بے آواز گلی کوچوں سے۔ ڈو مور

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

جون ایلیا نے ایک جگہ لکھا تھا کہ ”تمہارے ہونے کی بس ایک یہی دلیل باقی رہ گئی ہے کہ تم جگہ گھیرتے ہو“۔ لہذاسوشل میڈیا پہ پہلے بہت سے لوگ محض جگہ گھیر رہے ہیں اور اپنے ہونے کی دلیل دے رہے ہیں۔ دلیل کا براہ راست ربط عقل سے ہے۔ عقل شعور کی منازل طے کرنے سے آتی ہے اور شعور علم کی دین ہے۔ لیکن علم مفقود۔ اور جو علم موجود ہے وہ بھی طاق پہ سجا رکھا ہے۔ طاق پہ سجایا علم متروکہ ہے۔ علم متروک ہو جائے تو اس کے نتائج بھگتنے پڑتے ہیں۔

کون ذی شعور ہے جو ملک کے لیے برا سوچتا ہو۔ اسلام نے وطن کی محبت کو دین کا حصہ قرار دیا ہے۔ میں، آپ ہم سب کی پہچان یہ وطن ہے۔ لہذا علم کو طاق پہ نہ سجائیں۔ اس کو اتاریں، جھاڑیں اور استعمال میں لائیں۔ علم کو دلیل کی روح ہونا چاہیے۔ اس بات سے کون انکار کر سکتا ہے کہ عمران خان ایک پر اعتماد شخصیت کے مالک ہیں۔ وہ بات کرنے کا ڈھنگ اور سلیقہ جانتے ہیں۔ میرے نزدیک یہ خان صاحب کا حد سے زیادہ اعتماد ہی ہے جو کبھی تقریر میں کسی ”سلپ آف ٹنگ“ کا شاخسانہ بن جاتا ہے۔

خان صاحب صرف پُر اعتماد شخصیت کے مالک نہیں بلکہ وہ ایک مشہور شخصیت بھی ہیں۔ خان صاحب بطور کھلاڑی بھی مشہور تھے اور بطور سیاستدان بھی مشہور ہیں۔ اور اس شہرت کی ایک بڑی وجہ ان کی کرکٹ کے کھیل سے وابستگی بھی ہے۔ پاکستان جیسے ملک میں جہاں بڑے بڑے ادیب، دانشور، شاعر، موسیقار، خطاط حتی کے بہت سے مختلف کھیلوں کے کامیاب ترین کھلاڑی بھی معمولی شہرت کے حامل ہوتے ہیں وہاں کرکٹ کا ہر دوسرا کھلاڑی ہمارا ہیرو بن جاتا ہے۔

لہذا خان صاحب اس لحاظ سے بھی خوش قسمت ہیں کہ وہ اس مشہور کھیل کے کامیاب ترین کپتان تھے۔ ان سب حقائق کے باجود دور حاضر میں اگر خان صاحب کو پرکھا جائے گا تو اس کی بنیاد ان کا سیاسی کردار اور طرز حکمرانی ہو گا۔ مجھے ایک لمحے کے لیے ان کی کرشماتی شخصیت کو بھول کر ان کی حالیہ سیاسی اقدامات اور ان کے نتائج کا جائزہ لینا ہوگا۔

چند روز قبل امریکہ کے کیپیٹل ون ایرینا میں تحریک انصاف کا ایک کامیاب جلسہ منعقد ہوا۔ یوں تو عمران خان بطور وزیراعظم پاکستان امریکہ گئے تھے لیکن حقیقت یہی ہے کہ وہ اجتماع کلی طور پہ ایک سیاسی جماعت کا اجتماع تھا۔ اس پہ مستزاد اس جلسے میں کی جانے والی تقریر بھی کسی قومی سطح کے لیڈر کی نہیں محسوس ہوئی۔ اس حقیقت سے کسی کو انکار نہیں ہو سکتا ہے ملک کی تعمیر و ترقی میں ایک بڑا حصہ بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کا ہے جو ہر ماہ اربوں ڈالر پاکستان بھیجتے ہیں۔

تو خان صاحب کو چاہیے تھا کہ وہ اس نادر موقع کا فائدہ اٹھاتے اور اپنا ایجنڈا اور دل کھول کر بیان کرتے۔ میں یہ مفروضہ بھی تسلیم کر لیتا ہوں کہ پچھلوں کی کرپشن کی وجہ سے خان صاحب کا ایک سال ضائع ہوگیا۔ لیکن خان صاحب اگلے ایک سے دو سال میں کیا کرنے جا رہے ہیں؟ یہ بات بھی کسی کو نہیں معلوم۔ باون منٹ کی تقریر کے دوران صرف ایک بات پالیسی پہ تھی جس میں یکساں تعلیمی نظام کی بات کی۔ اور میں دعوی سے کہہ سکتا ہوں کہ یکساں تعلیمی نظام کی منزل ابھی کوسوں دور ہے۔

اور اگلے پانچ سال میں مجھے کچھ ایسا ہوتا نظر نہیں آ رہا۔ لیکن فی الحال اس کی آڑ میں مدارس کو رجسٹر کیے جانے کا ارادہ ہے۔ (راقم مدارس کی رجسٹریشن کے حق میں ہے ) لیکن اس وقت یہ سب بیرونی دباؤ کا شاخسانہ معلوم ہوتا ہے۔ کیونکہ حکومت کو ایف اے ٹی ایف میں مشکلات کا سامنا ہے۔ اور ان مدارس کو رجسٹر کرنے کے مذاکرات بھی جی ایچ کیو میں ہو رہے ہیں۔ اس یکساں تعلیمی نظام کے علاوہ کیپیٹل ون ایرینا میں موجود ہزاروں لوگوں کے لیے شاید ہی کوئی نئی بات کہی گئی ہو۔

خان صاحب کو کوئی خواب غفلت سے جگائے اور بتائے کہ اب آپ نے بادشاہت کے مضمرات یا ”میرٹوکریسی“ پہ لیکچر نہیں دینا بلکہ اس کا عملی نمونہ بن کر دیکھانا ہے۔ جہاں آپ نے ملک میں آزاد اداروں کی داغ بیل ڈالنی ہے تو وہاں کس کو قید کرنا ہے کس کا اے سی ٹی وی بند کرنا ہے یہ فیلصہ آپ نے نہیں کرنا ان آزاد اداروں نے کرنا ہے جن کا خواب آپ نے دیکھایا۔ مزید حیرت انگیز بات یہ ہوئی کہ خان صاحب نے آئند سالوں کا ایجنڈا رکھا نہ گذشتہ سال میں مشکل فیصلوں کی نظر ہونے والی قوم کے زخموں پہ امید کا مرہم لگایا۔

ٹرمپ عمران ملاقات میں کیا باتیں ہوئیں اس بارے تو صرف قیاس ہی کیا جا سکتا ہے۔ لیکن ہمیں یہ نہیں بھولنا چاہیے کہ ٹرمپ عمران ملاقات کے علاوہ پینٹاگون میں پاکستان کی عسکری قیادت امریکہ کی عسکری قیادت سے بھی شیر شکر ہوئی۔ جس کے بارے میں generic خبریں شائع ہوئیں۔ ٹرمپ، عمران ملاقات کے بعد میڈیا بریفنگ بہت شاندار رہی۔ راقم نے پہلی بات ٹرمپ کو اتنے غور سے سنا کیونکہ اس کا بولا حرف حرف پاکستان کے لیے اہم تھا۔

اگر ہم اپنی مرضی کے نتائج نہ نکالیں تو اس چھتیس منٹ کی میڈیا بریفنگ کو غور سے سننے سے یہ بات آشکار ہو جاتی ہے کہ امریکہ نے ایک بار پھر ”do more“ کا کہا ہے بلکہ اعتراف کیا ہے کہ پاکستان نے گذشتہ چند ماہ میں بہت زیادہ تعاون کیا ہے۔ جو وہ پہلے نہیں کر رہا تھا جس کی وجہ سے کولیشن سپورٹ فنڈ کی رقم بھی روکی گئی۔ اس بار جبکہ ڈو مور کا اعتراف بھی کیا گیا لیکن حیرت انگیز طور پہ میڈیا میں کسی نے یہ لفظ استعمال نہیں کیا۔

مجھے کبھی کبھی احساس ہوتا ہے کہ میڈیا کو بھی بہت زیادہ فائن ٹیون کر کے چلایا جاتا ہے۔ کشمیر کے مسئلے پہ خان صاحب نے ٹرمپ سے درخواست کی کہ چونکہ امریکہ ایک طاقتور ملک ہے اور ٹرمپ اس کے طاقتور صدر ہیں لہذا امریکہ کشمیر میں کردار ادا کرے۔ امریکہ سے ہماری دوستی اور دشمنی کی تاریخ اس قدر گنجلک ہے کہ یہ جاننا آسان نہیں کہ کب کب امریکہ ہمارا دوست تھا اور کب کب دشمن۔ اور کیا جب امریکہ کشمیر کے معاملے پہ ثالثی کروا رہا ہوگا تو وہ ہمارا دوست ہوگا یا دشمن۔ اس بات کے علاوہ میڈیا بریفنگ میں عمران خان کیطرف سے کی جانے والی اسّی فیصد باتوں میں مستقبل کا صیغہ ”will“ استعمال کیا گیا۔ یعنی وہ باتیں ملاقات میں نہیں ہوئیں۔

دورہ امریکہ پاکستان کے لیے کامیاب رہا یا ناکام اس کا پتہ تو اگلے چند دن میں لگے گا۔ لیکن ٹرمپ کی میڈیا ٹاک یہ اشارہ دیتی ہے کہ پینٹاگون میں سر جوڑے عسکری قیادت شاید ایک بار پھر امریکہ کے ساتھ بھر پور تعاون کرنے پہ تیار ہو گئی ہے۔ اس تعاون کا کیا نتیجہ نکلے گا یہ تو وقت بتائے گا لیکن پاکستان کی ڈوبتی معیشت کو شاید عنقریب کولیشن سپورٹ فنڈ کی رقم دوبارہ ملنے لگ جائے۔ اس کے علاوہ غالب گمان یہی ہے کہ باجوہ صاحب کو بھی ملک اور قوم کی خدمت کا مزید موقع ملے گا۔ اگر یہ دونوں باتیں درست ثابت ہوئیں تو تاریخ بتاتی ہے امریکہ کی دوستی ماضی میں کبھی بھی ہمارے لیے سود مند نہیں رہی۔ لیکن چلیں ایک بار پھر ”do more“ کر کے دیکھ لیں۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •