جلتا کشمیر اور حکومت پاکستان کی پھونکیں

”مسئلہ کشمیر“ آج کا مسئلہ نہیں یہ بہتر سال پرانا مسئلہ ہے اور کشمیر کے باسی گذشتہ بہتّر سال سے اپنے حق خود ارادیت کے لیے اقوام عالم کی طرف ٹکٹکی باندھے دیکھ رہے ہیں۔ پاکستان ہمیشہ کشمیریوں کی آواز بنا۔ پاکستانی عوام کی کشمیر اور کشمیریوں سے محبت کوئی ڈھکی چھپی بات نہیں۔ ہندوستان…

Read more

غربت اور ہوس جرم کی بنیاد ہے

عالمی شہرت یافتہ امریکی ناول نگار ماریو پوزو کے شہرہ آفاق ناول ”گارڈ فادر“ کا ایک جملہ پاکستان میں ہر چھوٹے بڑے کو ازبر ہوا۔ اس جملے کے زبان زد عام ہونے کی ایک وجہ یہ بنی کہ یہ جملہ ایک بڑے سیاسی کیس کا فیصلہ لکھتے وقت موجودہ چیف جسٹس جناب آصف سعید کھوسہ…

Read more

یہ سیاستدان کیا کھاتے ہیں؟

ملک معراج خالد کا نام یقیناً اس سوشل میڈیا سے بصیرت حاصل کرنے والی نسل کے لیے اجنبی ہو گا۔ ملک معراج خالد پاکستان پیپلز پارٹی کے بانی اراکین میں سے تھے۔ بھٹو کے قریبی ساتھی شمار ہوتے تھے۔ ستر کی دھائی میں جب پیپلز پارٹی کی حکومت تھی تو ملک صاحب مختلف وزارتوں پہ…

Read more

سزائے موت کا قیدی

سزائے موت کے قیدی کی ساری اپیلیں رد ہو جانے کے بعد جب اس کی سزا میں توثیق کر دی جاتی ہے۔ تو پھر اسے ایک علیحدہ کال کوٹھڑی میں رکھا جاتا ہے۔ وہاں اس کی حفاظت کا پہلے سے بھی زیادہ انتظام ہوتا ہے۔ یعنی وہ کہیں کسی طرح خود کو نقصان نہ پہنچا…

Read more

بے آواز گلی کوچوں سے۔ ڈو مور

جون ایلیا نے ایک جگہ لکھا تھا کہ ”تمہارے ہونے کی بس ایک یہی دلیل باقی رہ گئی ہے کہ تم جگہ گھیرتے ہو“۔ لہذاسوشل میڈیا پہ پہلے بہت سے لوگ محض جگہ گھیر رہے ہیں اور اپنے ہونے کی دلیل دے رہے ہیں۔ دلیل کا براہ راست ربط عقل سے ہے۔ عقل شعور کی…

Read more

مخولستان

میں مخولستان کا باسی ہوں۔ یوں تو میرا ملک جب قائم ہوا اس وقت اس کا نام مخولستان نہیں تھا لیکن قیام کے چند سال بعد ہی حالات و واقعات نے وہ رخ اختیار کیا کہ جس کو دیکھ کر سیانوں نے مشورہ دیا کہ اس کا نام مخولستان ہونا چاہیے۔ یوں تو مخولستان کی تاریخ بہتّر برسوں پہ پھیلی ہوئی ہے لیکن میں اس تاریخ کو ایک بار پھر سب کو سنا کر بور نہیں کرنا چاہتا۔ البتہ بالعموم گزشتہ چند سال کے اور بالخصوص حالیہ چند ماہ کے بہت سے مخول واقعات کا یوں جمگھٹا لگا ہوا ہے کہ اگر ان کی طرف نظر نہ دوڑائی تو آپ شاید بہت سا مخول مس کر جائیں۔

Read more

ہڑبونگ

میرے چار سو ہجوم ہے۔ بے ہنگم، بکریوں کے ریوڑ کی طرح کبھی کوئی ایک طرف منہ کرتا کبھی دوسری طرف۔ ہجوم کے لوگ ایک دوسری پر چیخ رہے ہیں، چنگھاڑ رہے ہیں۔ سب ایک دوسری کو اپنی بات سنا رہے ہیں اور درحقیقت کوئی بھی کسی کی بات نہیں سن رہا۔ حضرت واصف علی واصف رح نے کہا تھا کہ ”سننے والے کان بولنے والے کا زبان عطا کر دیتے ہیں“۔ لیکن یہاں تو زبانیں ہی زبانیں ہیں۔ زبانوں کا ہجوم ہے۔ ان زبان والوں کے کان بند ہو چکے ہیں۔

Read more

ماہ رمضان کی مسلمانوں سے توقعات

”اگر مساجد میں عبادات جاری ہیں اور اہل محلہ کی معاشرتی زندگی میں اصلاح کا عمل نہیں پیدا ہوتا تو ایسی عبادت قابل غور ہے، نماز کا مدعا صرف نماز ادا کرنا ہی نہیں بلکہ نماز کے انداز اور مفہوم کو زندگی میں رائج کرنا ہے، اگر زندگی سماجی قباحتوں میں بدستور ادا کی جا رہی ہے۔ تو ایسی صورتحال پر بڑا غور ہونا چاہیے“۔ حضرت واصف علی واصف رح

Read more