پاکستان کا مشہور برانڈ عمران خان

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

عمران خان ایک برانڈ ہے جس کا استعمال باجوہ ڈاکٹرائن نے بہت عمدہ طریقے سے کیا۔
عمران خان کی صدر ٹرمپ سے ملاقات کامیاب قرار پائی۔ آرمی چیف کے ساتھ مشاورت اور حساس موضوعات پر مکمل بریفنگ کا اندازہ وزیر اعظم کی بنا پرچی گفتگو سے ہورہا تھا۔ بہت حساس اور بہت اہم معاملات پر بہت نپے تلے انداز میں بات کرتے ہوئے عمران نے پاکستان کی موثر سفارتکاری کا ایک نیا باب کھول دیا۔

برسوں ہم دیکھتے رہے کہ ہماری سیاسی قیادت پاکستان کا موقف واضح کرنے میں ناکام رہی ہے۔ اس کی بڑی وجہ اس محاذ پہ سیاسی قیادت اور فوجی قیادت کا ایک پیج پر نہ ہونا تو تھا ہی لیکن سیاسی قیادت کا پاکستان کے ڈپلومیٹک امیج کو بہتر بنانے میں عدم دلچسپی بھی ایک بڑی وجہ رہی۔ اس عدم دلچسپی کی ایک وجہ تو ذاتی مفادات کا تحفظ اور پاکستان کو محض مال بنانے والی فیکٹری سمجھنا تھا۔ دنیا نے جب دیکھا کہ اس ملک کے حکمران تو ملکی مفاد پہ ذاتی مفاد کو ترجیح دیتے ہیں تو ان کی عزت اور وقار میں کمی آنے لگی۔

سمجھنا چاہیے کہ حب الوطنی ہر ملک میں ایسے ہی مقدم ہے جیسے ہمارے یہاں ہے۔ ہم دنیا کو تعصب کی نگاہ سے نہ دیکھیں تو جس طرح ہمیں غدار سے نفرت ہے ویسے ہی دنیا کو بھی نفرت ہے۔ جیسے ہمیں ملک کی ساکھ خراب کرنے والوں پہ غصہ آتا ہے ویسے ہی ان کے ہاں بھی ملکی مفاد کے برعکس فیصلے کرنے والوں کے خلاف آوازیں بلند ہوتی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ پاکستان کو لہو لہو کرنے والوں کو دنیا نے عزت دینا بند کردی۔ آپ جانتے ہیں کہ دنیا بھر میں پاکستان کے حکمرانوں کی عیاشی اور لوٹ مار پر تنقید کی جاتی رہی۔

اسحاق ڈار کے بچوں کے پاس دبئی میں بڑے بڑے پلازے اور لش پش کاریں دیکھ کر دنیا میں سوال اٹھا کہ غریب ملک کا وزیر خزانہ ایسا امیر کیسے ہوگیا؟
یہی اسحاق ڈار چند برس پہلے جماعت اسلامی کے پلیٹ فارم پہ ایک معمولی سے ورکر کی حیثیت سے جانے جاتے تھے لیکن پھر نواز شریف نے ان کے بھاگ جگا دیے۔

مجھے یاد ہے کہ جب محترمہ بے نظیر کی شادی آصف علی زرداری سے ہوئی تو ہمارے ننھے منے ذہن میں ان کے نام کے ساتھ جڑا لفظ ڈاکو فٹ ہوگیا۔ سبز پاسپورٹ پر سفر کرنا عذاب ہوگیا۔ دنیا کے کسی خطے میں ہمیں پسندیدگی کی نگاہ سے نہ دیکھا جاتا کہ ان چوروں لٹیروں ڈاکووں کو ووٹ دینے والے تو ہم ہی تھے۔ اس لئے پاکستان کے سیاستدان اور عوام دونوں رسوا ہوئے۔

عمران خان کی شخصیت میں سو خامیاں ہوں گی لیکن دنیا نے عمران خان کو ایک برانڈ کی طرح دیکھا کرکٹ میں نام بنایا۔ فلاحی ادارہ بنا کر عزت کمائی۔ بڑے خاندان کا داماد کہلائے۔ معروف شخصیات سے ذاتی مراسم رکھنے والے اور ہمیشہ مخلوق کی بھلائی کی بات کرنے والے عمران خان کو ہمیشہ عزت کی نگاہ سے دیکھا گیا۔ جب عمران خان کو بطور وزیر اعظم منتخب کیا گیا تو دنیا بھر سے ایک خوشگوار حیرت کا اظہار سامنے آیا۔

سچ ہے کہ ملک چلانے کے لئے محض ایماندار ہونا کافی نہیں لیکن ایمانداری بنیادی شرط ضرور ہے بس یہی بات خان صاحب کی کامیابی بن گئی کہ یہ شخص اپنے ملک کے مفاد پر ذاتی مفاد کو ترجیح نہ دے گا۔ باتیں تو اور بھی بہت سی گنوائی جاسکتی ہیں کیا مثبت کیا منفی لیکن اس قوم کو جو تبدیلی چاہیے تھی اس کی ابتدا عمران خان سے ہوچکی۔ آسان لفظوں میں یوں کہیے کہ جتنا گند ملک میں پھیل چکا تھا اس کی صفائی کے لئے ہمیں ایک ایسا شخص مل گیا جو اس گھر کو صاف کرنے کا جذبہ اور ہمت رکھتا ہے۔

آئندہ آنے والے مزید بہتری لائیں گے۔ مجھے نظر آتا ہے کہ ایک نئی قیادت تیار ہورہی ہے جو پاکستان کے محب وطن جوانوں پر مشتمل ہوگی۔ یہ قیادت کب ملک کا انتصرام سنبھالے گی ابھی اس تعین مشکل ہے ہاں 2021 تک تو عمران خان ہی کا طوطی بولتا نظر آتا ہے۔ آگے مزید کتنا عرصہ عمران خان کا اقتدار رہتا ہے یہ ابھی کہنا مشکل ہے۔ میں چونکہ پیٹرن دیکھ کر تجزیہ کرتی ہوں اس لیے اس وقت جو تاثر قائم ہے کہ امریکی کامیاب دورے کے بعد عمران خان کی حکومت جانے کا خطرہ ٹل گیا تو میرا خیال ہے کہ ایسا نہیں۔

عمران خان کے مزاج میں تبدیلی آتے دیر نہیں لگتی اس لیے کسی بھی وقت اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ الجھنے کا خطرہ ہر وقت موجود ہے۔ موجودہ صورتحال میں چونکہ ابھی تک عمران خان کو امور مملکت اور سیاسی کردار نبھانے میں مہارت حاصل نہیں ہوئی اس لیے فی الحال آئندہ دو سال تک امید ہے کہ تمام طاقتیں ایک پیج پر ہی کام کریں گی اور ملکی معاشی و معاشرتی استحکام کو یقینی بنائیں گی۔

حکومت کس کی ہے؟ کیا عمران خان خود فیصلے کرتے ہیں؟ یہ سوال الیکشن سے لے کر آج تک شاید ہر کسی کے ذہن میں ابھرا ہوگا۔ حالیہ دورہ امریکہ میں شاید اس کا جواب سب کو مل گیا ہوگا۔ 2017 میں، میں نے ایک تحریر لکھی تھی جس میں نواز شریف کی نا اہلی، مقدمات، مریم نواز کا تاریک سیاسی مستقبل، ملکی دولت واپس آنے کی پیشگوئی کے ساتھ ساتھ یہ بھی لکھا تھا کہ نواز شریف کی برطرفی کے بعد ایک چھ ماہ سے ڈیڑھ سال کی مدت کے درمیان قائم رہنے والی حکومت بنے گی اور پھر ایک نئی حکومت تشکیل پایے گی جس میں عدلیہ کے زیر سایہ فوج اور سیاسی جماعتوں کی مشترکہ حکومت بنے گی اور یہ حکومت پاکستان کو نیا نظام دے گی جو ترقی کی راہیں ہموار کرے گا۔

نواز شریف کے بعد شاہد خاقان عباسی کی وزارت تقریبا دس ماہ رہی۔ پھر عمران خان پلس بیوروکریسی پلس فوج اقتدار میں آگئے۔ ملک میں احتساب کا نعرہ گونجا اور احتساب کا سلسلہ چل نکلا۔ سرحدوں کو باڑ لگا کر محفوظ کیا گیا اور ابھی مزید سرحدیں بند ہونے کا امکان ہے۔ پچھلے سال اپنے ایک سینئر سے کہا تھا کہ عنقریب میڈیا کو پابند کردیا جائے گا۔ مخصوص گروپ کسی حد تک آزادانہ کام کرسکیں گے اور کرپشن میں ملوث صحافیوں کی مشکلات کا آغاز ہوگا۔ پولیس کے محکمہ میں اکھاڑ پچھاڑ ہوگی۔ ادارے اپنا اپنا کام کرنے لگیں گے اور آخر میں بیوروکریٹکس پر ہاتھ ڈالاجائے گا۔

الغرض قیام پاکستان کے ٹھیک 70 سال بعد اس ملک کا نظام نالائق انسانوں کے ہاتھ سے لے کر ان طاقتوں کو دے دیا گیا جو اس کے بنانے میں ملوث تھیں۔ اس وقت کوئی بھی منصوبہ اس طے شدہ پلین کے خلاف کامیاب نہیں ہوسکتا جو پاکستان بننے کے وقت طے پایا تھا۔ پاکستان نے آگے بڑھنا ہے اور بہت تیزی سے رکاوٹوں کو بلڈوز کرتے ہوئے آگے جانا ہے۔

وزیر اعظم عمران خان کی واپسی کے بعد آپ دیکھیں گے احتساب کا عمل بھی تیز ہوگا اور اداروں کو فعال بھی بنا دیا جائے گا۔ ستمبر تک امید ہے کہ صفائی ستھرائی کا کام مکمل کرلیا جائے گا۔

کل رات میں نے کالم لکھا اور صبح پبلشنگ کے لئے بھیجنے سے پہلے جب ٹی وی آن کیا تو پاکستان کا سب سے کامیاب برانڈ یعنی وزیر اعظم عمران خان تقریر فرما رہے تھے اور وہی باتیں دہرا رہے تھے جو میں گزشتہ تین سالوں سے بار بار دہراتی آ رہی ہوں یہی کہ ہم نے ادارے ٹھیک کرنے ہیں۔ سبز پاسپورٹ کا وقار بحال کرنا ہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •