محبت نامے برائے فروخت


سردیوں کی دھوپ تھی اور یونیورسٹی کا لان تھا۔ ایک کلاس فیلو بڑے خواب ناک انداز میں بولا؛ یار! کل ”اس“ کا برتھ ڈے ہے۔ سوچ رہا ہوں کہ ایک عدد تحفے کے ساتھ ایک غزل بھی اس کی تعریف میں لکھ کر دوں۔

موجودہ حاضرین و ناظرین کی تعداد صرف تین تھی۔ یعنی موصوف، میں اور میرا لنگوٹیا شہزاد (موجودہ ڈاکٹر شہزاد اسلم) ۔ ”اس“ وہ دوشیزہ تھیں جن سے ان صاحب کا معاشقہ چل رہا تھا اور جناب کو یہ خوش فہمی تھی کہ یہ بات راز ہے۔ اگر پورے کیمپس میں کوئی لاعلم ہو بھی سکتا تھا تو وہ مذکورہ دوشیزہ ہو سکتی تھی، باقی سبھی جانتے تھے۔

ہم دونوں نے آنکھوں ہی آنکھوں میں لمحاتی مشورہ کیا، کھل کر اس فیصلے کی تائید کی اور داد دی کہ اس سے رومانوی بات تو ہو ہی نہیں سکتی۔ افسوس بھی ہوا کہ ایسا خیال ہمیں کبھی کیوں نہیں آیا۔

تس پہ وہ مردِ ناداں بے چارگی سے بولا؛ مگر ایک مشکل درپیش ہے کہ کل سے کوشش کر رہا ہوں مگر ایک بھی شعر جم نہیں رہا ہے۔

اس کی اس بے چارگی اور ہمارے سامنے بیان کی وجہ تسمیہ بھی واضح ہو گئی کہ جناب درپردہ مدد کے طلبگار ہیں۔ کبھی غرور نہیں کیا تھا کہ مگر ان دنوں مزاحیہ اشعار کہنے میں کمال حاصل تھا اور ہر وقوعے کو مزاح کا رنگ دے کر بیان کرنا بائیں ہاتھ کا کھیل تھا۔

خیر، قیمت دو سموسے مع کوک کی بوتل فی کس، لکشمی چوک کے ”بے نظیر سموسہ کارنر“ طے پائی۔ قیمت ہم ایڈوانس میں وصول کیا کرتے تھے۔ فوری طور پہ ٹرپل سواری کر کے لکشمی چوک پہ قیمت وصول کرنے کے بعد لان میں بیٹھ کر میں لکھنے جت گیا۔ اگلی کلاس میں بھی لیکچر سننے کی بجائے عشقیہ غزل لکھنے میں مشغول رہا۔

سموسے حلال کرنے میں دو کلاسز حرام ہو گئیں۔

غزل لکھنے کے بعد موصوف کو فراہم کر دی گئی۔ جسے اس نے رنگدار ”اے۔ فور“ پہ سلور مارکر سے دوبارہ لکھنا تھا، تاکہ گفٹ کے ریپر کے ساتھ میچ کر سکے۔

یہیں پہ اس کی کمبختی کا دور شروع ہوا۔ میں نے اسی غزل کی ایک نقل خوشخط لکھ کر اس کی دو چار کاپیاں کروا لیں، ایک تڑپتا، بھڑکتا بے نامی ”لولیٹر“ بھی بطور سیمپل لکھ لیا۔

لان میں بیٹھی ایک پلیٹ ”فرنچ فرائز“ پہ نصف درجن دوشیزاؤں کو نزاکت سے نبردآزما دیکھا تو ان کے پاس چلے گئے۔ جب ان کو یقین ہو گیا کہ ان کے فرنچ فرائز کو ہم دونوں سے قطعی کوئی خطرہ نہیں اور ہم دونوں کے ہاتھ میں اپنے اپنے چائے کے ڈسپوزیبل کپ موجود ہیں تو وہ متوجہ ہوئیں۔

میں نے لکھی گئی غزل میں نام کا خانہ خالی چھوڑا ہوا تھا تاکہ ہر کوئی اپنے محبوب کے نام کا اندراج خود کر لے۔

کسی ماہر حکیم کی طرح میں نے اس کی مارکیٹنگ کی کہ میڈیکل کی فیلڈ میں آنے والی بچے، بچیاں عشق تو کر لیتے ہیں مگر وہ نازک عشقیہ جذبات سے عاری ہوتے ہیں۔ فن لطیفہ ان کو لطیفے کی کوئی قسم لگتی ہے، جس میں ”fun“ کوٹ کوٹ کر بھرا ہوا ہو۔ ایسے ہی مردوزن کے لیے ہم لائے ہیں تیارشدہ ”لولیٹرز اور عشقیہ غزلیں“۔ صرف نام کا اندراج کیجیے اور ارسال کیجیے۔ اس کی قیمت فقط بیس روپے ہے۔ ہاں اس کے دو عدد اور بھی ورژن ہیں، جسے ہم ”customized“ کہتے ہیں۔

یہ مکمل یا جزوی طور پہ مکتوب کی شخصیت یا ایسے خواص پہ مبنی ہو سکتے ہیں جو صرف اس کے محبوب کو ہی دکھ پاتی ہیں اور باقی سبھی عقل کے اندھے ہوتے ہیں۔ اس کی قیمت بمقدار دروغ گوئی طے کی جاتی ہے۔ اگر آپ کو ان کی ضرورت ہو تو سٹوڈنٹ پیکج میں مزید رعایت کی جا سکتی ہے اور نقد رقم کا مسلئہ ہو تو بدلے میں اسائمنٹ بنا کر دینے کی بھی سہولت حاصل ہے۔

مستورات نے غزل کو بغور پڑھا اور حتی الامکان حفظ کرنے کی بھی کوشش کی تاکہ بیس روپے بچا سکیں، مگر خریدنے سے معذوری ظاہر کی۔

یہ بتانے کی ضرورت نہیں کہ ان میں وہ بھی موجود تھی، جسے آج ہی ایک تحفہ اور غزل ملنے والی تھی۔

دوپہر کے وقت مجنوں نے لیلیٰ کو گفٹ اور غزل پیش کی تو ا س نے ایک نظر ڈالتے ہی یہ کہہ کر واپس کر دی کہ ”اپنا نام لکھنے سے کسی کی لکھی ہوئی غزل اپنی نہیں ہو جاتی۔ اگر کسی اور سے لکھوانی ہی تھی تو کم از کم customized ہی لکھوا لیتے۔ “

غزل کے ساتھ ساتھ مہنگا تحفہ جو کہ بدقسمتی سے ایسا تھا جو صرف خواتین کے کام آ سکتا تھا، وہ بھی لوٹا دیا گیا۔ موصوف آج تک انجان ہے کہ اچھی بھلی بے عزتی کس بنا پہ ہوئی تھی۔

اس واقعے سے پہلا سبق تو یہ حاصل ہوا کہ جب بھی تحفہ خریدو تو ایسا خریدو جو اگر واپس ہو جائے تو آپ کے اپنے کام آ جائے، پرفیوم بھی ہو تو خالصتاً زنانہ نہ ہو۔ چوڑیوں اور جیولری سے اجتناب کریں، واپس ہو جائیں تو آپ کے کام اسی صورت آ سکتی ہیں کہ کسی اور کو دینے کا آپشن موجود ہو۔

اختتامی نوٹ؛ وہی تحفہ نصف قیمت پہ وہ بھی ادھار، ان صاحب سے خریدا گیا، دوبارہ سے پیک کیا گیا اور انہی خاتون کو اپنے نام سے پیش کیا۔ ”So nice of you“ وصول پایا۔ اس بار غزل تحفہ دینے والے کی اپنی تحریر کردہ تھی۔

Facebook Comments HS