بحریہ کالج کراچی کے شہدا

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

ہر انسان کی پہلی درس گاہ ماں کی گود ہوتی ہے۔ جو سبق آپ کو ماں کی گود سے ملے گا وہ بہترین اسباق میں سے ایک سبق ہوگا۔ یہ وہ درس ہوگا جوآپ کو ہمیشہ زمانے کی ٹھوکروں سے بچائے گا۔ ہمارے معاشرے میں ایک چیز طے ہیں۔ وہ چیز نسل در نسل چلنے والا گھریلو پیشہ ہے۔ آگر باپ ڈاکٹر ہے تو بیٹا بھی ڈاکٹر، باپ انجینئر تو بیٹا بھی انجینئر، باپ بزنس مین تو بیٹا بھی بزنس مین، باپ سیاست دان تو بیٹا بھی سیاست دان اور اگر باپ فوجی تو بیٹا بھی فوجی۔ تمام پیشے نسل در نسل ہی منتقل ہوتے جاتے ہیں۔ سیاست دان اپنی سیاست، ڈاکٹر اپنی ڈاکٹری، بزنس مین کا بیٹا بزنس میں، ان پیشوں میں شاید برابری آجائے۔ مگر ایک سپاہی کے لیے اس سے بڑھ کر کچھ نہیں ہوتا۔ اگر اس کا بیٹا فوج میں افسر بھرتی ہوجائے۔ اس کی زندگی کی محنت وہیں وصول ہوجاتی ہے۔

ماں کی گود کے بعد تعلیمی درس گاہ بھی بچے کی پرورش میں اہم کردار ادا کرتی ہے۔ اگر آپ اس درس گاہ میں داخلہ نہ لے سکیں جو آپ کو آپ کی منزل تک پہنچنے میں مدد فراہم کرے تو عین ممکن ہے آپ اپنے خوابوں کو عملی جامہ نہ پہنا سکیں۔ آگر آپ کا تعلق ایک فوجی گھرانے سے ہیں، تو آپ کا جینا مرنا فوج ہے۔ کسی فوجی اسکول یا کالج میں تعلیم حاصل کرنے والے طلباء اکثر اپنے اوپر تمام دوسرے ہنر کے دروازے بند کر لیتے ہیں اور وہ اپنی زندگی کا نصب العین فوج میں شمولیت بنا لیتے ہیں۔ اگر آپ کسی فوجی کالج میں داخلہ لیں تو سو فیصد آپ خود کو بھی ایک فوجی ہی تصور کرتے ہیں۔ کیونکہ کہ ایک انسان اسی وقت اپنی منزل حاصل کرسکتا ہے۔ جب اسے وہ ماحول فراہم کیا جائے۔

میری پرورش بھی اسی ماحول میں ہوئی۔ یہی سب راہیں اور باتیں مرے گری بھی گھومتی رہیں۔ لیکن قدرت کو کچھ اور ہی منظور تھا۔ بحریہ کالج کراچی پاکستان کے بہترین کالجز میں سے ایک ہے۔ یہاں سے فارغ و تحصیل ہونے والے طلباء کا پہلا خواب فوج کا افسر بننا، سرحدی دفاع اور جام شہادت نوش کرنا ہوتا ہے۔ بحریہ کالج اپنی تعلیمی معیار کے ساتھ ساتھ ملک کے دفاع میں بھی ایک اعلیٰ مقام رکھتا ہے۔ کالج کے اساتذہ بھی طلبہ میں حب الوطنی کا جذبہ بیدار کرنے میں اہم کردار ہے۔

wali babar

بحریہ کالج نے ہر شعبے میں بہترین طلباء فراہم کیے ہیں۔ اکثریت کا تعلق فوج، میڈیکل اور میڈیا سے ہے۔ یہاں کے طلباء نے ناصرف فوج بلکے میڈٰیا میں بھی خوب نام کمایا اور اپنی خدمات سرانجام دیتے ہوئے جام میں شہادت نوش کیا۔ مجھے اچھی طرح یاد ہے۔ شام کا وقت تھا۔ اردو کی کلاس میں سر زیدی کا لیکچر جاری تھا۔ اسی دوران سر نے کالج کے کچھ طلباء کا ذکر کیا۔ وہ طلبا رہتی دنیا تک امر ہوگئے ہیں۔ ان میں ایک نام ولی خان بابر اور دوسرا میجر ذیشان کا تھا۔

ولی خان بابر نے اپنی ایف ایس ای کی تعلیم بحریہ کالج کراچی سے حاصل کی تھی۔ ہماری اگلی کلاس میں ولی خان بابر بیٹھا کرتے تھے۔ وہ پاکستان کے سب سے بڑے میڈیا گروپ جیو، جنگ میں بطورِ صحافی اپنی خدمات سرانجام دیا کرتے تھے۔ گینگ وار سے متعلق ان کی ایک خبر نشر ہونے کے بعد انھیں تیرا جنوری دوہزار گیارہ کو کراچی میں فائرنگ کر کے شہید کردیا گیا تھا۔ جبکہ میجر ذیشان کا تعلق بھی بحریہ کالج کراچی سے تھا۔ وہ آئی ایس آئی کے ڈپٹی ڈائریکٹر تھے۔

major zeeshan suddle

انھوں نے دہشت گردوں کی کئی کاررویاں ناکام بنائیں تھی۔ مجھے یاد ہے سر زیدی نے بتایا کہ میجر ذیشان کے ایک ہاتھ کی چھ انگلیاں تھیں۔ اسی بات کو لے کر وہ اپنی فوج میں بھرتی سے متعلق ہمیشہ پریشان بھی رہتے تھے۔ وہ ہمت اور بہادری کی اعلیٰ مثال تھے۔ اپنی فوج میں افسر بھتری ہونے کے بعد اپنی کارکردگی کی بنا پر وہ دہشت گردوں کی ہٹ لسٹ پر بھی تھے۔ دوہزار تیرا میں دہشت گردوں نے سندھ کے شہرسکھر میں آئی ایس آئی کے دفتر پر حملہ کیا تھا۔ اس حملے میں تقریبا چار اہلکار شہید ہوئے تھے۔ یہ حملہ پاکستان کی تاریخ میں حساس ادارے ( آئی ایس آئی) کے دفتر پر پہلا حملہ تھا۔ اس حملے میں میجر ذیشان شہید ہوگئے تھے۔

دو روز قبل شوشل میڈیا پروفائل پر نظر پڑی میں رد کر کے آگے چل دیا۔ وہ پروفائل کیپٹن عاقب جاوید کی تھی۔ کل سے اب تک موبائل ہو یا فیس بک کیپٹن عاقب جاوید کی تصاویر سے بھری ہوئی ہے۔ کیپٹن عاقب کا تعلق بھی ایک فوجی گھرانے تھا۔ انھوں نے بحریہ کالج کراچی سے ہی اپنی ایف ایس سی کی تعلیم حاصل کی۔ اگلے ماہ چوبس تاریخ کو وہ رشتہ ازدواج میں منسلک ہونے جارہے تھے۔ گزشتہ روز بلوچستان میں دہشت گردوں سے مقابلے میں جامِ شہادت نوش کیا۔

ان کے والد کا تعلق پاکستان نیوی سے ہے۔ یعنی فوجی کا بیٹا فوجی ہی ہوتا ہے۔ یہ پیشہ بھی اسی طرح اپنی خدمات سرانجام دیتا رہے گا۔ اب سر زیدی بھی اس دینا سے رخصت ہوچکے ہیں۔ جو مستقبل میں آنے والے طلبا کو بتاسکیں کے اس کالج نے ملک کو کیسے کیسے ہیرے فراہم کیے ہیں۔ خدا ان شہدا کے خون کے بدلے ملک میں امن قائم کرے جنھوں نے اپنی جان کا نذرانہ پیش کرتے ہوئے دشمنوں کے عزائم کو ناکام اور بے نقاب کیا اور ایسی درس گاہوں کو بھی رہتی دنیا تک قائم رکھے۔ جو ملک کی سرحدوں کی حٖفاظت کے لیے ایسے نوجوانوں کی تربیت کرنے میں مصروف ہیں۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •