عرفان صدیقی کی رہائی: حراست سے زیادہ سنگین سوالات

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

سابق وزیر اعظم نواز شریف کے مشیر اور ممتا زصحافی و استاد عرفان صدیقی کو گرفتاری اور دو ہفتے کے لئے ریمانڈ پر جیل بھیجنے کے 20 گھنٹے بعد ضمانت پر رہا کردیا گیا ہے۔ یہ رہائی انصاف کی فتح ، انسانی حقوق کی کامیابی یا ملک میں قانون کی حکمرانی کی داستان نہیں سناتی بلکہ عدالتوں کی مجبوری اور نظام کی بوسیدگی کو بیان کرتی ہے جسے ہر حکمران اپنی مرضی و منشا کے مطابق اپنے سیاسی مخالفین کے خلاف استعمال کرنےمیں دریغ محسوس نہیں کرتا۔

جس طرح مکان کے کرایہ نامہ کی پولیس کو اطلاع نہ دینے کے الزام میں جمعہ کو رات گئے پولیس کی بھاری نفری کے ساتھ عرفان صدیقی کو گرفتار کیا گیا اور ان کی طرف سے یہ واضح کرنے کے باوجود کہ جس مکان کو کرایے پر دینے کا معاملہ زیر بحث ہے وہ ان کی ملکیت نہیں ہے بلکہ ان کے بیٹے کی ملکیت ہے ، جو دوبئی میں مقیم ہے ۔ اسی نے اپنا مکان کرایے پر دیا تھا اور کرایہ نامہ پر بھی عرفان صدیقی کی بجائے ان کے صاحبزادے ہی کے دستخط ثبت ہیں۔ اس معاملہ میں عرفان صدیقی کو ملوث کرنا مقصود نہ ہوتا یا سابق وزیر اعظم اور مسلم لیگ (ن) سے ان کا قریبی تعلق نہ ہوتا تو یہ معاملہ اس وضاحت کے بعد کسی پیچیدگی کے بغیر ختم ہو سکتا تھا۔ پولیس خود ہی ایک بزرگ شہری کی طرف سے معاملہ کی تفصیل جاننے کے بعد انہیں باعزت گھر بھیجنے کا اہتمام کرتی۔

تاہم عرفان صدیقی کی گرفتاری کرایہ نامہ کی اطلاع نہ دینے کی وجہ سے نہیں بلکہ ان کی سیاسی وابستگی کی وجہ سے عمل میں آئی تھی۔ یہی وجہ ہے کہ پولیس نے نہ صرف بزرگ صحافی کو حراست میں رکھا بلکہ صحافیوں کو ان تک دسترس سے روکنے کے لئے انہیں رمنا تھانے سے کرائمز برانچ پہنچانے کے بعد ہفتہ کے روز ایک خاتون مجسٹریٹ کی عدالت میں ہتھکڑی لگا کر پیش کیا گیا۔ ایک معمولی سہو پر گرفتار کئے گئے ایک معمر شہری کو ہتھکڑی لگا کر عدالت میں پیش کرنے کے واقعہ نے جلتی پر تیل کا کام کیا اور عرفان صدیقی، ان کے خیالات اور مسلم لیگ (ن) سے شدید اختلاف رکھنے والے لوگوں نے بھی اس حرکت پر سخت احتجاج کیا۔ حتی کہ اطلاعات کی مشیر فردوس عاشق اعوان کو بھی اس گرفتاری پر اداروں کی خود مختاری کا قصہ بیان کرتے ہوئے یہ تسلیم کرنا پڑا کہ ایک عمر رسیدہ شخص کو معمولی جرم میں گرفتاری کے بعد ہتھکڑیاں لگانے اور ان کی توہین کا اہتمام کرنا درست فعل نہیں تھا۔ کیوں کہ انہیں معلوم تھا کہ عرفان صدیقی کی ہتھکڑی لگی تصویروں نے سابق وزیر اعظم کے مشیر کی توہین کی بجائے موجودہ حکومت کی عزائم اور جابرانہ سیاسی ہتھکنڈوں کا پردہ فاش کیا تھا۔

وزیر اعظم عمران خان اقتدار سنبھالنے کے بعد متعدد بار یہ ڈینگ ہانک چکے ہیں کہ اپوزیشن احتجاج کا تہیہ کرے ، ان کی حکومت کنٹینر بھی فراہم کرے گی اور مظاہرین کے لئے کھانے اور دیگر سہولتوں کا اہتمام بھی کیا جائے گا۔ لیکن اس کے برعکس گزشتہ چند ہفتوں کے دوران مریم نواز اور دیگر سیاسی لیڈروں کے احتجاجی اجتماعات کو روکنے اور ان میں شرکت کی کوشش کرنے والوں کے خلاف دفعہ 144 کی خلاف ورزی پر مقدمات درج کئے گئے ہیں۔ اس قسم کا ایک مقدمہ ہفتہ عشرہ قبل فیصل آباد میں ریلی منعقد کرنے کی کوشش کرنے پر مسلم لیگ (ن) کے ہزاروں کارکنوں کے علاوہ مریم نواز کے خلاف بھی درج کیا گیا تھا۔ حالانکہ پولیس اور سرکاری انتظامی مشینری نے کنٹینر اور دیگر ذرائع استعمال کرتے ہوئے فیصل آباد میں ریلی منعقد نہیں ہونے دی اور حکومت سے شاباش حاصل کرنے کا اہتمام کیا۔

 یہ بات اگرچہ ابھی تک تحقیق طلب ہے کہ کیا اس ریلی کو روکنے کے لئے کنٹینر اور دیگر رکاوٹیں فراہم کرنے کا خرچہ پولیس کے بجٹ سے ادا کیا گیا تھا یا تحریک انصاف نے یہ مصارف برداشت کئے تھے۔ عمران خان یہ وضاحت کرسکیں اور یہ بتا دیں کہ منڈی بہاؤالدین ، فیصل آباد اور دیگر مقامات پر اپوزیشن کے جلسے رکوانے کے لئے ہونے والے اخراجات حکمران پارٹی کے ’خزانے‘ سے ادا ہورہے ہیں تو اہل پاکستان بھی اس نئے پاکستان کا مشاہدہ کرسکیں گے جس کی جھلک انہوں نے گزشتہ اتوار کو واشنگٹن میں امریکی پاکستانیوں سے خطاب کرتے ہوئے دکھانے کی کوشش کی تھی۔ اگر حکومت اپوزیشن کو دبانے کے لئے سرکاری وسائل ہی استعمال کررہی ہے، جس طرح عرفان صدیقی کو ہراساں کرنے اور سیاسی اپوزیشن کو سخت پیغام دینے کے لئے پولیس کے ذریعے انہیں گرفتار کرکے خوف پیدا کرنے کی کوشش کی گئی تھی تو عمران خان کو خبر ہو کہ پولیس کے یہ ہتھکنڈے  اسی پرانے نظام کی بنیاد ہیں جسے گرانے کی باتیں کرتے ہوئے وہ بدستور اپنی سیاست چمکانے کی کوشش کرتے ہیں۔

اسلام آباد پولیس نے عرفان صدیقی کو رات بھر قید تنہائی میں رکھنے کے بعد اسلام آباد کی عدالت میں پیش کیا ۔ عدالت کی جج مہرین بلوچ نے نہ بزرگ شہری کو ہتھکڑی لگانے کا نوٹس لیا، نہ اس وضاحت پر پولیس سے جواب طلب کیا کہ مذکورہ مکان عرفان صدیقی کی ملکیت ہے اور نہ انہوں نے کرایہ نامہ پر دستخط کئے تھے، نہ ہی عدالت کو یہ فکر لاحق ہوئی کہ اس معمولی ’جرم ‘ پر ایک سینئر شہری کو جیل بھیجنے کا کوئی جواز نہیں ہے اور نہ ہی ضمانت کی درخواست کو پیر سے پہلے قابل غور سمجھا گیا۔ معزز عدالت نے عرفان صدیقی کو دو ہفتے کے لئے اڈیالہ جیل بھیجنے کا حکم دے دیا۔ درخواست ضمانت پر غور سوموار تک ملتوی کردیا گیا۔ عدالت کا یہ رویہ اگر قانون شکنی نہیں تو بھی قانون کی ایسی تشریح پر استوار تھا جسے کسی مہذب معاشرے میں قبول نہیں کیا جاسکتا۔ اس کے علاوہ کرایہ نامہ کی پولیس رجسٹریشن کے معاملہ میں براہ راست حکم صادر کرنے کی بجائے معزز جج صاحبہ کو اس معاملہ کی ’پیچیدگی‘ پر غور کرنے کے لئے وقفہ کرنا پڑا۔ اس ’مراقبے‘ کے بعد عدالت نے عرفان صدیقی کو دو ہفتے کے لئے جیل بھیجنے کا حکم دیا تھا۔ یہ طرز عمل ناقابل فہم اور نہایت پریشان کن تھا۔ اسی لئے گزشتہ روز کے اداریے میں اعلیٰ عدلیہ سے زیریں عدالتوں کے ججوں کے اس طرز عمل کا نوٹس لینے اور انہیں غیر ضرورت انتظامی دباؤ سے نجات دلانے کے لئے اقدامات کرنے کی درخواست کی گئی تھی۔

تاہم گزشتہ ایک روز کے دوران سامنے آنے والے رد عمل اور حکمران جماعت کی نیک نامی کو پہنچنے والے نقصان کے پیش نظر جج مہرین بلوچ کو آج اتوار کے روز عدالت لگانا پڑی۔ اس میں عرفان صدیقی کی اسی درخواست ضمانت پر غور کرکے 20 ہزار روپے کے مچلکے پر فوری رہائی کا حکم صادر کیا گیا جو پہلے ملتوی کردی گئی تھی۔ اس درخواست پر ہفتہ کے روز یہ کہہ کر غور کرنے اور فیصلہ سے انکار کیا گیا تھا کہ اس پر فیصلہ سوموار کو ہوگا۔ عرفان صدیقی اب اڈیالہ جیل سے رہاہو چکے ہیں۔ اتوار کو چھٹی ہونے کے باوجود نہ تو عدالت لگنے میں کوئی مشکل پیش آئی اور نہ ہی جج کے فیصلہ کے بعد جیل سے رہائی کے لئے روبکار لینے میں کوئی عملی یا انتظامی رکاوٹ حائل ہوئی۔ سارا کام قانون کے عین مطابق شہریوں کو فوری سہولت بہم پہنچانے کے نقطہ نظر سے سہولت سے انجام پاگیا۔

عرفان صدیقی کی رہائی خوشی اور اطمینان کی خبر ہونے کے باوجود ان کی گرفتاری سے بھی زیادہ سنگین سوالات جنم دینے کا باعث بنی ہے۔ خاص طور سے اگر اس رہائی کو وزیر اعظم کے معاون خصوصی برائے احتساب شہزاد اکبر کے اس بیان کی روشنی میں پرکھا جائے جس میں انہوں نے کہا ہے کہ وزیر اعظم نے عرفان صدیقی کو ہتھکڑی لگا کر عدالت لے جانے کا سخت نوٹس لیا ہے اور ذمہ داروں کے خلاف کارروائی کی جائے گی۔ تاہم ان کا کہنا تھا کہ وزیر اعظم کو عرفان صدیقی کی سابقہ حیثیت کی بجائے ان کی عمر کی وجہ سے پریشانی لاحق ہوئی تھی۔ چشم فلک نے دیکھا کہ اگر پاکستانی وزیر اعظم کسی شہری کے ساتھ ہونے والے سلوک پر پریشان ہوجائیں تو عدالتیں اتوار کو بھی اسے سہولت بہم پہنچانا ضروری سمجھتی ہیں۔

اس صورت حال میں دو سوال : ایک کا جواب حکومت کو دینا ہے دوسرے کا ملک کے چیف جسٹس صاحب کو۔ حکومت بتائے کہ کیا نئے پاکستان میں اب پولیس اور عدالت کا نظام ہر شہری کو اتوار کے باوجود سہولت پہنچانے کے لئے فعال و مستعد رہے گا یا یہ سہولت صرف عرفان صدیقی کے معاملہ میں ہی فراہم کی گئی ہے۔ کیوں کہ ان کی گرفتاری میڈیا اور سوشل میڈیا پر زیر بحث تھی۔ ملک کے چیف جسٹس کو دیکھنا ہو گا کہ وہ کون سے عوامل تھے جن کی وجہ سے زیریں عدالت کی ایک جج نے پہلے بلاجواز عرفان صدیقی کو دو ہفتے کے لئے جیل بھیجا پھر اچانک چھٹی کے باجود ان کی ضمانت قبول کرنے کا حکم جاری کیا۔

عدالتی خود مختاری کے حوالے سے یہ سوال اس لئے بھی بے حد اہم ہے کہ رہائی کا حکم کسی سینئر جج یا کسی اعلیٰ مجاز عدالت کی بجائے اسی جج کی عدالت سے جاری ہؤا ہے جس نے محض 20 گھنٹے پہلے عرفان صدیقی کو جیل بھیجتے ہوئے ضمانت کی درخواست پر غور سوموار تک مؤخر کر دیا تھا۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

سید مجاہد علی

(بشکریہ کاروان ناروے)

syed-mujahid-ali has 1277 posts and counting.See all posts by syed-mujahid-ali