میں ذرا جلدی میں ہوں

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

پاکستانی قوم وقت کی بہت پابند ہے۔ اتنی باپند ہے کہ وقت کی سوئیاں پاکستانی قوم کی ہر سوچ اور عمل کی پابند ہیں۔ جب کوئی پاکستانی کہہ دے کہ بیس منٹ کے بعد میں آپ کو فلاں جگہ ملوں گا تو یقین کیجئے وہ بندہ ٹھیک بیس منٹ کے بعد وہیں موجود ہوگا۔ بالفرض محال اگر ایسا نہ ہو پائے تو پھر آپ اسے کسی ہسپتال کے ایمرجنسی وارڈ یا مردہ خانے میں تلاش کریں۔ چونکہ آپ خود بھی پاکستانی ہیں اس لئے آپ کا بھی وقت بچے گا۔ اگر آپ کو لگتا ہے کہ میں مذاق کر رہا ہوں تو تجربہ کر لیجیے۔

روڈ پر نکلئے، سائیکل سوار ٹرین کے بند پھاٹک کو کراس کرنے کے لئے وقت ضائع کرتا نظر نہیں آئے گا بلکہ وہ سائیکل جس نے کچھ دیر قبل اس شخص کا بوجھ اپنے ناتواں ڈنڈوں پر اٹھایا ہوا تھا وہ سوار اپنی سواری کو کاندھے پر اٹھائے یا بغل میں ڈالتے ہوئے آپ کو تیز رفتار ٹرین سے چار قدم کے فاصلے پر نکلتے ہوئے پھاٹک کراس کرتا دکھائی دے گا۔ یہ کرتب کا کرتب ہے، بہدری بھی ہے اور وقت کے بچاؤ کا طریقہ بھی۔ اب آپ اس سائیکل سوار سے پوچھ لیجیے کہ بھائی آپ نے اپنی جان کو خطرے میں ڈالا، ممکن ہے حادثہ ہونے کی صورت میں ٹرین کو بھی رکنا پڑتا جس کی وجہ سے پورے ملک کی وہ ٹرینیں جو اس ٹریک پر آنی اور جانی ہیں ڈسٹرب ہو جاتیں، یقینا کوئی ملکی سلامتی کا مسئلہ درپیش ہوگا جو آپ نے اتنی ہمت کی، ویسے کیا آپ بتانا پسند فرمائیں گے کہ اتنی جلدی کی وجہ کیا ہے؟

وہ مسکرائے گا اور کہے گا۔ شیدے مصلی نے چائے پر بلایا ہوا ہے، میں لیٹ پہنچا تو وہ کمینہ چائے پی جائے گا ! جان اور قوم کے وقت کی قیمت ایک کپ چائے۔

دو دن قبل میں گلبرگ سے کینال روڈ پر نکلا، اپنی عادت کے مطابق کم سے کم سپیڈ چالیس اور زیادہ سے زیادہ ساٹھ پر بائیک چلاتے ہوئے مسلم ٹاون موڑ سے وحدت روڈ پر چڑھا، تھوڑا آگے گیا تو ٹریفک کچھ زیادہ تھی، میں آرام آرام سے بچتا بچاتا نکل رہا تھا کہ اک نوجوان لڑکے نے بہت تیزی سے موٹرسائیکل میرے پہلو سے اس نکالنے کی کوشش کی، میری اک طرف مزدا تھا تو دوسری طرف کار، جگہ اتنی تنگ تھی کہ وہاں سے سائیکل ہی نکل پاتی لیکن اس جوان کے بچے نے موٹر سائیکل نکالنے کی کوشش کی جس کی وجہ سے میرے موٹر سائیکل کا ہینڈل اس کے ہینڈل سے ٹکرایا اور میں گرتے گرتے بچا۔

میں نے لپک کر بچے کو پکڑا اور پوچھا بیٹا آپ کو اتنی جلدی کس بات کی ہے؟ کہیں بہت ضروری کام جا رہے ہیں؟ ہسپتال میں کوئی مریض ہے جو جان کنی کی کیفیت میں ہے اور آپ نے خون دینا ہے؟ وہ بچہ پھیکی سی ہنسی ہنستے ہوئے بولا۔ نہیں بھائی جان۔ میں تے دہی لین چلیاں ! اب اگر ٹریفک کی رفتار کچھ تیز ہوتی تو میں اس مزدے کے نیچے کچلا جاتا یا وہ بچہ۔ اک جان کی قیمت طے ہوئی اک پاؤ دہی۔

نیا آفس جوائن کیا تو ساجد ملک سے ملاقات ہوئی، اب ہم کولیگ ہیں، باس نے گلبرگ اورپھر ٹھوکر نیاز بیگ میں موجود چند پارٹیوں سے ملنے کا ٹاسک دیا تھا، اب مین روڈ پر ٹریفک تیز بھی ہوتی ہے اور زیادہ بھی، سفر موٹر سائیکل پر تھا، میں پیچھے بیٹھ گیا، ساجد نے ہنڈا 70 کا ہینڈل سنبھالا اور ایف 16 ہوا میں لہرانے لگا، جیسے ہی ہم کسی گاڑی کی بغل سے زووووم کر کے نکلتے میرا دل اچھل کر باہر آجاتا۔ آپ نے یقینا ٹوم اینڈ جیری کارٹون دیکھے ہوں گے، جب ٹوم جیری کو کسی ایسی جگہ گھیر لیتا ہے کہ جیری کا زندہ بچ نکلنا ناممکن نظر آنے لگے تو جیری کا دل جسم سے باہر آکر دھک دھک کرتے ہوئے پھڑکنے لگتا ہے، بس میری بھی کیفیت ہر پانچ منٹ بعد کچھ ایسی ہی ہو جاتی، وہ تو شکر ہے میں نے کپڑے زیب تن کر رکھے تھے ورنہ دل ساجد کی کمر پر لگ لگ کر اس کے کپڑے خون وخون کر دیتا۔

بعض اوقات ایسا بھی ہوتا کہ آگے اچانک ٹریفک کی رفتار کم ہوتے ہوتے رکی اور ہم زیادہ سپیڈ میں تھے، اب ایسے میں تھوڑی سی جگہ درکار ہوتی ہے کہ بریک لگاتے لگاتے وہاں تک رکا جائے لیکن شومئی قسمت کہ پورا روڈ پیک، بائیک جیسے تیسے بمشکل رک تو جاتی لیکن میرا تراہ نکال جاتا۔

ایسے ہر موقع پر میں ساجد کے کندھے کو غیر ارادی طور پر تھام کر بریک لگانے کے لئے ہاتھ اٹھاتا لیکن پھر وہ ہاتھ اپنے سر پر لیجاتے ہوئے پھیر کر پسینہ صاف کرتے ہوئے یہ تاثر دیتا کہ بالوں کی سیٹنگ کر رہا ہوں۔ کیونکہ ایسا کرنے پر اک طرف تو ساجد کو لگتا کہ میں ڈر گیا ہوں دوسری طرف اس کا کاندھا دبانے کی وجہ سے موٹر سائیکل کا ہینڈ ل بھی ہل جاتا۔ یہ تو آپ سب جانتے ہی ہیں کہ میں آج کل کل گنجا ہوں تو گویا وہ سیٹنگ بالوں کی نہیں اپنے نکل کر دھڑک رہے دل کی ہوتی تھی جو بھک سے اڑتے ہوئے گنجے دماغ تلک پہنچ چکا ہوتا تھا۔ اب اگر میں ساجد سے بھی پوچھ لیتا کہ یار اتنی جلدی کس بات کی ہے، کوئی فوت ہوگیا ہے کہ جنازے میں پہنچنا ہے تو یقین سے کہہ سکتا ہوں یہی جواب ملتا۔ پارٹی کہیں اٹھ نہ جائے ! یعنی دو جانوں کی قیمت ہوئی پارٹی کا اٹھ جانا !

بات صرف بائیک کی نہیں، گاڑی والے کی گاڑی بھی اگرپانچ فٹ چوڑائی میں ہو تو اس کی کوشش ہوتی ہے کہ وہ ساڑھے چار فٹ کے بن رہے رستے سے نکال لے، اب ایسی صورت میں وہ یا تو اپنی گاڑی کو سکریچ ڈلواتا ہے یا کسی موٹر سائیکل سوار بندے یا فیملی کو زمین بوس کر دیتا ہے، اس سے بھی پوچھیں کہ بھائی اتنی جلدی کاہے کی ہے؟ کیا آپ سائنسدان ہیں؟ پاکستان کوئی نیا میزائل لانچ کر رہا ہے؟ ہم مریخ پر اپنا مشن بھیج رہے ہیں اور اگنیشن آپ نے جاکر دبانا ہے تو گھبرائے ہوئے کہے گا میں تے بیگم دے پیڈ لین چلیاں۔ یعنی کسی کی جان کی قیمت ہوئی اک پیڈ اور پیڈ مین کی پانچ فٹ چوڑی گاڑی۔

جہاں گاڑی والاموٹر سائیکل کو راستہ دینے کو تیار نہیں ہوتا وہیں موٹر سائیکل والا اس تاک میں رہتا ہے کہ کب ہلکی سی جگہ بنے اور وہ بائیک گھسا کر باقی ٹریفک روکتا ہوا آگے نکل لے، اس آگے نکلنے میں بھلے دس بندوں کی موت ہوجاے اسے کوئی پرواہ نہیں ہوگی لیکن اگر کوئی بندے کا پتر اس سے روک کر پوچھ ڈالے کہ آپ کو اتنی عجلت کیوں ہے تو جواب ملے گا موت کے کنویں پر میڈم شبانہ کا رقص دیکھنے جانا ہے، پھر چاہے اس کی یہ حرکت کئی لوگوں کو یا اسے ملک الموت کے ٹھمکے دیکھنے پر مجبور کر دے اسے پرواہ نہیں۔

میرے خیال میں ہمیں نہ اپنی جان کی پرواہ ہوتی ہے اور نہ کسی دوسرے کی جان کی، ہم بس وقت کی پرواہ کرتے ہیں، کہ جو قومیں وقت کی پابندی نہیں کرتیں وہ مٹ جاتی ہیں، بس ہمارا وقت کی پابندی کرنے کا طریقہ ذرا دیگر اقوام سے مختلف ہے، پھر بھلے وہ وقت کسی کے لئے قبر کا سامان بن جائے ہماری بلا سے۔ دیگر اقوام کو اگر جلدی پہنچنا ہو تو وہ سفر میں ممکنا طور پر گزرنے والے وقت سے دس پندرہ منٹ پہلے نکلتے ہیں لیکن ہم تب نکلتے ہیں جب سفر کا وقت 20 منٹ ہو اور ہم 5 منٹ لیٹ ہو چکے ہوں، اب ایسے میں بیس منٹ کا سفر پندرہ منٹ میں کرنا ہماری مجبوری بن جاتا ہے۔

میں یقین سے کہہ سکتا ہوں کہ اگر آپ کا سفر ایک گھنٹے کا ہے اور آپ ذرا احتیاط سے سفر کریں تو زیادہ سے زیادہ دس منٹ لیٹ پہنچیں گے، اگر آپ کا سفر آدھے گھنٹے کا ہے تو آپ پانچ منٹ لیٹ پہنچیں گے اور اگر آپ کا سفر پندرہ منٹ کا ہے تو آپ دو سے ڈھائی منٹ دیر سے پہنچیں گے، لیکن آپ زندہ سلامت پہنچیں گے۔ میری آپ سب سے درخواست ہے کہ آپ خود کو یاکسی اور کو زخمی کیے بنا اپنی منزل پر پہنچیں، نہ کہ کسی ہسپتال کے ایمرجنسی وارڈ یا مردہ خانے میں۔

صاحبان قدر دان، آپ بائیک کو ایف سولہ سمجھنے کے بجائے اسے بائیک ہی سمجھ لیں اور گھر یا دفتر سے پانچ دس منٹ جلدی نکل لیں تو ہر روز نہ ہی اتنے حادثات ہوں گے، نہ آپ کو ہسپتال یا قبرستان کا سفر کرنا پڑے گا اور نہ ہی آپ کی بلاوجہ کی جلدی کے چکر میں گھنٹوں ٹریفک جام ہوگا۔ اگر آپ کو اپنی جان عزیز نہیں ہے تو دوسروں کی جان کی خاطر ہی احتیاط کر لیں، ممکن ہے آپ کے گھر والے آپ سے یا آپ اپنی ذات اور زندگی سے بہت تنگ ہوں لیکن دوسرے انسانوں کو جینے کا مکمل اختیار ہے اور وہ جینے پر بھی یقین رکھتے ہیں۔

اک شعر آپ کی نظر

اے اجل کچھ تھم کے آ
میں ذرا جلدی میں ہوں !

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •