے۔ اس پر امریکی دباؤ کسی حد تک ہی کارگر ہوسکتا ہے۔ کشمیر ہو یا اس علاقے میں تنازعات کی دیگر وجوہات، ان کا حل کھوجنے کے لئے پاکستان اور بھارت کو خلوص نیت سے خود ہی کوشش کرنا ہوگی۔ اس خطہ کے حکمران جب تک امن کو مقصد اور اپنے عوام کی بہبود و خوشحالی کو منزل نہیں سمجھیں گے، باہمی سیاسی پوائینٹ اسکورنگ کے لئے عوام کو بے وقوف بنانے کا سلسلہ جاری رہے گا۔ اس صورت میں دنیا کی واحد سپرپاور کا سربراہ خواہش کے باوجود کوئی کردار ادا کرنے کے قابل نہیں ہوگا۔

کشمیری عوام کے حق خود اختیاری کا معاملہ شاید ابھی کئی منزل آگے کی بات ہے۔ فوری طور پر تو مقبوضہ وادی میں انسانی حقوق کی پامالی کو روکنا بنیادی انسانی ضرورت ہے۔ انسانی زندگی اور بنیادی حقوق کی حفاظت موجودہ امریکی حکومت کا مطمح نظر نہیں۔ صدر ٹرمپ کو اگر انسانوں کے وقار اور ان کے حقوق کا خیال ہوتا تو وہ اپنی ہی ہم وطن اور کانگرس کی چار منتخب خاتون اراکین کو امریکہ چھوڑ کر ان ملکوں میں جانے کا ’مشورہ‘ نہ دیتے جہاں سے ان کے والدین کسی وقت میں جبر و مشکلات کا سامنا کرتے ہوئے امریکہ آئے تھے۔ نسل پرستی پر استوار اس انسان دشمن رویہ پر ہونے والی شدید تنقید کے بعد وہ ایک بار پھر اس بات پر اصرار نہ کرتے کہ یہ خواتین اپنے سیاسی مؤقف پر امریکی عوام سے معافی مانگیں۔ یا اس سے بھی بڑھ کر عمران خان سے ملاقات کے دوران افغانستان میں امن کے لئے کامیاب مذاکرات کی خواہش ظاہر کرتے ہوئے یہ دعویٰ نہ کرتے کہ ’ان کے پاس اس مسئلہ کا ایک اور حل بھی ہے۔ عمران خان بھی یہ جانتے ہیں۔ وہ دس دن میں افغانستان کو ملیا میٹ کر سکتے ہیں۔ لیکن اس میں ایک کروڑ لوگ مارے جائیں گے۔ میں ایسا نہیں چاہتا‘۔

اس سفاکی سے انسانی جانیں لینے کی بات کرنے والے لیڈر کی گفتگو سن کر جب پاکستان جیسے ملک کا کبھی کسی کے سامنے نہ جھکنے کا دعویٰ کرنے والا وزیر اعظم ہکا بکا ہونے یا کوئی رد عمل دینے کی بجائے، خاموشی اختیار کرنے کو ہی مصلحت سمجھے تو اس سے یہ سمجھنے میں دیر نہیں کرنی چاہئے کہ طاقتور اور کمزور ملک کے درمیان تعلق کی بنیاد صرف بالادست کے مفادات ہوتے ہیں۔ پاکستانی وزیر اعظم کو وہائٹ ہاؤس بلا کر ان کو مان دینے کا صرف ایک ہی مقصد تھا کہ پاکستان سے کہا جائے کہ وہ طالبان کو امریکی مطالبات ماننے پر مجبور کرے ورنہ دوسرے حل کا آپشن تو موجود ہے ہی‘۔ یہ سوال کیا جا سکتا ہے کہ کیا اس دوسرے آپشن کو برتنے اور انسانوں کی زندگیاں ارزاں کرنے کا متبادل واقعی قابل عمل ہے یا امریکہ سمیت کوئی بھی طاقت اتنی بڑی تعداد میں انسانوں کو ہلاک کرنے کی متحمل ہو سکتی ہے؟ ماضی قریب کی تاریخ البتہ یہی بتاتی ہے کہ امریکہ نے افغانستان اور عراق کے علاوہ متعدد دوسرے ملکوں میں اپنے مفادات کے لئے انسانی خون ارزاں کیا ہے۔ اور یمن میں تباہی نازل کرنے والے سعودی عرب کی مکمل پشت پناہی کی جا رہی ہے۔

عمران ٹرمپ ملاقات کے بارے میں امریکہ کا مقصد تو واضح اور دو ٹوک ہے۔ وہ اس بات پر پاکستان کا ممنون ہے کہ اس نے طالبان کو مذاکرات پر آمادہ کرنے میں کردار ادا کیا ہے۔ اب یہ مذاکرات تعطل کا شکار ہیں۔ طالبان مذاکرات بھی کر رہے ہیں لیکن افغانستان میں حملے بھی جاری ہیں اور موجودہ نظام کو تسلیم کرنے سے انکار بھی کرتے ہیں۔ پاکستان سے یہی توقع کی جارہی ہے کہ وہ طالبان کو مؤقف تبدیل کرنے پر آمادہ کرے۔ پاکستان جس قدر طالبان کو امریکی خواہشات و ضروریات کے قریب لاسکے گا ، اسی قدر ٹرمپ اور ان کی حکومت عمران خان اور پاکستان کی تعریف میں قلابے ملائیں گے۔ اس مقصد میں ناکامی یا تعطل طاقت کے گمان میں مبتلا امریکی صدر کی مایوسی اور غصے میں اضافہ کرے گا۔

پاکستان امریکہ کو راضی رکھنا چاہتا ہے لیکن طالبان پر اس کے اثر و رسوخ کی اپنی حدود ہیں۔ اس کے علاوہ یہ بھی یقین سے نہیں کہا جا سکتا کہ پاکستان بھی افغان امن معاہدہ میں ان اہداف کو اپنے مفاد میں سمجھتا ہے جو امریکہ اس سے حاصل کرنا چاہتا ہے۔ لیکن وہ موجودہ قومی سیاسی، معاشی، سفارتی اور عسکری مجبوریوں کے سبب امریکی مقصد کو ہی جائز تسلیم کرنے پر مجبور ہے۔ پاک فوج کا مقصد کولیشن اسپورٹ فنڈ کی بحالی ہے جس کے تحت امریکہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں ہونے والے اخراجات اور نقصان کا ہرجانہ ادا کرتا رہا ہے۔ یہ ادائیگی پاکستان کا حق ہے لیکن صدر ٹرمپ نے اسے پاکستان پر دباؤ بڑھانے کے لئے استعمال کیا ہے۔ امریکہ سے یہ ادائیگی بحال ہوجائے تو پاک فوج کو بجٹ میں کمی کے مسئلہ سے فوری طور پر نجات مل سکتی ہے کیوں کہ یہ رقم براہ راست فوج کو فراہم ہوتی ہے اور حکومت یا پارلیمنٹ کا اس سے کوئی تعلق نہیں ہوتا۔ اس کے علاوہ امریکہ سے  اسلحہ کے فاضل پرزوں کی فراہمی اور فوجی افسروں کے تربیتی پروگرام کی بحالی بھی امریکہ کے ساتھ تعلقات کے حوالے سے پاکستانی ایجنڈے کا حصہ ہوں گے۔

سوال ہے کہ پاک فوج یہ مقاصد حاصل کرنے کے لئے امریکہ کو افغانستان میں کیا سہولت فراہم کرسکتی ہے؟ طالبان شاید افغان حکومت کے ساتھ براہ راست مذاکرات پر تیار نہ ہوں لیکن یہ ممکن ہے کہ پاکستان انہیں افغان حکومت کے ساتھ کسی قسم کی جنگ بندی پر آمادہ کرسکے۔ ایسی صورت میں امریکہ وہاں سے اپنی فوجوں کا انخلا شروع کر سکتا ہے۔ البتہ پاکستانی عسکری قیادت اس حد تک دباؤ ڈالنے سے پہلے یہ جائزہ ضرور لے گی کہ امریکہ اس کے بدلے میں پاک فوج کی اعانت کے کون سے منصوبے بحال کرتا ہے۔

اس لین دین میں کشمیر کا معاملہ اور بھارت کے ساتھ تعلقات ضمنی حیثیت رکھتے ہیں۔ تاہم انہیں نعرے کے طور پر استعمال کرکے سیاسی فائدہ ضرور حاصل کیا جاتا رہے گا۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

سید مجاہد علی

(بشکریہ کاروان ناروے)

syed-mujahid-ali has 1277 posts and counting.See all posts by syed-mujahid-ali