چوک میں میلے کپڑے دھونا کہنا غلط ہے

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

جو بات دو یا دو سے زیادہ لوگ جانتے ہوں اور اس میں ایک یا دوسرے یا دونوں کا کوئی نقص، کوئی ناراحتی، کوئی اختلاف، کوئی نافہمی یا کوئی غلط فہمی مخفی ہوں یا عیاں اس بات کو سب سے سامنے کرنے سے متعلق انگریز بادشاہ نے ایک کہاوت گھڑی To wash the dirty linen in open جس کا مطلب یہ تھا کہ اپنے میلے کپڑے سب کے سامنے دھوو گے تو اس سے آپ کی سماجی حیثیت، آپ کا عمرانی رویہ، آپ کی عسرت یا امارت وغیرہ وغیرہ لوگوں پر کھل جائے گی۔ یہ کہاوت تب کی ہے جب عمومی معاشرہ زمیندارانہ یعنی فیوڈل ہوا کرتا تھا اور فیوڈل رویوں کی باقیات بہت دیر تک چلیں اور اب تک کئی ملکوں میں شدومد کے ساتھ جاری و ساری ہیں۔

پھر ہمارے کسی باکمال مترجم نے اس انگریزی کہاوت کا ترجمہ سب کے سامنے پوتڑے دھونا کر دیا۔ یہ کثیف ذہن کی کثیف اختراع رہی۔ اس سے پہلے کہ آگے بڑھیں مجھے اسکندر اور ارسظو یاد آ رہے ہیں کیونکہ ایک بار اسکندر اعظم کو کوئی بات کسی سے کہنے کی بے حد خواہش ہو رہی تھی مگر وہ کسی سے کہنا بھی نہیں چاہ رہا تھا کہ اسے اپنے استاد ارسطو دکھائی دیے۔ اسکندر نے کہا استاد محترم مجھے آپ سے ایک بات کہنی ہے لیکن اگر آپ نے کسی اور کو بتائی تو میں آپ کی گردن مروانے پر مجبور ہو جاوؑں گا۔

ارسطو بولے بتا دیں۔ اسکندر نے بتا دی۔ ارسطو نے ادھر ادھر دیکھا جو پہلا شخص نزدیک سے گزرا اسے آواز دے کر بلایا اور کہا سنو بھائی اسکندر نے ابھی مجھ سے یہ بات کہی ہے۔ اسکندر نے متحیر ہو کر کہا، ”میں نے آپ سے ابھی کیا کہا تھا؟ “ ”عزیز محترم جو بات خود تک نہیں رکھ سکتے وہ کسی سے کہہ کر یہ توقع رکھنا فضول ہے کہ کوئی وہ بات کسی اور سے نہیں کرے گا“۔

ایسے ہی کسی گھرانے کی بات محض دو کے درمیان نہیں ہوتی۔ کم از کم بچے، ملازم، دونوں افراد کے ماں باپ، بہن بھائی اور کچھ دوست احباب بھی جانتے ہیں بالخصوص اگر بات جھگڑے یا اختلاف کی ہو۔ مستزاد یہ کہ اگر ان باتوں کے توسط سے دو افراد کا تعلق ٹوٹ جائے تو جتنے منہ اتنی باتیں۔ چنانچہ بہتر ہوتا ہے کہ فریقین خود ہی بات کھول دیں تاکہ لوگوں کے منہ کھلنے سے پہلے بند کیے جا سکیں۔

دیکھیے حکومتوں اور ریاست کی باتیں بھی کابینہ تک یا ہئیت مقتدرہ کے سر کردہ افراد تک ہی محدود ہوا کرتی ہیں مگر آج تو ”لیکس“ کا عہد ہے وکی لیکس سے پانامہ عہد تک، جن میں بہت کچھ ایسا آتا ہے جن پر ہمارے جیسے ملکوں میں گرفتاریاں ہو جاتی ہیں، سزائیں دے دی جاتی ہیں، سیاست کی جاتی ہے اور تو اورحکومتیں بدل جاتی ہیں۔ آپ کیا چاہتے ہیں کہ ایسا نہ ہو؟

مجھے آج کل پاکستان یا غیر ملکی سیاست بارے لکھنے کو اتنا جی نہیں کرتا چونکہ وہ بھی ویسی ہی ہے جیسے مختلف گھروں، کنبوں، بستی یا بستی میں بسنے والوں کے حالات۔ میری اپنی زندگی میں اس قدر تغیر وتبدل ہے جتنا نہ شاید کسی ملک کے حالات میں اتا ہو نہ کسی سیاست کا حصہ ہوتا ہو۔

ہوا یوں کہ میں نے بارہ برس پیشتر اپنی سوانح لکھنا شروع کی تھی جو چار پانچ برس میں میری عمر کے چالیس برس کا احاطہ کر چکی تھی۔ وہ پریشاں سا پریشاں کے عنوان سے دو ماہ پیشتر منظر عام پر آئی۔ یہ داستان محاورۃ ”چوک میں میلے کپڑے دھونے“ ایسی ہے۔ ویسے کپڑے میلے تھے ہی نہیں، بس کپڑے تھے، جنہیں دھونا تو ہوتا ہی ہے۔ پوتڑوں ووتڑوں کا تو عہد بیت گیا۔ اب تو بچوں کا فضلہ پیمپر میں لپیٹ کر کوڑے دانوں میں پھینک دیا جاتا ہے۔

لیکن ہوا یہ کہ وہ کتاب افتخار عارف صاحب سے لے کے میرے بڑے بھائی مرزا محمد شعیب صاحب کے علاوہ بھی بہت سوں کو بہت پسند آئی۔ مجھے البتہ اب تک سمجھ نہیں آئی کہ اس میں پسند آنے والی کیا بات ہے۔ اس میں تو وہی ہے جو میرے بارے میں معروف ہے کہ میرے پیٹ میں کوئی بات نہیں ٹکتی جبکہ یہ بات بھی درست نہیں ہے۔ میں نے کمیونسٹ پارٹی میں اپنی رکنیت کئی برس اپنی دوست بیوی سے چھپائی تھی۔ پھر دوست بیوی محض دوست رہ گئی۔ مذکور کتاب کے سبب دوست نہیں بلکہ بیوی ہیروئن بن گئی۔

نہ صرف کمیونسٹ پارٹی کی رکنیت بلکہ ایک نکاح اور تین بچے ایک اہلیہ سے بارہ سال مخفی رکھے۔ بات بہت دیر تو شاید صرف مجرمانہ گروہوں کی مخفی رہتی ہو، یوں میری یہ بات بھی کھل گئی۔ میں نے اپنی کتاب کے اسلوب و انداز میں تازہ احوال بھی لکھ کر عام کر دیا کیونکہ یہ میری ہی زندگی کا تسلسل ہے۔ کچھ نام نہاد فیمنسٹوں کی نگاہ میں اب وہ خاتون جس سے زندگی کا ایک حصہ خفیہ رکھا مظلوم بن گئی اور میں دھوکہ باز جبکہ انہیں یہ معلوم نہیں کہ اسی خاتون اور میری باہم زندگی کا یہ پہلا نہیں شاید چوتھا واقعہ تھا البتہ اس بار تین بچوں اور طویل مدت کے سبب اس کے ردعمل کی شدت زیادہ تھی۔

نام نہاد فیمنسٹ کی جانب سے میری تحقیر دیکھ کے میرے ایک اچھے دوست اور دانشور نے مجھے لکھا، ”ذاتی باتیں فیس بک پر پوسٹ نہ کیا کریں، یہ میری درخواست ہے۔ یہاں پر تماشائی ہیں اور اس سے آپ کی توقیر میں کمی ہوتی ہے۔ مجھے معلوم ہے کہ آپ کو میری بات اچھی نہیں لگے گی۔ درست سمجھا اور عرض کی۔ مجھے شرم آتی ہے اگر ۔۔۔ کی سطح کے لوگ آپ سے مکالمہ کریں۔ آپ میرے بڑے بھائی ہیں، مجھے احساس ہے۔ آپ جاہلوں کو موقع ہی کیوں دیں کہ وہ آپ کے منہ آئیں۔ تو اے میرے برادر صد احترام کیوں مٹی میں موتی رولتے ہو؟ “

ابھی میں اس محبت کے بوجھ تلے تلملا رہا تھا کہ کروں تو کیا کروں؟ سچ کہوں یا چپ رہوں۔ اوپر سے کتاب کے دوسرے حصے سے متعلق برادرم زاہد کاظمی کی استدعا اور افتخار عارف صاحب، برادرم محمد حمید شاہد، عزیزم غزالہ نثار اور بہت سے دوسروں کا مشورہ اور خواہش کہ کتاب کا دوسرا حصہ بھی سوانحی ناول کی بجائے اسی طرح سے بیباکی اور حق گوئی کے ساتھ خود نوشت کے تسلسل میں لکھا جائے ْ۔

اتنے میں ایک اور خیرخواہ دوست کا پیغام ملا، ”مجاہد مجھے معلوم ہے کہ تم پر کوئی اثر تو نہیں ہو گا لیکن میں آخری چانس لے رہا ہوں۔ اب یہ کہنا تو بے کار ہے کہ خود نوشت کے دوسرے حصے کو ناول کے انداز میں چھپنا چاہیے کیونکہ جو ڈھنڈورا پٹنا تھا وہ پٹ چکا ہے۔ لیکن یہ ضرور کہنا چاہتا ہوں کہ دوسرے حصے سے طلاق سے ماقبل اور مابعد کے واقعات حذف کر دو، بس ایک دو جملوں میں علیحدگی کو بیان کر دو۔ امید رکھتا ہوں کہ اس بات پر غور کرو گے۔ “

اسے میں کیا بتاتا کہ یہ سب تو لکھا جا چکا ہے۔ ہیروئن کا دوسرا رخ بھی ہوتا ہے۔ ہم عمر کے جس حصے میں ہیں، اس میں ہمیں پشیمان ہونے کی بجائے پریشان ہونا چاہیے کہ کیا ہم اپنے رویوں میں درست تھے یا غلط؟ غلط تھے تو کیوں؟ اگر ہماری طرف سے درست سمجھے جانے کو دوسرا فریق غلط سمجھ رہا ہے تو کیوں؟

چوک میں میلے کپڑے دھونے کی تو کہاوت ہی غلط ہے۔ ویسے بھی سارے کے سارے لوگ ”Peeping Tom“ ہوتے ہیں جو ہر عمل اور ہر واقعے کو اپنی نشست سے دیکھتے ہیں اور حسب ضرورت ان میں مرچ مصالحہ بھی شامل کر لیتے ہیں چنانچہ خود ہی دھلا کپڑا کھول کے دکھا دو کہ ہم کون سا ڈیٹرجنٹ استعمال کرتے ہیں

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •