بلوچستان: معدنیات اور محرومیاں

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

قدرتی وسائل سے مالا مال صوبہ بلوچستان جس کے عوام کو احساس محرومی نے اس قدر شدت سے جکڑ رکھا ہے کہ اس جکڑن سے سیاسی شخصیات تک کی ذہنی نشوونما بھی متاثر ہوئی ہے۔ یہاں کے مسائل اور ان کے حل کے بارے میں رکاوٹوں کی بات کی جائے تو ان کی نظر میں ناقابل علاج اگر کوئی مسئلہ ہے تو وہ احساس محرومی ہے۔ بلوچستان کی سیاسی قیادت کو سوچ و فکر سے محروم ہونے کو اگر احساس محرومی کا نام دیا جائے تو یہ محرومی کی صحیح تشریح ہوگی۔

صوبے کا اصل مسئلہ ہمیشہ سے احساس محرومی نہیں بلکہ سیاسی قیادت کا ذمہ داریوں کو قبول نہ کرنا اور احساس ندامت کا نہ ہونا ہے۔ ذہنی پسماندگی کو ختم کرنے اور مسائل کا حل سوچ کی جدیدیت اور احساس ذمہ داری کے عزائم سے ہی ممکن ہوگا۔ بلوچستان غریب صوبہ نہیں لیکن یہاں سیاسی سوچ غریب ضرور ہے۔ بلوچستان کے معدنیات کے شعبے میں 50 کے قریب منرلز ہیں جن میں کاپر، گولڈ، کوئلہ، کرومائیٹ اور ماربل سرفہرست ہیں۔ جو کہ صوبے میں مدفن ہیں۔

بلوچستان نے 2002 میں انڈسٹریز ڈپمارٹمنٹ سے محکمہ مائنز اینڈ منرلز کو الگ کیا لیکن 17 سال گزرنے کے باجود محکمہ کے پاس اب تک ایسے کوئی آلات نہیں ہیں کہ ریت اور سونے میں تفریق کرسکیں۔ اس کماٶ اور محرومی کے خاتمے کے دشمن محکمہ کو حکومتی سطح پر کبھی ایسی توجہ نہیں دی گئی۔ جس کا تقاضا بلوچستان کے حالات و مسائل نے کیے رکھا۔ جس سے صوبہ معاشی طور پر نہ صرف اپنے پیروں پر کھڑا ہوسکتا بلکہ اس سے عام آدمی کو بھی فائدہ ہوتا۔

محکمہ معدنیات نے امسال محکمہ کو جدید خطوط پر استوار کرنے کے اور جدید اصلاحات کے مطالبے کے لئے 9 ارب روپے کے بدلے موجودہ حکومت نے صرف 10 کروڑ روپے دیے ہیں۔ اس محکمے کے ذریعے عام آدمی کے لئے روزگار کے مواقع پیدا ہونے کے ساتھ صوبے کی معیشت کو بھی سہارا دیاجاسکتا تھا۔ بلوچستان اپنے مسائل کا ذمہ دار ہمیشہ وفاق کو ٹھہراتا آرہا ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ ماضی میں وفاق نے وہ توجہ صوبے کی جانب نہیں دی جو بلوچستان کو درکار تھی اْس وقت بلوچستان کا ٹوٹل ترقیاتی بجٹ صرف 8 ارب روپے ہوا کرتا تھا جس کی وجہ سے صوبے کو مالی مشکلات درپیش تھیں اور مائنز اور انڈسٹریز جیسے دیگر بھاری بجٹ کے متقاضی محکموں کو اپنے پلے سے چلانا مشکل تھا۔

لیکن آج صوبے کا ترقیاتی بجٹ 108 ارب روپے تک پہنچ چکا ہے۔ بلوچستان میں ریکوڈک جیسے کھربوں روپے کے منصوبے جو صرف کاغذوں میں موجود ہیں جو کہ نہ صرف بلوچستان بلکہ پاکستان کی تقدیر بدلنے کا منصوبے قراردیے جارہے ہیں ان منصوبوں کو ایک ایسے محکمے کے ذریعے دیکھا اور سنبھالا جا رہا کہ جس کے پاس ریت اور سونے کے درمیان فرق معلوم کرنے والی مشین موجود نہیں۔ شو مئی قسمت صوبائی پی ایس ڈی پی میں امسال اپنے کماؤ بچے محکمہ مائنز منزل کے لئے صرف 10 کروڑ جبکہ وفاقی حکومت کے کماؤ بچے واپڈا کے لئے نئے گریڈ اسٹیشنوں کی تعمیر اور پرانے گریڈ اسٹیشنوں کی مرمت اور ٹرانسفارمروں کی تنصیب کے لئے 3 ارب 7 کروڑ روپے رکھے گئے ہیں جس کے ذریعے نسل در نسل صوبے پر مسلط لوگوں کو الیکشن لڑنے میں ووٹ ملیں گے جس کے لئے پیسہ عام ٹیکس ادا کرنے والے کا خرچ ہوگا اور صوبے کو کوئی مالی فائدہ نہیں ملے گا۔

بلوچستان کاپر گولڈ پروجیکٹ بنا پھر نہ پروجیکٹ رہا نہ کاپر رہا۔ پیسہ صرف ضائع کردیا گیا اگر یہی رقم محکمہ مائنز کو جدید خطوط کی جانب لے جانے پر خرچ ہوتی تو آج یقینا یہاں پر سرمایہ کاری ہونے کے ساتھ ساتھ عام بلوچستانی کا معیار زندگی بھی بلند ہوتا اور صوبے کا بجٹ خسارے کا نہ ہوتا۔

بلوچستان میں حقیقی قیادت کا فقدان تو دیکھیں کہ قدرتی ذخائر سے مالا مال بلوچستان محکمہ مائنز کے ذریعے سالانہ صرف 2 ارب روپے جبکہ اس کے مقابلے میں زرعی پنجاب محکمہ مائنز کے ذریعے 12 ارب روپے سالانہ ریونیو جمع کرتا ہے۔ محکمہ مائنز بلوچستان کی حالت زار یہ ہے کہ جدید دور میں کوئلہ اور کرومائیٹ کے ٹرک کو پیمائش کے ذریعے ناپا اوروزن کا تعین کیا جاتا ہے۔ بلوچستان میں محکمہ معدنیات کے اگر کسی افیسر سے آپ کی ملاقات ہوتی ہے تو آپ کو معدنیات کے متعلق جتنی اگاہی عام حیثیت میں ہے وہ افسر بھی آپ کی طرح معلومات رکھتا ہے جس کی بنیادی وجہ افسر ان کو ٹریننگ اور ان کی کیپیسٹی بلڈنگ نہ ہونا ہے۔

محکمہ میں جس حالت میں اہلکار کو بھرتی کیا جاتا ہے اس حالت میں وہ صرف تنخواہ کی وصولی کا ذریعہ سمجھ کر کام پر آتا جاتا ہے۔ اس کو سیکھنا ہے یا سکھانا ہے یہ اس کی ذمہ داری نہیں بنائی گئی ہے۔ محکمہ مائنز کے ذخائر کو بروئے کار لانے اور احساس محرومی کو اس کے ذریعے ختم کرنے کے لئے سرمایہ کاری کی ضرورت ہے جب تک حکومت سرمایہ کاری نہیں کرے گی تو یہاں پر باہر کا سرمایہ کار سرمایہ کاری نہیں کرے گا۔ محکمہ مائنز نے امسال 17 سال بعد پہلی دفعہ اپنی پالیسی بنائی ہے جو پڑھے لکھے نوجوان سکریڑی کی ذاتی کاوش ہے۔

ہم عالمی عدالت میں ریکوڈک کا کیس لڑرہے ہیں جبکہ حقیقت یہ ہے کہ ہمارے پاس اتنی استعداد نہیں کہ ہم اپنی معدنیات کو چیک کرسکیں۔ دوسرے کے وسائل کے اس سلسلے میں محتاج ہیں۔ ہمیشہ صوبے میں سرداروں کے مفادات کا اس شعبے میں زیادہ جبکہ صوبے کے مفادات کا کم خیال رکھا گیا ہے۔ اگر کسی مانن سے سرکار کو ٹیکس 100 روپے ملتا ہے تو اس کے مقابلے سردار کو 300 روپے فی ٹن ملتا ہے۔ ٹیکس کو کسی بھی چیز پر بڑھانے کے لئے کابینہ اور اسمبلی کی منظوری لازمی ہے جبکہ بلوچستان میں اکثر ارکان اسمبلی و دیگر با اثر شخصیات اس محکمہ سے مستفید ہورہے ہیں جس کی وجہ سے اس سلسلے میں قانون سازی اور ٹیکس کو بڑھانے میں مشکلات پیش آرہی ہیں دو ارب روپے صوبے کو اگر سالانہ ریونیو مل رہا ہے تو وہ بھی غیر ملکی کمپنیوں سے جن پر ہر سال زیادہ ٹیکس لگا یا جاتا ہے۔ باقی کسی مقامی شخص یا جس کو لیز کی الاٹمنٹ کی ہے اسے کھلی چھوٹ دے دی جاتی ہے۔

محکمہ کی استعداد کو بڑھانا ہوگا۔ معدنیات کی کانوں سے پورا صوبہ چلایا جاسکتا ہے لیکن جن علاقوں میں معدنیات کے بڑے پروجیکٹس چل رہے ہیں ناقص پالیسیوں اور حکومت کی عدم توجہ کی وجہ سے پورے بلوچستان کو تو چھوڑ دیں ان علاقوں کے لوگوں کی حالت میں بہتری نہیں لائی جا سکی۔ واضح رہے کہ صوبے کی تقدیر بدلنے والی ان شہر آفاق معدنیات پر مکمل اجارہ داری اس وقت ان لوگوں کی ہے جو صوبہ بلوچستان کے اصل احساس محرومی کا ذکر کرکے مگرمچھ کا آنسو بہاتے ہیں اور یہ ہر آنیوالی حکومت میں کسی نہ کسی شکل میں موجود ہوتے ہیں اور مائنز سمیت دیگر محکموں میں صوبائی مفادات کی پالیسیاں بننے کی راہ میں رکاوٹیں کھڑی کرتے ہیں

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •