خلیل الرحمٰن قمر بے چارہ، بے گناہ درویش انسان

یہ کیا پورے کا پورا معاشرہ ایک معصوم بندے کے پیچھے پڑ گیا ہے۔ جسے دیکھ لو چسکے لیتا پھر رہا ہے، جسے دیکھو موبائل اُٹھائے ہر وقت سرچ میں گھسا ہوا ہے۔ سوشل میڈیائی سائٹس پہ ٹاپ ٹرینڈ ہے دس دنوں سے۔ ایسا لگتا ہے کہ قوم کو اور کوئی کام ہی نہیں، سوائے خلیل کے۔ توبہ کرو توبہ۔ آخر کیا گناہ ہے اس کا ؟ بے چارہ، بے گناہ درویش انسان ہے۔ کیا ہوا جو اس نے چار

Read more

اسلامیہ یونیورسٹی کا واقعہ جھوٹا ہے

سلام عرض، یہ جو ان دنوں سوشل میڈیا پہ چل رہا ہے وہ سب جھوٹ ہے۔ سوشل میڈیا نے بھی کبھی سچ بولا ہے بھلا؟ میں خود ایک نامور یونیورسٹی کا فارغ التحصیل بندہ ہوں، مجھے سب پتا ہے۔ جس یونیورسٹی سے میں نے ڈگری کی، وہ اسلامیہ یونیورسٹی جیسی ہی تو ہے۔ ویسا ماحول، ویسی لڑکیاں، ویسے لڑکے اور ویسے ہی استاد۔ جب ہماری یونیورسٹی میں ایسا کچھ نہیں ہوا تو وہاں کیسے ہو گیا؟ سب لغو بات ہے

Read more

محبت نامے برائے فروخت

سردیوں کی دھوپ تھی اور یونیورسٹی کا لان تھا۔ ایک کلاس فیلو بڑے خواب ناک انداز میں بولا؛ یار! کل ”اس“ کا برتھ ڈے ہے۔ سوچ رہا ہوں کہ ایک عدد تحفے کے ساتھ ایک غزل بھی اس کی تعریف میں لکھ کر دوں۔ موجودہ حاضرین و ناظرین کی تعداد صرف تین تھی۔ یعنی موصوف، میں اور میرا لنگوٹیا شہزاد (موجودہ ڈاکٹر شہزاد اسلم) ۔ ”اس“ وہ دوشیزہ تھیں جن سے ان صاحب کا معاشقہ چل رہا تھا اور جناب

Read more

لڑکی سیٹ ہو گئی

یونیورسٹی کے لان میں کچھ لڑکیاں بیٹھی تھیں۔ سردیوں کی دھوپ کا مزا لیتے خوش گپیوں میں مصروف تھیں۔ ان کے ہینڈ بیگ ان کے پاس گھاس پہ دھرے تھے، اپنی باتوں میں وہ کچھ منٹوں کے لیے ان سے غافل ہوئیں تو ایک بیگ غائب ہو گیا۔

بیگ چرانے والا کوئی چور اچکا یا کوئی اٹھائی گیر نہیں تھا بلکہ اسی یونیورسٹی کا ایک طالب علم ارسلان تھا۔ بیگ چرا کر اس نے کھولا تو حسب توقع ایک موبائل فون، شناختی کارڈ اور کچھ دیگر چیزوں کے ہمراہ چند سو روپے تھے۔

اس نے موبائل کی بیٹری نکال کر موبائل آف کر دیا اور بیگ جیکٹ میں چھپا کر ہاسٹل چلا گیا۔ کچھ گھنٹوں بعد اس نے موبائل آن کیا تو جلد ہی ایک کال آ گئی۔ اس نے کال ریسیو کی اور متانت سے بولا: کون؟

دوسری طرف نسوانی آواز ابھری: جی یہ موبائل میرا ہے، آپ کون بول رہے ہیں؟

Read more

جنس بطور رشوت

جنس بطور رشوت(Quid pro quo) دنیا بھر میں ہونے والی ایک قبیح چیز ہے۔ بیشتر خواتین نے اس کی شکایت کی ہے کہ دفاتر میں ان سے بےتکلفی کی امید رکھنا دراصل رشوت طلب کرنے جیسا ہے۔ ہمارے ہاں تو اگر کوئی خاتون ترقی کر جائے تو ہماری پست ذہنیت کے مطابق یہی فرض کیا جاتا ہے کہ موصوفہ نے رشوت کے طور پر خود کو پیش کیا ہو گا۔ کام کی جگہ پر ہراسانی، یہ ایک عام بات ہے۔

Read more

مرد بےوفا کیوں ہوتے ہیں؟

اس گتھی کو سلجھانے کے لیے نجانے کتنی تحقیقات روز ہوتی ہیں اور ہر روز ایک نئی کہانی سننے کو ملتی ہے۔ جیسے یہ ہارمونز کا کیا دھرا ہے، کوئی کیمکل جسم میں پیدا ہوتا ہے جو مرد کو بےوفائی پر اکساتا ہے۔ حالات سے اسے کوئی تحریک ملتی ہے کہ وہ بہک جاتا ہے۔ ”می ٹو“ کے ہوتے مرد کو بڑا بدنام کیا جا رہا ہے، حالانکہ جاننے کی ضرورت ہے کہ مرد ایسا نہیں ہوتا، یہ تو کئی

Read more

تحریم عظیم کے بلاگ”ملتان کا طوائف مرد“ پر میرا جواب

پچھلے دنوں ایک تحریر نظروں سے گزری، اکثر ہی ایسی تحاریر گزرا کرتی تھیں مگر یہ خاص تھی کیونکہ یہ تحریم عظیم کی تھی اور مقبول ترین تھی۔ سو پڑھنا واجب تھا اور پڑھ کر اس پر معترض ہونا ڈبل واجب۔ پڑھ کر چودہ طبق روشن ہو گئے۔ خاتون نے بےحیائی کی ایک داستان لکھ ڈالی تھی۔ یعنی کسی مرد و زن نے بےحیائی کا ارتکاب کیا اور انھوں نے وہ ہم تک پہنچا دیا۔ بےحیائی کرنے والوں کا حساب

Read more

کیا عمران ہی قاتل ہے؟

میڈیا کی ہی توسط سے معلوم ہوا کہ عمران علی جس نے معصوم زینب اور سات سے دس کے قریب بچیوں کو قتل کیا، اسے سترہ نومبر کو پھانسی دی جائے گی۔ چلو ایک تو مثبت فائدہ یہ ہوا کہ کسی قاتل کو تو سزا ملی۔ یہ ایک اچھی روایت ہے کیونکہ سزا کی سنگینی سے زیادہ سزا کے یقینی ہونے سے جرائم کم ہونے کی امید ہوتی ہے۔ ایک بحث یہ بھی ان دنوں سوشل میڈیا کی زینت بنی

Read more

بوائے فرینڈ، گرل فرینڈ اور شہد کے چھتے سے محبت

ہمارے معاشرے میں عورت کے کئی روپ ہیں۔ کہیں وہ ممتا سے بھرپور ہے اور کہیں وہ نفرت سے بھری ہوئی۔ کہیں اس سے بڑھ کر محبت کرنے والا کوئی نہیں اور کہیں اتنی سنگ دل کہ قتل جیسے سنگین جرائم تک میں شامل ہے۔ یہ منفی یا مثبت کردار ہونا کئی عوامل کی بنیاد پر ہوتا ہے، اس میں اس کی تربیت، ماحول، سوچ، شعور اور فطرت سبھی شامل ہیں۔ بعض اوقات اس کا ماحول اتنا محدود ہوتا ہے

Read more