دورہ امریکہ: گلاس توڑا بارہ آنے

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

یوں تو پاکستان میں روایت رہی ہے کہ حکمران شخصیات کے غیر ملکی دورے ہمیشہ بے حد کامیاب قرار پاتے ہیں۔ نیا پاکستان ایک قدم آگے چلا گیا ہے، دورہ ہونے سے پہلے ہی ”فقید المثال“ کامیابی سے ہمکنار قرار دے دیا جاتا ہے۔ عسکری قیادت کے ہمراہ وزیراعظم عمران خان کا حالیہ دورہ امریکہ کسی نہ کسی حد تک دونوں ملکوں کی ضرورت تھی۔ یہ کیسے طے ہوا اس کا ذکر سب کے سامنے آچکا ہے، سعودی ولی عہد محمد بن سلمان نے اپنے دوست اور وائٹ ہاؤس کے اہم ستون صدر ٹرمپ کے یہودی داماد جیرڈکشنر کے ذریعے سارا اہتمام کرایا۔

عمران خان کا دورہ خواہ کسی بھی درجہ کا تھا۔ امریکی حکام کو ہوائی اڈے پر استقبال ضرور کرنا چاہیے تھا۔ ایک عام مسافر کی طرح ایئرپورٹ کی بس میں ٹرمینل تک جانا اچھا نہیں لگا۔ عمران خان کے مخالفین خواہ انہیں مکمل طور پر دھاندلی زدہ اور سلیکٹڈ وزیراعظم کہتے ہوں لیکن یہ پہلو نظر انداز نہیں کیا جاسکتا ہے کہ جب بھی کوئی حکمران باہر جائے وہ عملاً ریاست کا نمائندہ بن جاتا ہے۔ اس سے پہلے عمران خان نے کئی ممالک کے دورےکیے ، ہر جگہ خصوصی جہاز لے کر گئے۔

امریکہ جانے کے لئے قطر ایئرویز کی پرواز پکڑی۔ حیرت انگیز طور پر اس مسافر طیارے میں سے دیگر عام ہم سفروں کی سیلفیاں سامنے نہیں آئیں۔ وزیراعظم پاکستان کے منصب پر خواہ کو ئی بھی ہو بیرون ملک اس کا سرکاری استقبال ہونا مملکت کے وقار کی علامت ہوتا ہے۔ سادگی کے نام پر بے وقعتی کا سرے سے کوئی جواز نہیں۔ جیسا کہ پہلے بھی عرض کیا یہ دورہ عسکری حکا م کاتھا۔ وزیر اعظم عمران خان کو ساتھ لے جانا اس لیے بھی اہم تھا کہ ”ایک پیج ڈاکٹر ئن“ کے تحت ان کا عالمی امیج بنانا ضروری ہے کیونکہ اندرون ملک بے شمار چیلنجز درپیش ہیں۔

دلچسپ بات تو یہ ہے کہ اپوزیشن جماعتوں کو مکمل طورسے دیوار کے ساتھ لگانے کے با وجود حکومت اپنے ہی بوجی سے دلدل میں دھنستی نظر آرہی ہے۔ ٹرمپ، عمران ملاقات کے بعد میڈیا بریفنگ میں صاف طور پر کنٹرول ٹرمپ نے سنبھالے رکھا۔ ایک موقع پر یہ کہہ کر اپنی ناراضگی ظاہر کی کہ پچھلی حکومت امریکہ سے تعاون نہیں کر رہی تھی لیکن اب صورتحال مختلف ہے۔ شاید اسی تبدیل شدہ صورتحال کے باعث پاکستانی وفد کو مدعو کرکے مزید یقین دہانیاں حاصل کی گئیں۔

ٹرمپ نے عمران خان اور پاکستانی قوم کی بہت تعریف کی۔ یہ نیا نہیں کیونکہ یکم دسمبر 2016 ءکو اس وقت کے وزیر اعظم نواز شریف کی فون کال پر بھی ٹرمپ نے نہ صر ف نواز شریف کی شخصیت کی تعریف کی بلکہ پاکستان اور اس کے عوام کو بھی باوقار ا ور شاندار قراردیا۔ یہ سب ڈپلومیٹک معاملہ ہے۔ بظاہر بہت سے معاملات سے لاعلم نظر آنے والے ٹرمپ انتہائی ہوشیار کاروباری شخصیت ہیں۔ ان کا اصل فوکس نفع اور نقصان کی طرف ہی رہتا ہے۔

اس ملاقات میں انہوں نے یہ کہہ کر تہلکہ مچادیا کہ وہ مسئلہ کشمیر پر ثالثی کرانے کے لئے تیار ہیں۔ یہ پہلی مرتبہ نہیں۔ ماضی کے کئی امریکی صدور ایسی آفر کر چکے ہیں اور ساتھ ہی شرط عائد کرتے ہیں کہ اگر پاکستان اور بھارت دونوں راضی ہوں تو ہی ایسا ممکن ہے۔ ظاہر ہے بھارت ہر مرتبہ انکار کردیتا ہے۔ اس مرتبہ ٹرمپ نے بھارتی وزیر اعظم سے ملاقات کا حوالہ دے کر بات کی لیکن بیان کی سیاہی خشک ہونے سے پہلے ہی بھارتی دفتر خارجہ نے ایسی کسی تجویز کی تردید کردی۔

کچھ لوگ معترض ہیں کہ تردید مودی کی جانب سے آنا چاہیے تھی۔ اس با ت میں وزن ہے لیکن یہ مسلمہ اصول ہے کہ دفتر خارجہ کا بیان ہی ریاست کا جواب تصور ہوتا ہے۔ اس ہلچل کے نتیجے میں مسئلہ کشمیر عالمی سطح پر ایک مرتبہ پھر اجاگر تو ہوا لیکن ماضی کی طرح یہ سلسلہ جلد ہی تھم جائے گا۔ بری طرح سے معاشی مشکلات کا شکار پاکستانی حکومت نے اگر چہ باربار یہ کہا کہ ہم کسی طرح کی امداد لینے نہیں گئے۔ لیکن یہ ممکن نہیں کہ آپ ایک طویل عرصے کے بعد راستہ بنا کرواشنگٹن پہنچیں اور سرے سے توقعات بھی نہ ہوں۔

صرف یہ کہہ دیں گے ہم تواچھے تعلقات چاہتے ہیں۔ صرف ایک سال میں 16 ارب ڈالر کے ریکارڈ قرضے لینے والی پی ٹی آئی حکومت کو امریکہ سے بھی کچھ توقع تھی۔ یہ سوچا جا رہاتھا کہ 1.3 ارب ڈالر سالانہ کولیشن سپورٹ فنڈ بحال ہو جائے گا یا ملنے کی راہ ہموار ہو جائے گی۔ پریس بریفنگ میں جب ٹرمپ سے اس بارے میں سوال کیا گیا تو وہ چابک دستی سے ٹال گئے۔ ہاں کی نہ ہی ناں۔ یقیناً سائیڈ لائن پر ہونے والے مذاکرات میں بھی اس حوالے سے بات کی گئی ہو گی۔

یہ بھی بتایا گیا ہوگا کہ افغانستان کے بارے میں ہمارے پاس کیا روڈ میپ ہے؟ لگتا ہے کہ کولیشن سپورٹ فنڈ کی بحالی کے متعلق کوئی بھی فیصلہ اس حوالے سے پیش رفت کا جائزہ لے کر کیا جائے گا۔ جہاں تک غیر ملکی امداد کے بارے میں ٹرمپ انتظامیہ کی پالیسی کا تعلق ہے تو اس کا امکان بہت کم ہے۔ اس دورے میں تجارتی حوالے سے بھی کوئی پیش رفت سامنے نہیں آئی کوئی معاہدہ بھی نہ ہوسکا۔ ٹرمپ اپنے ملک کی معیشت کی تعریف کرتے رہے۔

پاکستان کے ساتھ سرمایہ کاری کی بات ضرور کی لیکن امریکہ سے جو تجارتی رعایتیں درکار تھیں ان کا کوئی ذکر نہیں کیا۔ اس لیے اگر موجودہ حالات میں امریکہ کے ساتھ تجارتی سرگرمیاں بڑھانے کی کوشش کی گئی تو تجارتی خسارہ جو معیشت کے لئے زہر قاتل ہے اور بڑھ جائے گا۔ پاکستانی وفد امریکہ جانے سے قبل جہادی تنظیموں، بھارت سے رابطہ اور افغان مسئلے کے متعلق کئی اقدامات کر کے گیا تھا۔ اس کے باوجود کوئی ٹھوس پیش رفت سامنے نہیں آئی۔

امریکی حکام نے نہ صرف سی پیک پر ایک بار پھر تحفظات کا اظہار کیا بلکہ چینی ٹیکنالوجی کے حصول کی کوششوں کے بارے میں بھی نا پسندیدگی ظاہر کی۔ چینی حکومت پہلے ہی بعض حوالوں سے مضطرب ہے اور ہمارے ہاں بھی بعض ستم ظریف یہ کہنے لگے ہیں کہ چین سے ہمالیہ سے اونچی ”سمندر سے گہری“ شہد سے میٹھی دوستی کی باتیں اب محض ”مطالعہ پاکستان کی حدتک رہ گئی ہیں“۔ اس دورے کے حتمی نتائج کا انحصار رزلٹ دینے پر ہے۔ ٹرمپ کی جانب سے کسی کی تعریف کو معیار سمجھ لینے والے احمقوں کی جنت میں رہتے ہیں۔

ٹرمپ تو شمالی کوریا کے سربراہ کم جونگ کی تعریفیں کرتے نہیں تھکتے اور ادھر حال یہ ہے کہ عوام بھوکے مررہے ہیں۔ ٹرمپ جنوبی کوریا کا بارڈر پیدل پار کرکے کم جونگ کوملنے چلے جاتے ہیں اورگلے ملتے ہیں۔ اکٹھے کھانا کھاتے ہیں پھر واپسی پر پورے خطے کو ڈراتے ہیں کہ ہمارے ہتھیار خریدو ورنہ شمالی کوریا حملہ کردے گا۔ جو لوگ ٹرمپ کو دنیا کے رہنماؤں سے تشبیہ دیتے ہیں انہیں علم ہونا چاہیے کہ ٹرمپ کو سمجھنا آسان نہیں۔

اس دورے کے بعداب افغانستان میں ہمارا رول کیا ہوگا۔ طالبان کو امریکی شرائط کیسے منوائی جائیں گی، یہ اصل چیلنج ہے۔ جنگ زدہ ملک میں کئی دھڑے ہیں، ہر ایک سے بات منوانا آسان نہیں۔ اشرف غنی حکومت نے پچھلے چند سالوں کے دوران امریکی اوریورپی امداد سے اپنی عسکری صلاحیتوں کو بہت بہتر کیا ہے۔ افغان فوج پچھلے کئی ماہ سے طالبان کے ٹھکا نوں کونشانہ بنا رہی ہے۔ طالبان بھی بھرپور کارروائیاں کررہے ہیں، ایسے میں مستقل امن آسان نہیں۔

پاکستان کے حالیہ دورے میں اشرف غنی نے اس با ت کا اظہار کیا کہ افغان فورسز اپنے دشمنوں سے نمٹنے کی صلاحیت رکھتی ہیں۔ چند ماہ کی کارروائیاں اس بات کا زندہ ثبوت ہیں۔ یاد رہے کہ امریکہ افغانستان سے مکمل فوجی انخلاءنہیں کرے گا بلکہ اس کے اڈے موجود ہیں۔ اب تو طالبان بھی اس بات پر راضی ہو گئے ہیں۔ شراکت اقتدار ایک ایسا خوا ب ہے جو کسی بھی وقت بکھر سکتا ہے، امریکی انخلاءکے بعد خانہ جنگی کو ئی بھی رخ اختیار کر سکتی ہے۔

مختصر یہ کہ یہ دورہ ایک خیر سگالی مشن کے تحت تھا۔ کوئی کامیابی ملی تو نا کامی بھی نہیں ہوئی۔ دیکھنا یہ ہے کہ آنے والے دنوں میں ہمارے پڑوسی ممالک اس حوالے سے کس رویہ کا اظہا ر کرتے ہیں۔ اپنے دورہ امر یکہ کے دوران عمران خان نے پاکستانیوں کے ایک بڑے اجتماع سے بھی خطاب کیا جس کی ماضی میں مثال نہیں ملتی انہوں نے تمام اپوزیشن لیڈروں کو نام لے کر لتاڑا۔ مزے کی بات یہ ہے اگلے ہی دن ان کی ٹیم سینیٹ کے چیئرمین کو بچانے کے لئے مولانا فضل الرحمن کے گھر حاضر ہو گئی، یہ جلسہ دراصل پی ٹی آئی کا جلسہ تھا اور اس میں کوئی شک نہیں کہ بیرون ملک عمران خان مقبول بھی بہت ہیں۔

حیرت کی بات تو یہ ہے کہ جلسے میں جوش و خروش سے شرکت کرنے والے خواتین و حضرات کوجب یہ کہا جائے کہ ملکی مسائل حل کرنے کے لئے مدد کریں، ڈالر بھیجیں، سرمایہ کاری کریں تو وہ کان دھرنے کو تیار نہیں ہوتے۔ واشنگٹن میں ہونے والے جلسے کے بعد خدشہ ہے کہ آئندہ جو بھی حکمران باہر جائے گاتو وہاں مقیم اپنی ”اے ٹی ایم مشینوں کو متحرک“ کوئی ہال کرائے پر لے کر میوزیکل کنسرٹ اور دیسی کھانوں کا اہتمام کرکے اپنے ہم وطنوں کو اپنے خیالات سے نوازا کرے گا۔

اندرون ملک ہم بیک وقت سیاسی، عدالتی اور معاشی محاذ کھول بیٹھے ہیں۔ سیاسی حوالے سے جتنے بھی سخت اقدامات ہوں، بحران ٹلتا نظر نہیں آ رہا۔ پی ٹی آئی حکومت کی غیر دانشمندی کے باعث اداروں کو بھی سیاست زدہ کیا جارہا ہے جوکسی بھی حوالے سے خوش آئند نہیں۔ معاشی بحران تیزی سے بڑھ رہا ہے۔ امریکی ایما پر آئی ایم ایف کا قرضہ اور دوست ممالک سے امداد ملنے کے باوجود غیر یقینی اور عدم استحکام ڈیرے ڈالے ہوئے ہیں۔

اقتصادی محاذ پر بعض نئے چیلنج بھی سامنے آناشروع ہو گئے ہیں۔ اب تو ماہرین بھی یہ کہنا شروع ہوگئے کہ آئی ایم ایف معاہدے میں کئی خامیاں باقی رہ گئی ہیں۔ حالانکہ اس کی تیاری کئی ماہ پہلے ہی سے شروع کر دی گئی تھی۔ پوری اقتصادی ٹیم تبدیل کرنے کے باوجود الجھنیں بڑھتی جا رہی ہیں اگر کوئی یہ سوچ رہاہے کہ ریاستی اخراجات و غیرہ کے لئے عوام کو مزید نچوڑ کر پیسہ نکلوایا جائے گا تو وہ اس کبوتر کی مانند ہے جس نے بلی کو دیکھ کر اپنی آ نکھیں بند کر لی تھیں۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •