دو کلو دہی اور مولوی کے مہمان


\"husnain

پردیسی کا فون آیا، بہت عرصے بعد کھل کر باتیں ہوئیں، ملاقات طے ہوئی، مقررہ وقت پر ہم دونوں مولوی کے گھر اکٹھے تھے۔ وہاں دولہا بھی آ گیا، بہت دنوں سے اس کی شکل نہیں دیکھی تھی، کچھ دیر میں منشی آ گیا، ان دونوں کو پردیسی نے فون کیا تھا، اور ہم پانچ کے پانچ ایک مرتبہ پھر پیٹ پکڑ پکڑ کر ہنس رہے تھے۔

ہم لوگ جب بھی اکٹھے ہوتے ہیں، شغل لگانے کے لیے مولوی کی باری ہمیشہ سب سے پہلے آتی ہے۔ اس بار تو ہم سب اس کے گھر ہی میں اکٹھے ہوئے تھے۔ مولوی کی اہلیہ میکے گئی ہوئی تھیں، یاروں کو خدا کے بعد مولوی کا آسرا تھا، پانچوں کے پانچوں وہاں پہنچ گئے۔ دو سال بعد اس سے ملاقات ہوئی تھی، بے چارہ بیڈ روم میں ہی لے گیا کہ وہاں اے سی تھا تو ذرا سکون سے بات چیت ہو جاتی۔ فقیر نے سگریٹ سلگایا اور پردیسی کے تلووں سے سلگتی ہوئی چنگاریاں دماغ کو پہنچنے لگیں۔ بڑا شور مچایا پردیسی نے کہ کسی طرح سگریٹ نہ پیا جائے۔ وجہ پوچھی تو کہنے لگا کہ مولوی مجھے تو آج تک اپنے گھر میں نہیں پینے دیتا تو بیڈ روم میں بیٹھ کر پیتا ہے۔ مولوی آیا، پردیسی نے اس کے آگے مقدمہ رکھا، کہنے لگا، اگر فقیر نے سگریٹ میرے سامنے جلائی ہوتی تو میں اس کے ہاتھ توڑ دیتا، اب جلا ہی لی ہے تو پینے دو۔ پھر درخواست کی کہ یار ذرا جلدی ختم کر دینا۔ ابھی یہ درخواست جاری تھی کہ دولہا اندر داخل ہوا۔ دولہے نے چابیاں بعد میں رکھیں سگریٹ پہلے سلگائی۔ پردیسی اور مولوی اب دونوں ایک دوسرے کو دیکھ رہے تھے کہ برائی کو جڑ سے کیسے اکھاڑا جائے۔ مولوی دولہے کی منتیں کرنے لگا کہ یار نہ پی یہاں سگریٹ تیری بھابھی آئے گی تو میں کہاں جاؤں گا۔ دولہے کو رحم آتا ہوتا تو وہ آج کامیاب بزنس مین نہ ہوتا۔ اس نے اور فقیر نے شغل جاری رکھا۔ اتنی دیر میں منشی بھی پہنچ چکا تھا۔ منشی نے سلام دعا کی، سب سے بھرپور معانقہ کیا اور اس کے بعد ماچس مانگی۔

مولوی باہر گیا اور ایک دیگچی کے ساتھ ماچس اٹھا لایا۔ کہتا تھا کہ ایش ٹرے بار بار خالی کرنا پڑے گا، بس اب شروع ہو جاؤ، اسی دیگچی میں راکھ گراؤ۔ مولوی یاد کرنے لگا کہ کیسے ہم لوگ سب کے سب اس کے گھر آ کر سگریٹ پیا کرتے تھے اور جب مولوی کے ابا کا چھاپہ پڑتا تو ایش ٹرے دیکھ کر پہلا سوال یہی کرتے کہ اتنے سگریٹ کس نے پیے ہیں، سب کی انگلیاں فقیر کی طرف ہوتیں اور مولوی کے ابا عجیب سی نظروں سے دیکھتے ہوئے چلے جاتے، سوچتے ہوں گے نر بچہ ہے چار گھنٹے میں چالیس سگریٹ پیتا ہے، الگ الگ فلٹر والے!

پردیسی کے عزائم خاک میں مل چکے تھے۔ اب وہ بھی سگریٹ پینے کا سوچ رہا تھا۔ اس نے سگریٹ حال ہی میں چھوڑی تھی، پھیپھڑوں کے آپریشن کے بعد۔ اب بھی پوری چھوڑی تھی یا نہیں یہ وہی جانتا تھا، چنڈال چوکڑی میں بہرحال نہیں پی اس نے، مچلتے دل کو سنبھال کر بیٹھا رہا، آنکھیں گواہی دیتی تھیں کہ للچا رہا ہے۔ ساتھ ساتھ دہائیاں دیتا جا رہا تھا کہ مولوی کیسا بدتمیز انسان ہے، گھر آ کر میں نے پہلا فون اسی کو کیا اور یہ تھا کہ مجھے گالیوں پر گالیاں دئیے جاتا تھا، میں نے فون امی کو پکڑا دیا، امی کچھ دیر سنتی رہیں پھر انہوں نے مولوی کو بے نقط سنائیں۔

مولوی سے پوچھا، ہاں بھئی قصہ کیا تھا، مولوی کہنے لگا، یار میرے والد صاحب کی برسی تھی جس دن پردیسی پہنچا ہے، اس نے فون کیا اور پوچھا، ہاں بھئی کیک کاٹے گا یا لنچ پر دعا کرائے گا، بس یہ سن کر مجھے غصہ آ گیا اور اس نے اپنی امی کو فون پکڑا دیا، اندازہ کر لو پردیسی کیسا خر دجال بن کے آیا ہے۔

ہنسی مذاق چلتا رہا، دولہے نے کہا یار دٌکی کھیلتے ہیں، سب تیار ہو گئے۔ دکی تاش کا ایک کھیل ہے جو ہم لوگ شرط لگا کر کھیلتے تھے۔ کھیلنے والے ہم پانچ ہوتے تھے اور شرط لگتی تھی دودھ سوڈے کی بوتلوں پر۔ دس بازیاں کھیلنے کے بعد جس دوست کا ٹوٹل سکور سب سے زیادہ ہوتا تھا وہ باقی چاروں کو دودھ سوڈا پلاتا تھا۔ مولوی بے چارے کی شامت سب سے زیادہ آتی تھی، ایک دفعہ جب وہ چھٹی ساتویں دفعہ بوتلیں لینے گیا تو دوکاندار پوچھنے لگا، مولوی صاحب خیر ہے، اتنی بوتلیں لے کر جاتے ہیں، کیا کرتے ہیں؟ مولوی صاحب کہنے لگے، اوئے کملے ادھر اللہ کی خاص رحمت ہے، مہمان داری ہماری کبھی ختم ہی نہیں ہوتی۔ تو بس آج پھر ہم سب مولوی کے مہمان تھے۔ پندرہ سال بعد دکی دوبارہ شروع ہو رہی تھی۔

ابھی پتے پھینٹ کر بانٹے ہی تھے تو منشی بول پڑا کہ کم بختو تم میں سے کسی نے پردیسی سے افسوس تک نہیں کیا، اس کے والد کا ابھی دو تین ماہ پہلے انتقال ہوا ہے، سب کو یاد آگیا، تاش کے پتے سامنے رکھ کر انتہائی خلوص سے پردیسی کے والد کو بخشوایا گیا، پھر سب نے باجماعت پتے اٹھائے۔ کھیل شروع ہو گیا۔ ساتھ ساتھ وہ سب انتہائی سنجیدگی سے فقیر کی جانب اشارے کر کے ایک دوسرے کو یقین دلاتے تھے کہ ہمیں تمام برے کام سکھانے والا یہی ہے۔ ہم سب پڑھ رہے تھے کہ اس نے پڑھانا شروع کر دیا، ہمیں بھی پیسوں کا لالچ ہوا، ہم بھی اس کے پیچھے پیچھے لگ گئے۔ اس نے سگریٹ پینا شروع کیا، ہم بھی اس کے ساتھ پکے ہو گئے، اس نے دکی کھیلنے کا آئیڈیا دیا، ہم دن رات یہی کھیلتے رہے، اس نے سکول میں پڑھانا شروع کیا، ہم سب کو بھی گھسیٹ کر سکول کی نوکری میں لے گیا، ایک ہی سکول میں پانچوں دوست بھرتی کرا دیے، پھر سب کے سب وہاں سے انشورنس کمپنی میں چلے گئے، ایک دو سال بیمے کروائے، پھر یہ میڈیکل ریپ بن گیا، پھر سب سیلز میں آگئے۔ پھر اس لعنتی نے غضب یہ کیا کہ عمر میں سب سے چھوٹا ہونے کے باوجود سب سے پہلے شادی کر لی، گھر والوں کا دباؤ ہم سب پر پڑا اور ہمیں بھی جلدی جلدی شادی کرنا پڑی، کل ملا کر تمام باتوں کا ذمہ دار فقیر کو ٹھہرایا گیا اور فقیر کہتا تھا کہ ناشکرو، تم لوگ سب برگر بچے ہوتے تھے، تمہیں دنیا دکھانے والا یہی فقیر تھا احسان فراموشو، آج استاد کو بھول چکے ہو اور اسے باتیں سناتے ہو۔

جب ہم پانچوں دوست جمع ہوئے اس وقت مولوی کا ایک باریش، پابند صوم و صلوة نیا دوست بھی کمرے میں بیٹھا تھا، اب وہ نظر نہیں آ رہا تھا۔ خدا جانے بغیر سلام دعا کیے اتنی جلدی کہاں چلا گیا تھا، ابھی تو ہم نے اس کا نام بھی نہیں پوچھا تھا۔ آدمی نیک اور شریف تھا۔ کمرہ دھوئیں میں ڈوب چکا تھا، مولوی کی آنکھوں سے پانی بہہ رہا تھا کیوں کہ کمرے میں موجود واحد سکھ وہی تھا جسے تمباکو سے ازلی پرہیز تھا۔ دکی نے سب کے کان گرم کیے ہوئے تھے، پہلی بار کی ڈیڑھ لیٹر بوتل فقیر کی گردن میں فٹ ہوئی، اگلی باری منشی کی لگی، اس سے آگے کیا ہوا، کہا نہیں جا سکتا، فقیر کو گھر سے فون آچکا تھا، دو کلو دہی اور چند روٹیوں کا سوال تھا۔ پندرہ سال کے بعد جو چنڈال چوکڑی جمی تھی وہ دو کلو دہی کے چکر میں اپنے انجام کو پہنچی۔

Facebook Comments HS

حسنین جمال

حسنین جمال کسی شعبے کی مہارت کا دعویٰ نہیں رکھتے۔ بس ویسے ہی لکھتے رہتے ہیں۔ ان سے رابطے میں کوئی رکاوٹ حائل نہیں۔ آپ جب چاہے رابطہ کیجیے۔

husnain has 502 posts and counting.See all posts by husnain

2 thoughts on “دو کلو دہی اور مولوی کے مہمان

  • 16/09/2016 at 11:15 شام
    Permalink

    Baqi sab ko to pehchan gaey,per munshi kaun..usman??

  • 19/09/2016 at 2:23 شام
    Permalink

    acha!!! yaani sab jaga aisa hi hota hai aur sab dost aisay hi hotay hain. the naughty boy who ran away to scotland wala kissa

Comments are closed.