سہیلا سپاہی اور یونیورسٹی کی ٹیچر


میں زندگی کا راز جان گیا ہوں۔ تم طاہر القادری صاحب سے نہیں ملو گے۔ جو بندہ لاہور میں رہ کر طاہر القادری سے نہیں ملتا وہ بہت بدقسمت ہے۔ پولیس والوں نے مجھے نوکری سے نکال دیا ہے۔ حالانکہ کہ طاہرالقادری صاحب نے فرمایا ہے کہ میں نوکری کے لیے دنیا میں آیا ہی نہیں۔ طاہر القادری، حضرت علی ہجویری داتا گنج بخش، میانی سرکار، باباجی واصف علی سرکار سب مجھے ملتے ہیں۔ میں رات انھیں کے ساتھ گزارتا ہوں۔ تم ملنا چاہو گے؟ زندگی کا راز پانا چاہتے ہو تو بتاؤ۔ اور جیب سے شاپر کی ایک چھوٹی سی تھیلی نکال کر نسوار کی طرح دونوں نتھنوں سے کھینچنے لگا۔

پاؤڈر؟ سہیل تم پاؤڈر پیتے ہو۔ میں سہیل سے لپٹ گیا۔ میری آنکھوں میں اشک تیرنے لگے۔ سہیل یہ سب کیا ہے َ؟ میں نے رونی اور بھری ہوئی آواز میں سہیل سے پوچھا۔ سانس کھینچ کر کچھ دیر خاموش رہنے اور اپنے سر کو ایک دوبار جھٹکنے کے بعد سہیل بولا۔ نوید پہلے مجھے سو روپیہ دو۔ سو روپیہ۔

یار تجھے ہو کیا گیا ہے۔ مجھے چائے پانی کھانا پوچھنے کے بجائے تم مجھ سے سو روپیہ مانگ رہے ہو۔ میں نے اسے بازو سے پکڑ کر اٹھا لیا۔ اس کی کمر سے مٹی صاف کی گلے سے لگایا۔ قریبی ہوٹل پر لے گیا۔ اسے کھانا کھلانا چاہ مگر وہ سو روپیہ ہی مانگتا رہا۔ کہنے لگا نوید جانتے ہو اس پڑھے لکھے باشعور معاشرے نے میرے ساتھ کیا کیا؟ میں نے کہا بتا میرے یار، بتا مجھے۔ اس معاشرے نے تیرے ساتھ کیا کیا۔ تو وہ کہنے لگا۔

میری بیوی نے مجھ سے بچے چھین لیے۔ میرے دو بچے تھے۔ ناجانے کس حال میں ہوں گے۔ وہ تو پروفیسر تھی ایک سپاہی کے ساتھ کیسے گزارا کرتی۔ مگر وہ تو میرے بچے تھے۔ میں تو ان کا باپ ہوں۔ اس کے بھائی امیرتھے۔ جب اس نے یونیورسٹی میں مجھے پسند کیا گھر والوں سے چوری میرے ساتھ شادی کی اس وقت بھی تو میں سپاہی ہی تھا۔ پانچ سال وہ میرے ساتھ رہی۔ میرے اپنے گھر والوں نے مجھے گھر سے نکال دیا۔

میری ماں سوتیلی تھی۔ کھانے میں ملا کر مجھے نشہ دیتی رہی۔ مجھے ہیروئن کے نشے پر لگانے والی میری سوتیلی ماں ہی ہے۔ میرے حصے کی جائیداد ہڑپ کرنا چاہتی تھی۔ جب میری بیوی کو پتہ چلا کہ میں ہیروئن کا عادی ہوگیا ہوں تو چلی گئی۔ اپنی پڑھی لکھی دنیا میں۔ بس شادی کے دوسال ہی وہ خوش رہی۔ اس کے بعد ناجانے کیوں مجھ سے نفرت کرنے لگی۔ اسے میری بالکل بھی ضرورت نہ تھی۔ حرامی نکلی سالی۔ یار مجھے ان کی ضرورت تھی۔ اس حالت میں مجھے ان کی ضرورت تھی کہ نہیں تم بتاؤ۔

اچھا سو روپیہ لازمی دینا بھول نہ جانا۔ میں نے پانچ سو کا نوٹ نکال کر سہیل کے ہاتھ میں پکڑا دیا۔ میں چاہتا تھا سہیل میرے ساتھ بہت ساری باتیں کرے۔ شاید میں کسی حقیقت تک پہنچ جاؤں شاید میں سہیل کو اس حال تک پہنچانے والوں تک پہنچ سکوں۔ شاید میں جان سکوں کہ اس کی اس حالت کے اصلی ذمہ دار کون ہیں؟ مگر وہ میرے ہاتھ سے پیسے چھیننے کی طرح پکڑ کر فوراً وہاں سے اٹھ گیا۔ میں اسے روکتا ہی رہا۔ مگر اس نے پیسے مل جانے کے بعد پلٹ کر بھی میری طرف نہ دیکھا۔

بس جاتے جاتے اتنا کہہ گیا نوید میرے گھر آنا۔ لازمی آنا۔ اور چلا گیا۔ میں نے سہیل کا گھر دیکھا ہوا تھا۔ کیوں کہ جب ہم اکٹھے ڈیوٹی کیا کرتے تھے تو اکثر سہیل کے گھر جایا کرتے تھے۔ آج بھی میں جس کام سے لاہور جا رہا تھا اسے ترک کردیا اور سیدھا سہیل کے گھر جاپہنچا۔ سہیل کا بھائی فاروق اپنی دکانوں کی مارکیٹ کے باہر کرسی پر بیٹھا ہوا تھا۔ میں نے جاکر فاروق سے اپنا تعارف کروایا۔ فاروق نے مجھے پہچانا تو نہیں لیکن اتنا ضرور کہا ہاں جب سہیل ٹھیک تھا تو اس کے کافی پولیس والے دوست گھر آیا کرتے تھے۔

میں اس کے بھائی سے بہت کچھ جاننا چاہتا تھا مگر اس نے مجھے بوتل پلا کر کہیں کام جانے کا بہانہ کرکے اجازت طلب کی۔ شاید وہ سہیل کے موضوع پر بات نہیں کرنا چاہتا تھا۔ میں نے فاروق سے اس کا موبائل نمبر لیا اور کہا فاروق بھائی میں بہاولپور پولیس لائن میں اپنے تعلق سے منشیات کے تدارک کے لیے بنے سرکاری ہسپتال میں رابطہ کرتا ہوں۔ بس مجھے آپ کی اتنی مدد درکار ہوگی جب میں آپ کو فون کروں آپ اس دن سہیل کو کہیں جانے مت دیجیے گا۔

میں اپنے خرچ پر اسے بہاولپور ہسپتال میں داخل کرواؤں گا۔ آپ کو کچھ بھی تکلیف نہیں دوں گا۔ اس کے بھائی نے کہا جی بالکل ہم تو خود چاہتے ہیں کہ اس کا علاج ہوجائے۔ یہ پھر سے ٹھیک ہوجائے۔ اس کی بیوی ہے بچے ہیں جو اسے چھوڑ گئے ہیں۔ اس کی بیوی اب اپنے بھائیوں کے پاس رہتی ہے۔ اس کے بھائیوں نے اپنی بہن کا تبادلہ بھی لاہور سے ان کے اپنے شہر کی یونیورسٹی میں کروا لیا ہے۔ اس سے پہلے کہ میں اجازت لیتا اس کے بھائی نے مجھ سے اجازت طلب کر لی۔

میں نے سہیل کے بھائی کا موبائل نمبر بھی لے لیا اور بنا مانگے اپنا بھی موبائل نمبر اسے دے دیا۔ اب میں دن رات اسی کوشش میں رہتا کہ کسی طرح سہیل کو بہاولپور منشیات کے ہسپتال لے جاؤں۔ اس کا علاج کرواؤں۔ میں نے بہت سارے دوستوں سے رابطے بھی کیے چھٹی لی او ر بہاولپور چلا گیا مریض کی ساری کیفیت ڈاکٹر کو بتائی۔ ڈاکٹر صاحب نے کہا بیٹا جس طرح کی حالت آپ مریض کی بتا رہے ہیں اس کنڈیشن کا مریض یہاں رکھنا کافی مشکل کام ہے لیکن آپ کیوں کہ تعلق سے آئے ہیں اور مریض بھی آپ کے بقول پولیس والا ہے تو ہم کوشش کریں گے کہ اگر ذرا برابر بھی چانس ہوا مریض کے ٹھیک ہونے کا تو ہم اسے لے لیں گے۔

آپ ایک بار مریض کو لے آئیں اللہ بہتر کرے گا۔ انشا ءاللہ۔ مجھے کوئی بیس دن لگے سارا عمل کرنے میں۔ میں واپس لاہور آیا اور لانگ لیو اپلائی کردی۔ میں اپنی چھٹیوں کے انتظار میں تھا کہ کب مجھے لانگ لیو ملے اور میں سہیل کو بہاولپور لے جاؤں۔ پھر ایک دن مجھے فاروق کے نمبر سے فون آیا۔ فاروق نے مجھے کہا نوید بھائی جس سہیل کو آپ زندگی واپس کروانا چاہتے تھے۔ جس سہیل کو آپ اپنا دوست کہتے تھے۔ وہ بہت بے وفا نکلا وہ دو گھنٹے پہلے ہمیں اپنی بستی کے قبرستان میں مردہ حالت میں پڑا ملا۔ سہیل فوت ہوگیا بھائی جان۔ عصر کی نماز کے بعد اس کی نماز جنازہ ہے۔ کب فاروق نے کال بند کی مجھے پتہ ہی نہ چلا۔ سہیل چلا گیا اور میرے پاس پچھتاوے کے سوا کچھ بھی نہ بچا۔

Facebook Comments HS

صفحات: 1 2