نیپال سے اغوا شدہ پاکستانی کرنل کی تشدد سے مبینہ طور پر موت

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

2014 ء میں جادیو نے اپنے نام سے پاسپورٹ حاصل کیا، جس میں اس کا ایڈریس ممبئی کے نواح میں جاساندوادا کمپلکس دکھایا گیا۔ اس کمپلکس میں ایک فلیٹ اس کی والدہ کے نام درج ہے۔ چاہ بہار میں ہی جادیو نے کراچی کے وار لارڈ عزیر بلوچ کے ساتھ قربت اختیار کی۔ گو کہ پاکستان نے جادیو پر تحریب کاری میں ملوث ہونے کا بھی الزام لگایا ہے، مگر ملٹری کورٹ نے اس کو سزا صرف جاسوسی کے الزام میں دی ہے۔ بین الاقوامی عدالت میں پاکستان نے ایک مہر بند لفافہ بھی پیش کیا تھا، جس میں بتایا جاتا ہے کہ 13 بھارتی افسروں کے نام تھے، جنہوں نے جادیو کی معاونت کی تھی۔

ان میں قومی سلامتی مشیر اجیت دوول اور سابق راء چیف آلوک جوشی کے نام بھی شامل ہیں۔ را کے ایک سابق افسر بی رمن نے 2002 ء میں اعتراف کیا تھا کہ خالصتان تحریک کی کمر توڑنے کے لئے 80 کی دہائی میں ہی رانے ترکی بہ ترکی جواب دینے کے لئے دو یونٹ، کونٹر اینٹلی جنس یونٹ۔ ایکس اور کونٹر اینٹلی جنس یونٹ۔ جے ترتیب دیے تھے۔ ان کا کام بھارت میں سکھوں کی طرف سے کسی بھی واقعہ کا جواب لاہور اور کراچی میں دینا تھا۔ ان دونوں یونٹوں کو بعد میں اندر کما ر گجرال نے وزیر اعظم بننے کے بعد تحلیل کیا۔

ممبئی حملوں کے بعد محدود پیمانے پر اور 2014 ء میں مودی حکومت کے برسراقتدار آنے کے بعد بڑے پیمانے پر اس پالیسی کو دوبارہ عمل میں لانے کا کام شروع ہوا۔ لشکر طیبہ کے خالد بشیر کا قتل اور جیش کے اندر رسائی و بلوچ قوم پرستوں کی مبینہ سرپرستی و ہتھیاروں کی سپلائی وغیرہ کرنا اس کے اہم جز تھے۔ دونوں ممالک کے درمیان جاسوسی اور جاسوسوں کو پکڑنے کی تاریخ اتنی ہی پرانی ہے، جتنا ان ممالک کا وجود۔ روئیندر کوشک نامی ایک جاسوس جو پاکستان فوج میں ایک افسر کے عہدے تک پہنچ چکا تھا، کے کارناموں پر ایک فلم بھی بن چکی ہے۔

اسی طرح پاکستان میں بھی وہاں کے جاسوسوں پر ناولز لکھے جاچکے ہیں۔ ان کی حیثیت فوجی یا جنگی قیدی جیسی نہیں ہوتی ہے، مگر دنیا کی تمام خفیہ ایجنسیوں میں ایک غیر تحریری معاہدہ ہے کہ حالت امن میں ایک دوسرے کے ہاتھ آجانے والے پیشہ ور جاسوسوں کو مارنے کی بجائے واپس کر دیا جاتا ہے۔ 1960 ء میں سویت یونین نے زیر حراست امریکی سی آئی اے پائلٹ گیری پاورز کے بدلے کے جی بی کے مشہور زمانہ جاسوس ویلیم جنریکھووچ فشر کو حاصل کیا۔

جادیوکی گرفتاری کے بعد دہلی میں یہ افواہ عام تھی کہ شاید اس کو بھارت میں زیر حراست پاکستانی خفیہ ادارے کے ایک آفیسر لیفٹیننٹ کرنل محمد ظاہر کے بدلے رہا کیا جائے گا۔ ظاہر کو نیپال سے بھارتی خفیہ ایجنسیوں نے اغوا کیا تھا۔ مگر بتایا جاتا ہے کہ دوران تفتیش ہی ٹارچر سے مبینہ طور پر ان کی موت ہوئی ہے۔ کل بھوشن کے پاس آخر دو پاسپورٹ کیوں تھے اس کی وضاحت دہلی میں کسی کے پاس نہیں ہے۔ مگر اکثر ماہرین اس بات پر بھی حیران ہیں کہ آخر پاکستان نے خفیہ عدالتی کارروائی کے ذریعے اس کو سزائے موت سنانے میں اتنی عجلت کیوں دکھائی؟

اسکے اعترافات اوربھارت کا یہ ماننا کہ وہ اس کا شہری ہے، کو لے کر پاکستان نئی دہلی کو کٹہرے میں لا کر کھڑا کرا سکتا تھا۔ مگر جادیو کو کونسلر رسائی نہ دے کر اور ملٹری کورٹ میں خفیہ سماعت کرواکے پاکستان نے یہ نادر و نایاب موقع آخر کیوں گنوا دیا؟ کوئی بھی ذی ہوش صاحب اقتدار ایسے ملزم کی عدالتی کارروائی کو طول دے کر اس کو ایک پروپگنڈہ کے طور پر استعمال کرکے حریف کو ایک اعصابی جنگ میں شکست دے سکتا تھا۔ مگر اس اعصابی جنگ میں مودی حکومت نے جاسوسی اور تخریب کار ی کے الزامات سے پوری دنیا کی توجہ ہٹا کر، اس کو ایک انسانی حقوق کا معاملہ بنایا۔

بین الاقوامی قوانین کی رو سے قیدی کتنا ہی خطرناک کیوں نہ ہو، اس کے حقوق محفوظ ہوتے ہیں۔ اسلامی قوانین میں بھی قیدیوں کے حقوق واضع ہیں۔ زیادہ دور جانے کی ضرورت نہیں، ممبئی حملوں کے ملزم اجمل عامر قصاب کو بھی سرسری اور خفیہ سماعت کے بعد موت کی سزا سنائی جاسکتی تھی۔ مگر سفارتی اور سیاسی محاذ پر اس کا بھر پور فائدہ اٹھانے کی غرض سے جان بوجھ کر، اس کی سماعت کی کارروائی کو طول دے کر پروپیگنڈہ کا ایک ایسا ہتھیار بنایا گیا۔

جس نے اپنا ہدف اتنی عمدگی سے حاصل کیا، جو ہزار توپیں استعمال کرکے یا کروڑوں روپے خرچ کرکے بھی حاصل نہیں کیا جاسکتا۔ خیر بین الاقوامی عدالت نے جادیو کی ازنو سماعت اور اس کو لیگل کونسل فراہم کرنے کی جو ہدایت دی ہے، پاکستانی حکومت کو اسپر من و عن عمل کرنا چاہیے۔ پاکستانی وکلاء سے بھی گزار ش ہے کہ وہ جادیو کی پیروی کرنے سے انکار نہ کریں۔ پچھلی بار لاہور ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن نے جس طرح اپنے ممبرا ن کو ہدایت تھی، کہ وہ جادیو کے کیس کی پیروی نہ کریں، ایک صریح غلطی تھی۔

عالمی عدالت میں بھارت کے وکیل ہریش سالوے نے اسی نکتے کو اٹھایا۔ کسی بھی قیدی کو اپنے دفاع کا بھر پور حق حاصل ہے۔ عالمی عدالت کا فیصلہ بھارت کے لئے فی الحال ایک بہت بڑا ریلیف ہے۔ ہیگ جانے سے قبل وزیر اعظم نریند ر مودی، اس وقت کی وزیر خارجہ سشما سوراج، وزیر قانون روی شنکر پرساد، قومی سلامتی مشیر اجیت دووال اور دیگر افسران کے درمیان اس معاملے کو بین الاقوامی عدالت میں لیجانے پر خاصی بحث ہوئی تھی۔ کئی افسران نے دلائل دیے تھے کہ ماضی میں جب بھارت کسی بھی بین الاقوامی فورم میں پاکستان کے خلاف شکایت کرنے پہنچا ہے، تو الٹے روزے گلے پڑگئے ہیں۔

چاہے کشمیر کے معاملے میں سکیورٹی کونسل میں فریاد لے کر جانا ہو، یا 1965 میں رن آف کچھ ٹریبونل کا فیصلہ ہو، بھارت کو نقصان ہوا ہے۔ اندرون ذرائع کے مطابق مودی نے وزارت خارجہ کے افسران کو بتایا، کہ ”وہ دنیا کواب ایک نئے پر اعتماد زاویہ سے دیکھنے کی عادت ڈالیں، کیونکہ بھارت اب ایک طاقت بن چکا ہے، جس کو نظر انداز کرنا کسی کے لئے اب ناممکن ہے۔ “ حکومتی ذرائع کا کہنا تھا، کہ ہیگ جانا مودی کی ”اسٹیٹس کو“ مخالف اور اس کی سرکش امیج کا حصہ تھا۔

اب جبکہ قانون نے اپنا کام کر دکھایا ہے، سفارت کاروں اور سیاست دانوں کو میدان میں آنے کی ضرورت ہے۔ بین الاقوامی عدالت نے ایک طرح سے دونوں ممالک کو ایک نادر موقع فراہم کیا ہے، کہ ظرف کا مظاہرہ کر کے بات چیت کے دروازے کھول کر بڑے پیچیدہ مسائل کے حل کی طرف سنجیدگی کے ساتھ گامزن ہوجائیں۔ افغانستان میں امریکی انخلاء کے بعد خطے میں بھارت کی تزویراتی پوزیشن کمزور ہوجائے گی۔ وزیر اعظم مودی بھارت کو 2024 ء تک پانچ ٹریلین اکانومی بنانے کے خواب دیکھ رہے ہیں۔

شورش اور اس خطہ میں عدم استحکام کی صورت میں یہ خواب ہی رہ جائے گا۔ بھارتی حکومت کے کارپروازوں کو بھی اب یہ احساس ہو گیا ہوگا، کہ پاکستان کو دنیا میں الگ تھلگ کرنے کا دعویٰ کرنا تو آسان ہے، مگر عملاً کتنا مشکل ہے۔ اکتوبر میں فنانشل ٹاسک فورس میں پاکستان کو بلیک لسٹ کرنے کی لابی کرنے اور اسپر بیش بہا پیسہ خرچ کرنے کے بجائے سفارت کاری کے دروازے کھول کر کشمیر اور دیگر مسائل کو حل کرنے کے لئے ایک سنجیدہ لائحہ عمل وضع کرنے کی ضرورت ہے۔ ہیگ جاکر جس طرح مودی نے اپنی ”اسٹیٹس کو“ مخالف امیج ظاہر کیا ہے، اسی طرح خطے میں عدم استحکام پیدا کرنے والے مسائل کو بھی حل کرنے کے لئے اسی ”سرکش امیج“ کا مثبت استعمال کریں۔ شاید اس سے ان کے کل بھوشن کی جان بھی بچ جائے اور وہ واپس ممبئی اپنی فیملی کے پاس آسکے۔
بشکریہ روزنامہ 92۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •