نصف ایمان ہاتھ سے نکلا جائے ہے

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

انسان کے بنیادی حقوق کافی ہیں اور ان میں سے اکثر دوسروں کے ہاتھ میں ہوتے ہیں۔ ایک سانس لینا ہی انسان کے اپنے اختیار میں ہے۔ لیکن اب اس کے لئے بھی تازہ ہوا میسر نہیں۔ سنا تو ہو گا کہ صفائی نصف ایمان ہے اور اس نصف ایمان کو ہم اپنے ہاتھوں سے ہی کھو رہے ہیں۔ سڑکیں، بازار، گلیاں، محلے سب ہی کوڑادان بنے ہوئے ہیں۔ آلودگی اتنی ہے کہ سانس لینا بھی کبھی کبھار مشکل ہوجاتا ہے۔

صاف پانی بھی انسان کے بنیادی حقوق میں سے ایک ہے۔ یہ حق فراہم کرنا حکومت کی ذمہ داری ہے اورخود پاکستانی حکام کا کہنا ہے کہ ملک کی لگ بھگ اسی فیصد آبادی مضر صحت پانی پینے پر مجبور ہے۔ ایک سرکاری ادارے کے رپورٹ کے مطابق پانی میں آلودگی کی وجہ جراثیم اور زہریلی دھاتوں کی موجودگی تھی پھر تعجب نہیں ہونا چاہیے کہ ہپاٹایئٹس کا مرض کسی آکاس بیل کی طرح پھیل رہا ہے۔ اس کے علاہ ملیریا، سانس اور سینے کی بیماریاں الگ بڑھتی جا رہی ہیں۔ کچرے کو بے ضرر طریقے سے ٹھکانے لگانے کا اب تک کوئی معقول انتظام نہیں۔

ملک میں فضائی، زمینی، خوراکی اور صوتی آلودگیاں برق رفتاری سے بڑھ رہی ہیں۔ سمندر میں مچھلیاں ناپید ہو رہی ہیں۔ ۔ ہر سال سموگ چھا جاتی ہے۔ ٹڈڈی دل حملہ آور ہوتا ہے، لیکن لگتا ہے یہ کسی کا بھی مسلئہ نہیں ہے، نہ حکومت کا نہ عوام کا۔ توجہ کہیں اور ہی ہے۔ سب ہی اپنے چسکوں میں لگے ہیں۔

چلئے مان لیا کہ یہ سب ریاست کے کرنے کے کام ہیں ہم اور آپ بے بس ہیں۔ لیکن کچھ تو آپ خود بھی کر سکتے ہیں نا۔ صفائی تو رکھ سکتے ہیں؟ وہ نصف ایمان جو ہاتھ سے نکلا جا رہا ہے اسے تو تھام لیں۔

گلیاں آپ کا کوڑا دان تو نہیں؟ یہاں سے لوگ گزرتے ہیں۔ بچے کھیلتے ہیں۔ اسے صاف رکھنے میں آپ کا بھی تو فائدہ ہے پھر یہ کام اتنا مشکل بھی نہیں۔ بس گھر کا کچرا گلی میں پھینکنا بند کر دیجئے صفائی رہے گی۔ کچرے کو ریسایئکل کیجیئے۔ کاغذ الگ، خوراکی کچرا الگ، پلاسٹک الگ۔ بیٹری اور دھاتی کچرا تو بالکل جدا۔

جیسے جیسے دنیا کی آبادی بڑھ رہی ہے ویسے ویسے ہی آلودگی میں بھی اضافہ ہو رہا ہے۔ ہمارے لائف اسٹائل میں ڈسپوزل اشیا کا استعمال بڑھ گیا ہے۔ پلاسٹک کا استعمال حد سے کہیں زیادہ ہو رہا ہے۔ اور اسی رفتار سے ہم کچرا بھی زیادہ کر رہے ہیں۔ ہمارے گھر کے کوڑا کرکٹ میں روزانہ کی بنیاد پر پلاسٹک کی اچھی خاصی مقدار ہوتی ہے۔ پولیتھین کے تھیلے، خالی بوتلیں، ان کے ڈھکن، اور کئی دوسری چیزیں جن میں پلاسٹک کی آمیزیش ہوتی ہے۔

پلاسٹک نہایت کارآمد ایجاد ہے۔ لیکن یہ انتہائی خطرناک چیز ہے۔ کیونکہ یہ سستا پڑتا ہے اس لئے اس کا استعمال عام ہے۔ آپ نے سڑکوں گلیوں میں بکھری پولیتھین تھیلیاں دیکھی ہوں گی۔ جھاڑیوں میں اٹکی، نالوں میں تیرتی اور گٹروں میں پھنسی بھی نظر سے گزری ہوں گی۔ یہ صرف گند ہی نہیں زہر ہے۔ آہستہ آہستہ چاروں طرف سے آپ کو گھیرتا ہے۔ انسان ہوں یا جانور، آبی مخلوق ہوں یا پرندے سب ہی پلاسٹک کے زہر سے متاثر ہو رہے ہیں۔

متمدن ممالک میں تو پلاسٹک کے استعمال پر روک تھام شروع کر دی گئی ہے۔ لیکن ہم چونکہ ہمیشہ دیر کر دیتے بات سمجھنے میں اس لئے ضروری ہے کہ یہ سمجھا جائے کہ آخر کیا وجہ ہے کہ پلاسٹک آلودگی پر بات ہو رہی ہے۔ آپ کے ہاتھ سے اگر اچار کی بھری شیشے کی بوتل گر کر ٹوٹ جائے تو آپ جھنجھلا جایں گے۔ بوتل ٹوٹ گئی، کتنا گند پھیل گیا۔ اب اسے صاف کرو۔ اچار الگ ضائع ہو۔ لیکن اگر یہ بوتل شیشے کے بجائے پلاسٹک کی ہوتی تو نہ نقصان ہوتا نہ ہی گند پھیلتا۔

اس لئے پلاسٹک کو ترجیح دی جاتی ہے۔ لیکن جب یہ بوتل خالی ہو جائے گی تو آپ اس کا کیا کریں گے؟ کچرے میں پھینکیں گے نا؟ کچرا کہاں جائے گا؟ پلاسٹک مٹی میں گھلتا نہیں۔ یہ تو ہم جانتے ہیں نا کہ پلاسٹک پٹروکیمیکل سے بنتا ہے۔ یہ کیمیکلز زمین میں جذب نہیں ہوتے۔ اور یہ زہریلے بھی ہوتے ہیں۔ اب کچرا اگر زمین میں دبایا جائے تو یہ مٹی کو بھی زہریلا بنا دیتا ہے۔ اس مٹی میں اگنے والے پودے اور درخت بھی اس زہر سے آلودہ ہو جاتے ہیں۔ اور اگر اس کچرے کو جلایا جائے تو فضا آلودہ ہوتی ہے۔ پلاسٹک کو زمین میں گھلنے کے لئے 100 سال لگ سکتے ہیں۔ ہے نا دہلادینے والی بات؟

ایک اور نہایت تشویشناک بات سمندری آلودگی ہے۔ دنیا بھر کے سمندروں میں پلاسٹک تیزی سے بڑھ رہی ہے۔ سنہ 2015 کی تحقیق کے مطابق ہر سال سمندروں میں تقریباً 80 لاکھ ٹن پلاسٹک سمندروں میں داخل ہوتا ہے۔ مچھلیاں اسے نگل رہی ہیں اور مر رہی ہیں۔ غذائی قلت میں ایک اور اضافہ۔

پلاسٹک بیگز بالکل ممنوع ہونے چاہیں۔ یہ ریسایئکل نہیں ہوسکتے۔

تو کیا پلاسٹک بیگز کے بجائے کاغذی تھیلے استعمال کیے جانے چاہیں؟ جی نہیں۔ کاغذ درختوں سے بنتا ہے اور درخت ہماری حیات کے لئے بہت اہم اور ضروری ہیں۔ انہیں کٹنے سے بچایئے۔ کپڑے کے تھیلے استعمال کیجیئے۔ بازار سے خریدیئے یا خود سلوا لیجیے۔ میلے ہو جایں تو دھولیں۔ یا ٹوکری استعمال کریں۔ بچت بھی اور ماحول کی حفاظت میں آپ کا حصہ بھی۔ اتنا تو کر سکتے ہیں نا؟

ایک اور کام جو آپ باآسانی کر سکتے ہیں وہ ہے صوتی آلودگی میں کمی۔ اس آلودگی کی سب سے بڑی وجہ ٹریفیک کا شور ہے۔ ڈیزل پر چلنے والے ٹرک، گاڑیوں کی بے ہنگم آمد و رفت، بغیر سایئلنسر کی موٹر بایئکس، رکشوں کی پھٹ پھٹ، بازاروں میں چلتے جنریٹرز جو فضا بھی خراب کر رہے ہیں اور سکون بھی۔ یہ بھی مان لیا کہ ان سب پر آپ کا کنٹرول نہیں۔ لیکن زور و شور سے بجتی میوزک تو کم کر سکتے ہیں۔ ہر پاس سے گزرتی گاڑی گاتی بجاتی گزرتی ہے۔

اور ہر گاڑی سے بجتا ہوا ہارن۔ اگر آپ ٹریفیک کے اصلوں پر چل رہے ہیں تو ہارن بجانے کی نوبت ہی نہیں آتی۔ اگر ٹریفیک جام ہے تو آپ کے بار بار ہارن بجانے سے رستہ کھل نہیں جائے گا۔ ترقی یافتہ ممالک میں لوگ ہارن نہیں بجاتے۔ وہاں ہارن اس وقت بجایا جاتا ہے جب کوئی ٹریفیک کے اصول کے خلاف کرتا ہے۔ یعنی اس ڈرایؤر کو تنبیہ کی جاتی ہے یا ہوٹ کیا جاتا ہے۔ ہارن بجانا آپ کے اختیار میں۔ اسے مت بجایئے۔ یہ کانوں کہ بھلا نہیں لگتا۔ اس شور شرابے کا ذہن پر برا اثر پڑتا ہے۔ ٹینشن، بے چینی، نیند کی کمی اور سماعت کی کمزوری ہو سکتی ہے۔

بس آپ اتنا ہی کر لیں۔ آلودگی کو کم کرنے کی جنگ میں اپنا حصہ ڈال دیں۔ نصف ایمان کو بچا لیں۔ آنے والی نسلیں آپ کی شکر گزار ہوں گی۔

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •