یہ تو دل کا معاملہ نکلا …


\"aliجتنی اردو  شاعری ہم نے پڑھی ہے   اس میں دل وہ نہیں  جو ہمارے سینے کے اندر دھڑکنے والا گوشت پوست کا لوتھڑا ہے، بلکہ شاعر کا  دل درمندی کا استعارہ   ،  سوچنے والا  مفکر، مجبور کر دینے والا  جابر، پسند کرنے والا  پرستار، انکارکرنے والا  منکر اور وہ کچھ محسوس کرنے والا ہے جو  صرف حساس لوگ محسوس کرسکتے ہیں ۔

 کچھ شعراء تو بضد ہیں کہ محبوب کے سینے میں پتھر کے دل ہوتے ہیں۔ علم حیاتیات اس کا محل وقوع  کچھ بھی بتائے ممبئی کی فلم نگری میں اب بھی دل وہیں پر  ہے جہاں   دلّی ،لکھنؤ  اور لاہور  کے شعرا ء  اور ادباء   نے بتایا  ہے۔  سائنس میں علم حیاتیات خواہ کچھ بھی کہے  ممبئی کی فلم نگری میں اب بھی دل وہی ہے جو  دلّی ،لکھنؤ  اور لاہور  کے شعرا ء  اور ادباء   نے بتایا  ہے۔ جو دل کے معاملے میں دلجمعی سے زیادہ  دلداری  اور   دل لگی پر یقین رکھتے ہیں۔   کچھ تو دل کو دنیا کا سب سے بڑا استاد  مان لیتے ہیں اور ہر کام اسی کے منشا سے کرتے ہیں۔  کچھ کا  تو حال یہ ہے کہ خود  کو خود  کا نہیں معلوم مگر دل   ان کا ہر  وہ بات  بھی جانتا ہے جس کا ظہور ہونا  ابھی باقی ہے۔۔

ہم نے بھی کسی زمانے میں ڈاکٹر بننے کا خوب دیکھا تھا ، کالج میں نہ استاد پورے تھے نہ کتابیں اور نہ ہم میں ہمت تھی کہ ڈھائی کلو گرام  کی بیالوجی   نام کی کتاب کو بزبان ولایت پڑھ ، سمجھ   اور لکھ کر امتحانی پرچے بھر لیں     پھر  ان چند لوگوں میں شامل ہو سکیں جو پیشہ طب سے وابستہ ہیں ۔ اس کاوش نا تمام میں جتنا ہم سمجھ سکے اس میں یہ بات بھی شامل تھی  دل نام کی شے  کا عشق ، ہمت ، مشاورت،  جبر، اخلاص یا مستقبل سے تعلق ہو یا نہ ہو مگر جس جسم میں یہ موجود ہو اس کو  ملنے والے خون کی صفائی کا کام اسی  کا ہے ۔ دل اسی کام  کے لئے  دھڑکتا رہتا ہے۔  اس کی اپنی ندی نالیوں میں بھی کچرا اور گند جمع ہوکر  خون کی روانی کو متاثر کر دیتا ہے  ۔

 ہم نے تو پہلے اس کتاب کو دیکھ کر  ڈاکٹری  سے توبہ کر لی تھی۔  اب دل  کا کام سمجھنے کے بعد اردو غزل کے شعراء کے دھوکے میں نہ آنے کا بھی مصمم ارادہ کر لیا ہے۔ اب  دل سے کسی اور کام کی نہ  توقع  رکھنی ہے اور نہ زحمت دینی ہے ۔ اب دل ہمارے لیٔے ایک آلہ  کار  ہے۔

ہمیں کہا گیا تھا کہ اس آلہ کار کی خرابی  جب بھی ہو  یہ سب چربی اور چینی کی ایک خاص مقدار سے تجاوز  کا کرم  ہوتا ہے۔ خون کی روانی  متاثر نہ کرنے کے لئے نمک کی مقدار کو بھی حد میں رکھنا لازمی بتایا گیا۔ ہم نے میٹھی چاۓ،  گوشت اور نمکین  روشت اور نمک  پاروں سے اجتناب برتا۔   زندگی میں چربی، نمک اور میٹھا نہ ہو تو پھیکی پھیکی لگتی ہے جو گزشتہ پندرہ سالوں سے ہماری ہے۔

اسلام آباد آگئے تو مارگلہ کی خوب صورت پہاڑیوں  کو ہی اپنے  کوہ نوردی   کے شوق کی تسکین کا ذریعہ بنا  یا۔  مارگلہ میں کہنے کو تو صرف سات پگڈنڈیاں  بنی ہوئی ہیں دراصل یہاں چالیس سے بھی اوپر معروف اور غیر معروف پگڈنڈیاں بنی ہوئی ہیں۔ اکتوبر سے جون کے مہینے تک ہمارا فالتو وقت ان ہی پگڈنڈیوں پر گزرنے لگا۔  یہاں دوستیاں   لگیں تو ایک گروپ بھی بنایا جس میں دنیا بھر کے لوگ شامل ہیں۔ سال میں ایک مرتبہ  پہاڑوں کی جنت گلگت بلتستان میں کسی پہاڑ کی یاترا زندگی کا  لازمی جزبن گیا ہے۔

سردیوں میں ہر  جمعہ ، ہفتہ اور اتوار مرگلہ کی پہاڑیوں کے نام۔  جمعہ کی شام اکیلے ٹریل (پگڈنڈی) نمبر ۳  پر خود ہی  ہائیک کرنے کے بعد سنیچر کے دن غیر ملکی دوستوں کیساتھ کسی لمبے سفر پر کم از کم صبح دس سے شام چار پانچ بجے تک پہاڑوں پر رہے۔ اتوار کے روز  پگڈنڈی نمبر پانچ پر   بیوی بچوں کو براستہ  چشمہ روانہ کرکے خود دائیں ہاتھ کے سخت چڑھائی والے راستے  سے چڑھے۔ مرگلہ  میں آنے والے کچھ سپر انکل کہتے ہیں تو کچھ پہاڑی ریچھ جس کو اترائی میں تو مسئلہ ہو سکتا ہے مگر پہاڑ چڑھنے میں کبھی مسئلہ نہیں ہوتا۔

مگر یہ کیا ، ایک  دن  پگڈنڈی سے واپس آنے کے بعد  رات کو بازو  میں درد سا  اٹھا۔   بیوی کہتی ہے ً  چہرے پر پسینہ بھی آرہا ہے ًحالانکہ کمرے میں ائیر کنڈیشنر بھی چل رہا ہے۔  دو گولی ڈسپرین  بھی پانی میں گھول کر پلائی ، افاقہ نہ ہوا تو بیوی نے حکم دیا کہ  ہسپتال چلو  کسی ڈاکٹر  کو دکھلائیں۔  چلو جی  ہم تو پہاڑ چڑھنے  والے لوگ ہیں، نہ کولیسٹرول (چربی) ، نہ شکر (شوگر)  ہمیں کونسا دل کا  دورہ پڑنے والا ہے  ۔  فوراً ہی ای۔سی۔جی  اور اعلان ہو کہ  ڈاکٹر کو بلاؤ، کنولا لگاؤ اور کہا کہ وقت پر ڈسپرین کھانے اور ہسپتال پہنچنے پر اٹیک نے زیادہ نقصان نہیں کیا۔  کیا واقعی مجھے ہارٹ اٹیک ہوا؟ دل  ہے کہ  مانتا  نہیں، کیونکہ دل جانتا ہی نہیں کہ اس پر کوئی اٹیک بھی ہوا ہے۔

دل کہتا ہے کہ ایسا کیسے ہوسکتا ہے ، ڈاکٹر جھوٹ بولتے ہیں۔ مگر ڈاکٹر کونسا ہمارے دل کی ماننے والے ہیں ۔ اعلان ہو چکا کہ ایک رگ پچاس فیصد متاثر ہے جسکی مرمت لازمی ہے ۔  ای۔ سی ۔ جی کے بعد انجیو گرافی اور پھر انجیو پلاسٹی۔ کیوں بھائی میں نے احتیاط  میں کونسی کوتاہی کی؟ پرہیز میں کیا کمی کی؟  تم نے تو صرف چلنے پھرنے کا کہا ہم تو پہاڑ چڑھتے رہے  ہیں۔  پھر کیسے ہوا یہ سب کچھ؟ ڈاکٹر کو بدلو، رپورٹ پھر سے دیکھ لو  کہیں کوئی غلطی ہوئی ہوگی۔

ڈاکٹروں کا ایک بورڈ بیٹھا اور بتایا گیا کہ چربی، شکر اور روزانہ کی ورزش کے علاوہ کئی اور وجوہات ہیں جو دل کا معاملہ بگاڑ دیتے ہیں۔ ان وجوہات میں تمباکو  نوشی بھی ایک  ہے  جس میں کاربن اور نیکوٹین  خون میں شامل  ہو کر دل کے شریانوں اور رگوں  کی اندرونی دیواروں میں جم جاتے ہیں اور ان کو کمزور کردیتے  ہیں۔   جب خون کا کوئی لوتھڑا بن جاتا ہے اور ان شریانوں سے گزرتا ہے  تو کاربن سے متاثر ہ حصہ اسے برداشت نہیں کرتا اور پھٹ جاتا ہے جس کے ساتھ پہلے  دل  پھرزندگی کا چراغ بھی گل ہو جاتا ہے۔

ارے ہاں میں تو سگریٹ  پسند کرتا ہوں، ایک سگریٹ ہی تو ہے جو  میرا دل چاہتا ہے  کہ میں اپنی تنہائی، بوریت ، ذہنی دباؤ اور  کام کی زیادتی میں اپنے منہّ سے لگاؤں ۔  سگریٹ نے ہی تو مجھے سکون دیا ہے ، اس کے دھوئیں میں  کونسی ایسی چیز تھی آخر؟ بتایا گیا کہ  تمباکو  کے نیکوٹیں اور دیگر کیمیائی مواد کے علاوہ اس کے دھویئں میں کاغذ سے نکلا کاربن بھی  تھا  جس نے خون میں شامل ہوکر یہ کارنامہ سرانجام دیا۔

تین دن ہسپتال کے  ہنگامی وارڈ کے بستر پر گزارنے،  ایک دفعہ ایک تار سے جڑا کیمرہ اور دوسری بار ایک کیمرہ اور ایک پلاسٹک کی ایک شریان کو  بازو کی ایک رگ سے گزارنے اور ادھے ملین روپے کے نقصان اور زندگی بھر کے لیٔے دل نام کے ایک کمزور آلہ کارکو  بچانے کے بعد ایک بات سمجھ آسکی وہ یہ کہ دل ہی تو ہے نہ سنگ و خشت، درد سے بھر نہ آئے کیوں ۔

Facebook Comments HS

علی احمد جان

علی احمد جان سماجی ترقی اور ماحولیات کے شعبے سے منسلک ہیں۔ گھومنے پھرنے کے شوقین ہیں، کو ہ نوردی سے بھی شغف ہے، لوگوں سے مل کر ہمیشہ خوش ہوتے ہیں اور کہتے ہیں کہ ہر شخص ایک کتاب ہے۔ بلا سوچے لکھتے ہیں کیونکہ جو سوچتے ہیں, وہ لکھ نہیں سکتے۔

ali-ahmad-jan has 289 posts and counting.See all posts by ali-ahmad-jan