چند سال یا چند دہائیاں قبل شہروں اور دیہاتوں میں تماشا دکھانے والے بکثرت مل جاتے تھے۔ کوئی ریچھ کا تماشا دکھاتا تھا، کوئی بندر کا تماشا، کوئی سانپ اور نیولے کی لڑائی دکھاتا تھا اور کہیں میلوں ٹھیلوں میں پتلی تماشا ہوتا تھا۔ بہرحال یہ تماشے ہماری تہذیب کا حصہ تھے، جو وقت کے ساتھ ساتھ معدوم ہو گئے ہیں۔ شاید اب بھی کہیں کہیں دیہاتوں میں تماشے دکھائے جاتے ہوں، لیکن کم از کم شہروں کی حد تک اب تو کوئی مداری سڑک پہ بندر لیے بھی خال خال ہی نظر آتا ہے، کجا کہ کہیں بندر کا تماشا نظر آئے۔ البتہ ملک میں ایک سیاسی تماشا ہے جو بہتر سال سے چلا آ رہا ہے۔
تماشا کوئی بھی ہو، اس کی ایک خاص بات یہ ہے کہ دیکھنے والوں کو چند لمحوں کے لیے اپنے ماحول سے بے خبر کر دیتا ہے۔ یہ جانتے ہوئے بھی کہ مداری کے کہنے پہ بندر چشمہ لگائے گا، چل کے اور گھوم کے دکھائے گا، دیکھنے والوں کے لیے پر لطف منظر ہوتا ہے۔ ایسے ہی یہ جانتے ہوئے بھی کہ سیاسی تماشے میں پتلیاں کون ہیں اور ان کو نچانے والی انگلیاں کس کی ہیں۔ لیکن پھر بھی ہم سب اس میں ”محو تماشائے لب بام“ کے مصداق ہیں۔ بہتر برس سے نہ انگلیاں بدلی ہیں اور نہ پتلیاں البتہ بہت سوں کی آنکھوں کی پتلیاں بہت سے خواب لیے بے نور چکی ہیں۔ موہوم سی امید تو اکثر پیدا ہوتی رہی ہے۔ لیکن امید کے اس چراغ سے کوئی سورج طلوع نہیں ہوا۔ اس ملک کی چار نسلیں جمہوریت کے خواب کی تکمیل کو آنکھوں میں بسائے ابدی نیند سو چکی ہیں۔
Read more