محسن عباس حیدر محبوبہ کو سنانے کے لئے فون کال ملا کے مجھ پر تشدد کرتا تھا: فاطمہ سہیل

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

معروف گلوکار، اداکار محسن عباس حیدر اور ان کی بیوی فاطمہ سہیل کے درمیان الزام تراشی کا سلسلہ شدید تر ہوتا جا رہا ہے۔ سب سے پہلے فاطمہ نے اپنے اوپر گھریلو تشدد کا الزام لگایا۔ جواب میں محسن عباس نے قرآن پر ہاتھ رکھ کر 50 منٹ کی پریس کانفرنس کی۔ اس میں انہوں نے بیوی پر کئی طرح کے  سنگین الزامات لگائے۔ اب ان کی اہلیہ نے قرآن پر ہاتھ رکھ کر شوہر پر مزید سنگین الزام لگائے ہیں۔

فاطمہ سہیل نے اپنے اداکار شوہر محسن عباس حیدر کی جانب سے قرآن پر ہاتھ رکھ کر لگائے گئے الزاموں کو غلط بتاتے ہوئے خود بھی قرآن پر ہاتھ رکھ کر اپنی آپ بیتی سنائی ہے۔

فاطمہ سہیل کے مطابق محسن کے ناجائز تعلقات ہیں۔ انہوں نے ایکسٹرا میریٹل افیئر بنا رکھا ہے۔ جس نازش جہاںگیر کو وہ صرف دوست بتا رہے ہیں وہ ان کی گرل فرینڈ ہے۔ ان کے ساتھ محسن کا افیئر ہے۔ اتنا ہی نہیں فاطمہ کا کہنا ہے کہ اپنی گرل فرینڈ کو سنانے کیلئے وہ مجھے ہمیشہ اس سے فون پر بات کرتے ہوئے گندی گندی گالیاں دیتا اور کئی مرتبہ وہ فون کال ملانے کے بعد مجھے جسمانی اذیت دیتا تھا۔ قرآن پاک پر ہاتھ رکھ کر کہتی ہوں اس نے مجھے بہت مارا ہے۔

فاطمہ کہتی ہیں کہ انہوں نے رشتے کو بچانے کیلئے پوری طاقت لگا دی۔ فاطمہ نے کہا محسن نے جھوٹ بولا کہ میں اپنی ماں کے گھر رہنے چلی گئی ہوں اور ہم دونوں رشتے میں علیحدگی چاہتے ہیں۔ سچائی یہ ہے کہ روزانہ کی مار پیٹ سے ٹوٹ ہار کر میں بچے کی پیدائش کے بعد ماں کے گھر رہنے گئی تھی۔ جبکہ اس دوران میں نے محسن کو 400 سے زیادہ میسیج کئے۔ میں نے کسی بھی حال میں اپنا گھر بچانا چاہا لیکن محسن نے میرا نمبر بلاک کردیا تھا۔

فاطمہ سہیل نے کہا کہ جب ابھی وہ میڈیا میں کئی لوگوں کے سامنے محسن سے ملیں تب انہیں پہلی بار اس سے ڈر نہیں لگا، ورنہ تو وہ اب محسن کے تشدد والے روپ سے ڈرنے لگی ہیں۔

فاطمہ کا کہنا ہے کہ انہوں نے عاجز آکر یہ قدم اٹھایا ہے۔ انہوں نے اپنے شوہر کے بہت مظالم برداشت کئے ہیں۔ اب وہ اپنے بچے کو ان حالات سے باہر نکالنا چاہتی ہیں۔ وہ کسی صورت محسن عباس کے ساتھ صلح نہیں کریں گی۔ وہ اب معاملے میں انصاف چاہتی ہیں۔ انہوں نے پولیس کو سب حقائق بتا دیے ہیں۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •