میرے پاس تم ہو

ہر انسان ایک مکمل اور منفرد کہانی ہوتا ہے۔ یہی انسان جب دوسروں انسانوں سے ملتا ہے تو مزید کہانیاں جنم لیتی ہیں۔ گویا دنیا میں موجود اربوں انسانوں سے کھربوں کہانیاں جنم لیتی ہیں۔ یہی انسان اور ان سے وابستہ کہانیاں جب کسی قصیدہ گو کی نظر میں آ جائیں تو وہ انہیں آواز…

Read more

تقریر پہ تقریر

انسان اپنی عادت اور مزاج میں رہن رکھ دیا گیا ہے۔ واقعات پہ زاویہ نظر کیا ہوتا ہے، کس بات کا کیا ردعمل دیتے ہیں، یا پھر کسی بھی موقع پہ کوئی بات کس انداز میں کہنی ہے یہ سب انسان کے انفرادی مزاج اور عادت کا حصہ ہوتا ہے۔ لوگ دوسروں کے ساتھ ان…

Read more

سیاسی و مذہبی مبالغہ آمیزی

میرے چہار جانب احباب موجود ہیں جو مجھے حوصلہ دے رہے ہیں میری ہمت بندھا رہے ہیں۔ میں اتنی جلدی ہمت ہارنے والا نہیں لیکن ایک ہمہ جہتی زوال ہے جس کے ایک سرے پہ ہمارا معاشرہ کھڑا ہے۔ بلکہ اب یہ معاشرہ ایک سرے پہ کھڑا نہیں بلکہ نشیب کیطرف لڑھک رہا ہے۔ اب…

Read more

جلتا کشمیر اور حکومت پاکستان کی پھونکیں

”مسئلہ کشمیر“ آج کا مسئلہ نہیں یہ بہتر سال پرانا مسئلہ ہے اور کشمیر کے باسی گذشتہ بہتّر سال سے اپنے حق خود ارادیت کے لیے اقوام عالم کی طرف ٹکٹکی باندھے دیکھ رہے ہیں۔ پاکستان ہمیشہ کشمیریوں کی آواز بنا۔ پاکستانی عوام کی کشمیر اور کشمیریوں سے محبت کوئی ڈھکی چھپی بات نہیں۔ ہندوستان…

Read more

غربت اور ہوس جرم کی بنیاد ہے

عالمی شہرت یافتہ امریکی ناول نگار ماریو پوزو کے شہرہ آفاق ناول ”گارڈ فادر“ کا ایک جملہ پاکستان میں ہر چھوٹے بڑے کو ازبر ہوا۔ اس جملے کے زبان زد عام ہونے کی ایک وجہ یہ بنی کہ یہ جملہ ایک بڑے سیاسی کیس کا فیصلہ لکھتے وقت موجودہ چیف جسٹس جناب آصف سعید کھوسہ…

Read more

یہ سیاستدان کیا کھاتے ہیں؟

ملک معراج خالد کا نام یقیناً اس سوشل میڈیا سے بصیرت حاصل کرنے والی نسل کے لیے اجنبی ہو گا۔ ملک معراج خالد پاکستان پیپلز پارٹی کے بانی اراکین میں سے تھے۔ بھٹو کے قریبی ساتھی شمار ہوتے تھے۔ ستر کی دھائی میں جب پیپلز پارٹی کی حکومت تھی تو ملک صاحب مختلف وزارتوں پہ…

Read more

سزائے موت کا قیدی

سزائے موت کے قیدی کی ساری اپیلیں رد ہو جانے کے بعد جب اس کی سزا میں توثیق کر دی جاتی ہے۔ تو پھر اسے ایک علیحدہ کال کوٹھڑی میں رکھا جاتا ہے۔ وہاں اس کی حفاظت کا پہلے سے بھی زیادہ انتظام ہوتا ہے۔ یعنی وہ کہیں کسی طرح خود کو نقصان نہ پہنچا…

Read more

بے آواز گلی کوچوں سے۔ ڈو مور

جون ایلیا نے ایک جگہ لکھا تھا کہ ”تمہارے ہونے کی بس ایک یہی دلیل باقی رہ گئی ہے کہ تم جگہ گھیرتے ہو“۔ لہذاسوشل میڈیا پہ پہلے بہت سے لوگ محض جگہ گھیر رہے ہیں اور اپنے ہونے کی دلیل دے رہے ہیں۔ دلیل کا براہ راست ربط عقل سے ہے۔ عقل شعور کی…

Read more

مخولستان

میں مخولستان کا باسی ہوں۔ یوں تو میرا ملک جب قائم ہوا اس وقت اس کا نام مخولستان نہیں تھا لیکن قیام کے چند سال بعد ہی حالات و واقعات نے وہ رخ اختیار کیا کہ جس کو دیکھ کر سیانوں نے مشورہ دیا کہ اس کا نام مخولستان ہونا چاہیے۔ یوں تو مخولستان کی تاریخ بہتّر برسوں پہ پھیلی ہوئی ہے لیکن میں اس تاریخ کو ایک بار پھر سب کو سنا کر بور نہیں کرنا چاہتا۔ البتہ بالعموم گزشتہ چند سال کے اور بالخصوص حالیہ چند ماہ کے بہت سے مخول واقعات کا یوں جمگھٹا لگا ہوا ہے کہ اگر ان کی طرف نظر نہ دوڑائی تو آپ شاید بہت سا مخول مس کر جائیں۔

Read more

ہڑبونگ

میرے چار سو ہجوم ہے۔ بے ہنگم، بکریوں کے ریوڑ کی طرح کبھی کوئی ایک طرف منہ کرتا کبھی دوسری طرف۔ ہجوم کے لوگ ایک دوسری پر چیخ رہے ہیں، چنگھاڑ رہے ہیں۔ سب ایک دوسری کو اپنی بات سنا رہے ہیں اور درحقیقت کوئی بھی کسی کی بات نہیں سن رہا۔ حضرت واصف علی واصف رح نے کہا تھا کہ ”سننے والے کان بولنے والے کا زبان عطا کر دیتے ہیں“۔ لیکن یہاں تو زبانیں ہی زبانیں ہیں۔ زبانوں کا ہجوم ہے۔ ان زبان والوں کے کان بند ہو چکے ہیں۔

Read more