آسٹریلیا کی ایک نوسرباز لڑکی اور مابعد سچائی کا دور

بیل گبسن (Belle Gibson) ایک آسٹریلوی خاتون ہیں۔ 2009 میں 20 سال کی عمر میں بیل کے دماغ میں کینسر کی تشخیص ہوئی۔ ڈاکٹروں نے اسے بتایا کہ اس کے پاس زندہ رہنے کو صرف چار مہینے بچے ہیں۔ دو ماہ تک کینسر کا علاج کروانے کے بعد بیل کو اچانک خیال آیا کہ یہ طریقہ تکلیف دہ بھی ہے اور اس سے بہتری کے کوئی آثار پیدا نہیں ہو رہے لہذا اس نے قدرتی غذاؤں سے علاج کرنے کا

Read more

عمران خان کا بیانیہ کیا ہے

انسان ہر کہانی کا اختتام دیکھنا یا پڑھنا چاہتا ہے لیکن بعض کہانیاں واضح اختتام لیے ہوئے نہیں ہوتیں بلکہ ان کا اختتام ایک نئی شروعات کا پیش خیمہ محسوس ہوتا ہے۔ یہ معلق اختتام یقیناً پڑھنے اور دیکھنے والے کو تجسس میں مبتلا کر دیتا ہے۔ لیکن اقتدار کی کہانیوں کے عنوان کتنے ہی دلکش کیوں نہ ہوں لازم نہیں کہ ان کا اختتام بھی دلنشین ہو۔ اقتدار کی کہانی کا اختتام واضح ہو اور اختتام میں معروف کردار

Read more

عمران خان کیوں گرا

سیاست امکانات کا نام ہے۔ ہر واقعہ، ہر مسئلہ آپ کو ایک نئے امکان سے روشناس کرواتا ہے۔ سیاست میں جب آپ بند گلی میں پہنچتے ہیں تو وہ یک دم نہیں ہوتا۔ کوئی ایک غلطی سیاستدان کو بند گلی میں نہیں پہنچاتی البتہ غلطیوں کا تسلسل بدنصیبی کی صورت میں ملتا ہے اور بد نصیبی بند گلی میں پہنچا دیتی ہے۔ یوں تو عمران خان کا حکومت سے رخصت ایک واقعہ ہے اور سیاسیات کے طلبا کے لیے اس

Read more

پاکستان میں جمہوریت پہ لگائے گئے کرپشن الزامات کی تاریخ

سیاست امکانات کا نام ہے اور یہی امکانات سماج میں نئی راہیں پیدا کرتے ہیں۔ سیاست کے تال میل سے جمہوریت وجود میں آتی ہے۔ وہی جمہوریت کے جس میں حق رائے دہی کی بنیاد پہ عوام اپنے حکمران چنتے ہیں۔ اور اس اجتماعی دانش کے نتیجے میں چنے گئے حکمرانوں کے ہاتھ میں ملکوں کی باگ ڈور ہوتی ہے۔ جدید دنیا نے جمہوری نظام کو عوام کی ترجمانی کے نمائندہ نظام کے طور پہ پہلیا ہے۔ البتہ پاکستان میں

Read more

نواز شریف کی جارحانہ تقریریں اور ن م راشد کی نظم

پاکستانی سیاست انٹرٹینمنٹ کے سارے اصولوں پہ پورا اترتی ہے۔ اس میں نون لیگ کی فنکاریاں ہیں، پیپلز پارٹی کی قلابازیاں ہیں، جمیعت علمائے اسلام کی سخت مزاجیاں ہیں، اور تحریک انصاف کی کارکردگی کی ”نشانیاں“ ہیں۔ آئے روز سیاسی درجہ حرارت بدلتا رہتا ہے۔ یوں تو اپوزیشن کے اتحاد پی ڈی ایم کو قائم ہوئے چھ ماہ بیت چکے ہیں لیکن تین مارچ کے سینیٹ انتخابات کے بعد حالات نے اتنی تیزی سے کروٹ لی کہ سیاسی منظرنامے کا

Read more

جو خلق اٹھی تو سب کرتب تماشا ختم ہو گا

چند سال یا چند دہائیاں قبل شہروں اور دیہاتوں میں تماشا دکھانے والے بکثرت مل جاتے تھے۔ کوئی ریچھ کا تماشا دکھاتا تھا، کوئی بندر کا تماشا، کوئی سانپ اور نیولے کی لڑائی دکھاتا تھا اور کہیں میلوں ٹھیلوں میں پتلی تماشا ہوتا تھا۔ بہرحال یہ تماشے ہماری تہذیب کا حصہ تھے، جو وقت کے ساتھ ساتھ معدوم ہو گئے ہیں۔ شاید اب بھی کہیں کہیں دیہاتوں میں تماشے دکھائے جاتے ہوں، لیکن کم از کم شہروں کی حد تک اب تو کوئی مداری سڑک پہ بندر لیے بھی خال خال ہی نظر آتا ہے، کجا کہ کہیں بندر کا تماشا نظر آئے۔ البتہ ملک میں ایک سیاسی تماشا ہے جو بہتر سال سے چلا آ رہا ہے۔

تماشا کوئی بھی ہو، اس کی ایک خاص بات یہ ہے کہ دیکھنے والوں کو چند لمحوں کے لیے اپنے ماحول سے بے خبر کر دیتا ہے۔ یہ جانتے ہوئے بھی کہ مداری کے کہنے پہ بندر چشمہ لگائے گا، چل کے اور گھوم کے دکھائے گا، دیکھنے والوں کے لیے پر لطف منظر ہوتا ہے۔ ایسے ہی یہ جانتے ہوئے بھی کہ سیاسی تماشے میں پتلیاں کون ہیں اور ان کو نچانے والی انگلیاں کس کی ہیں۔ لیکن پھر بھی ہم سب اس میں ”محو تماشائے لب بام“ کے مصداق ہیں۔ بہتر برس سے نہ انگلیاں بدلی ہیں اور نہ پتلیاں البتہ بہت سوں کی آنکھوں کی پتلیاں بہت سے خواب لیے بے نور چکی ہیں۔ موہوم سی امید تو اکثر پیدا ہوتی رہی ہے۔ لیکن امید کے اس چراغ سے کوئی سورج طلوع نہیں ہوا۔ اس ملک کی چار نسلیں جمہوریت کے خواب کی تکمیل کو آنکھوں میں بسائے ابدی نیند سو چکی ہیں۔

Read more

میرے پاس تم ہو

ہر انسان ایک مکمل اور منفرد کہانی ہوتا ہے۔ یہی انسان جب دوسروں انسانوں سے ملتا ہے تو مزید کہانیاں جنم لیتی ہیں۔ گویا دنیا میں موجود اربوں انسانوں سے کھربوں کہانیاں جنم لیتی ہیں۔ یہی انسان اور ان سے وابستہ کہانیاں جب کسی قصیدہ گو کی نظر میں آ جائیں تو وہ انہیں آواز میں سمو دیتے ہیں، مصنف لفظوں کا جامہ پہنا دیتے ہیں، شاعر بحر اور اوزون میں قید کر دیتے ہیں، ہدایتکار اسے برقی پردے پہ

Read more

تقریر پہ تقریر

انسان اپنی عادت اور مزاج میں رہن رکھ دیا گیا ہے۔ واقعات پہ زاویہ نظر کیا ہوتا ہے، کس بات کا کیا ردعمل دیتے ہیں، یا پھر کسی بھی موقع پہ کوئی بات کس انداز میں کہنی ہے یہ سب انسان کے انفرادی مزاج اور عادت کا حصہ ہوتا ہے۔ لوگ دوسروں کے ساتھ ان کے مزاج کے مطابق ہی تعلق رکھتے ہیں۔ شخصیت کا مزاج ایک رات میں نہیں بنتا۔ یہ چند ہفتوں کی محنت کا ثمر بھی نہیں

Read more

سیاسی و مذہبی مبالغہ آمیزی

میرے چہار جانب احباب موجود ہیں جو مجھے حوصلہ دے رہے ہیں میری ہمت بندھا رہے ہیں۔ میں اتنی جلدی ہمت ہارنے والا نہیں لیکن ایک ہمہ جہتی زوال ہے جس کے ایک سرے پہ ہمارا معاشرہ کھڑا ہے۔ بلکہ اب یہ معاشرہ ایک سرے پہ کھڑا نہیں بلکہ نشیب کیطرف لڑھک رہا ہے۔ اب محض رفتار کا فرق پڑتا ہے۔ کبھی رفتار تیز اور کبھی کبھار تیز تر ہو جاتی ہے۔ میرے احباب مجھے حوصلہ دے رہے ہیں۔ کہ

Read more

جلتا کشمیر اور حکومت پاکستان کی پھونکیں

”مسئلہ کشمیر“ آج کا مسئلہ نہیں یہ بہتر سال پرانا مسئلہ ہے اور کشمیر کے باسی گذشتہ بہتّر سال سے اپنے حق خود ارادیت کے لیے اقوام عالم کی طرف ٹکٹکی باندھے دیکھ رہے ہیں۔ پاکستان ہمیشہ کشمیریوں کی آواز بنا۔ پاکستانی عوام کی کشمیر اور کشمیریوں سے محبت کوئی ڈھکی چھپی بات نہیں۔ ہندوستان سے لڑی جانے والی تینوں بڑی جنگوں کو سلگانے والا بھی مسئلہ کشمیر کا دھکتا انگارہ ہی تھا۔ کشمیر اور کشمیریوں سے محبت ہمیں درسی

Read more

غربت اور ہوس جرم کی بنیاد ہے

عالمی شہرت یافتہ امریکی ناول نگار ماریو پوزو کے شہرہ آفاق ناول ”گارڈ فادر“ کا ایک جملہ پاکستان میں ہر چھوٹے بڑے کو ازبر ہوا۔ اس جملے کے زبان زد عام ہونے کی ایک وجہ یہ بنی کہ یہ جملہ ایک بڑے سیاسی کیس کا فیصلہ لکھتے وقت موجودہ چیف جسٹس جناب آصف سعید کھوسہ نے لکھا۔ ”ہر دولت کے پیچھے جرم چھپا ہوتا ہے“۔ سوشل میڈیا پہ بکھرے بہت سے اردو اور انگریزی ادب کے صفحات جب کوئی ایسے

Read more

یہ سیاستدان کیا کھاتے ہیں؟

ملک معراج خالد کا نام یقیناً اس سوشل میڈیا سے بصیرت حاصل کرنے والی نسل کے لیے اجنبی ہو گا۔ ملک معراج خالد پاکستان پیپلز پارٹی کے بانی اراکین میں سے تھے۔ بھٹو کے قریبی ساتھی شمار ہوتے تھے۔ ستر کی دھائی میں جب پیپلز پارٹی کی حکومت تھی تو ملک صاحب مختلف وزارتوں پہ فائز رہے۔ دو بار سپیکر قومی اسمبلی بنے۔ اور پھر جب سابق صدر فارق لغاری نے کرپشن کے الزامات پر بے نظیر کی دوسری حکومت

Read more

سزائے موت کا قیدی

سزائے موت کے قیدی کی ساری اپیلیں رد ہو جانے کے بعد جب اس کی سزا میں توثیق کر دی جاتی ہے۔ تو پھر اسے ایک علیحدہ کال کوٹھڑی میں رکھا جاتا ہے۔ وہاں اس کی حفاظت کا پہلے سے بھی زیادہ انتظام ہوتا ہے۔ یعنی وہ کہیں کسی طرح خود کو نقصان نہ پہنچا لے۔ پھر باقاعدگی سے اس کا طبی معائنہ کیا جاتا ہے۔ پھانسی والے دن اس کے چہرے کو سیاہ کپڑے سے ڈھانپ کر تختہ دار

Read more

بے آواز گلی کوچوں سے۔ ڈو مور

جون ایلیا نے ایک جگہ لکھا تھا کہ ”تمہارے ہونے کی بس ایک یہی دلیل باقی رہ گئی ہے کہ تم جگہ گھیرتے ہو“۔ لہذاسوشل میڈیا پہ پہلے بہت سے لوگ محض جگہ گھیر رہے ہیں اور اپنے ہونے کی دلیل دے رہے ہیں۔ دلیل کا براہ راست ربط عقل سے ہے۔ عقل شعور کی منازل طے کرنے سے آتی ہے اور شعور علم کی دین ہے۔ لیکن علم مفقود۔ اور جو علم موجود ہے وہ بھی طاق پہ سجا

Read more

مخولستان

میں مخولستان کا باسی ہوں۔ یوں تو میرا ملک جب قائم ہوا اس وقت اس کا نام مخولستان نہیں تھا لیکن قیام کے چند سال بعد ہی حالات و واقعات نے وہ رخ اختیار کیا کہ جس کو دیکھ کر سیانوں نے مشورہ دیا کہ اس کا نام مخولستان ہونا چاہیے۔ یوں تو مخولستان کی تاریخ بہتّر برسوں پہ پھیلی ہوئی ہے لیکن میں اس تاریخ کو ایک بار پھر سب کو سنا کر بور نہیں کرنا چاہتا۔ البتہ بالعموم گزشتہ چند سال کے اور بالخصوص حالیہ چند ماہ کے بہت سے مخول واقعات کا یوں جمگھٹا لگا ہوا ہے کہ اگر ان کی طرف نظر نہ دوڑائی تو آپ شاید بہت سا مخول مس کر جائیں۔

Read more

ہڑبونگ

میرے چار سو ہجوم ہے۔ بے ہنگم، بکریوں کے ریوڑ کی طرح کبھی کوئی ایک طرف منہ کرتا کبھی دوسری طرف۔ ہجوم کے لوگ ایک دوسری پر چیخ رہے ہیں، چنگھاڑ رہے ہیں۔ سب ایک دوسری کو اپنی بات سنا رہے ہیں اور درحقیقت کوئی بھی کسی کی بات نہیں سن رہا۔ حضرت واصف علی واصف رح نے کہا تھا کہ ”سننے والے کان بولنے والے کا زبان عطا کر دیتے ہیں“۔ لیکن یہاں تو زبانیں ہی زبانیں ہیں۔ زبانوں کا ہجوم ہے۔ ان زبان والوں کے کان بند ہو چکے ہیں۔

Read more

ماہ رمضان کی مسلمانوں سے توقعات

”اگر مساجد میں عبادات جاری ہیں اور اہل محلہ کی معاشرتی زندگی میں اصلاح کا عمل نہیں پیدا ہوتا تو ایسی عبادت قابل غور ہے، نماز کا مدعا صرف نماز ادا کرنا ہی نہیں بلکہ نماز کے انداز اور مفہوم کو زندگی میں رائج کرنا ہے، اگر زندگی سماجی قباحتوں میں بدستور ادا کی جا رہی ہے۔ تو ایسی صورتحال پر بڑا غور ہونا چاہیے“۔ حضرت واصف علی واصف رح

Read more