سہیلا سپاہی اور یونیورسٹی کی ٹیچر

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

اس کا نام سہیل ملک تھا۔ ہم پولیس میں اکٹھے ہی بھرتی ہوئے تھے۔ سہیل کا قد چھ فٹ اور چار انچ تھا۔ چوڑا سینہ لمبے لمبے بازو کھردرے ہاتھ، اس کے پاؤں اس قدر بڑے تھے کہ بارہ نمبر کا جوتا بڑی مشکل سے اس کے پیروں میں پورا آتا۔ دوران ٹریننگ سہیلا بطور پریڈ کمانڈر پوری نفری کی نمائندگی کرتا رہا۔ جب وہ پریڈ میں بطور گائیڈ کھڑا ہوتا تو باقی لڑکے اس کے ساتھ کھڑے ایسے لگتے جیسے زرافے کے ساتھ خرگوش۔ جب ہم ٹریننگ کر کے واپس لاہور آگئے تو ایک دن یونیورسٹی لاہور کے طالب علموں نے ہڑتال کر دی جو کافی دن جاری رہی۔

اشو یہ تھا کہ کیمپس کے پل سے ٹھوکر کی طر ف نہر پر چھوٹے چھوٹے پل بنے ہوئے تھے۔ جن پلوں پر لڑکے موٹر سائیکل بھگا کر نہر عبور کرتے اور دائیں بائیں آنے والی ٹریفک متاثر ہوتی حادثات بھی ہو جا تے اور اکثر ان حادثات کی وجہ سے بہت سارا جانی نقصان بھی ہوجاتا۔ لاہور انتظامیہ نے نہر سے سارے پل ہٹانے کا ارادہ کیا جو یونیورسٹی انتظامیہ کو یا شاید طالب علموں کو ناگوار گزرا لہذا تمام لڑکوں نے ہڑتال کردی۔ لڑکوں نے نہر روڈ بلاک کردی۔

دوچار دن تک مذاکرات ہوتے رہے جو بے سود رہے۔ مجبوراً لاہور انتظامیہ کو طاقت کا استعمال کرکے لڑکوں کو وہاں سے بھگانا پڑا۔ ٹیئر گیس شیل استعمال کیے گئے۔ پولیس والے بھی زخمی ہوئے اور چند طالب علم بھی دھلائی کروا کر سرف ایکسل سے دھلے کپڑے کی طرح نکھر گئے۔ بہرحال پولیس نے دودن کی مشقت کے بعد نہر روڈ کو ٹریفک کے لیے کھلوا دیا۔ اب پنجاب کانسٹیبلری کی وہاں مستقل ڈیوٹی لگ گئی۔ پی سی کی ایک دو پلاٹون وہاں چوبیس گھنٹے موجود رہنے لگیں۔

ہم اکثر صبح سات بجے والی شفٹ میں وہاں جایا کرتے اور تین بجے تک وہیں یونیورسٹی کے پلاٹس میں پڑے رہتے۔ میں نے تاش کی گیم بھابی وہیں کھیلنا سیکھی۔ مظہر، گاما، سہیلا، اعجاز اور مبشر ہم ہمیشہ اکٹھے ہی ہوتے۔ ویسے بھی ہمیں حکم تھا کہ ہم لوگ یونیورسٹی میں ٹولیوں کی شکل میں رہیں تاکہ کوئی اکیلا پولیس والا طالب علموں کے ہتھے نہ چڑھ جائے۔ ہم میں سہیلا جسامت قد اور حرکات و سکنات کی وجہ سے منفرد تھا۔

ہم سہیلے کو ڈنگر کہا کرتے تھے۔ کھانے بیٹھتا تو سب کے حصے کا کھا جاتا۔ ایک دفعہ ایک بجے دن ہم نے یونیورسٹی کے گیٹ کے سامنے لگی ریڑھی سے کھانا کھانے کا پروگرام بنایا۔ جب سہیلا چوتھی بار گریبی لے چکا تو ریڑھی والے نے کہا ”بھائی اب نان ختم ہوگئے ہیں“ حالانکہ ہمارے سامنے نان سپلائی کرنے والا لڑکا اسے دو شاپر نان دے کر گیا تھا جو اس نے ٹینکی میں رکھے تھے۔ سہیلے نے کہا ”پائی غصہ کرگیا ایں میں تے مذاق لگا ساں“ ( بھائی غصہ کرگئے ہو میں تو مذاق کر رہا تھا ) مطلب چنے کے ساتھ بارہ نان کھا جانا سہیلے کے لیے مذاق تھا۔

سہیلا بہت زندہ دل اور ملنسار انسان تھا۔ اس کی زندگی میں تبدیلی تو اس وقت آئی جب زمین پہ بیٹھ کر تاش کھیلتے سپاہی سہیلے ڈنگر پہ یونیورسٹی کی ایک میڈم فدا ہوگئی۔ کچھ دن تو سہیلے نے ہم سے چھپایا، مگر ”دائیاں کولوں کدی ٹیڈھ وی لکے نیں“ (دائیوں سے پیٹ نہیں چھپتا) بہت جلد ہمیں سہیل کے معاشقے کا پتہ چل گیا۔ سہیل کبھی بوٹ پالش نہیں کرتا تھا۔ اس کی وردی کی قمیض پر گرمی اور پسینے سے طرح طرح کی ڈب کھڑبی نقوش نگاری اور کشیدہ کاری ہوئی ہوتی تھی۔ جب کبھی ہم کہتے سہیلے بال بھی کٹوایا کر تو وہ کہتا پائی جواں رکھیاں نے۔ بے شک سہیلا صفائی پسند نہیں تھا۔ مگر اپنا جگر تھا۔ ہمارا وقت سہیلے کے ساتھ ہی اچھا گزرتا۔ اب سہیلے کی وردی کو کلف لگنے لگی۔ اس کے بال بھی اب سلیقے سے کٹے ہوتے۔ پرفیوم اور باڈی سپرے بھی خریدنے لگا۔ ریڑھی والے کی صف پر بیٹھ کر بارہ بارہ نان کھا جانے والا سہیلا اب ہمارے ساتھ زمین پر بیٹھ کر تاش کھیلنے میں بے عزتی محسوس کرنے لگا۔

روزانہ ایک مقرر وقت پر وہ ہمیں اکیلا چھوڑ کر یونیورسٹی کی کینٹین پر چلا جاتا۔ کچھ دن بعد سہیل نے اپنی ڈیوٹی بھی تبدیل کروا لی۔ سہیل اب رات والی شفٹ میں نوکری کرتا۔ ایک دو بار سہیل کو ہم نے تھری پیس سوٹ میں ملبوس یونیورسٹی کی کنٹین پر بیٹھے دیکھا۔ ہم جب شرارت کے لیے آگے بڑھتے تو ہاتھ جوڑ کر کبھی آنکھ کے اشارے سے ہمیں دور رہنے کی گزارش کرتا۔ وقت گزرتا رہا کوئی تین ماہ تک یونیورسٹی میں ہماری ڈیوٹی رہی۔

ان تین مہینوں میں سہیلا ڈنگر اب ملک سہیل ہوگیا۔ میرا پنجاب کانسٹیبلری کا عرصہ ختم ہوگیا اور میر ا تبادلہ لاہور سے بہاولپور ہوگیا۔ میں نے ایلیٹ کورس کرلیا اور اپنی دنیا میں گم ہوگیا۔ مجھے اب یاد بھی نہیں تھا کہ میرا کوئی دوست سہیلا ڈنگر بھی ہوتا تھا بس کبھی کبھار لاہور کی یاد آتی تو سارے دوست یاد آجاتے گامے کے علاوہ اسپیشلی کبھی کوئی دوست یاد نہ آیا تھا۔ دوہزار چودہ میں میں نے بہاولپور ایلیٹ کی طرف سے ٹریننگ آف ٹریننر کورس کرلیا اور میں بطور ویپن انسٹرکٹر ایک بار پھر ٹرانسفر ہوکر لاہور واپس آگیا۔

اس دن کسی کام کے سلسلے میں مجھے مال روڈ جانا تھا۔ میں رکشے میں بیٹھ کر ٹھوکر پہنچا تو دیکھا کہ پولیس کی وردی میں ملبوس ایک لمبا تڑنگا شخص ٹھوکر نیاز بیگ نہر پر بنے رنگ روڈ کے پل کے نیچے زمین پر لیٹا ہوا ہے۔ ازراہ ہمدردی اور ایک پولیس والا ہونے کے ناتے میں اس شخص کے پاس پہنچا دیکھا تو سہیلا ڈنگر۔ میں نے پرجوش ہوکر کہا اوئے سہیلے۔ وہ سہیلا جو ہمیشہ چہکتا رہتا تھا۔ ہنستا رہتا تھا۔ جو کہا کرتا تھا تم لوگ میرے یار نہیں میرے جینے کا سہارا ہو۔ جو کہا کرتا تھا کاش وہ وقت کبھی نہ آئے جب ہم سب دوست جدا ہوجائیں۔ اس سہیلے نے مجھے دیکھ کر کچھ خاص تاثر نہ دیا۔ بلکہ سلام لینے کے لیے لیٹے لیٹے اس نے اپنا ہاتھ آگے بڑھا دیا۔

مجھے لگا شاید اس نے مجھے پہچانا نہیں۔ میں نے لیٹے ہوئے سہیلے کو پرانے انداز میں پاؤں سے ٹھوکر ماری اور کہا سہیل پہچانا نہیں مجھے؟ تو اس نے کہا ”مریاں نوں کیوں مارنا ایں نوید“ (مرے ہوؤں کو کیوں مارتا ہے نوید)جب اس نے میرا نام لیا اور انتہائی نقاہت سے زبان کھولی تو میں اس کے پاس زمین پر ہی بیٹھ گیا۔

میں نے کہا سہیل بوتل نہ پلانا یار اس طرح بے رخی سے تو پیش نہ آؤ۔ اور تم یہ وردی میں ہی زمین پر لیٹے ہوئے ہو۔ خیریت تو ہے ناں؟ کہاں ڈیوٹی ہے آج کل؟ تو وہ اٹھ کر بیٹھ گیا۔ اور کہنے لگا میں ڈیوٹی پر ہی ہوں۔ سرکار طاہر القادری نے میری ڈیوٹی لگائی ہے۔ لاہور کے تمام ولی دوریش میرے دوست ہیں۔ میرا علاقہ ٹھوکر ہے۔ ہر علاقے میں ایک ولی درویش ہوتا ہے تو میں آج کل ادھر ہوتا ہوں۔ کل میری طاہر القادری صاحب سے ملاقات طے ہے۔

مزید پڑھنے کے لیے اگلا صفحہ کا بٹن دبائیں

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •