پاکستان میں مذہبی آزادی کی بگڑتی ہوئی صورت حال

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

ماہِ رواں میں وزیرِ اعظم عمران خان کی امریکہ میں صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ساتھ مُلاقات سے قبل واشنگٹن ڈی سی میں دوسری بین الاقوامی منسٹیریل کانفرنس منعقد ہوئی، جس میں “مذہبی آزادی” غالب موضوع تھا۔

پاکستانی مندوبین نے کانفرنس میں اس حساس موضوع پر اظہارِ خیال کرتے ہوئے اس بات پر زور دیا کہ ریاستی بندوبست میں تمام شہریوں کو بلا امتیاز رنگ، نسل اور عقیدہ کے نہ صرف مساوی حقوق کو ممکن بنایا جائے بلکہ تمام شہریوں کی مذہبی آزادی کے حق کو عملی طور پر تسلیم کیا جائے اور اس کے فروغ کے اقدامات اُٹھائے جائیں۔

ایک طرف دنیا  بھر میں مذہبی آزادی کے فلسفہ کو فروغ دیا جا رہا ہے تو دوسری جانب پاکستان میں مذہبی آزادی انتہائی تنزلی کا شکار ہے نتیجتاً وطنِ عزیز میں مذہبی اقلیتوں کا جینا دو بھر ہو چلا ہے۔

سالِ رواں کے ماہِ مئی میں یورپین پارلیمنٹ نے حکومتِ پاکستان کو تنبیہ کی تھی کہ وہ مسیحی شہریوں کے خلاف نفرت اور متعصبانہ رویوں کی حوصلہ شکنی کرے۔

اوپن ڈور ایک  بین الاقوامی تنظیم ہے جو دنیا بھر میں مسیحیوں پر ظلم و ستم کا جائزہ لیتی اور امدادی سرگرمیوں میں معاونت فراہم کرتی ہے۔  رواں سال اسی تنظیم نے مسیحیوں پر ایذا رسانیوں کا جائزہ لے ہوئے  پاکستان کوخطرناک ملک قرار دیا۔ زمینی حقائق کا جائزہ لیتے ہوئے اس طرح کی جائزہ رپورٹس میں کوئی مبالغہ نظر نہیں آتا۔

جنوری سے جون کے چھ ماہ میں اٹھائیس لڑکیاں جن کا تعلق مسیحی عقیدے سے تھا، وہ یا تو اغوا کی گئیں، جنسی زیادتی کا شکارہوئیں، اُن پر تشدد کیا گیا یا پھر جبری طور پر اُن کا مذہب تبدیل کر کے اُن کی مرضی کے خلاف شادیاں رچائی گئیں۔ اگر اس فہرست میں ہندومت کی پیروکار لڑکیوں، کچھ “نامعلوم” خواتین نیز دیگر کمزور طبقات کی خواتین کو بھی شامل کر لیا جائے تو مذہبی آزادی کا ڈھول پیٹنے والے اہل وطن کی آنکھیں کھولنے کے لیے یہ اعداد و شمار ہی کافی ہوں گے۔

باوجود اس کے کہ آسیہ بی بی کو تکفیر کے الزامات سے با عزت بری ہونے میں تقریباً ایک دہائی جیل میں گزارنا پڑی، سالِ رواں کے ابتدائی مہینوں میں بھی آٹھ افراد پر توہینِ مذہب کا الزام لگایا گیا، جن میں کراچی سے چار خواتین، سیالکوٹ سے ایک پیدائشی ذہنی مفلوج اور جنوبی پنجاب سے دیگر تین افراد شامل ہیں۔

سال کی پہلی ششماہی میں مسیحیوں پر پُرتشدد حملوں اور املاک کو نقصان پہنچانے کا رجحان بھی نمایاں رہا اور یوں چھ واقعات رپورٹ ہوئے۔ کراچی میں چوتھی جماعت کے  مسیحی طالبِ علم کو اُس کے ہم جماعت نے چھری سے حملہ کر کے ایک گردے سے محروم کر دیا۔ ہم جماعت سے مسیحی طالبِ علم کا “لٹل آئن سٹائن” کہلانا سہا نہ گیا تھا۔ ستر سالہ نیامت مسیح پر قصور میں اس لئے گولیاں برسائی گئیں کہ وہ مسیحیوں کے قبرستان کے لئے مختص کئی گئی زمین پر قبضہ مافیا کے لئے رکاوٹ تھا۔ خانیوال میں کینتھ جانسن کا کھوکھا اس خیال سے توڑ ڈالا گیا کہ “ہمارے بچے ایک مسیحی کی دکان سے اشیا خوردونوش نہ خریدیں”، نیز “مسیحی فقط صفائی کے کام کرتے اچھے لگتے ہیں، کاروبار نہیں”۔ زمین ہتھیانے کے لئے گوجرانوالہ میں ایک مسیحی خاندان کوشدید تشدد کا نشانہ بنایا گیا۔ لاہورمیں ایک مسیحی قیدی کو تھانے میں اُلٹا لٹکا کر محض اس لئے تشدد کا نشانہ بنایا گیا کہ اُس نے عدالت میں بیان دیا تھا کہ جیل میں اُسے مناسب طبی سہولت نہیں دی جا رہی۔ اوکاڑہ میں مسیحیوں کی قبروں کی توڑ پھوڑ اور نصب شدہ صلیبوں کی بے حرمتی کی گئی۔ کراچی میں ایک مسیحی شہری کو پولیس نے شدید تشدد کا نشانہ بنایا۔

مذہبی آزادی سے محروم اس معاشرے میں چار مسیحیوں کو اُن کے عقیدے سے نفرت کی بنا پر قتل کر دیا گیا، جن میں لائلپور (فیصل آباد) کا جاوید مسیح، اوکاڑہ کا ارشد مسیح، صغیر مسیح اور ایک کباڑ اُٹھانے والا مسیحی نوجوان بھی شامل ہیں۔

مذہبی تعصب اور عدم رواداری کے ایسے پانچ واقعات رونما ہوئے جو انسانی حقوق کے معیارات سے لگا نہیں کھاتے۔ صوبہ خیبر پختونخواہ میں صوابی کی ضلعی کونسل نے قرار داد پیش کی کہ ہسپتالوں میں صفائی ستھرائی کے کام کے لئے صرف مسیحیوں کو بھرتی کیا جائے۔ لاہور کے ایک مسیحی نوجوان کو میرٹ کے باوجود محکمہ ریلوے میں ملازمت سے انکار کر دیا گیا۔ لاہور جیل میں ایک مسیحی قیدی نے شکایت کی کہ اُسے مسیحی ہونے کی وجہ سے مناسب طبی سہولت فراہم نہیں کی گئی۔ لاہور ہی کی ایک جیل میں مسیحی قیدیوں پر اپنے مسیحی عقیدے کی شناخت کو چُھپا کر رکھنے کو کہا گیا۔ اسی جیل میں محمد عبدالرزاق نامی قیدی نے بائبل مقدس کا اوراق کو پھاڑ کر بے حرمتی کی۔ کراچی میں ایک پادری کو چرچ کو بند کرنے کے لئے دھمکی آمیز خط موصول ہوا، جس سے مسیحیوں میں پریشانی کی لہر دوڑ گئی۔

ان چند مگر دل دہلا دینے والے واقعات کی روشنی میں معلوم ہوتا ہے کہ اس معاشرے میں مذہبی آزادی کے فلسفے کو پروان چڑھنے اور فروغ دینے میں سنجیدہ عملی اقدامات کی ضرورت ہے۔ اُمید ہے منسٹریل کانفرنس جیسے اعلیٰ سطح اجلاس اور پاک امریکہ سربراہان کی مُلاقات  صورتحال کو بہتری کی جانب گامزن کرنے میں معاون ثابت ہوگی، بصورتِ دیگر آیندہ چھ ماہ ملک میں مذہبی اقلیتوں پرعرصہِ حیات مزید تنگ کر دیا جائے گا۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •